سیکولرازم، عیسائیت، اسلام اور الحاد/سید سلیم گردیزی

ہر اصطلاح کا ایک سیاق و سباق اور تہذیبی پس منظر ہوتا ہے اور اسے سیاق و سباق اور تہذیبی پس منظر میں رکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس طرح اجتہاد کا ایک سیاق و سباق اور تہذیبی پس منظر ہے۔ اس کے عناصر اور شرائط کو اسلامی سوسائٹی پر ہی منطبق کیا جا سکتا ہے۔ مغربی تہذیبی پس منظر میں اجتہاد کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح سیکولرزم کا سیاق و سباق اور تہذیبی پس منظر ہے اور وہ ہے مغربی پس منظر!

سیکولرازم بنیادی طور پر مذہب کی ریاستی و حکومتی معاملات سے علیحدگی کا نظریہ ہے ,اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ عیسائیت جو اللہ کے احکامات، توریت و انجیل کی تعلیمات اور حصرت عیسیٰ  علیہ السلام کی ہدایات میں تحریف کر کے پادریوں کا ایک خود ساختہ گورکھ دھندہ رہ گئی تھی۔ اس مسخ شدہ مسیحی پاپائیت نے بادشاہ اور مقتدر طبقات کے ساتھ مل کر استحصالی نظام کو مذہبی سند جواز دینا شروع کر رکھا تھا اور مذہب کے نام پر سیاسی و معاشی استحصال کا دھندہ شروع کر رکھا تھا۔ اس غیر انسانی ظالمانہ گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے وہاں کے باشعور طبقے نے مذہب کو ریاستی و سیاسی معاملات سے الگ کر کے چرچ میں بند کیا اور سماج کو پادریوں کی خود ساختہ خرافات سے نجات دلائی۔ اگرچہ اس کوشش میں روحانیت اور روحانی تصورات کی بھی نفی ہو گئی ،تاہم پادریوں کی خود ساختہ مذہبی تاویلات اور استحصال سے نجات کے بعد مغربی معاشرے نے مادی ترقی کے منازل تیزی سے طے کیں۔

julia rana solicitors london

مذہب اور ریاست کی علیحدگی کے اسی تصور کو سیکولرازم کا نام دیا جاتا ہے۔
اس پس منظر میں تو سیکولرازم پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ سیکولرازم کا مقابلہ جس مذہب سے تھا وہ کوئی الہامی مذہب تھا ہی نہیں، بلکہ پادریوں کی خود ساختہ تاویلات کا گورکھ دھندہ تھا جس کا انجام یہی ہونا تھا لیکن یہ بات مغربی اور عیسائی پس منظر کی حد تک ہی درست ہے۔ یہ معاملہ اسلام اور اسلامی تہذیب کے ساتھ نہیں ہے۔ اسلام کی بنیاد مولوی یا پیر کے خیالات و تصورات نہیں بلکہ قرآن و حدیث اور سنت رسول ہے جو ہر قسم کی انسانی مداخلت اور خواہشات و تاویلات سے پاک ہے۔ قرآن، حدیث، سنت رسول ﷺ کی رو سے اسلام مروجہ معنوں میں “مذہب” ہے ہی نہیں اور نہ اس کی موجودہ تحریف شدہ عیسائیت سے کوئی مماثلت ہے کہ اسے ریاستی و حکومتی معاملات سے اسی طرح بیک بینی و دو گوش نکال باہر کیا جائے جس طرح عیسائیت کوقومی و اجتماعی زندگی سے نکال باہر کیا گیا۔ اسلام کو قرآن و حدیث اور دینی تعریفات میں “ مذہب” (Religion) نہیں بلکہ “الدین” (The Way of Life) کہا گیا ہے۔ عیسائیت نہ تو نظام حیات “الدین” تھی اور نہ مکمل تھی۔ جبکہ اسلام تمام اجتماعی امور یعنی حکومت، سیاست، معیشت، تجارت، خارجہ و داخلہ امور، غرض انسانی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر معاملے پر حاوی ہے۔ مغربی سیکولر نظریے کو اسلامی معاشرے پر لاگو کرنے سے لامحالہ حکومتی، ریاستی اور اجتماعی معاملات میں قرآن و سنت کو بے دخل کرنا پڑے گا اور ان دائروں سے اللہ کی الوہیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی رسالت کو بھی خارج کرنا پڑے گا۔ اسلام کو حکومتی، سیاسی اور عدالتی ایوانوں سے بے دخل کر کے مسجدوں تک محدود کرنے کا نام ہی لادینیت ہے اور سیکولر تصورات کو مسلم سوسائٹی پر مسلط کرنے کا مطلب ان دائروں میں لادینیت کو مسلط کرنا ہی ہے۔ مسیحیت کے تناظر میں سیکولرازم شائد لادینیت نہ قرار پائے لیکن اسلام کے تناظر میں سیکولرازم عملی طور پر لادینیت (الحاد) یا لادینیت کا دیباچہ قرار پاتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply