بابا گرو نانک/محمد ثاقب

ایک دن گرو جی پرماتما کے ذکر میں مصروف تھے اس دوران آپ کی آنکھ لگ گئی اور آپ لیٹ گئے۔ سایہ بدلنے پر آپ کے چہرے مبارک پر دھوپ آگئی۔ قریب ہی جھاڑیوں میں سے ایک ناگ نکلا اس نے اپنا پھن پھیلا کر گرو جی کے چہرے پر سایہ کیا۔

 

 

 

اس معجزے کو تلو نڈی کے حاکم رائے بلار جی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کے عقیدت مند ہو گئے جنہوں نے بعد میں اپنی ساڑھے سات سو مربع زمین گوروجی کے نام کی۔

جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں بابا گرو نانک کی، 15 اپریل بابا گرو نانک کا جنم دن ہے۔

گورونانک قصبہ تلو نڈی ننکانہ صاحب میں کلیان شری کلیان داس مہتا عرف کالو اور تری پتا دیوی کے گھر 15 اپریل 1469 میں پیدا ہوئے اور ان کی مسلمان دائی کا نام دولتاں تھا۔

وہ ذات کے بیدی تھے ان کے پہلے اساتذہ پنڈت گوپال جی، مولوی حسین اور مولوی قطب الدین تھے۔

جن سے انہوں نے سنسکرت، فارسی اور عربی میں فیض حاصل کیا۔ انیس سال کی عمر میں پٹیالہ کے رہنے والے مول چند کی بیٹی سکھی سے ان کا بیاہ ہوا، ان کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے۔ سر چند اور مکھی داس 22 دسمبر 1539 میں وہ انتقال فرما گئے۔

ان کی وفات پر ان کے مسلمان پیروکار انہیں دفن کرنا چاہتے تھے اور ہندو مرید نظر آتش کرنا چاہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ چادر اٹھانے پر وہاں ان کا جسد خاکی نہ تھا، پھولوں کا ایک ڈھیر تھا چنانچہ مسلمانوں نے آدھے پھول دفن کیے اور بقیہ نصف ہندوؤں نے جلا دیئے۔

حیرت انگیز طور پر ان کی آمد کے حوالے سے کئی مسلمان پیروں فقیروں نے پیشن گوئیاں کی مثلاً پیر ولی نعمت اللہ شاہ کشمیری لکھتے ہیں”مرد خدا (نانک) ہوگا آخر زمانے میں وہ راز فاش کرے گا جو پہلے پیغمبروں نے نہیں کھولے اللہ تعالی کی حمد بیان کرتے ہوئے بابا گورو نانک جی کہتے ہیں۔۔

سچا روز ازل سے پہلے

سچا روز ازل بھی وہ

سچا ہے وہ آج بھی نانک

سچا ہوگا کل بھی وہ

سچا ہے وہ صاحب سچا

سچا پیارا نام اس کا

اس کالم میں موجود تمام شعر بابا جی گرو نانک کے لکھے ہوئے کلام سے منتخب کیے گئے ہیں۔

بابا گورو نانک کا ظہور ہوا اور پھر تلو نڈی، ننکانہ کہلایا یعنی نانک آیا, کہلایا۔ وہ اپنے دو رفیقوں، موسیقاروں مسلمان بھائی مردانہ اور بالا کے ہمراہ پنجاب کے دیہات میں نیکی اور وحدیت کا پرچار کرتا اپنے شعر پڑھتا لوگوں کو سچے رب کی جانب بلاتا تھا وہ نہ ہندو تھا نہ مسلمان اگرچہ اس کا جھکاؤ ہندو مت کی نسبت اسلام کی جانب زیادہ تھا وہ بت پرستی کو شرک جانتا تھا مسلمان صوفیا کرام کے کلام سے متاثر تھا اور اپنے آپ کو ان کا مرید گردانتا تھا یہاں تک کہ ان کے صحیفے گرنتھ صاحب میں بابا فرید شکر گنج کا کُل کلام شامل ہے۔

کہتے ہیں دنیا میں تین قومیں ایسی ہیں جن میں فقیر نہیں پائے جاتے سکھ یہودی اور ہمارے پٹھان بھائی معمولی کام بھی خوشی سے کر لیں گے لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ کرتار پور راہدری کا تذکرہ پچھلے سالوں سے ہم سن رہے ہیں یہ بابا گرو نانک کی آخری آرام گاہ ہے اور سکھوں کے لیے ایسے ہی مقدس ہے جیسے ہم مسلمانوں کے لیے مدینہ منورہ۔

نانک نے مسلمانوں کی پانچ نمازوں کی توصیف کچھ یوں کی ہے۔

1۔ پہلی نماز “سچ”ہے۔

2۔ دوسری نماز حلال کی روزی کمانے کی دعا ہے۔

3۔ تیسری نماز خلق خدا کی بھلائی کی دعا ہے۔

4۔ چوتھی نماز درست مقصد اور مدعا کی نماز ہے۔

5۔ پانچویں نماز خدا کی حمد و ثنا بیان کرنا ہے۔

کینیڈا میں سکھوں نے اپنی خاص شناخت بنائی ہے۔ اربوں روپے کی پراپرٹی کے مالک ہیں اور میں نے پڑھا تھا کہ کینیڈا کی ایک سٹیٹ میں بابا گرو نانک کے جنم دن پہ سرکاری چھٹی ہوتی ہے

کینیڈا میں انگریزی اور فرانسیسی کے بعد پنجابی سب سے بڑی زبان ہے اور سرکاری زبان ہے۔ ایئرپورٹوں پر پنجابی میں اعلان ہوتے ہیں اور سکولوں میں پنجابی زبان ظاہر ہے پنجابیوں کو سرکاری طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ ان کے ایک صوبے کا وزیراعلی ایک سکھ سردار منتخب ہوا تھا۔۔ وہ کینیڈا کی سرزمین پر سب سے زیادہ محنت کرنے والے اور سب سے زیادہ متمول لوگ ہیں، وینکو ور میں ان کی شاہانہ رہائش گاہیں دیکھنے کے لائق ہیں یہاں تک کہ موجودہ نوجوان نسل جن کے آباؤ اجداد بہت زمانے ہو گئے جب کینیڈا میں آباد ہوئے تھے وہ آج بھی وینکو ور کو “بنکوور” اس لیے کہتے ہیں کہ ان کے ان پڑھ بزرگ اسے بنکوور کہتے تھے۔

سکھ حضرات کسی بت کسی شبیہہ، کسی تصویر کی پرستش کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ بابا گورو نانک کی تصویر کے سامنے بھی نہیں جھکتے کہ وہ صرف گرنتھ صاحب کو ایک آسمانی صحیفہ تسلیم کرتے ہیں۔ صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور وہ، سکھ حضرات گرنتھ صاحب کو ایک زندہ سانس لیتا ہوا آسمانی صحیفہ گردانتے ہیں جس پر سب موسموں کا اثر ہوتا ہے چنانچہ گرمیوں میں گرنتھ صاحب کے نسخوں کو ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں آسودہ کیا جاتا ہے اور شدید سردیوں میں اس کے لیے بجلی کے ہیٹر کا اہتمام ہوتا ہے۔

گرنتھ صاحب کے بارے میں ایک سکھ گرو نے کہا ہمارے لیے یہ رب کا کلام ہے اس کی گفتگو ہے تو کیا رب کا کلام مردہ اور بے جان ہو سکتا ہے وہ زندہ ہوتا ہے تو اس پر موسم اثر کرتے ہیں۔

دربار صاحب امرتسر کے داخلے پر سب لوگ اپنے جوتے اتارتے ہیں۔ اپنا سر ایک پیلے رومال سے ڈھک لیتے ہیں اور جب وہ زیارت کے بعد باہر لوٹتے ہیں تو ان کے جوتے صاف ستھرے اور پالش شدہ ہو چکے ہوتے ہیں اور ان جوتوں کو کون نہایت عقیدت سے صاف کرتا ہے اور پالش کرتا ہے دنیا بھر کے متمول اور ارب پتی سکھ۔ کینیڈا امریکہ اور انگلستان سے آنے والے۔

ان کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہی ہوتی ہے کہ ہم دربار صاحب کے باہر وہاں آنے والے زائرین کے جوتوں کی رکھوالی کریں اور انہیں خوب لشکا دیں، چمکا دیں۔

بابا جی نے فرمایا

من مایا میں فدا رہیو لبیر یوگو بیند نام

” اےانسان! تودنیاوی عیش و آرام میں پھنس کر اللہ تعالی کا ذکر بھول چکا ہے۔

سکھوں کا تذکرہ “اودھم سنگھ” کے بغیر نامکمل ہے۔

اس شخص نے جلیانوالہ کے قتل عام کا بدلہ لینے کے لیے جنرل ڈائر کو لندن میں جا کر قتل کر دیا۔ عدالت میں اس کا نام پوچھا گیا تو جواب دیا میرا نام ہے۔

” رام محمد سنگھ”۔

بابا گورو نانک جی نے فرمایا

پربھ کے سمرن کارج پورے

“اللہ تعالی کا ذکر کرنے والے انسان کے سب کام سنور جاتے ہیں”

کرن ہوت سونا کیو بھریو لوبھ کے فند

” اے انسان، اس دنیا میں آ کر جو کرنا تھا وہ تو نے نہیں کیا۔ اور ساری عمر دنیاوی لالچ کے پھندے میں ہی پھنسا رہا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

(اس کالم کو تحریر کرنے میں مستنصر حسین تارڑ کی تحریروں سے مدد لی گئی)

Facebook Comments

محمد ثاقب
محمد ثاقب ذہنی صحت کے ماہر کنسلٹنٹ ہیں جو ہپناتھیراپی، لیڈرشپ بلڈنگ، مائنڈفلنس اور جذباتی ذہانت (ایموشنل انٹیلیجنس) کے شعبوں میں گذشتہ دس برس سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ آپ کارپوریٹ ٹرینر، کے علاوہ تحقیق و تالیف سے بھی وابستہ ہیں اور مائنڈسائنس کی روشنی میں پاکستانی شخصیات کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔ معروف کالم نگار اور میزبان جاوید چودھری کی ٹرینرز ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply