حکمرانوں کے نام ۔۔اکرام اللہ

تم کیوں چاہتے ہو کہ ہر منظر کو تمہاری آنکھ سے دیکھا جائے اور دنیا کو سب اچھا ہونے کی نوید سنائی جاتی رہے جبکہ درحقیقت سنگین نوعیت کے مسائل پہاڑ بن کر کھڑے ہوں۔

کیسے ممکن ہے کہ کوئی ہر معاملے کو تمہارے ذہن سے سوچے اور سمجھے کہ ہر وہ فرد قابل ِ تعزیر ہے جو فریادی بنا ہوا ہے جبکہ فریادی اپنے مسائل کے حل کی دہائیاں دے رہے ہوں ، ظلم و جبر کے مارے انصاف کی بھیک مانگ رہے ہوں، استحصال کی چکی میں شب وروز پسنے والے اپنے زندہ رہنے کے لیے اپنی ہی محنت سے کمائی گئی دولت میں سے تھوڑا زیادہ پانے کے لیے ترس رہے ہوں، گھروں کی زینت کہلانے والی مائیں بہنیں اپنے لاپتہ عزیزوں کے غم میں سڑکوں پر آ بیٹھی ہوں اور مایوسی کے عالم میں تم سے زندہ اٹھائے جانے والے عزیزوں کی نعشوں کا تقاضا کر رہی ہوں۔

یہ توقع کیوں لگائے بیٹھے ہو کہ جب بھی کوئی زبان ہلائے تو وہ بولے جو تم سننا چاہتے ہو اور تمہاری منشاء کے مطابق لوگوں کے بلکنے اور سسکنے کو بھی راگ ٹھہرایا جاتا رہے یا اس سے چشم پوشی کی جاتی رہے جبکہ ضمیر چیخ چیخ کر کہہ رہا ہو کہ ضرورت اس کی ہے کہ ستم زدہ افراد کی آواز بنا جائے اور ان کی آواز اتنا بلند تر کرنے کے لیے کوشاں رہا جائے کہ تم زچ آکر اپنی روش بدلو اور دنیا کو اس طرز دیکھنے لگ جاؤ  جیسی وہ ہے۔

تم اقتدار و اختیار کے منصب پر فائز ہو، تمہاری سلطنت تمہارے لیے بازیچہ اطفال ہے، ہم جیسے محدود علم رکھنے والوں کی نسبت تمھیں اس بات کا کچھ زیادہ ہی ادراک ہے کہ حقیقت میں تمھاری رعایا کس قدر کرب و اذیت میں زندگی گزارتی ہے ، چھوٹی چھوٹی بنیادی ضروریات کے لیے لوگ کیسے کیسے دکھ سہہ کر خود اور اپنے بچوں کو جھوٹی تسلیاں دیتے ہیں کہ حالات بدل جائیں گے ، اچھے دن بھی آئیں گے ، تمہارے ادارے اعداد و شمار دیکھ کر ہی تمہیں بتا سکتے ہیں کہ کتنے ایسے ہیں جو چھت کی حسرت دل میں پالے دنیا سے بے سرو سامانی کی حالت میں رخصت ہوجاتے ہیں، کتنے ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں، کتنے ایسے ہیں جو میلوں چل کر اپنے لیے جوہڑوں سے پانی بھر کر لاتے ہیں ، کتنے ایسے ہیں جو کسی معمولی بیماری کے بگڑ جانے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں لیکن ہسپتال جانے کے اسباب مہیا ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ کتنوں کے پیاروں کو نامعلوم مقامات پر اس وجہ سے قید رکھا گیا ہے جو اس گھٹن زدہ ماحول سے چھٹکارے کی خواہش رکھتے تھے اور تازگی کے جھونکوں کی تلاش میں دیوانہ وار چلتے تھے۔

تمھیں یقیناً یہ بھی معلوم ہوگا کہ روز کرنے گھروں میں مائیں اپنے بچوں کو بھوکا سلاتی ہیں، کتنے ایسے ہیں جو بھوک سے تنگ آکر خاموشی سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ، کتنے ایسے ہیں جو غذائیت کی کمی کی وجہ سے دنیا میں آنے سے پہلے یا آنے کے فوراً بعد داعی اجل کو لبیک کہہ کر دنیا سے منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں ، اور ان کے بارے میں تو تم ہی کیا سب ہی جانتے ہیں جو بھوک سے نڈھال ہو کر ہوش و خرد کھو بیٹھتے ہیں اور اپنی موت کو تماشا بنانے کے ساتھ ساتھ تمھارے ماتھے پر بھی کلنک کا داغ سجا بیٹھتے ہیں۔

دنیا کی یہ تلخیاں بہت کریہہ ہیں اور تم ان پر سوچ کر خود کو بد مزہ نہیں کرنا چاہتے ، ان کے بارے میں سن کر اپنی عیش و عشرت کی زندگی میں تلخی نہیں گھولنا چاہتے اور ان کے بارے میں کچھ بولنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے اور اگر کبھی اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے رسماً  کچھ بولنا بھی پڑے تو یہی باور کرواتے ہو کہ یہ تمام تر مسائل ہر فرد کے مقدر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان پر سوائے صبر کرنے کے اور کوئی   چارہ بھی نہیں۔ یہ بتاتے ہوئے تمہارے منہ میں چھالے پڑ جاتے ہیں کہ دنیا کے  مسائل اب تک دستیاب وسائل سے بہت کم ہیں ، اگر وسائل کے استعمال کی ترجیحات درست کی جائیں تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی بھی فرد بنیادی ضروریات کے لیے سسکتا رہے یا اس طور سے اپنے لیے بہتر زندگی کی مانگ کرے کہ تمھیں اس کی آواز دبانے کے لیئے اسے لاپتہ کرکے ٹھکانے لگانا پڑے یا اس کو اس پر مائل کرنا پڑے کہ تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود وہ زبان بند رکھے گا۔

یاد رہے کہ ایک محروم انسان یا محرموں کا ہمدرد فرد جب دنیا کی ترقی، دولت کی ریل پیل اور خرافات پر وسائل خرچ ہوتے دیکھے گا تو اپنی بدحالی پر لازمی سوچے گا اور کئی سارے ایسے ہوں گے جو تمھاری حراساں کیے رکھنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود سوال کرنے کی جرات بھی کریں گے اور اس ظالمانہ نظام کو اکھاڑ پھینکنے کی جدوجہد بھی کریں گے۔

تم لاکھ حربے آزماؤ لیکن ہر فرد کو کبھی بھی رضاکارانہ طور پر ہر ظلم کے آگے سر تسلیم خم کیا ہوا نہیں پاؤگے اور جلد یا بدیر تمہاری ہر تدبیر ناکام ہوگی اور خلق خدا کے آگے تمھیں جوابدہ ہونا پڑے گا کہ ہم ایک ترقی یافتہ اور وسائل سے بھری دنیا کے باسی ہیں جس میں پیدا کردہ مسائل تمھاری غیر منصفانہ پالیسیز، استحصالی حکمت عملی اور غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ انسانوں کے اس سماج میں ابھی سوال کرنے والے اور سوال کے نتیجے میں ہر برا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہنے والے افراد تمھاری ہر ممکن کوشش کے باوجود کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔

کوئی بعید نہیں کہ دن ایسے پھریں کہ آج اگر تم جو لوگوں کو حبس بے جا اور گھٹن  زدہ ماحول میں رکھنے پر مصر ہو تو کل اپنے لیئے جائے اماں بھی نہ ڈھونڈ سکو کہ جبر تادیر نہیں رہتا اور کچھ دیوانے اور کچھ فرزانے جب منظم ہوجائیں تو تمھارا تعمیر کیا گیا یہ کھوکھلا نظام اپنے کرتا دھرتا افراد کے ساتھ پل بھر میں خاکستر ہو اور ایک ایسی دنیا کی بنیاد رکھی جائے جہاں کوئی ظلم نہ رہے اور کوئی مظلوم نہ ہو۔

دنیاپر  ظلم کی مناسبت سے میرے چند اشعار:

ہاریوں کا اگر ہو خانہ خراب
بھاڑ میں جائے کھیتیوں کا شباب

کس کو کھاتی ہے گرد صنعت کی
کون لیتا ہے ریشم و کمخواب

چند ساری جزائیں لیتے ہیں
اور باقی جنم جنم کے عذاب

بس نصیبوں کا کھیل ختم ہوا
وقت لکھے گا ایک اور نصاب

تم کو حق کیا کہ تم جتاؤگے
یہ گناہ ہے، کرو جو یوں تو ثواب

اکرام اللہ
اکرام اللہ
اکرام اللہ عرصہ دراز سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور کراچی، اسلام آباد، نوشہرہ اور سوات میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں اور نظم و نثر کے ذریعے مظلوموں کی داد رسی کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ آپ 'کراچی مزدور اتحاد' کے کنوینر اور 'اکیڈمک ویلفئیر اینڈ ایڈوائزری زون (آواز)' کے سرپرست بھی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *