• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • میں ابھی ابھی دشمنوں سے مل کر آرہا ہوں۔۔اسدمفتی

میں ابھی ابھی دشمنوں سے مل کر آرہا ہوں۔۔اسدمفتی

میں ابھی ابھی پاکستان سے پلٹا ہوں ،وہاں رہ کر بہت کچھ دیکھا اور سنا اور بھوگا۔۔ کہنے،سننے اور کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔واضح فرق ۔۔۔جسے میں اپنے حساب سے جوں کا توں پیش کررہا ہوں ۔
کہنے والا جو کہتا ہے سننے والا ضروری نہیں کہ اس کو غور سے سنے اور پھر اس کے وہی معنی بھی لے جو کہنے والا کہہ رہا ہےاور پھر کہتے ہیں کہ جو کرنے والا ہوتا ہے وہ کچھ کہتا  اور سناتا کم ہے، اور جو کچھ کہنا اور سنانا چاہتا ہے وہ کچھ کرکے عملی صورت میں کہہ اور سنا دیتا ہے لیکن دانا ایک صورت حال ایسی بتاتے ہیں کہ جب کہنے سننے کو کچھ بھی نہیں رہ جاتا،نہ کہنے والے کی طرف کوئی دھیان دیتا ہے نہ سننے والے کے کانوں کو کہنے والے  کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے ۔کہنے والے کا کہا بے کار جاتا ہے۔ اور سننے والا کان بند کرکے اپنی سی کرنے مین مگن ہوجاتا ہے۔خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا وقت آئے کہ جب کہنے سننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی جائے لیکن اسے کیا کہیے اور کیا کیجئے کہ بعض اوقات حالات ایسے کروٹ بدل لیتے ہیں اور ایسا ماحول بنا دیتے  ہیں   کہ کہنےاور سننے والوں کے درمیان ایسی خلیج حائل ہونے لگتی ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ تن کر بیٹھ جاتے ہیں، کہنے والا اپنی ہی سنانے پر مصر رہتا ہے اور  سننے والا سننے کے لیے تیار نہیں ہو پاتا ۔ایسے لمحے کی آمد کا خطرہ ہو تو سب کو اپنی اپنی جگہ سب کو اپنے طرزِ عمل اور طرزِ فکر میں تبدیلی کر لینی چاہیے۔اور یہ وقت ملک عزیز پر آچکا ہے ۔

میں نے پہلے بھی کہیں لکھا ہے کہ وہ شخص پاکستان کے بارے میں کیا جانتا ہے جو صرف پاکستان کے بارے میں جانتا ہے۔آج کے دور کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اصول،رواداری، اور جواز لوگوں کے ذہنوں ،لوگوں کی زندگیوں سے  اٹھتا جا رہا ہے۔یہ الفاظ ہماری زندگی سے خارج ہورہے ہیں  ،عدم برداشت 14 اگست 1947 کی دین  ہے۔جس  کے   منفی نتائج ہم تخلیق اور تخلیق کار پر بھی دیکھ رہے ہیں جو وہ کچرے کی صورت میں تیزی سے اگلتا جارہا ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہماری زندگی بے شمار ثانوی اشیا کا مجموعہ ہے اور  یہ کہ ثانوی چیز مل کر اسے قابل برداشت بناتی ہیں ۔ پاکستان جاکر ایک بات کا احساس پھر تازہ ہوا اور  اس  کی تصدیق بھی کہ ہر عہد کی ایک مخصوص فکر ہوتی ہے اور طرزِ اظہار بھی اور ماہِ و سال کے آئینے میں عہدکو دیکھنا آسان نہیں ۔

آج پاک سر زمین پر دہشت اور  دہشت گردی کا دور  ہے۔ اور کل سپریم کورٹ کے ایک جج رابرٹ ایل جیکسن نے جو جنگ عظیم دوم کے بعد نیوبرگ میں نازیوں پر چلنے والے مقدمات میں امریکہ کا سب سے بڑا وکیل استغاثہ تھا 2 اگست 1945 کو کہا تھا کہ “ہمیں جرمنی پر یہ واضح کردینا چاہیے کہ جس غلطی کے لیے ان کے  رہنما ؤں  پر مقدمے چلائے جارہے ہیں یہ نہیں ہیں کہ وہ جنگ ہار گئے ہیں  بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے جنگ چھیڑی تھی’ اور ہمیں جنگ کے اسباب کے بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہیے کہ کوئی بھی شکایت،زیادتی ،ظلم یا پالیسی ،جنگ دہشت گردی کو حق بجانب قرار نہیں دیتی ۔یہ انتہائی قابلِ مذمت اور” متروک فعل ہے

بات سے بات نکلتی چلی جارہی ہے اور سچ تویہ ہے کہ جب کہنے اور سننے کے بارے  میں سنجیدگی کا رویہ ترک کردیا جائے گا تو پھر بہت سی ایسی باتیں یاد آنے لگتی ہیں  جو اگرچہ ثانوی حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان کی اہمیت ایسے لمحوں میں بڑھ جاتی ہے۔ اور  ہم اپنی اپنی انا کے طلسم میں اسیر اپنوں کو بھی غیر سمجھنے لگتے ہیں ۔تخت و تاج کے وارث لوکائی کو رعایا سمجھنے لگتے ہیں اور یوں مکالمہ  کی وہی صورت بن جاتی ہے کہ غیروں سے کہا سنا جاتا ہے ،ہزاروں میل کی دوری کو سترہ میل کی نزدیکی پر ترجیح دی جاتی ہے اور براہ راست بات کرنے کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ اس طرح ہماری نام نہاد برتری پر ضرب لگے گی۔ آخر ہم نظریاتی اختلاف کو غیرت اور دشمنی کیوں سمجھ لیتے ہیں ؟ہم سب پاکستانی ہیں  ،ہم سب کا ایک وطن ہے ہم سب اس ملک کے وفادار ہیں اسکی  بہتری چاہتے ہیں اس کے عوام  کی بہتری چاہتے ہیں جب یہ عقیدہ ہو تو پھر بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ کہنے والا اپنی ہی بات پر کیوں مصر ہے ،وہ اپنی ہی بات کو حرفِ آخر کیوں قرار دیتا ہے ؟وہ خود کو عقل کل کیوں سمجھتا ہے ؟کیا محض اس لیے کہ اس کے ہاتھ میں بندوق ہے اسے تو دانا جنگل کا قانون کہتے ہیں ۔

کہنے والے کی نسبت سے سننے والے کی حیثیت بہرحال کچھ مختلف ہوتی ہے ۔ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ جب کہنے والے کی ہر بات پر سننے والا اعتبار اور یقین کرلیتا ہے کہنے والے اکثر ایک غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سننے والا ہماری کہی ہوئی بات سے ہی مطمئن ہوجاتا ہے اس لیے کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سننے والے کا کہنے والے کی باتوں سے اعتبار اٹھتا چلا جاتا ہے۔ آپ بار بار کہی جانے والی باتوں کو عمل کی صورت میں نہیں دیکھتے  تو اپنے کان بند کرلیتا ہے۔ ہمارے ہاں اب ایسی ہی صورتحال پیدا ہوچکی ہے ۔لیکن سننے والوں کے لیے اب کہنے والوں کی باتوں پر توجہ دینا کچھ اور مشکل ہوگیا ہے۔ سننے والے تو اب دو ٹوک بات سننا چاہتے ہیں ،اب کہنے والوں کوبھی چاہیے کہ وہ مکالمہ کا اہتمام جلدی کریں ، وقت ہاتھ سے تیزی سے پھسلتا جارہا ہے ۔دشمن دشمنی کا راگ اور راگنی کا الاپ بند کریں اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ، میرے اس اختلاف رائے کو ملک دشمنی یا غربت نہ سمجھا جائے میں ابھی دشمنوں سے مل کر آرہا ہوں اگر آپ مجھے اختلاف کرنے کی اجازات نہ دیں تو کیااس کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ آ پ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی ہر بات سے محض اور محض اتفاق کروں ؟

اختلاف کا حق حاصل نہ ہو تو کیا اتفاق کے معنی محض حکم کی بجا آوری ،تابعداری ،اور غلامی نہیں ہوتے؟ آپ حاکم اور میں محکوم۔ سوال یہ ہے کہ یہ حاکم اور محکوم کا چکر کب تک چلے گا جیسا کہ کسی عارف نے کہا ہے کہ “آپ آقا ہیں اور میں غلام اور نہ آپ انسان بن پا رہے ہیں اور نہ میں “

میں نے ملک شاد باد میں یہ دیکھا ہے کہ اس وقت وہاں سیاست اور حکومت کی ایسی فضا پیدا ہوچکی ہے جس کی تاریخ کے ایک دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے وقت تھی۔ “یہ کمپنی بہادر” بھی کہلاتی تھی۔دارالحکومت سے جو فرمان جاری ہوتے ہیں ان میں لکھا ہوتا تھا ،ملک خدا کا،حکومت بادشاہ سلامت کی،اور حکم کمپنی بہادر کا”۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ایک مخصوص سوچ، طریقہ،سلیقہ ،قرینہ ،علم اور عمل کی وجہ سے کشور حسین شاد باد میں ویسے ہی حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ یہاں بھی کمپنی بہادر والی حکومت ہے جو کہ چاروں طرف سے خطرات میں گھری ہوئی ہے۔

میں دشمن کی طرفداری کی خاطر

بسا اوقات خود سے بھی لڑا ہوں!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *