زینب کا نوحہ اور قوم کی حالت زار۔۔ایاز خان دہلوی

آئیں آج 61 ہجری کے 10 محرم کے کربلا کی  اس شام کو یاد کریں جہاں پر مسلمان کہلانے والے مسلمان نے اپنے  نبی ﷺ کے نواسےامام حُسین رضی اللہ عنہ کو پورے خاندان اور بہتر جاں نثاروں سمیت شہید کیا اور اس پر نوحہ کنا شہزادی زینب سلام اللہ علیہ اکیلی شام غریباں میں اپنے پیاروں کا نوحہ مسلمانوں کو سُنارہی تھی مگر اس دشت و بیاباں میں کوئی اس کا نوحہ سُننے کو تیار نہ تھا۔ یہ وہی مسلمان تھے جن کے ایمان کی حرارت سے پورے عرب میں اسلام کی روشنی پھیل چکی تھی مگر جب مال و دولت کی ہوس اور جاہ وحشم اپنا غلبہ پالیتے ہیں تو مذہب وعقیدہ ایک ثانوی چیز بن کر رہ جاتا ہے جس کا ادراک تاریخ کے صفحوں پر مسلمانیت  کے  ایک  بد ترین  دھبے  کی  صورت  میں  انمٹ ہو کر اپنی کہانی خود بیاں کر رہا ہے ۔ کربلا جب بھی قائم تھی اور کرب و بلا آج بھی قائم ہے مگر یہ کربلا ہمارے معاشرے میں بنائی گئی ہے جہاں مسلمان کلمہ گو بے دھڑک اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو اپنے نفس کی پیروی میں قتل کر رہا ہے۔ شو مئی قسمت یہ  وہ  پاکستان  ہے جس کی  بنیاد  دنیا کی تاریخ میں دوسری اسلامی سلطنت کے طور پر رکھی گئی تھی مگر اب یہاں پر جنگل کا قانون رائج ہے۔ ایسا سب کچھ اس مملکت میں کیوں ہورہا ہے اس کے اسباب کیا ہوسکتے ہیں۔

جب ایک غائیبانہ نگاہ اس ملک کی تاریخ پر ڈالی جاتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اس ملک میں صرف حکومت کرنے کو ترجیح دینے کی اپنی سی کوششیں کیں اور قوم کو بہترین تعلیم و تربیت دینے سے پہلوتہی برتی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پوری قوم ایک معصوم ننھی کلی زینب کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ ترین اور وحشت سے بھرپور عمل پر چیخ اُٹھی۔ اب یہ چیخنا کیسا جب اس قوم نے نہیں سوچا کہ ہم جس کو ووٹ کی طاقت سے طاقتور بنا رہے ہیں کیا وہ ہماری عزت و آبرو کو قائم رکھنے کیلئے بہترین قانون سازی کرنے کی اہلیت و قابلیت رکھتا ہے کہ وہ ایسا قانون بنا سکے جس میں تمام ماؤں اور بہنوں بشمول ننھی کلیوں کی عزت و آبرو محفوظ رہ سکے گی ۔ جب قوم کو جہالت کے اندھیروں میں رکھا جائے گا اور ان کی سوچ کو مثبت انداز میں تبدیل نہیں کیا جائے گا اور قوم کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا جائے گا تو ایسے واقعات اس قوم میں جا بجا ہوں  گے کیونکہ تعلیم ہی وہ مشعل ہے جس سے  ذہنوں کو جلا بخشی  جاتی ہے اور تعلیم کی  ہی  قوت منفی سوچ کو مثبت کیا جانے کا عمل پیدا کرتی ہے ۔ ہمارے معاشرے میں منفی  سوچ ایک عفریت کی مانند ہر ایک خاص و عام کے  ذہن میں رچ چکی ہے۔اب ہم اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کے حق میں نہیں بلکہ ہر بُرے فعل کا سارا  الزام  دوسروں پر اور معاشرے پر ا س کے ساتھ ساتھ پاکستان اور اس کے اشرافیہ پر تھوپنے کے عادی بن چُکے ہیں۔

یہ پڑھیں: زینب ہم بالکل شرمندہ نہیں ہیں۔۔غلام قادر راز

بدقسمتی سے ہمارے اس معاشرے میں کسی بھی طرح قانون کی حکمرانی نہ تو عوام کو اور نہ ہی حکمرانوں کوکسی بھی قیمت پر قابل قبول ہے اس کی  وجہ  صرف  اور  صرف تعلیم  کی نہایت شدید کمی اور مال و دولت کی ہوس ہی سمجھے جائے۔ ایک بات کم از کم ہر پاکستانی یہ کہنے میں بجا نظر آتا ہے کہ پاکستان بن تو گیا مگر بد قسمتی سے قوم بننے کے عمل کے پہلو کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ہمارے ارباب  ِ  اختیار نے اپنا سب سے آخری نکتہ رکھا نیزاس نوزائیدہ مملکت پر کار حکومت سنبھالنے کے دعویدار سیکڑوں کی تعداد میں ہیں مگر کسی کے دل و دماغ میں کوئی ایسا منصوبہ نہ بن سکا کہ اس نئی نویلی قوم کو قانون کا احترام اور اس پر عملداری و پاسداری سکھاتا۔ اس عمل پر اتنی بری طرح سے پہلوتہی کی گئی کہ اب پورا معاشرہ بشمول عوام سے خواص قانون نامی کسی شئے پر نہ تو یقین اور نہ ہی اس پر عملدرآمد کی سوچ رکھتا ہے ۔

افسوس ناک   بات یہ ہے کہ ہر شخص جو کسی بھی قانونی کارروائی میں غلطی سے پھنس جائےتو وہ اپنی جان خُلاصی کیلئے صرف اور صرف پیسے کو بنیاد بنا کر اپنی جان چُھڑانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے اور اس کے بعد کا تجربہ اسے اتنا پُختہ کردیتا ہے کہ وہ کسی بھی قانون کو اہمیت دینے پر رضامند نہیں ہوتا۔ ہم اور آپ اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پر قانون نافذ کرنے والے اہلکار سرفراز نامی لڑکے کو قتل عمد کرکے بعد میں صدر پاکستان سے اپنی باعزت بریت حاصل کر لیتے ہیں۔ جہاں پر ایک ماں کہتی ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ میرے جواں بیٹے کے قاتل کون ہیں مگر میری جوان بیٹیاں ہیں مجھے ان کی فکر ہے یہ بات کسی عام عدالت کے روبرو  نہیں  بلکہ  معزز  سپریم کورٹ کے سامنے  کہی جاتی ہے اور سپریم کورٹ اس معاملے میں چُپ کو روزہ  رکھ  لیتی  ہے۔  جہاں شاہزیب کے قاتل کے طاقتور والدین پیسے کے بل بوتے پر اپنے بیٹے کو رہا کروالیتے ہیں اور بیچارہ حاضر سروس ڈی ایس پی پولیس میں ہوتے ہوئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہو۔

یہ وہ معاشرہ ہے جہاں پر چند سال پہلے قوم کی ایک بیٹی اپنی ہی اولاد کو قتل کردیتی ہے کہ وہ ا س کے دودھ کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتی کیونکہ اس کا شوہر اسے کہتا ہے کہ تم اپنے جسم کو بیچ ڈالو جب تک تم اپنا جسم نہیں بیچوگی تمھاری بیٹی کو دودھ نہیں ملے گا۔ ایک قوم کی دوسری بیٹی بھی ہے جو انصاف کیلئے ہر دروازے   کھٹکھٹاتی رہی مگر اسے انصاف نہ ملا تو   خود سوزی پر مجبور ہوجاتی ہے۔ مال و دولت کی ہوس میں ایک ایسا معاشرہ   نمو پاکر اب ایک تناور درخت بن چکا ہے جہاں پر بے حس افراد ہیں اور ان کی انتہا کی حدوں کو چُھوتی ہوئی بُری خواہشات جو ضمیر کو سلا کر صرف یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے اور اس کے علاوہ ہر شخص گندگی کے ڈھیر کا نمائندہ  ہے۔ جب شعور کو ہوس اپنا نشانہ بنالے اور قانون صرف مال و دولت کے نمائندوں کا رہبر اور رہنما بن جائے تو ایسے واقعات ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

ایک ندامت سی محسوس کرتا ہوں جب ایسے واقعات ہمارے معاشرے میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور سوچ کا دھارا   گہرائیوں میں جا کر ایسا  پٹختا  ہے کہ پھر کوئی راحت کا سانس اس جسم سے خارج نہیں ہوتا۔ ہمارے بے حس حکمران اور بے حس معاشرے کے افراد صرف اور صرف ایک تعلیم کے شعور سے ناآشنا ہوکر ایسے اقدامات کرتے ہیں کہ شعور جب ان کا گہرائی سے ادراک کرتا ہے تو بس ایک ہی صدا آتی ہے کہ تعلیم کی شدید ترین کمی اس قوم کو مزید گہرائیوں کی کھائیوں میں لا پھینکے گی اور پھر یہ معاشرہ اور قوم اپنی تباہی کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ کیونکہ جس قوم میں تعلیم کیلئے صرف اور صرف بجٹ کا 3 فیصد رکھا جائے اور وہ بھی مالی کرپشن کا نشانہ بن جائے تو پھر قومیں نہیں بنتی بلکہ انتہا کی حد تک بے شعورافراد کا جنم ہوتا ہے جو اپنی وحشتناک ہوس سے اپنے آپ کو تباہی کی گہرائیوں میں لاپھینکتے ہیں اور قوم کا نام و نشاں تاریخ کے صفحوں سے مٹ جایا کرتا ہے۔

زینب کے نوحہ پر میرا دل اس وقت بھی زار زار رویا تھا جب میں نے تاریخ کے جھرونکے میں جھانکا تھا اور آج بھی اس ننھی کلی زینب کے لاشے کو دیکھ کر میرا دل پارہ پارہ ہوچکا ہے۔ ہے کوئی اس ننھی کلی کے بے جان لاشے  پر  نوحہ کرنے والا اور اپنی سوچ کو تبدیل کرکے اس ظلم کے خلاف اُٹھنے والا؟
اس ننھی کلی زینب کے واقعہ پر شعور کا ادراک رکھنے والوں پر احتجاج کا حق بھی چھین لیا گیا ہے اب تک جو خبریں موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق دو افراد جان بحق اور چھ افراد پولیس کی شدید ترین فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ کب ہمیں بحیثیت قوم شعور آئےگا ۔  جب تک ہم اس منزل تک پہنچیں گے تو دیگر اقوام ہم سے کئی منزلیں آگے جاچکی ہوں گی۔

ایاز خان دہلوی
سچائی کی تلاش میں مباحثہ سے زیادہ مکالمہ زندگی کا ماحصل ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *