گزشتہ اقساط کا لنک

اگر تو شعور خالص فزیکالزم اور فنکشنلازم پر استوار ہے تو پھر کہنے دیجئے کہ آج کئی مشینیں، کمپیوٹرز اور روبوٹس وغیرہ بھی باشعور کہلائے جانے چاہئیں کہ ان کی گفتگو اور رویہ سماج کے رواج مطابق ڈھالا جا سکتا ہے ۔
فزیکالزم اور فنکشنلازم کو لے کر محققین نے یہ خوبصورت بحث چھیڑی کہ چمکادڑ کے دماغ تک اگر انسان کی مکمل رسائی ہو، اس کے افعال ، انسٹینکٹس کو پوری طرح جان لیا جائے تو کیا اس سے ہم چمکادڑ کی جگہ بیٹھ کر ، یعنی اس کی آنکھوں سے اس دنیا اور دنیا کی حقیقت کو جان سکتے ییں؟ اس کا جواب نفی میں ہے، اسی طرح صرف چمکادڑ ہی نہیں، کسی ابوبکر نامی شخص کے دماغ، اس کی سوچ اور فکر پر صد فیصد قبضہ کر لیا جائے، بلکہ اس کے دماغ میں ڈیرے جما کر بیٹھ جائیں تو کیا اس کی شخصیت کے ہر زاویے کو ہم سمجھ پائیں گے؟ اس کا جواب بھی نفی میں ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟
ایسا اس لئے ہے کہ ہم کبھی بھی ذات کی جگہ نہیں لے سکتے، قرب کتنا ہی کیوں نہ بڑھ جائے، آپ زیادہ سے زیادہ مشاہدہ کرنے والے دوسرے ، بیرونی، شخص ہی رہتے ہیں۔ چمکادڑ کے زاویہ نظر اور ابوبکر کے نکتۂ نگاہ کو آپ کبھی نہیں پہچان پائیں گے کہ یہ اپنے اپنے انفرادی شعور کے ساتھ زندہ ہیں، شعور ذات کا خاصہ ہے، الگ ہے، بے نظیر ہے، انفرادی ہے، دہرایا نہیں جا سکتا۔ ادراک کو زیر نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً اگر ایک دندان ساز کسی شخص کا دانت نکال رہا ہے، یہ دندان ساز اپنے شعبے میں ماہر ہے، دانتوں کے متعلق وہ مریض سے ہزار گنا بہتر جانتا ہے، بیالوجی، فزیالوجی ، پیتھالوجی، نیورالوجی کی تمام کتب اس نے حفظ کر رکھیں ہیں، جانتا ہے کہ کہاں کتنے اعصاب موجود ہیں، درد کی شدت کتنی ہو سکتی ہے، دندان ساز علمی طور پر سب جاننے کے باوجود درد کی اس کیفیت کو محسوس نہیں کر سکتا جس سے مریض گزر رہا ہوتا ہے ۔ انگریزی محاورے کے مطابق ، دوسرے شخص کی کھال میں گھسنا ممکن نہیں ۔
فزیکالسٹ کا یہ دعویٰ سامنے آسکتا ہے کہ ذاتی تجربات ہر ایک کے اپنے ہیں، یہ سبجیکٹیو ہیں، اور سائنس صرف ابجیکٹیو مشاہدے پہ کام کرتی ہے، اس لئے شعور کی صرف بیرونی مشاہدہ کرنے والے ، دوسرے شخص، کی نگاہ سے پیمائش کی جا سکتی ہے، یہاں دو مشکلات ہیں، پہلی یہ کہ بیرونی مشاہدہ کرنے والا، یعنی دوسرا شخص، کس حد تک آبجیکٹیو ہے، اس کا جواب کون اور کیسے دے گا؟
دوسری اس سے بھی بڑی مشکل یہ کہ دنیا کا ہر بڑا علم اور ہر بڑی تخلیق انسان کے اندرونی ، ذاتی، تجربے سے ہی نمودار ہوئی، اگر سائنس ذاتی تجربے سے منکر ہے تو پھر ان تمام علوم کی نفی کرنا پڑے گی۔
سائنس کی نگاہ سے شعور کیا ہے اور مابعدالطبیعیات شعور کو کیسے دیکھتی ہے، اس فرق کو سمجھنے کیلئے ایک مثال دیکھئے،
فرض کیجئے کہ ایک بچہ پیدائشی طور پر مکمل بہرا ہے، سننے کی صلاحیت سے محروم ہے، اس کے والدین نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے موسیقار بنائیں گے، بچہ موسیقی کے آلات بجانا سیکھتا ہے اور اچھے استاد اس کی رہنمائی کرتے ہیں، اب یہ بچہ سکول کالج کے بعد یونیورسٹی میں موسیقی کے میدان میں پی ایچ ڈی کرتا ہے، وہ اپنا تھیسس بھی ڈیفنڈ کر لیتا ہے کہ تھیسس کو ڈیفنڈ کرنے کیلئے کتابی علم کافی ہوتا ہے، دنیا اسے چوہدری بیتھوون کے نام سے پکارتی ہے، ہر بڑے پروگرام میں اس کی موسیقی ذوق و شوق سے سنی جاتی ہے، سراہی جاتی ہے، شہر کے باذوق افراد اس کی دھنوں کے دلدادہ ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چوہدری بیتھوون نے خود اپنی موسیقی کبھی نہیں سنی کہ وہ سماعت سے پیدائشی محروم ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا چوہدری بیتھوون موسیقی بارے کچھ جانتا ہے کہ نہیں ؟
سائنس کے نکتۂ نگاہ سے وہ موسیقی بارے سب کچھ جانتا ہے کہ تمام متعلقہ علوم پر اس کی مہارت ہے، مابعدالطبیعیات کی رو سے چوہدری بیتھوون موسیقی بارے کچھ نہیں جانتا کہ وہ سماعت موسیقی کے ذاتی تجربے سے نہیں گزرا۔
شعور کا معاملہ یہی ہے، سائنس شعور کے متعلق صرف وہی بتا سکتی ہے جو بیرونی تجربے سے حاصل ہے، دماغ، دماغ کی فعالیت اور اعصابی خلیات ہی شعور کا ماخذ ہیں۔
مابعدالطبیعیات شعور کو دماغ، اس کی فعالیت اور اعصابی خلیوں سے باہر کی چیز اور کہیں گہرا، بلند اور اہم جانتی ہے کہ یہ اسے خالصتاً ذاتی تجربے سے تعبیر کرتی ہے۔
دنیا بالخصوص مغرب کے محققین کئی چوٹیں کھانے کے بعد اب مابعدالطبیعیات سے انکار کو درست نہیں گردانتے کہ صرف شعور ہی نہیں بلکہ حقیقت کو جاننے کی جستجو بھی اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں