• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ڈیئر پرائم منسٹر!آپ بولتے کیوں نہیں؟ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے/ محمد ہاشم خان

ڈیئر پرائم منسٹر!آپ بولتے کیوں نہیں؟ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے/ محمد ہاشم خان

ڈیئر پرائم منسٹر: اس وقت ملک و قوم دونوں کو آپ کی شعلہ فشانی کی ضرورت ہے،میں نے تو اپنے طور پر آپ کے حاسدین و معاندین کو مطمئن کرنے کی بہت کوشش کی ہے لیکن وہ کوتاہ مغز بدبخت مان نہیں رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں بھی آپ کی طرح سینہ تان تان کر جھوٹ بولنے لگا ہوں اور اس پرفخر بھی کرنے لگا ہوں، خیر میری شان میں گستاخی کوئی معنیٰ نہیں رکھتی لیکن جب یہ آپ کی شان میں گستاخی کرنے لگتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ زمین کا سینہ پھاڑ کر اس میں دفن ہو جاؤں، دل بہت کچھ کرنے کو چاہتا ہے لیکن جو چیز بہت شدت سے چاہتا ہے وہ یہ کہ یہ دن دیکھنے کے لئے میں زندہ کیوں تھا، میں نے سنا کیوں؟سننے سے قبل مرکیوں نہیں گیا لیکن حضور آپ جانتے ہیں کہ ہمیں اتنی آسانی سے موت کہاں نصیب ہونے والی ہے۔ میں آپ کی کامیابی سے جلنے والے کم فہموں اور روسیاہوں کے الفاظ یہاں نقل نہیں کرسکتا۔خطا معاف،میری زبان شل ہوجائے ، ان الفاظ کے تصور سے ہی میری روح کانپ جاتی ہے چہ جائیکہ میں انہیں اداکروں لیکن کیا کروں کہ آپ کا پرانا ’متر‘ ہونے کے ناطے من وعن خیالات آپ تک پہنچانا بھی فرض عین سمجھتا ہوں سو اس گستاخی کے لئے صمیم قلب سے معافی کا طلب گار ہوں، امید ہے کہ ہم جب کبھی ملیں گے تو ایک چائے کی چسکی کے ساتھ سارے گلے شکوے اور رنجشیں دور ہوجائیں گی۔

ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ آپ کے دشمن کوئی بھی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی آتش فشانی کے علاوہ کوئی اورچیز ان کے غیض و غضب کو سرد نہیں کرسکتی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ جب بھی من کی بات کرتے ہیں تو صرف اپنے من کی بات کرتے ہیں اور ایران توران بہت کرتے ہیں، معاندین یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ حساس مسائل پر گفتگو کرنے سے گریزکرتے ہیں ۔ وہ لوگ آپ کی شان میں اکثر ایک ہی جملہ دہراتے ہیں کہ ’ مسٹر پھینکو! آج کل کچھ پھینک کیوں نہیں رہےہیں۔‘

ڈیئر پرائم منسٹر! اب آپ ہی بتائیے کہ آپ کی شان میں اس قسم کے غلیظ قصیدے کون سننا برداشت کرے گا، کم از کم میں تو نہیں کرسکتا اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان سیاسی ہونقوں اور فکری احمقوں کو دنداں شکن جواب دیں ایسے ہی جیسے طلاق ثلاثہ بل پر آپ نے سکوت توڑتے ہوئے سب کو ’ساکت‘ کردیا ہے۔ آپ کا یہ گرانقدرزریں خیال کہ ’ آخر کار مسلم خواتین کو تین طلاق کی روایت سے خود کو آزاد کرنے کا موقع  مل گیاہے‘مسلم خواتین تک پہنچ چکا ہے اور سب نے خیرمقدم کیا ہے۔ کچھ اسلام بیزار خواتین نے کہا ہے کہ وہ اس آزادی کابھرپور استعمال بھی کرنا چاہتی ہیں لیکن ساتھ ہی ایک مخمصے کی بھی شکار ہیں کہ ان کا نان و نفقہ کون برداشت کرے گا،ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم نان و نفقے کا انتظام کردیتے ہیں تو ہم ان ’ملاؤں ‘ کو وہ سبق سکھائیں گے کہ چار شادی تو دور ایک شادی کے تصور سے ہی ان کا دماغ پناہ مانگے گا۔ کچھ روشن خیال خواتین کا خیال ہے کہ آپ انہیں یا تو ملازمت سے لیس ہونے کے مفت وسائل و ذرائع فراہم کریں یا پھر یہ یقین دلائیں کہ سوئس بینک والا ۱۵ لاکھ روپیہ کم ا ز کم ان مسلم خواتین کو ضرور ملے گا جو طلاق کی روایت سے آزاد ہونے کےلئے ہمارے عطاکردہ اختیارات کا استعمال کریں گی‘ اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو کم ازکم اتنا تو کرہی سکتے ہیں کہ آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں ان کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے ،

میرا خیال ہے کہ یہ تجویز نافذالعمل ہے، ایک طرح سے ان کی گھرواپسی بھی ہوجائے گی اوروہ ’گئو اور دیش رکشک‘ بن کر ملک کو ہندتو کی اور لے جانے میں میمنہ ومیسرہ کا کردار بھی اداکریں گے ۔ویسے اگر آپ اجازت دیں تو برسبیل تذکرہ ایک سوال پوچھوں؟ آپ ہندتو کے علاوہ دیگر معاملات پر کبھی مذہبی خطوط پر بات نہیں کرتے تھےیہ اچانک آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ مسلم خواتین کی فلاح و بہبود کی بات کرنے لگے ہیں،مجھے نہیں لگتا کہ آپ کی طبعیت کچھ ٹھیک ہے ۔ملک و قوم کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے آپ کا ۵۶ انچ کا سینہ کچھ سکڑ گیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج کل آپ کچھ خاموش رہنے لگے ہیں۔اگر یہی وجہ ہے تو غیر ملکی دورے پر ہوآنے کا مشورہ دوں گا۔ بہت دن ہوگئے آپ نے غیرملکی دورہ نہیں کیا ہے۔اگر آپ کو یاد نہ ہو تو بتادوں کہ لوک کلیان مارگ پر آپ کو گئے ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے۔اور جب سے آپ وہاں گئے ہیں آپ کا سارا ذہنی سکون غارت ہوگیا ہے۔کبھی اس ملک اور کبھی اس ملک۔پہلے تو میں آپ کے نام اس لئے کوئی پیغام نہیں چھوڑ سکا کہ آپ کا کوئی پتہ ٹھکانہ مجھے نہیں معلوم تھا،دور کے آپ کے ایک بھکت نے بتایا تھا کہ وزیراعظم کبھی کبھار ہی ملک آتے ہیں اس لئے مزید مراسلات کی ہمت نہیں ہوئی لیکن جب معلوم ہوا کہ آپ لوک کلیان مارگ پراب رہنے لگے ہیں تو میں نے آپ کے نام کچھ پیغام بھجوائے تھےلیکن آپ ’نامہ بر کے ساتھ ہولئے‘ ۔ خیر۔۔۔۔۔

ڈیئر پرائم منسٹر! تو میں یہ کہہ رہا تھا، کہ ملک و قوم کے لوگ بار بار کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم کچھ بولتے کیوں نہیں،یہ لوگ جانتے ہیں کہ آپ جب بولتے ہیں تو بس دل کہتا ہے کہ وہ کہے اور سنا کرے کوئی ، لیکن جب سے گجرات اور ہماچل کے انتخابات ختم ہوئے ہیں آپ یوں خاموش خاموش رہنے لگے ہیں گویا کسی نے آپ سے قوت گویائی چھین لی ہے۔ ملک ارجن کھڑگے بھی پارلیمنٹ میں کہہ رہے تھے کہ ’مونی بابا‘ کچھ بولتے کیوں نہیں ، من موہن کی خاموشی پر طنزوطعن اورتہمت و تشنیع کے تیربرسانے والے وزیرعظم حساس معاملات پر کوئی بیان جاری کیوں نہیں کرتے،ایسے موقعوں پر اپنے ہونٹ کیوں سی لیتے ہیں، یقین کیجئے کہ جب کھڑگے پارلیمنٹ میں آپ کی خامشی پر حملہ کررہے تھے تو مجھے بہت برا لگا کہ ہمارے ملک کے وزیراعظم کی شان میں پارلیمنٹ میں گستاخی ہورہی ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں، مجھے بالکل اچھا نہیں لگا لیکن پھر میں دل ہی دل میں مسوس کررہ گیا کہ وہ صحیح کہہ رہے تھے۔آپ کی خامشی کچھ سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ دنوں قبل تک آپ بہت بولتے تھے، اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ بولنے کے لئے آپ کو کچھ سوچنا نہیں پڑتا تھا اور فصیح اللسان ہونے کا یہی خمار سرچڑھ کر بول رہا تھا کہ سابق وزیراعظم کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگادیا تھا، اب خود ہی سوچیے کہ جب ایک ایسے شخص کی حب الوطنی شکوک سے بالاتر نہیں ہوسکتی جو دس سال تک اس ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہے تو پھر ان خاک زادوں کی کیا مجال جو ۷۰ سال سے اپنی دیش بھکتی ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں،وہ جتنی شدت کے ساتھ اپنی حب الوطنی کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اتنی ہی شدت سے ہم اور آپ اسے مستردکردیتے ہیں اور یہ بے چارے عشرے دو عشرے کے لئے دیوار سے لگ جاتے ہیں اور اگر نہیں لگتے ہیں تو لگادیئے جاتے ہیں ،آپ جانتے ہیں کہ ملک میں ایسے کتنے مقامات ہیں جہاںزمین و آسمان کو بھی نہیں خبر کہ یہاں کچھ لوگ بستے تھے۔

ڈیئر پرائم منسٹر! قصہ مختصر اینکہ آپ بولنے کے لئے جانے جاتے ہیں، معاندین و مخالفین کو للکارنے کے لئے جانے جاتے ہیں اور جب آپ بولنے پر آتے ہیں تو سب کا ناطقہ بند کردیتے ہیں، ایسی صورت میں جب آپ خاموش رہیں گے تو لوگ مایوس ضرور ہوں گے۔ مسلمانوں کو توچھوڑ دیں کہ وہ آپ کو خواہ مخواہ للکارتے رہتے ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ رسی تمام جل گئی پر بل نہیں گیا لیکن جگنیش میوانی اور ملک ارجن کھڑگے کے سوالوں کا جواب آپ کو دینا چاہیے کہ یہ لوگ بار بار ایک ہی جملہ دہرا رہے ہیں کہ “PM Must Speak”۔لہٰذا آپ کو بولنا چاہیے کہ آپ کے دشمن چین کی نیند نہ سوسکیں۔
کوریگاؤں بھیما تشدد، ہیگڑے کی اشتعال انگیزی،شمبھولال ، ہندوسینا، راجپوت کرنی سینا، بجرنگ دل اورو گئورکشکوں پر آپ کو کچھ بولنا چاہئے کہ آپ کی خموشی کی وجہ سے آپ کے بھکتوں کے حوصلے کچھ ماند پڑرہے ہیں۔آپ کے اچانک خموش ہونے کی ادا آپ کے بھکتوں کو بالکل پسند نہیں آئی ہے۔اگر آپ کو یاد نہ ہو تو بتادوں کہ آپ بولتے ہوئے بہت اچھے لگتے ہیں، ہرچند کہ کچھ لوگوں کی سمجھ میں آتا ہے اور مجھے تو بالکل سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ بولتے بولتے یوں اچانک خلاؤں میں کیا گھورنے لگتے ہیں پھر بھی جب آپ ایک نظر سامعین کو دیکھتے ہیں،زیرلب مسکراتے ہیں اور اس سے قبل کہ وہ آپ کی سامری نگاہ کے سحر سے باہر نکلیں آپ ۵۶ انچ کا سینہ ٹھونکتے ہیں تو یقین کیجئے یوں لگتا ہے کہ ہندوستان کا یہ عظیم سپوت صرف خاکدان نہیں آسمان کو بھی ہندتو کے زیردام لاکر رہے گا۔

ڈیئر پرائم منسٹر! آپ سے ایک گذارش اور کرنی تھی، اس بار شمبھولال سے کہہ دیجئے ،معذرت، ہندتو سے کہہ دیجئے گا کہ جب وہ کسی کو قتل کرے گا اور اس کا ویڈیو بنائے گا تو ایک بات کا خیال رکھے گا کہ اس میں مقتول کی ’مجھے کیوں ماررہے ہو، میرا جرم کیا ہے‘ جیسی آوازیں ریکارڈ نہ ہوں۔

محمد ہاشم خان
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں (مصنف افسانہ نگار و ناقد کے علاوہ روزنامہ ’ہم آپ‘ ممبئی کی ادارتی ٹیم کا سربراہ ہے) http://www.humaapdaily.com/

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ڈیئر پرائم منسٹر!آپ بولتے کیوں نہیں؟ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے/ محمد ہاشم خان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *