• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا نازی حراستی مراکز دوبارہ کھولے جا رہے ہیں ؟۔۔۔منور حیات سرگانہ

کیا نازی حراستی مراکز دوبارہ کھولے جا رہے ہیں ؟۔۔۔منور حیات سرگانہ

(detention center)ایسے حراستی مراکز کو کہا جاتا ہے جہاں ایک ریاست کسی بھی جرم کے مرتکب افراد کو سزا کے طور پر رکھتی ہے،یا کسی بھی ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو ایک مقررہ میعاد تک رکھا جاتا ہے۔اگرچہ کچھ ممالک میں امیگریشن سے متعلقہ حراستی مراکز محدود پیمانے پر اب بھی کام کر رہے ہیں ،مگر جس قسم کے حراستی مراکز کے بارے یہ مضمون لکھا جا رہا ہے ،اس طرح کے مراکز دنیا میں آخری بار نازی جرمنی میں قائم کیے گئے تھے،جہاں پوری جرمنی سے یہودیوں کو ہانک کر لایا جاتا تھا،تاکہ یہودیوں سے پاک جرمنی کا قیام ممکن ہو سکے۔
اکنامک ٹائمز میں 20 اگست کو چھپنے والی ایک خبر کے مطابق بھارت کی مرکزی حکومت نے بھارت کی سبھی ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ہاں ایسے حراستی مراکز قائم کریں۔جہاں غیر قانونی طور پر بھارت میں مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدری سے پہلے رکھا جا سکے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ غیر ملکی کون ہو سکتے ہیں۔دراصل گزشتہ پانچ سال سے ملک میں (NRC)۔نیشنل رجسٹر آف سیٹیزن کے نام سے ایک پروگرام چل رہا ہے،جس کے تحت آسام میں قریباً چالیس لاکھ مسلمانوں کو اپنی بھارتی شہریت کو ثابت کرنے کے لئے دستاویز پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔جس کے لئے 30 اگست 2019 کی حتمی تاریخ دی گئی تھی۔ آخر کار  تیس تاریخ کو تقریباً چھبیس لاکھ آسامی مسلمانوں کو شہریت منسوخ ہونے کے دستاویز جاری کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔اس کے بعد ان کے پاس ایک اپیل کا حق ہوگا،جس میں ناکامی کی صورت میں ان کی پکڑ دھکڑ اور ان کو حراستی مراکز میں ڈالنا شروع کر دیا جائے گا۔ان آسامی مسلمانوں پر پہلے ہی بنگلہ دیشی گھس بیٹھیے ہونے کا الزام ہے،اور ان کو واپس بنگلہ دیش کی طرف دھکیلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں.حالانکہ یہ مسلمان تین نسلوں سے یہیں پر مقیم ہیں۔اسطرح مستقبل قریب میں بھارت کے مشرق میں روہنگیا مسلمانوں کی طرح کا ایک اور المیہ رونما ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اب اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ نیشنل سیٹیزن شپ امینڈمنٹ بل بھارتی پارلیمان میں لایا جا رہا ہے،جس میں تجویز دی گئی ہے کہ افغانستان،پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو،سکھ ،بودھ اور جین مت کے ماننے والوں کو ہندوستان میں سیاسی پناہ دی جائے گی ،مگر کسی مسلمان کو سیاسی پناہ نہیں دی جائے گی۔اس بل کے قانون بننے کے بعد سب مسلمانوں کو ایک شناختی دستاویز جاری کی جائے گی ۔جس کے بعد مسلمانوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بھارت کے قانونی شہری ہیں۔ یعنی اس قانون کے آنے کے بعد کوئی بھی فرقہ پرست،گیو رکشک اور مالک مکان تک مسلمانوں سے سوال کر سکے گا کہ پہلے ثابت کرو تم ہندوستان کے جائز اور قانونی شہری ہو۔اس اقدام کا مقصد مسلمانوں کو قومی دھارے سے آہستہ آہستہ الگ تھلگ کرنا، اور بالآخر مکمل طور پر خارج کرنا ہے۔اس طرح انہیں ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنا اور بالآخر غیر ملکی قرار دے کر حراستی مراکز میں پہچانا ہے۔جس کے بعد نازی جرمنی کی طرح انہیں بھی یہودیوں کے لئے بنی ہوئی تاریک بستیوں (گیٹوز) میں دھکیل دینا ہے۔جہاں ان کو کوئی شہری حقوق حاصل نہیں ہونگے۔اس کے بعد بالآخر ان کو ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش اور پاکستان میں دھکیلنے کی بھی تیاریاں ہیں،مگر یہ سب کام خفیہ طریقے سے لیکن لگار تار آگے بڑھ رہا ہے۔اس طرح سے مسلمانوں سے پاک ایک خالص ہندو بھارت کا خواب پورا ہو جائے گا۔اس کام کا آغاز آسام سے کر دیا گیا ہے،مگر جلد ہی اس کام کو پورے ملک میں زور و شور سے شروع کردیا جائے گا۔اس سب کے ساتھ ساتھ ابھی حال میں ہی مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کا بل (the unlawful activities prevention act 2019)پارلیمان سے پاس کروایا گیا ہے،جس کے تحت اب کسی بھی تنظیم کے علاوہ اب،کسی بھی شہری کو انفرادی طور پر بھی دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے،اور بغیر کوئی وجہ بتائے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ظاہر ہے اس اقدام کا مقصد بھی مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنانا ہے ۔
کبھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھے جانے والے ملک بھارت کو ایک مکمل ہندو مملکت بنانے کا کام تسلسل سے جاری ہے۔سنگھ پریوار کے سیاسی چہرے بی جے پی کی حکومت کے سامنے اس کی من مانی کو روکنے والی کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔مسلمانوں پر اب محاورتاً نہیں بلکہ حقیقت میں بھارت کی زمین تنگ کی جا رہی ہے،اور یہ سب کام ایک منظم طریقے سے انجام دیا جا رہا ہے،پہلے مسلمانوں کو میڈیا کے ذریعے سے دہشت گرد اور سب جرائم کی جڑ قرار دیا گیا،اس کے بعد ان کی بڑھتی ہوئی آبادی سے عام ہندو کو ڈرایا گیا،کہ اگلے بیس سال میں ہندو اقلیت میں بدل جائیں گے اور مسلمان اکثریت میں ہو جائیں گے۔اس کے بعد مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے اور بالآخر انہیں ہندوستان سے نکالنے کے حتمی منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا.بھارت میں نازی ازم کے فروغ پر جب تک دنیا کی آنکھیں کھلیں گی اس وقت تک شائد بہت دیر ہو چکی ہو۔ابھی تو لگتا نہیں کہ ہندو انتہا پسندوں کے اس فاشزم پر مبنی ایجنڈے کو کوئی روک پائے گا ۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *