خود کش بمبار کون؟ سچ کیسے معلوم ہوگا؟

قتل و غارتگری کا تعلق مذہب سے نہیں تو اہل مذہب سے ضرور جڑا ہوا ہے ۔
جسطرح ایک مسلمان چور ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ مسلمان چور ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ چوری کرنے والا خود بھی اپنی چوری کو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا خود کش حملہ آور بھی اپنے طرز عمل کو اسلام سے بغاوت سمجھتے ہیں؟
نہیں ۔ وہ تو صدق دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ کام اسلام کے مطابق درست ہے ۔ ظاہر ہے اس کے پیچھے انہیں ایسی اسلامی تعلیمات سکھانے والا کوئی تو ہو گا ۔ اس لیئے ان کے اس طرز عمل کو اسلام سے الگ کر کے دیکھنا بجائے خود ایک حماقت ہے ۔ یہ خود کش بمبار اور ان کا پورا ٹولا نماز روزے کا پابند ہے ۔ اس سچ کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ بمبار زانی چور اور شرابی قسم کے لونڈے نہیں ۔ یہ اسلام کی سربلندی کے نام پر اپنے آپ کو اڑانے والے خود کو دیگر جملہ مسلمانوں سے افضل اور برتر سمجھتے ہیں ۔، یہ کسی ایک مسلک کی جنگ نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ جنگ ہے اس تلخ حقیقت کو سمجھیں کہ اس جنگ کے سپاہی بھی مسلمان ہیں اور ایندھن بھی ۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خود کش حملہ آور کافر ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ ادھر وہ خود کش بھی ہمارے بارے میں ایسا ہی سوچتا ہے ۔ خود کش حملہ آور کی نظر میں ہم لوگ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے کافر ہیں ۔ اس لیئے وہ ہمیں مارتے ہیں ۔
یہ کہنا کہ خودکش حملے یہودی سازش ہیں درحقیقت سچ کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے ۔ اگر اس میں کوئی سچائی ہوئی بھی تو وہ جزوی سچائی ہو گی ۔ یہود و ہنود انہیں اسلحہ تو دے سکتے ہیں پھٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے ۔
جب تک آپ ان حقائق کو تسلیم نہیں کریں گے ۔ اس وقت تک اس قضیئے سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے ریاستی بیانیہ بھی کھوکھلا ہے ۔ ریاستی بیانیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ انڈیا کروا رہا ہے ۔ یہ نہیں مانا جا رہا کہ یہ بمبار خود یہاں ۔ ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ اس حوالے سے دھماکوں کے مخالفین کی تین بڑی آرا سننے کو ملتی ہیں ۔
ایک یہ کہ یہ سب کام دشمن پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے کر رہا ہے ( یہ ریاستی موقف ہے)
یہ کام دیوبندی مکتبہ فکر کے بگڑے ہوئے خوارج کر رہے ہیں ( یہ دیوبند مخالف قوتوں کا موقف ہے)
یہ کام ماضی کی کسی حکومتی غلطی کے نتیجے میں ہو رہا ہے ۔ اس میں سیکولرز ،ضیاء الحق ،جب کہ اہل مذہب (بطور خاص دیوبندی بھائی ) جنرل مشرف کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ ان تینوں آراء میں سے کسی ایک میں بھی کلی سچائی موجود نہیں ۔ ان سب میں جزوی سچائی تو ضرور ہو سکتی ہے کلی ہر گز نہیں ۔
اور ہم سب کو چاہیئے کہ ان جزوی سچائیوں کو ملا کر اس میں سے مکمل سچ تلاش کریں
یہی پیغام ہے میرا آپ سب کے لئے ۔۔

عارف کاشمیری
عارف کاشمیری
اصل نام ۔ پیرزادہ عتیق الرحمان شاہ پیشہ ۔ صحافت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *