سیّد اور نسبتِ رسولﷺ/محمد وقاص رشید

بلال نام کا ایک حبشی غلام تھا۔ آج کے دور کا ایک “کمی” کہہ لیجیے۔ بحیثیت انسان اپنی منزلت سے عاری۔ کیونکہ منزلت کا پیمانہ ذات تھی ذات۔ سماج ذات پات کی تقسیم میں گوندھا ہوا تھا۔ جان ، مال اور عزت کے حقوق کے لیے انسان نہیں بڑے قبیلے سے ہونا شرط تھی۔

پھر خدا نے سماج میں پہلے سے ایک نیک نام اور مضبوط کردار کو چناجنکا تعلق ایک معزز قبیلے سے تھا۔ رکیے گا یہ اہم نکتہ ہے۔ اگر ان کا تعلق بھی چھوٹے قبیلے سے ہوتا تو بڑے اور چھوٹے دونوں قبائل میں بات میں وہ تاثیر نہ ہوتی۔ یہ آج کے بڑے کہلانے والوں کے لیے سبق نہیں کیا ؟

خیر۔۔۔ خدا نے انہیں ایک پیغام دیا کہ جائیں اور بلال سے کہیں خدا نے ایک ایسا سماجی نظام زمین پر بھیجا ہے جس میں تمام انسان برابر ہیں کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں۔ کیا خدا کا عائد کردہ مساوات کا نظام صرف چہرے کی رنگت تک محدود تھا ؟ اگر پیغمبرِ مساوات بلال سے کہتے کہ رنگت کی بنیاد پر تو سب برابر ہیں ہاں خاندان ، ذات ، قبیلے کی بنیاد پر یہ تفریق جاری رہے گی تو کیا یہ پیغام بلال کو ہمارے الفاظ میں جنابِ حضرت بلال رض بنا پاتا ؟ جواب مشکل نہیں قارئینِ کرام۔

اس پہلے پیغام سے موذنِ رسول ص بننے تک کے درمیانی سفر کو سادہ الفاظ میں اعتماد کہا جا سکتا ہے جو داعی کے قول و فعل میں عظیم مطابقت کے بنا نا ممکن ہے۔

کہیں  پڑھا تھا کسی بڑے صحابی نے بلال حبشی کو غصے میں آکر کہیں غلام حبشی ہونے کا طعنہ دیا یعنی “کمّی” کہا تو حضرت بلال نے بارگاہِ رسالت میں شکایت کی ۔ کیا شان ہے عظیم کردار کی۔ اس صحابی کو بلا کر فرمایا لگتا ہے تمہارے دل سے سرداری کی خو گئی نہیں ؟۔۔۔ان الفاظ کا مطلب کیا ہے ؟ یعنی مساوات پر مبنی سماجی نظام میں آکر اب پرانی روایتی برتری اور کمتری کی تفریق کی سوچ ختم کرنی ہو گی یاد رہے کہ بڑے صحابی نے طعنہ محض رنگت کا نہیں خاندانی کمتری یعنی “کمی” ہونے کا دیا تھا۔ اور پھر اس صحابی کی بھی “ربنا ظلمنا انفسنا” والی سوچ تھی کہ اپنا چہرہ ہی بلال کے قدموں میں رکھ کر کہنے لگے یوں شاید وہ سرداری کی خو چلی جائے۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

یہ سماجی نظام مساوات کا علم لے کر دنیا میں نکلتا ہے اور ایک ایسے خطے میں پہنچتا ہے جہاں کا خاصہ ذات پات پر مبنی گہری تفریق تھی۔ اب اس نظام کی دعوت کے پاس  پیغمبر نہیں انکی سنت تھی۔ یہ ممکن تھا کہ خود پیغمبر ص کی عدم موجودگی سے یہ سماجی نظام دلوں میں سرایت کرنے میں وقت لے لیتا یا بالفرض ناکام ہی ہو جاتا مگر یہاں تو بہت ہی تشویشاک معاملہ ہوا۔ ہر مسلمان کو اس پر سوچنا چاہیے۔

مقامِ فکر یہ ہے کہ جس ذات پات کی تفریق کے خاتمے کے لیے مساوات کا یہ دین آیا تھا۔ اور جس نے اس سماج میں کمّی سمجھے جانے والوں کو اعلی سمجھے جانے والوں کے برابر لا کھڑا کیا تھا۔ جس ہستی کے مثالی کردار نے احساسِ کمتری کے مارے دلوں میں یہ خود اعتمادی پیدا کی تھی انکی نسبت کے نام پر یہ تفریق کیا دینِ مساوات کو زیبا ہے ؟

کسی کالے کو گورے پر فوقیت نہ ہونے سے مراد محض رنگت نہیں۔ آج کے اعلی کہلانے والوں میں بھی کالے موجود ہیں اور کمتر سمجھے جانے والوں میں بھی سفید۔ دراصل اس سے مراد یہ ہے کہ خدا کی کی گئی تقسیم کی بنیاد پر دینِ محمدی ص میں کوئی تفریق روا نہیں۔ یہ خدا کا فیصلہ ہے کہ انسان کی تخلیق و پیدائش کے ہنگام رنگ ، نسل ، جنس ، خاندان ، قبیلہ اور خطہ طے کرتا ہے اس لیے عادل و منصف شہنشاہ خدا کے اپنے تشخص اور اسلام کے فلسفے کے مطابق ان میں سے کسی کی بنیاد پر بھی برتری و کمتری کے معیارات طے کرنا درست نہیں۔

طاہر چوہدری صاحب کے پیج سے ایک ویڈیو شئیر ہوئی جس میں ایک نوجوان گاڑی سے نکلتے ہوئے دو تقریباً اپنے ہم عمر لوگوں کے پیروں میں گر کر سجدہ کرتا ہے۔ انکے جوتے چومتا ہے اور یہ مناظر ریکارڈ کرواتا ہے۔

اوپر بیان کردہ واقعے سے اسکا تقابل کیجیے۔ بڑے صحابی نے غلطی کرنے پر سابقہ غلام حبشی صحابی کے پیروں میں چہرہ رکھ دیا کہ دل سے سرداری کی خو چلی جائے کہ پیغمبرِ مساوات نے تنبیہہ فرمائی تھی۔ اس واقعے کی عملی درسگاہ بننے کا دعویٰ کرنے والے ملک میں ایک نوجوان دو نوجوانوں کی سرداری تسلیم کرنے کے لیے انکے جوتوں میں سر رکھ دیتا ہے۔ اور وہ نوجوان اس سرداری کا دعویٰ انہی پیغمبرِ مساوات کی نسبت پر کرتے ہیں۔ ہے نہ کھلا تضاد۔

ایک بنیادی سوال ! رسول اللہ سے براہِ راست علمی و عملی نسبت والوں کا طرز ِ عمل صدیوں بعد ان سے خاندانی نسبت کا دعویٰ کرنے والوں سے متضاد کیوں ؟

محترم شاہ صاحب اگر یہ Indianization of Islam کے زیرِ اثر Relegious Fudalism نہیں تو بسم اللہ کیجیے اور آج کے ہر غلام بلال کو کہیے کہ آپ میں سرداری کی خو نہیں ہے۔ یہی اصل سید کی پہچان ہے یہی اصل نسبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ان پہ ڈھیروں درودوسلام

وگرنہ اقبال  تو کہہ ہی گئے ۔۔۔

julia rana solicitors london

ہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذّتِ کردار، نہ افکارِ عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جُرأتِ اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق!
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سِکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply