• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خارجہ پالیسی اوردفاعی بیانِیہ واضح ہونا چاہیے۔۔نصیر اللہ خان

خارجہ پالیسی اوردفاعی بیانِیہ واضح ہونا چاہیے۔۔نصیر اللہ خان

زندگی کے متعلق سیکولر فرمودات یہی ہیں  کہ ذاتی منفعت اور خود پرستی کے سبب انسان اس دنیا میں آتا ہے اور اپنی  مقررہ میعاد زندگی ختم کرکے واپس ہوجاتا ہے ۔ اس طرح  حکومت چاہے وہ مطلق العنانیت ہو یا جمہوری ،لبرل ہو اور یا سیکولر یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ مادیت پسندی کے طور پر سیکولر جسمانی موت کے سبب ختم ہوجاتے ہیں یعنی جیسے جانور ختم ہو جاتے ہیں ۔ سیکولر روح اور ابدی اقدار پر عقیدہ رکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔سیکولر ازم کسی طرح تیار نہیں ہونا چاہتا  کہ مذہب کو سیاست میں دخل اندازی کا موقع مل سکے  ۔مذہب اس کے برعکس معاملات ، عبادات اور سیاسیات کو حکومت کاپیمانہ مانتا  ہے۔

ایک فرد کی خوشی، غمی ، مصائب اور مشکلات ایک قوم کی  بہ نسبت زیادہ طویل المیعاد ہوتی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ فرد کا درد وقت کے ساتھ جاتا رہتا ہے جبکہ قوم کی  مذکورہ  مشکلات دیرپا اور نتائج دور رس ہوتے ہیں ۔ جس میں سارا معاشرہ اس درد سے متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے اگراس صنف پر سوچا جائے تو انسان پاگل ہوجاتاہے۔ معاشرے کی  مشکلات افراد اور سیاسی بصیرت سے حل ہوتی ہیں ۔ ارتقائی طور یہ مصائب عشرے  اور صدیاں لیتے ہیں ۔ اس طرح اگر قوم کے اجتماعی مسائل پر قابو پایا نہ جائے تو یہ اس مرض کے مصداق بن جاتا ہے کہ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی”۔

چالیس سال پہلے جنرل ضیاء الحق کے دور میں جو ریاستی جہادی بیانیہ بنایا گیا اس کے زہریلے اثرات ہم اب تک بھگت رہے ہیں۔اس کے بعد دوسرے  آمر جنرل پرویز مشرف کو امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد صرف ایک دھمکی  آمیز کال کی اور کہا کہ گر آپ نے دہشت گردی کی  جنگ میں ہمارا ساتھ نہ دیا تو  آپ کے ملک کونشان عبرت بنا دیں گے ۔دوسرے ہی لمحے اس آمرنے امریکن صدر کو واپس  فون کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ہم دہشت گردی کی  جنگ میں سٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں  ۔ اس طرح ملک کو امریکہ کی جھولی میں پھینک دیا گیا ۔

اس کے بعد کیا ہوا آپ سب کو پتا ہے۔ڈالر وں کے عوض ملک میں دہشت گرد عود کر آئے ۔ مسجدوں مدرسوں ،امام بارگاہوں ،جنازوں اور سکولوں پر حملے کئے گئے ۔ہمارے ائر بیس کیمپ کو استعمال کرکے اور ہمارے ملک سےامریکن جہازوں کی  لاکھوں پروازیں افغانستان پر آگ برساتی  رہیں  ۔موٹر ویز کا استعمال کیا گیا اور سڑکوں کو تباہ وبرباد کیا ۔ستم بالائے ستم ہماری  فوج کو اپنے ہی علاقوں میں طالبان کے ساتھ بر سرپیکار کیا گیا ۔امریکہ کے کہنے پر بہت سی  آرگنائزیشنز کو  دہشت گرد قرار دیا گیا ۔ دہشت گردی کی  جنگ میں ہم نے ستر ہزار شہید کروادئیے اور نہ جانے کتنے اوروں کو شہید کروانے کا ارادہ ہے ۔شکر خدا کا، دہشت گردی کے عفریت پر کچھ حد تک قابوپالیا گیا ہے ۔ اس جنگ میں ملکی نظام معیشت مفلوج ہوگیا ۔لیکن امریکہ صاحب کی ڈو مور کی رٹ جاری ہے ۔ اور بات نو مور تک آگئی ہے ۔

حالیہ طور پر امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال نو کے آغاز پراپنے ٹویٹر اکاونٹ پر بیان دیا کہ ہم نے پاکستان کوپندرہ سال میں تینتیس بلین ڈالر کی  امدا د دی  لیکن پاکستانی حکمرانوں نے ہمیں دھوکہ دیا ۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں ۔پاکستان دہشت گردوں کو سپورٹ کرتا ہے۔پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سواکچھ نہ دیا ۔ اور ہم نے بے وقوفی کی کہ ہم نے پاکستان کو امدادد ی  ۔اس اعلان کے بعد پاکستان کی  دفاعی امداد کے لئے غالباًتیس کروڑ ڈالر روک لئے گئے ہیں۔حالیہ بیانات کی  روشنی اسلام آباد میں امریکن ایمبیسی کے امبیسڈر کو مذمتی قرار داد بھی پیش کی  گئی  ہے۔

اس طرح حال ہی میں امریکہ کی  قومی سلامتی کی حکمت عملی وضع کی جانے والی ایک میٹنگ میں امریکی صدر کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ ہم پاکستان پر دباؤ  ڈالیں گے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمےکے لئے جاری کوششوں میں تیزی لائے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لیے حمایت کے بعد کوئی بھی شراکت باقی نہیں رہ سکتی ہے۔یہ یاد رہے اس سے کچھ دن پہلے ڈرون حملے ہوئے ہیں ۔اور امریکہ بہادرنے کہا ہے کہ اگر سیٹلڈ ایریا ز یعنی پوش علاقوں میں بھی اگر ہمیں دہشت گردوں کی  پناہ گاہوں کا پتا چلا تو ہم وہاں بھی ائیر سٹرائک کرسکتے ہیں۔ مجھے تامل نہیں اگر خدا نخواستہ امریکہ پاکستان کے پوش علاقوں میں کارروائی کرتا ہے تو یہ ہماری  خودمختاری ،بقا ء اور سلامتی کو داؤپر لگانے کے مترداف تصور ہوگا ۔موجودہ بیان پر تمام پارٹیوں کے لیڈران کا مذمتی بیان آچکا ہے ۔ اور لگتا ہے کہ تقریباً سب ایک ہی صفحہ پر ہیں ۔لیکن کیا صرف مذمتی بیان کافی ہوگا ؟

چین نے ان حالات میں پاکستان کی  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے  کردار کی تعریف کی ہے ۔ دوسری طرف انڈیا امریکن صدر کے بیان پر بغلے بجا رہا ہے ۔لگتا ہے امریکہ افغانستان میں اپنی  ناکامی پر سیخ پا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مسقتل مندوب کے تل ابیب کے مسئلے پربیانات نے اس کو  آگ کو مزید تیز بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو امریکہ کی سٹریٹیجکل بیانات کا تسلسل ماننا چاہیے۔ اس سے پہلے بھی امریکہ کے نائب صدر مائک پنس نے افغانستان میں اس طرح کے جارحانہ خیالات کا ذکر کیا تھا اور اس کو صدر ٹرمپ کا بیانیہ ہی کہا تھا ۔اس نے کہا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو محفوط پناہ گاہیں فراہم نہ کرے ۔

ان بیانات کی  وجہ سے پاکستان کے عوام ،سیاسی حکمرانوں و عسکری قیادت میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اسی اثنا ء میں  وزیر اعظم خاقان عباسی نے سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے ۔عین ممکن ہے کہ پاکستان اپنی  ڈپلومیٹک قرارداد امریکہ کے حوالے کرے ۔یہ حقیقت ہے کہ اس طرح کی  قرارداد عوامی امنگوں کی  امین ہونی  چاہیے بلکہ قرارداد میں واضح اور دو ٹوک حکمت عملی بنانی چاہیے ۔بھلے قرارداد کا متن مہذب ہو لیکن اپنے مقاصد اور امریکہ کی  ریسشہ دوانیوں کو بھانپنا چاہیے  اور اس کا جواب دینا چاہیے  ۔ میرے خیال کے مطابق پاکستان کو جذبات سےنہیں ہوش سے کام لینا چاہیے ۔ لیکن کسی طرح بھی اپنے موقف میں لچک نہیں دکھانی چاہیے ۔ اور قوم اور عوام کی  آواز پر لبیک بولنا چاہیے۔کب تک ہم امداد کے بل بوتے پر پرائی   جنگیں لڑتے رہیں گے ۔اب وہ وقت آچکا ہے اور اس کا فیصلہ جلد یا بدیر ہمیں کرنا ہوگاتاکہ دنیا کے سامنے پاکستان کاایک آزاد بیانہ مرتب کیا  جاسکے ۔

اس بیانہ کو مرتب کرتے وقت خیال رکھنا چاہیے  کہ تمام اداروں کو ساتھ ملا لیا جائے اور ان کی آرا کو مدنظر رکھ کر پاکستان کے عوام کی  امنگوں کے مطابق آزاد اور خود مختا ر  بیانیہ  تشکیل پائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت  آزاد خارجہ اور دفاعی پالیسی بنانے کے لئَے حکومت کے پاس یہی بہترین موقع ہے۔ اس سے حکومت اور عسکری قیادت میں بہترین ہم اہنگی آسکتی ہے ۔اس سارے عمل   میں خیال ہےکہ پاکستان کو دی  گئی رقوم  کو امداد ہرگز نہیں کہنا چاہیے  بلکہ ایک کولیشن پارٹنر کی  حیثیت سے وار ان ٹیرر پر جو خرچہ آیا ہواہے وہ  امریکہ نے ادا کردیا ہے ۔ میر ا یہ بھی خیال ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ،پاکستان کو جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بات کرنی چاہیے کہ جو اخراجات وار ان ٹیر ر کی مد میں  ہوئے یا جو نقصان ہوا ہےامریکہ اس کا ازالہ کرے ۔یہ بات یاد رکھنی کی ہے کہ امریکہ نے جتنی  امدا د دی  ہے اس کو اپنے ملکی این جی اوز کے ذریعے سے دیا ہے ۔ منصوبے امریکہ میں بنائے گئے۔

اس طرح ساٹھ سے لیکرستر فیصد ی امدادواپس جاچکی ہے۔ کل ملا کر پاکستان کو چالیس فیصدی ادائیگی کردی گئی ہے ۔ یو ایس ایڈ تقریباً ختم ہوچکی ۔انہوں نے ہمیں کوئی میگا پراجیکٹ نہیں دیا ۔آخری اطلاعات تک سیاسی اور عسکری سیکورٹی اداروں کے ساتھ مشترکہ میٹنگ میں امریکہ کے صدر کے بیانیہ کے خلاف آخر اعلامیہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کویکسر مسترد کردیا گیا ہے۔
کاؤنٹر بیانیہ رد عمل کا بیانیہ کہلاتا ہے۔ کسی منفی بیانئے کو زائل کرنے کی  خاطر پالیسی ساز نئے  رد عمل کا بیانیہ تخلیق کرتی ہے اور یا عوامی دباؤ کے زیر اثر آکر رد عمل کا بیانیہ از خود عمل میں آجاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات نیا بیانیہ مرتب کرتے ہوئے اس میں خون خرابہ اور قتل و غارت تک نوبت آجاتی ہے۔

ایسے ملک میں جس میں مختلف قومیتیں آباد ہیں ۔ جہاں مذہبی طور پر مختلف مکاتب فکر کے لوگ بستے ہیں۔ اقلیتی مذاہب اس کے علاوہ ہے۔ تعلیمی نظام میں او لیول اور اے لیول تک امتیازات کو روا رکھا گیا ہے۔ مدارس کے چھ بورڈز ہیں ۔ ادارتی طور پر بین المذاہب ہم آہنگی کے ادارے بھی موجود ہیں ۔نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی بھی موجو ہے۔
ان حالات میں تفرقہ پسندی، مذہبی جنونیت نے ملک میں اودھم مچایا ہوا ہے۔ کافر اور غدار کے  فتوؤں   کی کوئی آئینی و قانونی حدود نہیں ہے۔ نسلی تعصبات اس کے علاوہ ہے۔ صوبائی رنجشیں کافی گہری ہوچکی ہے۔ وسائل کو کار امد بنانے کے لئے وسیلے کم اور مسائل زیادہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ ایسے حالات میں بیانیہ مرتب کرنا کافی صبر آزما اور دقّت آمیز کام ہے۔
ذیل میں  کچھ تجاویز برائے رد عمل بیانیہ ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو بہتری کے امکانات ہوسکتے ہیں۔
۱- بیانیہ کو لبرل سیکولر اور مذہبی علما کے توسط سے بنانا چاہیے  اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر پالیسی کی داغ بیل ڈالنی چاہیے۔
۲- ہر مکتبہ فکر کے نمائندے کو اس بیانیہ کو ترتیب دیتے ہوئے اعتماد میں لینا چاہیے۔
۳- مکمل تیاری کرتے ہوئے ہر شعبہ زندگی سے تجاویز لینی  چاہییں ۔
۴- بیانیہ مرتب کرتے وقت پارلیمنٹ سے بل پاس کرانا چاہیے بعد از دیگر مکمل ہم آہنگی کی  خاطر تمام شعبہ ہائے، مکاتب فکر کو متعلقہ تجاویز ارسال کرکے مقررہ وقت میں جوابات حاصل کرنے چاہیے۔
۵ ۔تمام مکاتب فکر کے لئے ڈائر کیشن مقرر کرتے ہوئے ٹریننگ دینا اور بعد ازاں کانفرنسوں کا انعقاد کرنا اور اس کے روشنی میں میں لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے ۔
۶ ۔ اساتذہ اور طالبلعلموں کو بھی  شریک کیا جانا اور ان کی آرا کو جاننا چاہیے
۔۷۔ سیاسی و عسکری قیادت کو بیانیہ مرتب کرتے وقت ایک پیج پر ہونا چاہیے ۔

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *