بابا بلھے شاہ کا مختصر تعارف۔۔عبدالغفار

آپ کا پورا نام سید عبدالله شاہ قادری ہے۔ آپ ایک عظیم پنجابی صوفی شاعر اور فلسفی گزرے ہیں۔  آپ 3 مارچ 1680ء میں پنجاب کے قدیم تاریخی شہر بہاولپور کے گاؤں اوچ گیلانیاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے معلم والد گرامی سخی شاہ محمد درویش سے حاصل کرنے کے بعد مزید حصول علم کی خاطر قصور تشریف لے گئے۔ آپ پنجاب کے عظیم صوفی عالِم پیر شاہ عنایت قادری کے شاگرد اور مرید تھے۔

قرآن و حدیث، صرف و نحو، منطق، فقہ، گلستان بوستان اور بہت سے علوم حاصل کرنے کے بعد مزید علم حاصل کرنے پر سکون قلب کی خاطر اللہ کی تلاش کو فوقیت دی۔ آپ علم بغیر عمل کو ناپسند فرماتے۔ آپ عقیدہ وحدت الوجود پر پکا یقین رکھتے تھے۔

آپ نے اپنے وقت کی تعلیمی زبانوں عربی اور فارسی پر مکمل دسترس کے باوجود پنجابی زبان کو اپنی شاعری کے لئے پسند فرمایا اور پنجاب کے بابائے بصیرت کہلانے لگے۔آپ سچل سرمست اور سندھی صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کے ہم عصر تھے۔ آپ نے پنجابی اور سندھی شاعری کی صوفی صنف “کافی” سمیت تمام شاعری اصناف کو تقویت بخشی۔
بلھے شاہ کا نام آپ نے اپنے لئے خود پسند فرمایا یعنی بھولا ہوا مطلب انا کی نفی کر کے وہ اپنی ذات کو بھول چکا ہے، جسے آپ نے اپنی شاعری میں تخلص کے طور پر استعمال کیا۔ اور آج تک آپ کو بابا بلھے شاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

آپ کا صوفیانہ کلام نیاز مند سٹریٹ سنگرز سے لے کر نامور صوفی سنگرز اور قوال نصرت فتح علی خاں،  پٹھانے خاں، عابدہ پروین، سین ظہور، نور جہاں اور پاکستانی راک بینڈ جنون اور ہندوستان کے نامور گلوکاروں نے نہایت عقیدت کے ساتھ گایا۔
آپ مغلیہ سلطنت کے عروج کے دور میں پیدا ہوئے  اور پلے بڑھے پر عہد عالمگیری کی بےجا مذہبی جنونیت اور خانہ جنگی کے کافی خلاف تھے۔ آپ درویش صفت انسان تھے۔ آپ مساوات، باہم ہمدردی اور انسان دوستی کے قائل تھے۔ آپ ذات پات، رنگ و نسل،دین و مذہب اور جنس پر انسانی تفریق کو انتہائی بُرا سمجھتے، اور اپنے وقت کے باغی اور انقلابی کہلائے۔

آپ منافقت کے سخت خلاف تھے اور ملاؤں اور پنڈتوں کے گھڑے رام رحیم کے پرانے جھگڑوں کو بے معنی قرار دے کر رَد کیا۔ اسی وجہ سے آپ اپنے وقت کے  مولویوں سے کافی بیزار تھے اور ان کو اس روش پر اکثر تنقید کا نشانہ بناتے۔ اس لئے جب آپ انتقال فرما گئے تو قصور کے مولویوں نے آپ کو غیر مسلم قرار دے کر آپ کی نمازہ جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ جبکہ بعد میں قصور ہی کی ایک بڑی مذہبی شخصیت قاضی حافظ سید زاہد ہمدانی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔

آپ کی انسانیت، عشق اور آزادی کا سفر 77 سال کی عمر میں 1757ء  کو تمام ہوا۔ آپ قصور میں مدفون ہیں۔ ہر سال آپ کے عقیدت مند حضرات آپ کے مزار پر آپ کا کلام گا گا کر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
تعصب پسند اور اقتدار پسند حضرات کے لئے بابا بلھے شاہ نے کہا تھا کہ
نہ کر بندیا میری میری
نہ تیری نہ میری
چار دناں دا میلہ
دنیا فیر مٹی دی ڈھیری

بابا بلھے شاہ پورے رقص و سرور کے ساتھ تصوف پسند لوگوں کے دلوں میں اب تک زندہ ہیں اور رہیں گے۔

Avatar
Abdul Ghaffar
پیشہ کے اعتبار سے خاکسار ایک کیمکل انجنیئر ہے اور تعلق خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ سے ہے ۔ بچپن ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوقین تھا اور ایک اچھا رائیٹر بننا چاہا۔ آج کل مختلف ویب سائٹ کے لئے آرٹیکل لکھتا ہوں ۔تاکہ معاشرے کی بہتری میں اپنی طرف سے کچھ حصہ ڈال سکوں۔ شکریہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”بابا بلھے شاہ کا مختصر تعارف۔۔عبدالغفار

  1. دلچسپ بات یہ ھے کہ آج کے دور کے بہت سے سکھ بابا بلھے شاہ کے پرستار ھیں۔ ان سکھوں کو پکا یقین ھے کہ بابا جی اسلام چھوڑ چکے تھے۔
    اس کے علاوہ آج کے پاکستانی لبرل پنجابی نیشنلسٹ اس بات پر یقین رکھتے ھیں کہ بابا جی agnostic تھے۔

    1. بابا بلھے شاہ ایک ایسا انسان دوست اللہ‎ کا بندہ گزرا ہے کہ آپ کے جیون ہی میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد آپ کا انتہائی احترام کرتے تھے ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *