بتکدے میں برہمن کی پختہ زنّاری بھی دیکھ

اس وقت ہم ایک مہذّب دنیا میں سانس لے رہے ہیں جہاں جرائم کو دوسرے خوبصورت نام دینے کا رواج قائم ہے- یہاں حرامیوں کو لو چائلڈ، جرم کو حکمتِ عملی اور قتل عمد کو انکاؤنٹر کا نام دیا جاتا ہے- اس صدی کے آغاز سے یہ روایت جاری ہوئی ہے کہ جو آپ سے متفق نہ ہو نہایت اطمینان سے اس کی گردن ریت کر یہ اعلان کردیا جائے کہ یہ خون کی ارزانی امنِ عالم کیلیے بہت ضروری تھی- چنگیز و ہلاکو لوگوں کو قتل کیا کرتے تھے، مقتولوں کی کھوپڑیوں کے مینار قائم کیا کرتے تھے اور ان کھوپڑی کے ڈھیر پر بیٹھ بادہ و ساغر کی کرامات دکھلاتے تھے- وہ وحشی تھے درندے تھے- لفظ انسانیت اور تہذیب سے ان کا دور کا بھی راستہ نہیں تھا- زمانہ ترقی کرتا گیا اور رفتہ رفتہ دنیا اس عہد میں آ پہنچی- اب چنگیز و ہلاکو لاشوں پر بادہ نوشی نہیں کرتے- اب وہ مہذّب ہوگئے ہیں- اب وہ لاشوں کے ڈھیر پر الیکشن جیتا کرتے ہیں- جارج بش نریندر مودی کے بعد ان کے فکری ہم منصب بھی اس راہ پر وزیرِ اعلی مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے اس راہ پر قدم رکھنے کے فراق میں بیقرار نظر آئے جس راہ پر صدارتِ جمہوریہ اور وزارتِ عظمی کے دلکش مقام آتے ہیں-

٣١ اکتوبر کی شب دو بجے اچانک نیوز چینلس پر یہ خبر بریک ہوئی کہ بھوپال جیل میں اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے آٹھ دہشت گردوں (میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کسی کو دہشت گرد قرار دینے میں کورٹ ججمنٹ آنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتا بلکہ خود ہی فیصلے لے لیتا ہے) نے سیکیوریٹی پر معمور ایک اہلکار کا قتل کرنے بعد فرار ہوگئے- اور کچھ ہی گھنٹوں بعد انہیں مڈبھیڑ میں مار بھی گرایا گیا- اس مڈبھیڑ پر بہت سارے سوالات اٹھے ہیں اور ہنوز اٹھائے جارہے ہیں اس سے قطع نظر ہم یہ جائزہ لے لیں کہ انکاؤنٹر کریسی کی روایت بھی مہذب ہی ہے اور سیاسی ہستیوں کے نازک ترین ایّام میں یہ کسی آکسیجن سلینڈر کا کام کرتا ہے جس سے ان کا ڈگمگاتا لڑکھڑاتا سیاسی کریئر پھر سے دوڑ پڑتا ہے-

اسطرح کا سب سے پہلا واقعہ خواجہ محمد یونس کا تھا جسے دوبئی سے واپسی کے وقت ممبئی ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا- پھر یہ کہانی سنائی گئی کہ خواجہ یونس ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقلی کے دوران پولس جیپ کا ایکسیڈنٹ ہونے سے فرار ہوگیا- بعد میں خواجہ یونس کو جس کیس میں ماخوذ کیا گیا تھا اس کے دیگر ملزمان بری ہوئے اس کے باوجود بھی انصاف کیلیے در در ٹھوکریں کھا کر اس دنیا سے چلے جانے شخص کا بیٹا اپنی بوڑھی بیوہ ماں کے آنسو پوچھنے نہیں آیا-

دوسرا واقعہ ممبئی ممبرا کی ساکنہ جواں سال عشرت جہاں سمیت چار افراد کا انکاؤنٹر احمدآباد میں کیا گیا- ان پر یہ الزام تھا کہ وہ اس وقت کے گجرات کے وزیرِ اعلی اور موجودہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو قتل کردینے کی نیت سے احمدآباد آئے تھے-
سہراب الدین انکاؤنٹر میں نریندر مودی امت شاہ اور ڈی جی ونجارا پر کیس دائر کیا گیا لیکن ونجارا کو بلی چڑھا کر امت شاہ اور مودی صاف بچ گئے اور آج ان مجرموں میں سے ایک ملک کا وزیرِ اعظم ہے جسے سہراب الدین انکاؤنٹر میں تفتیشی ایجنسیوں نے کلین چٹ دی اور دوسرا امت شاہ حکمراں جماعت کا صدر ہے جو فی الوقت ضمانت پر سلاخوں سے باہر ہے-
یہاں تک لوگ صدقِ دل سے بیوقوف بنتے رہے- اسی دوران گٹھے گٹھے سوال بھی اٹھے کہ ہر نام نہاد مڈبھیڑ اور انکاؤنٹر میں صرف ملزمین ہی کیوں ہلاک ہوتے ہیں اور پولیس والوں کو گزند بھی نہیں پہنچتی-

پھر بٹلہ ہاؤس کی اسٹوری میں موہن چند شرما نامی ایک پولس اہلکار کو بھی مارا گیا- وہ اعتراض ختم ہوا کہ پولس کے گزند کیوں نہیں پہنچتی-
خواجہ یونس کے تعلق سے یہ رپورٹ آئی تھی کہ منتقلی سے قبل اس پر تھرڈ ڈگری اس انداز میں آزمائی گئی کہ وہ پولیس حراست میں ہی خون کی الٹیاں کرنے لگا تھا- شاید اسی کے نتیجے میں اس کی موت بھی واقع ہوئی-

گجرات فسادت کے بعد واجپئی کے ذریعے راج دھرم نبھانے کی تلقین کے بعد نریندر مودی نے اپنی گرتی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلیے اکثر دھام مندر کے خود آلود لاشوں سے "گجرات کا بدلہ" قسم کے صاف و شفاف قرطاس برآمد کروائے- ان لاشوں سے جن میں سیکڑوں گولیاں پیوست کی گئی تھیں لیکن وہ کاغذ بالکل صاف رہا- پھر اس داستان میں مزید رنگ بھرنے کیلیے احمدآباد کی سڑکوں عشرت جہاں سمیت چار بےگناہوں کی لاشیں بچھا کر میڈیا کوریج کے ذریعے نریندر مودی نے اپنی اہمیت جتائی کہ وہ دہشت گردوں کا ٹارگیٹ ہے- نتیجتاً گجرات کی عوام نے خوف کی نفسیات کے تحت اسے ایک بار پھر گجرات کی کمان سونپ دی-

حالیہ بھوپال مڈبھیڑ کے پس پشت بھی یہی سیاسی عوامل ہیں- نریندر مودی بنام امت شرما کی سربراہی والی بی جے پی میں پارٹی کے سینیئر لیڈران کو عضوِ معطل بنا دینے کا عمل جاری ہے- لال کرشن اڈوانی اور جسونت سنگھ جیسے نام کنارے کردیے گئے جنہوں نے بی جے پی کو اس پوزیشن میں لایا کہ آج وہ تنہا اس ملک کر حکمرانی کررہی ہے- کچھ کانگریس کی نالائقیاں بھی ہیں لیکن وہ اڈوانی ہی تھی جس نے گٹھنوں کے بل چل رہی بی جے پی کو نفرت کے نام پر دوڑنا سکھایا ہے اسی اڈوانی کو بی جے پی میں کنارے لگا دیا گیا-

حالیہ سرجیکل اسٹرائک کے لیے مودی کے مدح خواں میڈیا میں شیوراج سنگھ چوہان کیلیے ملکی سیاست کی بساط پر اپنی موجودگی ثابت کرنے کیلیے بہت ضروری ہوگیا تھا کہ وہ کوئی ایس "کارنامہ" انجام دے جو سرجیکل اسٹرائک سے ذیادہ نہیں تو کم بھی نہ ہو- اور وہ کارنامہ شیوراج کے سیاسی کریئر کو دوام بخشے- چنانچہ اس کارنامہ کے لیے ان افراد کا استعمال کیا گیا جو کچھ ہی دنوں بعد باعزّت بری ہوکر مدھیہ پردیش گورنمنٹ کیلیے سبکی کا باعث بننے والے تھے-
یہ مذہب کے نام پر کیا گیا کوئی قتل نہیں بلکہ سو فیصد سیاسی قتل ہے- یہ آٹھ نہیں نو افراد کا قتل ہے جس میں آٹھ ملزمان اور نواں وہ پولیس والا ہے جس کے خون سے اس انکاؤنٹر کو جواز دینے کی کوشش کی گئی یا اس سوال کا گلا گھونٹے کی کوشش کی گئی ہے جو انکاؤنٹر کے بعد اٹھتا ہے کہ پولس والوں کو کیوں گزند نہیں پہنچتی-

سوال ہنوز برقرار ہے-

اسپاٹ پر ایک بھی پولس اہلکار کی پتلون کی کریز,بھی نہیں ٹوٹی اور آٹھ خونخوار آتنک وادی مار گرائے گئے- وہ مارے گئے جنہوں نے کیس میں ماخوذ ہونے کے بعد اپنی بیگناہی ثابت کرنے اور باعزت زندگی بسر کرنے کیلیے خود سپردگی کی تھی- اور جب بیگناہی ثابت ہونے دن قریب آئے تو وہ جیل سے فرار ہوگئے-

سوال تو بہت سارے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک تابناک مستقبل شیوراج سنگھ چوہان کا استقبال کررہا ہے-
لیکن ساتھ ہی ہمارا ایمان بھی ہے-

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *