تین طلاق اور ہندوستانی پارلیمنٹ کی قانون سازی۔ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

ایک لائیو ریڈیو پروگرام میں دینی مسائل بتائے جا رہے تھے، ایک شخص نے کال کی اور مولانا صاحب سے مسئلہ پوچھا کیا میری زوجہ میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر جا سکتی ہیں؟ مولانا صاحب نے کہا بالکل نہیں جا سکتی۔ دوسرا سوال ہوا کہ اگر وہ چلی جائے تو کیا حکم ہے؟ مولانا صاحب نے کہا وہ گناہگار ہوگی اور نافرمان ہوگی۔ اس پر سائل نے کہا ایسی نافرمان بیوی کو طلاق دی جا سکتی ہے جو شوہر کے روکنے کے باجود مارکیٹ جاتی ہے اور غیر ضروری شاپنگ کرتی پھرتی ہے؟ مولانا نے جواب دیا انسان کو اچھے اخلاق کی عورت سے شادی کرنی چاہیے، جو اس کی اطاعت کرے اور اس کی حکم عدولی نہ کرے۔ اس شخص نے کہا اگر میں ابھی اسے طلاق دینا چاہوں تو کیا میری طلاق ہو جائے گی؟ مولانا صاحب نے کہا بالکل ہو جائے گی، اس نے ریڈیو پر لائیو پروگرام میں تین بار طلاق طلاق طلاق کہا۔ اس پر مولانا نے کہا اب آپ کی بیوی آپ پر حرام ہوچکی ہے۔ اس واقعہ نے ایک بین الاقوامی مباحثے کو جنم دیا۔ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظموپں اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے اس بحث میں حصہ لیا۔

خاندان کی ابتدا عقد سے ہوتی ہے اور خاندان کسی بھی تہذیب کی بنیادی ترین اکائی ہوتا ہے۔ خاندان ملکر محلے اور محلے ملکر شہر اور شہر ملکر ملک تشکیل دیتے ہیں۔ ہر تہذیب میں شادی بیاہ کی رسومات طے شدہ ہوتی ہیں۔ ان رسومات و طریقہ ہائے کار سے انحراف کو معاشرے برا سمجھتے ہیں۔ اسی تعلق کو قانونی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کو جائز تصور کیا جاتا ہے، جو اس مجوزہ طریقہ کار کے نتیجے میں قائم ہوا ہو۔ شادی سے تعلق قائم ہو جاتا ہے، مگر بعض اوقات ایسی ناگزیر وجوہات پیدا ہو جاتی ہیں، جن کی بنیاد پر اس تعلق کو ختم کرنا ضروری ہو جاتا ہے، تعلق توڑنے کا یہ عمل طلاق کہلاتا ہے۔ اسلام نے جہاں نکاح کا طریقہ کار واضح کیا، وہیں پر طلاق کا پورا نظام بھی دیا ہے۔ ہندوستان پاکستان میں فقہ حنفی کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، جن کے مطابق اگر کوئی شخص لکھ کر، بول کر، ایس ایم ایس کے ذریعے موبائل پر غرض کسی بھی طرح سے تین بار طلاق طلاق طلاق کہہ دیتا ہے تو وہ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو انہیں حلالہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ طلاق جائز ہونے کے باوجود کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے، یہ مشکل حالات میں ایک حل ہے، تاکہ کوئی ڈیڈلاک پیدا نہ ہو اور ہر دو آزاد ہو جائیں۔

آفرین رحمان، عطیہ صابری، سائرہ بانو اور عشرت جہان کو ان کے شوہروں نے تین طلاق ایک ساتھ دی دیں۔ انڈیا میں ہر سال ہزاروں خواتین کو ایسے ہی طلاقیں دی جاتی ہیں، مگر ان خواتین نے انڈیا کی سپریم کورٹ میں اپیل کی کہ اس سے ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کی حمایت میں فیصلہ دیا اور تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت سے کہا کہ اس پر قانون سازی کرے، تاکہ مسلم خواتین کے ساتھ زیادتی نہ ہو، حکومت نے تین طلاق کو جرم قرار دیتے ہوئے اس پر تین سال کی سزا کا قانون بنا دیا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ یورپی عدالت انصاف نے بھی تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انڈیا کے مسلمانوں کے پاس کئی ایسے مواقع تھے، جہاں یہ اس معاملے کو بہتر اندازمیں ڈیل کر سکتے تھے، مگر وہ اس معاملے کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک بات طے ہے کہ جب آپ راستہ نہیں نکالیں گے تو کوئی اور راستہ ضرور نکالے گا۔ خواتین کی تنظمیں، بین الاقوامی ادارے اور خود ملک کا سیکولر آئین تین طلاق کے خلاف صف آراء تھے۔ مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق میں تضاد کی صورت میں بنیادی حقوق کے مطابق فیصلے کرنے کی روایت موجود تھی اور ہندو میرج ایکٹ کو بناتے وقت انتہا پسند ہندووں کے اعتراضات کو نہیں سنا گیا تھا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے، لوگوں کے لے آسانیاں پیدا کرو، ان کے لئے مشکلات پیدا نہ کرو۔ کیا ایک وقت میں دی گئی تین طلاقیں تمام مسلمانوں کے ہاں تین طلاقیں شمار ہوتی ہیں؟ بالکل ایسا نہیں ہے، بلکہ فقہ جعفری اور اہلحدیث کے ہاں ایک وقت میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں، بلکہ فقہ جعفری میں تو گواہ اور دیگر شرائط نہ ہوں تو ایک بھی شمار نہیں ہوتی۔ اس مسئلہ میں اس توسع کی طرف رجوع کیا جا سکتا تھا، یہ کوئی ایسا اجماعی مسئلہ نہیں تھا کہ پورے ہندوستان کے مسلمان اس قانون کے مدمقابل آجائیں۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے درمیان افتراق کی بجائے اتحاد کا ذریعہ بن سکتا تھا، لیکن بے حکمتی سے اسے افتراق کا ذریعہ ہی بنایا گیا۔ ہندوستانی چینلز پر ہونے والی ڈیبیٹ کو دیکھ لیں، غیر مقلد علماء اور مقلدین کو لڑا کر تماشا لگایا گیا اور مسلمان خواتین کو مردوں سے لڑایا گیا۔ خواتین بار بار کہہ رہی تھیں کہ یہ تین طلاق کا قانون قرآن کے خلاف ہے اور علماء فقہاء کے حوالے دے رہے تھے، بہت سی جگہوں پر یہ تاثر جنم لے رہا تھا جیسے فقہاء قرآن کے خلاف فتوے دیتے ہیں۔ اس ساری جگ ہنسائی کی ذمہ داری اس فرقہ ورانہ سوچ پر ہے، جو اپنی مسلکی چار دیواری سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں، چاہے اس لئے پورا مذہب ہی کیوں نہ بدنام ہو جائے۔

اس پورے عمل میں ہندوستانی ریاست نے اپنی قوت و اختیار کو استعمال کیا، انہوں نے مسلمان تنظیموں اور ان کے بڑے بڑے اداروں سے کوئی رائے نہیں لی۔ ان کو آن بورڈ لیکر کوئی بہتر حل نکالا جا سکتا تھا۔ اب پاکستان کی حکومت اور بالخصوص اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی تین طلاق کے مسئلے کو دیکھنا ہوگا۔ فیملی ایکٹ 1961ء جو ایوب خان کے دور میں نافذ کیا گیا، اس میں بہت سی خامیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک وکیل دوست کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات یا اسی ایکٹ میں ایک ساتھ تین طلاق دینے والوں کے لئے سزا کی تجویز تھی، اگر ایسا ہے تو ہندوستانی پارلیمان نے اس پر قانون سازی کرکے اسے عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ ایک بات یاد رکھنے کی ہے، اسلام میں اختلاف توسع کا باعث ہے، ایسے مواقعوں پر اس توسع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

خبر کا کوڈ: 693680

ایک لائیو ریڈیو پروگرام میں دینی مسائل بتائے جا رہے تھے، ایک شخص نے کال کی اور مولانا صاحب سے مسئلہ پوچھا کیا میری زوجہ میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر جا سکتی ہیں؟ مولانا صاحب نے کہا بالکل نہیں جا سکتی۔ دوسرا سوال ہوا کہ اگر وہ چلی جائے تو کیا حکم ہے؟ مولانا صاحب نے کہا وہ گناہگار ہوگی اور نافرمان ہوگی۔ اس پر سائل نے کہا ایسی نافرمان بیوی کو طلاق دی جا سکتی ہے جو شوہر کے روکنے کے باجود مارکیٹ جاتی ہے اور غیر ضروری شاپنگ کرتی پھرتی ہے؟ مولانا نے جواب دیا انسان کو اچھے اخلاق کی عورت سے شادی کرنی چاہیے، جو اس کی اطاعت کرے اور اس کی حکم عدولی نہ کرے۔ اس شخص نے کہا اگر میں ابھی اسے طلاق دینا چاہوں تو کیا میری طلاق ہو جائے گی؟ مولانا صاحب نے کہا بالکل ہو جائے گی، اس نے ریڈیو پر لائیو پروگرام میں تین بار طلاق طلاق طلاق کہا۔ اس پر مولانا نے کہا اب آپ کی بیوی آپ پر حرام ہوچکی ہے۔ اس واقعہ نے ایک بین الاقوامی مباحثے کو جنم دیا۔ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظموپں اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے اس بحث میں حصہ لیا۔

خاندان کی ابتدا عقد سے ہوتی ہے اور خاندان کسی بھی تہذیب کی بنیادی ترین اکائی ہوتا ہے۔ خاندان ملکر محلے اور محلے ملکر شہر اور شہر ملکر ملک تشکیل دیتے ہیں۔ ہر تہذیب میں شادی بیاہ کی رسومات طے شدہ ہوتی ہیں۔ ان رسومات و طریقہ ہائے کار سے انحراف کو معاشرے برا سمجھتے ہیں۔ اسی تعلق کو قانونی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کو جائز تصور کیا جاتا ہے، جو اس مجوزہ طریقہ کار کے نتیجے میں قائم ہوا ہو۔ شادی سے تعلق قائم ہو جاتا ہے، مگر بعض اوقات ایسی ناگزیر وجوہات پیدا ہو جاتی ہیں، جن کی بنیاد پر اس تعلق کو ختم کرنا ضروری ہو جاتا ہے، تعلق توڑنے کا یہ عمل طلاق کہلاتا ہے۔ اسلام نے جہاں نکاح کا طریقہ کار واضح کیا، وہیں پر طلاق کا پورا نظام بھی دیا ہے۔ ہندوستان پاکستان میں فقہ حنفی کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، جن کے مطابق اگر کوئی شخص لکھ کر، بول کر، ایس ایم ایس کے ذریعے موبائل پر غرض کسی بھی طرح سے تین بار طلاق طلاق طلاق کہہ دیتا ہے تو وہ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو انہیں حلالہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ طلاق جائز ہونے کے باوجود کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے، یہ مشکل حالات میں ایک حل ہے، تاکہ کوئی ڈیڈلاک پیدا نہ ہو اور ہر دو آزاد ہو جائیں۔

آفرین رحمان، عطیہ صابری، سائرہ بانو اور عشرت جہان کو ان کے شوہروں نے تین طلاق ایک ساتھ دی دیں۔ انڈیا میں ہر سال ہزاروں خواتین کو ایسے ہی طلاقیں دی جاتی ہیں، مگر ان خواتین نے انڈیا کی سپریم کورٹ میں اپیل کی کہ اس سے ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کی حمایت میں فیصلہ دیا اور تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت سے کہا کہ اس پر قانون سازی کرے، تاکہ مسلم خواتین کے ساتھ زیادتی نہ ہو، حکومت نے تین طلاق کو جرم قرار دیتے ہوئے اس پر تین سال کی سزا کا قانون بنا دیا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ یورپی عدالت انصاف نے بھی تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انڈیا کے مسلمانوں کے پاس کئی ایسے مواقع تھے، جہاں یہ اس معاملے کو بہتر اندازمیں ڈیل کر سکتے تھے، مگر وہ اس معاملے کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک بات طے ہے کہ جب آپ راستہ نہیں نکالیں گے تو کوئی اور راستہ ضرور نکالے گا۔ خواتین کی تنظمیں، بین الاقوامی ادارے اور خود ملک کا سیکولر آئین تین طلاق کے خلاف صف آراء تھے۔ مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق میں تضاد کی صورت میں بنیادی حقوق کے مطابق فیصلے کرنے کی روایت موجود تھی اور ہندو میرج ایکٹ کو بناتے وقت انتہا پسند ہندووں کے اعتراضات کو نہیں سنا گیا تھا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے، لوگوں کے لے آسانیاں پیدا کرو، ان کے لئے مشکلات پیدا نہ کرو۔ کیا ایک وقت میں دی گئی تین طلاقیں تمام مسلمانوں کے ہاں تین طلاقیں شمار ہوتی ہیں؟ بالکل ایسا نہیں ہے، بلکہ فقہ جعفری اور اہلحدیث کے ہاں ایک وقت میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں، بلکہ فقہ جعفری میں تو گواہ اور دیگر شرائط نہ ہوں تو ایک بھی شمار نہیں ہوتی۔ اس مسئلہ میں اس توسع کی طرف رجوع کیا جا سکتا تھا، یہ کوئی ایسا اجماعی مسئلہ نہیں تھا کہ پورے ہندوستان کے مسلمان اس قانون کے مدمقابل آجائیں۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے درمیان افتراق کی بجائے اتحاد کا ذریعہ بن سکتا تھا، لیکن بے حکمتی سے اسے افتراق کا ذریعہ ہی بنایا گیا۔ ہندوستانی چینلز پر ہونے والی ڈیبیٹ کو دیکھ لیں، غیر مقلد علماء اور مقلدین کو لڑا کر تماشا لگایا گیا اور مسلمان خواتین کو مردوں سے لڑایا گیا۔ خواتین بار بار کہہ رہی تھیں کہ یہ تین طلاق کا قانون قرآن کے خلاف ہے اور علماء فقہاء کے حوالے دے رہے تھے، بہت سی جگہوں پر یہ تاثر جنم لے رہا تھا جیسے فقہاء قرآن کے خلاف فتوے دیتے ہیں۔ اس ساری جگ ہنسائی کی ذمہ داری اس فرقہ ورانہ سوچ پر ہے، جو اپنی مسلکی چار دیواری سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں، چاہے اس لئے پورا مذہب ہی کیوں نہ بدنام ہو جائے۔

اس پورے عمل میں ہندوستانی ریاست نے اپنی قوت و اختیار کو استعمال کیا، انہوں نے مسلمان تنظیموں اور ان کے بڑے بڑے اداروں سے کوئی رائے نہیں لی۔ ان کو آن بورڈ لیکر کوئی بہتر حل نکالا جا سکتا تھا۔ اب پاکستان کی حکومت اور بالخصوص اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی تین طلاق کے مسئلے کو دیکھنا ہوگا۔ فیملی ایکٹ 1961ء جو ایوب خان کے دور میں نافذ کیا گیا، اس میں بہت سی خامیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک وکیل دوست کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات یا اسی ایکٹ میں ایک ساتھ تین طلاق دینے والوں کے لئے سزا کی تجویز تھی، اگر ایسا ہے تو ہندوستانی پارلیمان نے اس پر قانون سازی کرکے اسے عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ ایک بات یاد رکھنے کی ہے، اسلام میں اختلاف توسع کا باعث ہے، ایسے مواقعوں پر اس توسع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *