صفدر نوید زیدی کے نام خط/عامر حسینی

پیارے بھائی صفدر نوید زیدی،
آداب!
جنم دن مبارک ہو- میں عرق النساء کی تکلیف میں مبتلا ہوکر بستر سے لگا بیٹھا ہوں۔ یہ تکلیف کتنی شدید ہوتی ہے اس کا احساس سچی بات ہے مجھے اب کہیں جاکر ہوا ہے۔ میرے والد اس تکلیف میں مبتلا ہوئے تھے، وہ میری طالب علمی کا زمانہ تھا۔ وہ دن رات اس تکلیف میں ہائے ہائے کرتے تھے، میں اُن کے ساتھ ہوتا تھا، مجھے اُن کی تکلیف پر پریشانی تو ہوا کرتی تھی لیکن یہ تکلیف کیا ہوتی ہے، اس کا مجھے زرا اندازہ نہ تھا-اب یہی دیکھ لیں کہ یہاں رات (محاورتاً لکھ رہا ہوں ورنہ صبح) کے ساڑھے تین ہوئے ہیں اور درد مجھے سونے نہیں دے رہا، سو جاگ رہا ہوں اور اس تکلیف سے نظریں چُرانے کے کئی سامان کررہاہوں۔ آپ کو وٹس ایپ خط لکھنا بھی اسی کا ایک حصہ ہے ورنہ جنم دن کی مبارکباد تو چند الفاظ کے ساتھ آپ کو بھیجی جاسکتی تھی- آپ اب دنوں اٹلی کی سیر کو نکلے ہوئے ہیں جس کا احوال فیس بُک پر آپ کی دیوار پر لگے نوٹس اور اپ لوڈ امیجز سے ملتا رہتا ہے- آپ نے’بنتِ داہر’ کی آڈیو بُک بناکر اچھا کیا ہے- لگے ہاتھوں ‘چینی جو میٹھی نہ تھی’ اور ‘بھاگ بھری’ کی آڈیو بُک بھی یو ٹیوب سمیت سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر اَپ لوڈ کردیں۔ اب تو دیگر زبانوں میں ڈبنگ کی سہولت بھی یوٹیوب پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے میسر آجائے گی تو آپ کے لکھے ناولوں کی دیگر زبانوں میں آڈیو بکس دستیاب ہوں گی۔ آپ نے اپنے اگلے ناول کا جو پلاٹ بتایا ہے وہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ آپ ایمزون لوک کہانیاں پڑھ رہے ہیں اور ایمزون کے جنگلات کی خاک چھان رہے ہیں، اُن کے ادیبوں سے مل رہے ہیں اور وہاں کی لینڈ اسکیپ کو دیلھ رہے ہی‍ں، اس نے ہمارے تجسس کو بھڑکا دیا ہے اور ہمارا اشتیاق بڑھ گیا ہے کہ اس مرتبہ آپ کی زنبیل سے کیا نکل کر آتا ہے۔
میں نے پچھلے دنوں ایک ادیب کا بالزاک کے بارے میں انٹرویو پڑھا، ادیب نے بالزاک کے ناولوں پر ایک کتاب لکھی تھی ، انٹرویو اسی کے بارے میں تھا اور اُس ادیب نے بالزاک کے سب سے زیادہ وقیع ناول ‘دا ہیومن کامیڈی’ کے بارے میں کہا کہ بالزاک کا اس ناول بارے کہنا تھا کہ اُس ناول کا اصل مصنف تو فرانسیسی سماج خود ہے، وہ تو بس منشی ہے جس نے اسے قلمبند کردیا ہے۔ اور دوسری بات اُس ادیب نے یہ کہی کہ ‘جنسی عمل’ (سیکس) بالزاک کے ہاں سفنکس کی پہیلی جیسا تھا اور اُس نے اس پہیلی کو کبھی حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہو، کبھی من کرے تو اس پر بات کیجیے گا- بالزاک کے بارے میں، میں نے
Henery Monnier
کو پڑھا تھا جو اس سے ملا تو بالزاک نے اُسے بتایا کہ وہ اُس کے زہن میں ایک شاندار منصوبہ گھوم رہا ہے، ایسا منصوبہ کہ ایک مہینے میں وہ پانچ لاکھ فرانک جمع کرلے گا-
بالزاک نے کہا کہ وہ
Boulevard des Italiens
ایک دکان کرائے پر لے گا جہاں سے سارے پیرس کو گزرنا پڑتا ہے اور وہاں وہ نوآبادیات کی بنائی چیزوں کا اسٹور قائم کرے گا جس کی کھڑکی پر سونے کی تار کشی سے لکھا ہوگا
Honore de Balzac, Grocer
اس سے ایک سیکنڈل جنم لے گا اور ہر کوئی اُس کے ہاتھوں سے خریداری کے لیے مرا جائے گا اور یوں وہ ایک ماہ میں پانچ لاکھ فرانک اکٹھا کرلے گا۔
بالزاک ایک ایک فرانک کے لیے پیرس میں ایک ناشر سے دوسرے ناشر کے دفتر کے چکر کاٹتا رہا۔ دن بھر وہ ‘پیسہ’ کمانے کے لیے لور لور پھرتا تھا اور رات کو وہ راہب کا لباس پہن کر کرسی پر بیٹھ جاتا اور کافی کے مگ پر مگ چڑھاتا جاتا اور اپنے ناول، شارٹ اسٹوریز، ڈرامے لکھتا رہتا- وہ محض 50 سال کی عمر میں مرگیا۔ میں جب یہ سب پڑھ رہا تھا تو مجھے منٹو کی یاد آئی، منٹو بھی تو ایک ایک روپیہ اکٹھا کرنے کے لیے خون جگر سے کہانیاں لکھ رہا تھا اور ایک دن وہ بھی خون تھوکتے تھوکتے مرگیا۔ بالزاک بھی ڈرامہ اور شارٹ اسٹوری کے درمیان جھولتا رہا تھا اور ہمارا منٹو بھی۔ آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟ بالزاک کی کہانیوں میں سیکس /جنسی عمل کا تذکرہ اُس زمانے کے پیرس کی اشرافیہ اور اخلاقیات لے ٹھیکے داروں کو بہت بُرا لگا تھا۔ منٹو کے افسانوں میں بھی جنسیت کے زکر سے ہندوستان اور پاکستان کی اشرافیہ اور اخلاقیات کے ٹھیکے داروں کو بڑی چبھن ہوئی تھی۔ یہ جو بنتِ داہر ہے اس میں بھی سیکس کے زکر سے بڑا شور بپا ہوا- بنت داہر کی فعال جنسیت سے سندھی قوم پرستوں میں کئی ایک مردوں کو انا کو سخت جھٹکا لگا اور انھوں نے اسے سندھ کی بیٹی کی توہین قرار دے ڈالا۔ دائیں بازو کے رجعت پرستوں کو یہ محمد بن قاسم کی کردار کُشی لگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک بڑے ناول کا متن تہہ دار ہوتا ہے اور اُس کی متنوع تعبیرات سامنے آتی ہیں ‘بنت داہر’ ایک تہہ دار ناول ہے اس کے متن کی تہہ دار تعبیرات سامنے آئیں گی۔ میں بھی کہاں سے کہاں چلا گیا-
میں آج کل بیک وقت کئی کتابیں پڑھ رہا ہوں۔ فکشن میں عباس زیدی کی کہانیوں کا مجموعہ زیر مطالعہ ہے۔ ڈھائی حروف کے نام سے یہ مجموعہ پہلی بار امریکہ سے چھپا تھا-کمال کی کہانیاں ہیں۔
مارٹن ہنڈذ کا تحقیقی مقالہ ‘مرڈر آف عثمان رض (ابن عفان’ پڑھ رہا ہوں۔ اور اُس کی تاریخ کی جانچ کے فن کی بے اختیار داد دیے جاتا ہوں۔ کیا ہمارا سماج کبھی ٹھنڈے پیٹوں مارٹن ہنڈذ کے نکالے نتائج پر معقولیت کے ساتھ بنا بلاسفیمی اور توہین کے الزام لگائے بغیر غور و فکر کرنے کے قابل ہوسکے گا۔ ویسے کچھ روز پہلے آپ نے سادات کے ڈی این اے بارے ایک پوسٹ کی تھی اور اس میں بتدریج افریقی جینز کے سیکشن کے بڑھ جانے کا زکر کیا تو اس نے کافی ‘برہمی’ پیدا کی۔ اس سے کیا ہوگا، اپنا ہی فشار خون بلند ہوگا۔ ہمارا سماج تخلیقی وفور سے خوف کھاتا اور اس وفور کو مٹا ڈالنے کے درپے رہتا ہے _ میں مظفر علی سید کے تنقیدی مضامین پڑھ رہا ہوں۔ ساتھ ہی دو نئی کتابیں پولیٹکل اکنامی سے جڑی ہیں انہیں پڑھ رہا ہوں۔ کارل مارکس کے ایشیائی موڈ آف پروڈکشن بارے ہندوستان، جاپان، چین کے مارکس وادی دانشوروں نے کیا لکھا ہے اس پر بھی تھوڑا غور و فکر جاری ہے۔ اس غور وفکر کے دوران پتا چلا کہ ہندوستان کے اکثر و بیشتر مارکس وادی دانشوروں نے کارل مارکس کے ایشیائی طریق پیداوار تصور پر محض نیویارک ٹرائبون میں چھپے مضامین ہی سامنے رکھے جبکہ اُس کے لکھے نوٹس بعنوان
Ethnological Notebooks
کو مد نظر نہ رکھا اس کا اعتراف عرفان حبیب نے بھی کیا مغلوں کے منصبداری نظام پر کام. کرتے ہوئے انھیں یہ نوٹس دستیاب نہ تھے۔ کٹر پنتھی رویے کہیں بھی ہوں ایک طرح ‘کٹھ ملائیت’ کو جنم دیتے ہیں۔ ملاں مارکسی ہو، یا لبرل یا اشتراکی کھڑے جوہڑ کی طرح ہوتا ہے جو بدبو مارنے لگتا ہے۔
بہت کچھ لکھ بیٹھا ہوں۔ آپ کو ایک بار پھر جنم دن کی بہت بہت مبارکباد _
آپ کا بھائی
عامر حسینی

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply