ہماری کشتی نہیں بلکہ بیڑہ غرق ہے/نذر حافی

بنڈلی گاوں کا دوسرا نام وادی بناہ بھی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر یہ گاوں آزاد کشمیر میں واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریباً دس ہزار اور اس کے دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کا علاقہ راجوری ہے۔ یونان کے پانیوں میں ڈوبنے والی کشتی اپنے ہمراہ اس گاوں کے بھی تقریباً پچاس افراد کو لے ڈوبی۔ یہاں کوئی گھر ایسا نہیں، جس سے کوئی نہ کوئی امریکہ، یورپ یا خلیجی ریاستوں میں نہ ہو۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی غیر قانونی کام حکومتی اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ لوگ غمزدہ بھی ہیں اور غصّے میں بھی۔ باہر سے آئی ہوئی دولت کی ریل پیل یہاں کے گھروں کے طرزِ تعمیر سے جھلک رہی ہے۔ پورے گاوں میں شاید چند ایک گھر ہی کچے رہ گئے ہوں۔ ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل سوگوار ہے۔ ماتم اور سوگ کی فضا سراسر چھائی ہوئی ہے۔ کوئی بھی ایسا شخص نہیں، جو اسمگلروں اور حکومت سے نالاں نہ ہو۔

جن کے عزیز اس حادثے کے شکار ہوئے، وہ یا گاوں کے دوسرے لوگ، سب کے سب حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ لوگ بیک زبان یہ کہہ رہے ہیں کہ اسگلر ہمارے عزیزوں کو بہکا کر لے گئے۔ خیر لوگوں کی زبان بندی تو نہیں کی جاسکتی، لوگ تو لوگ ہیں، کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، البتہ ہم نے سُنا ہے کہ زُبانِ خلق کو نقّارہ خدا سمجھو۔ ویسے جب یہاں کسی کو خدا کا ڈر نہیں تو مخلوقِ خدا سے کیسا ڈر! اگر ہمارے اندر خدا کا ڈر ہوتا تو یہ حادثہ ہمیں بدلنے کیلئے کافی تھا۔ اتنے بڑے حادثے کے باوجود ہمارے ہاں یعنی پاکستان و آزاد کشمیر میں کچھ نہیں بدلا۔ یقین جانئے سمگلر حضرات اور ان کے سرپرست اگلی بھرتیاں کرنے میں مگن ہیں۔ اگر دس پندرہ مقامی افراد کو اسمگلر کہہ کر پکڑ بھی لیا گیا ہے تو ایسے لوگ پہلے بھی کہیں چھپے ہوئے یا مخفی نہیں تھے۔ یہ ایک روٹین کی کارروائی ہے، جو ایسے ہر حادثے کے بعد کی جاتی ہے۔

اسمگلر حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ جہاں چپراسی، قُلّی، صحافی، گوالا، پٹواری، وکیل، ڈاکٹر، مولوی، پروفیسر، پولیس مین، دکاندار، سیاستدان، کارخانے والا، ریڑھی والا، ہوٹل والا۔۔۔ چھوٹا بڑا ہر کوئی دونوں ہاتھوں سے لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہے، وہاں انہوں نے کوئی انوکھا کام نہیں کیا۔ وہی کیا ہے، جو دوسرے بھی کر رہے ہیں۔ کشتی والی اس داستان نے مجھے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امید ہے کہ منصف مزاج افراد بھی اس زاویئے پر تحقیق کریں گے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو ڈوب مرے، وہ بھی مسلمان ہیں اور جو اسمگلر حضرات ہیں، وہ بھی مسلمان ہیں۔ یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ آخری زمانے کے مسلمانوں کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے، سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ جیسے ہاتھ کی ساری انگلیاں برابر ہوتی ہیں، اسی طرح اسمگلر بھی ہیں تو مسلمان۔ اس لحاظ سے تو ہمیں اسمگلروں کا بھی احترام کرنا چاہیئے۔

جہاں تک لوگوں کو لوٹنے والی بات ہے تو وہ تو سبھی لوٹتے ہیں۔ مثلاً ابھی عیدِ قربان میں چند دِن رہ گئے ہیں۔ چنانچہ ٹریفک پولیس سے لے کر ڈرائیور و کنڈیکٹر و درزی، مویشی فروش، قصاب اور کریانہ و تھوک و پرچون فروش سمیت سب اپنی اپنی بساط کے مطابق لوگوں سے عیدی انیٹھ رہے ہیں۔ ہاں لوٹنے کے طریقے مختلف ہیں، لیکن لوٹ مار ایک جیسی ہے۔ کسی کو نہ خوفِ خدا ہے اور نہ قیامت کا ڈر۔ ایک ہی گھر میں جیسے مختلف پارٹیوں کے سیاستدان پائے جاتے ہیں، ویسے ہی ایک چھت کے نیچے مولوی و مسٹر کا بھی اپنا اپنا دھندہ جاری ہے۔ سب اپنی اپنی جگہ ڈنڈی مار رہے ہیں، سب غلط کر رہے ہیں اور اتفاق سے سب مسلمان بھی ہیں۔ کیا کسی کو بہکانے سے مسلمان ہونے کا شرف بھی کھو جاتا ہے۔؟

اسمگلر کوئی آسمان سے نہیں اترتے، وہ بھی اسی سماج اور اسی مٹی سے جنم لیتے ہیں۔ وہ بھی مسلمان ابنِ مسلمان ہیں، وہ بھی اسی سماج کے عزیز و اقارب ہیں۔۔۔ وہ بھی آخر الزمان کے مسلمانوں میں شامل ہیں۔ اگر کسی کو بہکانا ہمیں پسند نہیں تو پھر ہمارے درمیان یہ فراڈ، دھونس، جھوٹ اور بہکاوا کہاں سے آگیا۔؟
کچھ سمجھ نہیں آتی، لیکن یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم جس صادق اور امین نبیؐ پر ایمان لانے کے داعی ہیں، کیا اُس کی صداقت اور امانت کی ہلکی سی جھلک بھی ہمارے معاشرے میں دکھائی دیتی ہے؟ ہمیں ہٹ دھرمی کے بجائے یہ معلوم کرنا چاہیئے کہ نبی ؐ کے زمانے میں تو صحابہ کرام ؓ کا ایک دوسرے پر اعتماد قابلِ رشک تھا۔ ہم بھی تو اُسی نبی ؐ کے پیروکار ہیں۔ ہم اپنے نبی ؐ کے طرزِ زندگی سے اتنے دور کیسے ہوگئے کہ بقول اقبال:
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

ہماری جو حالت ہے، یہ بتا رہی ہے کہ ہمارا مسئلہ ہے ہی بہکانے کا۔ ہم ایسے بہک چکے ہیں کہ اپنے نبی ؐ کے راستے سے بہت دور جاچکے ہیں۔ ایک تو اصل راستے سے بہک گئے اور پھر اتنے دور چلے گئے کہ علامہ اقبال ؒکے ہی الفاظ میں:
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
اقبال ؒتو مسلمان سے پوچھتے ہیں کہ “تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟”
اب یہ مسلمان کس سے یہ سچائی پوچھے کہ میں اپنے نبی ؐسے دور کیوں ہوا؟ میرا راستہ کیسے گُم ہوا؟ مجھے کس نے بہکایا اور بھٹکایا؟ آپ یہی سوال اپنے ہاں کے روشن فکروں یا کٹر مذہبی لوگوں سے پوچھ کر دیکھ لیں کہ ہم نے اپنے نبیؐ سے اپنی راہیں کب اور کیسے جدا کیں؟ مجال ہے کہ کوئی آپ کو درست جواب دے۔

مسٹر اور مولوی دونوں اپنی اپنی جگہ ڈنڈی ماریں گے۔ دونوں نبی ؐ کے بعد ہونے والے غلط کو غلط نہیں کہیں گے۔ جب ہماری تربیت ہی ایسی ہوئی ہے کہ ہم پہلے تو غلط کو غلط ہی نہیں کہتے اور اگر ٹھوس دلائل کے سامنے ہم بے بس ہو جائیں تو پھر بھی زیادہ سے زیادہ زبانی کلامی ہی غلط کو غلط کہتے ہیں۔ جب غلط کو غلط کہتے ہیں تو تب بھی غلط کو ترک نہیں کرتے۔ ہمارا غلط بھی ہمارے لئے مقدس ہے اور ہمیں غلط راہوں پر ڈالنے والے کا بھی ہمارے نزدیک تقدس ہے۔ غلط کو غلط کہنے کے باوجود اُسے اپنے سینے سے لگائے رکھنا، یہ ہماری نسل در نسل تربیت ہے۔

julia rana solicitors london

یونان کے پانیوں میں جو کشتی ڈوبی اُس کا دُکھ اپنی جگہ، لیکن اِن ڈوبنے والوں کے وہ لواحقین جو اس وقت واویلا کر رہے ہیں، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ایف آئے والے پیسے لے کر لوگوں کو جانے دیتے ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ اسمگلر حضرات اور سرکار کی ملی بھگت سے یہ سب ہوتا ہے، جن کا الزام ہے کہ ان کے عزیزوں کو ورغلا اور بہکا کر لے جایا گیا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ اگر آپ انہیں آج بھی یہ یقین دلا دیں کہ اب کی بار کشتی نہیں ڈوبے گی، آپ اُنہیں یہ ضمانت دے دیں کہ اس مرتبہ اسی راستے سے تمام لوگ بحفاظت یورپ پہنچ جائیں گے تو یہ لوگ پھر سے جانے کیلئے تیار ہو جائیں گے۔۔۔ شک نہ کیجئے اور یقین جانئے کہ حتماً جانے کیلئے تیار ہو جائیں گے، چونکہ ہم غلط کو غلط کہہ کر بھی ترک نہیں کرتے۔ بات ایک کشتی کی نہیں بلکہ بات ہماری صدیوں پر محیط تربیت کی ہے۔ بات ہر حال میں غلط کو چوم کر سینے سے لگا کر رکھنے کی ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ ہماری کشتی نہیں بلکہ ہمارا بیڑہ ہی غرق ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply