ایسے انسان کی آپ بیتی جنہوں نے باوجود صدمات کو جھیلنے کے اپنی زندگی کے ان واقعات کو دہرانے کی خواہش ظاہر کی جس کے وہ عینی شاہد تھے تاکہ تاریخ کے صفحات پہ انکے سچ کا اضافہ ہوسکے۔یہ داستان ہے 64سالہ ڈاکٹر انور شکیل کی، جو آج کینیڈا کے شہری ہیں ۔ انہوں نے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں ایک اُردو زبان بولنے والے بہاری خاندان میں آنکھ کھولی ۔ اور سقوط ڈھاکہ کے سانحہ اور جنگ میں ہارنے کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ انڈیا کے شہر میرٹھ کی چھاؤنی کے کیمپ نمبر 28 میں زندگی کے 22 ماہ کی قید کاٹی۔
گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے
https://www.mukaalma.com/author/gohar/
قسط 15
جب کیمپ بیماریوں کا گھر بنا
دل بہلانے اور وقت کاٹنے کے لیے کیمپ میں فلمیں لگتیں توکبھی ریڈیو کی خبروں پہ سب کے کان لگے ہوتے، اس امید پہ کہ شاید کوئی رہائی کا معاہدہ ہوگیا ہو۔ خبروں کے علاوہ ایک موقع یہ بھی آیا کہ ستمبر ۱۹۷۲ء میں پاکستان اور انڈیا کے مابین ہاکی میچ کی کمنٹری بھی پورے شوق اور ولولے سے سُنی گئی ۔ جس میں جب پاکستان نے نے انڈیاکے خلاف سنسنی خیز میونخ اولمپک میچ جیتا تو کیمپ خوشی سے بے قابو ہوکر نعرےبازی کرنے لگا ۔ اس والہانہ شور کو سن کر فوجی کی سیٹی بجنے لگی اور اعلان ہواکہ اب کاؤنٹنگ ہوگی ۔جو واحد حربہ تھا ہمارے احساس ِ فتح مندی کو مات دینے کا ۔گنتی کے لیے سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے ۔ گو پاکستان سیمی فائنل میں انڈیاکو شکست دینے کے بعد جرمنی سے فائنل میچ ہار گیا تھا، جس پر انڈین خوش اور ہم پاکستانی افسردہ تھے لیکن انڈیا سے سیمی فائنل میں جیتنے کی فتح مندی کا نشہ فائنل کی ہار کے اثر کو زائل نہ سہی مدہم ضرور کر رہا تھا۔
ہم فروری میں آۓ تھے وہ سردی کا موسم تھا ۔ محکومی کا نیا پڑاؤ تھا ۔ قید کی زندگی سے مانوسیت کچھ حالات سے سمجھوتہ تو مجبوری کا تقاضا ٹھہرا تھا۔لیکن جب چارپانچ ماہ بعد موسم نے انگڑائی لی ،خنکی گرمی میں تبدیل ہوئی تومیرٹھ کی چھاؤنی میں ہمارے ساتھ سخت گرمی نے بھی پڑاؤ ڈالا۔اندر جھلستی گرمی اور باہر گرم لُو کےتھپیڑے ۔ رات بھر پنکھے چلتے تو مگر اونچائی پہ لگے پنکھوں کے پَروں کی ہوا ناکافی تھی۔ دن میں کئی بار نہانے کی خواہش ہوتی مگر اس وقت تو نلوں سے بھی گرم پانی ہی نکلتا تھا۔ لہٰذا لوگ شام ڈھلنے کے بعد رات میں نہاتے۔
سب کی ہی خواہش پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کی تھی ۔ فریج اس زمانہ میں ویسے بھی اتنا عام نہیں تھا۔ لیکن کیمپ میں تو اس کا سوچنا بھی محال تھا۔ ٹھنڈے پانی کے حصول کے لیے کچھ لوگوں کے سائنسی ذہن نے اس کی ترکیب یہ کی کہ ڈالڈا گھی کےخالی ڈبے کے اطراف کمبل کو کاٹ کے اسکی تین چار تہیں لپیٹ دیں۔کمبل کی تہیں پانی سے بھیگی ہوتیں ۔ جب پانی سے بھرے ڈالڈا کے ڈبے باہر رکھ دیے جاتے تو لُو کے تھپیڑے اس پانی کو ٹھنڈا کردیتے اور یوں ہم ٹھنڈا پانی پیتے ۔کسی نے بالکل سچ کہا ہے کہ “ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔”
تپتی گرمی کا موسم کیمپ میں تپش کے ساتھ مختلف جسمانی بیماریاں بھی ساتھ لایا۔اسکی وجہ بے مہر گرم موسم میں ایک جگہ پہ بہت سے لوگوں کا ساتھ رہنا تھا۔ جن کے بسترقریب قریب بچھے ہوۓ تھے۔ ان بیماریوں میں خارش (Scabbies)، مچھروں کی بہتات کی وجہ سے ملیریا، موسمی بخار ، نزلہ کھانسی، پیٹ کی بیماریاں دست اُلٹی،اور بچوں میں ناکافی غذا خاص کر پروٹین کی کمی کی وجہ سے سوکھےکی بیماری جسےProtein Calorie Malnutrition بھی کہا جاتا ہے، شامل ہے۔
میری ممانی جو اس وقت کیمپ میں ہی تھیں ان کا شِیرخوار بچہ بھی اس بیماری میں مبتلا ہوا تھا۔ اور چار ماہ کیمپ کے بجاۓ ہسپتال میں داخل رہا۔ اس کو ناک میں نلکی لگا کے دودھ ملتا کیونکہ کمزوری کے سبب بچے میں بوتل سے دودھ پینے کی طاقت نہ تھی۔ بچے کے بچنے کے امکانات نہیں تھے لیکن انڈین ملٹری کمبائنڈ ہسپتال میں بہت اچھی نگہداشت ہوئی اور وہ بچہ صحت یاب ہوکے واپس کیمپ آگیا۔
اس دوران میں ابّی کے ساتھ ہفتہ دو ہفتہ میں اس کو دیکھنے ہسپتال جاتا رہا، جوکیمپ سے دور میرٹھ شہر میں ہی تھا۔ وہاں فوجی گاڑی پہ جانا ہوتا تھا۔گاڑی پہ بیٹھے سے پہلے ہماری آنکھوں پہ پٹی باندھ دی جاتی اور دونوں ہاتھوں کو پیچھے باندھ کے ہتھکڑی لگا دی جاتی۔ میں دبلا پتلا بچہ تھا ہتھکڑی ہاتھ سے نکل جاتی لہٰذامیرے ہاتھ پیچھے کرکے رسی سے باندھ د ئیے جاتے۔ ہمارے ساتھ دو گارڈ ہوتے تھے۔گاڑی میں ہمیں نظر تو کچھ نہ آتا مگر ہم اپنے اطراف لوگوں کی آوازیں ضرور سنتے ۔اس میں پاکستان کے خلاف نعرے بھی شامل تھے جو لوگ ہمیں جنگی قیدی جان کرلگاتے تھے۔ ہماری قمیض پہ پرزنر آف وار بھی لکھا ہُوا تھا ۔اس طرح جنگیں موت ،مفلسی، اور معذوری ہی نہیں ہزیمت اور شرمساری کے احساس کا سامان بھی بنتی ہیں۔
گرمی کی شدت اور مچھروں کی بہتات کے علاوہ کچن میں آٹا اور دوسری کھانے پینےکی چیزوں کی وجہ سے چوہے اور کاکروچ اور کیڑے مکڑوں کی تعداد بھی بڑھ گئی تھی۔اور ساتھ ہی ایسی بیماریاں جو ایک سے دوسرے کو لگتی ہیں ،بھی تشویش ناک حد تک بڑھ گئی تھیں۔اسکی وجہ سے میڈیکل انسپیکشن روم جو دس سے دو بجے تک کھلا ہوتا تھا، اس کے دن بڑھا دیے گئے۔ اور کیپٹن کے رینک کے دو پاکستانی ڈاکٹرز کااضافہ بھی کر دیا گیا ۔ ان میں ایک چھوٹے سے قد کے کیپٹن پاشا اور دوسرے کیپٹن صدیقی تھے ۔ دونوں بہت توجہ سے علاج کرتے۔ ہفتہ میں ایک دن کے بجاۓ کلینک کے دن بڑھا کے پہلے دو اور پھر تین کر دیے گئے۔ عام بیماری میں مبتلا مریض کو دیکھنےکے بعد واپس بھیج دیا جاتا لیکن زیادہ بیمار کو ایمرجینسی کی حالت میں میڈیکل روم سے ایمبولینس کے ذریعے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میرٹھ بھیج دیا جاتا۔ جہاں بہت اچھا علاج اور نگہداشت ہوتی ۔مجھے یاد ہے کہ دو بچوں کا اپنڈکس کا آپریشن بھی ہوا تھا۔جن کی عمریں 13 اور14 سال تھیں۔ان سب بیماروں کو دیکھ کر ہمیشہ ایک خوف سا دل میں لگا رہتا کہ اگر میرے کسی بہن یا بھائی کو کچھ ہوگیا تو کیاہوگا؟؟
ظاہر ہے بہت سی بیماریوں کا سبب کیمپ میں حفظانِ صحت کے معیار میں بے توجہی تھی۔ کیمپ میں اتنے لوگوں کی ضرورت کے لیے پانی کی مقدار قلیل تھی۔ باتھ روم جوعارضی بنیاد پہ بنے تھے، ایک بڑا سا تختہ لگا کے چھوٹے چھوٹے بیت الخلا بناۓگئے تھے۔جن کے بیچ سیمنٹ کی دیوار یں تھیں۔
کیمپ میں بیماریوں کی شورش کے ساتھ کچھ اچھی باتیں بھی ہوئیں۔ بی بی سی کے پروگرام سیربین، سیلون کے بناکا گیت مالا کے ساتھ اب پاکستان ریڈیو سے نشرہونے والا پندرہ منٹ کا پروگرام بھی سنوایا جانے لگا جہاں سے مختلف کیمپوں میں رہنے والے قیدیوں کے نام کیمپ کے نمبر کے ساتھ بتاۓ جاتے ۔ ایک دن ہمارے خاندان کےتمام لوگوں کا نام بھی نشر ہوا۔
پاکستان خط لکھنے کی اجازت کے بعد یہ بھی اجازت ملی کہ اپنے انڈیا میں رہنے والےرشتہ داروں کو بھی خط لکھے جاسکتے ہیں۔ کیمپ میں ہماری تائی جنہیں ہم سنجھلیاماں پکارتے تھے، بھی ساتھ تھیں ۔ ان کا پورا میکہ کانپور میں رہتا تھا۔ انہوں نےمیکہ میں خط بھیجنے شروع کیے ۔ خطوط کی اجازت کے بعد اس کی اجازت بھی مل گئی کہ پارسل بھی منگواۓ جا سکتے ہیں۔اس طرح اب آم ، جیلی اور ڈرائی فروٹ وغیرہ کےپارسل آتے جو وصول کرنے اور کھلنے سے پہلے آفس میں اس کے سامنے چیک کیےجاتے جس کے نام پارسل آتا۔
پھر ایک دن ایک بہت خوشگوار حیرت اس وقت ہوئی کہ جب کیمپ میں رہنے والے قیدیوں کے نام پارسل آۓ ۔ جو کسی رشتہ دار کے بجاۓ حکومت پاکستان کی جانب سے تھے اورجسے انٹر نیشنل ریڈ کراس نے کیمپ میں پہنچایا تھا۔ہمارے کمرے میں بالغ مردوں کی تعداد 33 تھی میں ایک بچہ تھا جو ابّی کا خیال رکھنے کے لیے وہاں رہتا تھا۔ اس اعتبار سے میں پارسل کا حقدار نہیں تھا۔ لیکن چونکہ میں روم کمانڈر تھا لہٰذا میں نےہی یہ پارسل تقسیم کیے اور خود کوئی پارسل نہ لے سکا۔
اتنی کم عمری میں روم کمانڈر بناۓ جانے کی وجہ یہ تھی کی جب وہاں رہنے والے بڑوں کو یہ ذمہ داری دی گئی تو ان میں اکثر بحث و مباحثہ ہوجاتا۔ لہٰذا میری کم عمری کےباوجود مجھے روم کمانڈر بنا دیا گیا تھا۔ کہ سب میری بات مانیں گے۔ اس کے علاوہ میری بہت ذمہ داری سے خطوط بانٹنے کی وجہ سے مجھے خطوط کی تقسیم کاانچارج بھی بنا دیا گیا تھا۔ اسکی وجہ سے مجھے قیدیوں کے نام اور نمبر یاد تھےمیں یہ کام میں بہ احسن انجام دیتا تھا۔
پاکستان سے ملنے والے پارسل میں تولیہ ، باٹا کی سفید چپل، ٹورنٹو برش اور ٹورنامنٹ پیسٹ ، بسکٹ اور چاکلیٹ کے دو دو پیکٹ کے علاوہ ایک عدد ٹوپی اور تسبیح تھی۔جب سب کو پتہ چلا کہ باوجود ذمہ داری سے سب کو پارسل بانٹنے کے میرے لیے کوئی پارسل نہیں تھا تو یہ بات کمرے کے سارے حضرات کو اچھی نہ لگی۔ دردمندی سےسبھوں نے اپنے اپنے پیکٹ سے کچھ نہ کچھ نکال کے مجھے دے دیا ۔ اس طرح میرے پاس اب تمام لوگوں سے کچھ زیادہ ہی چیزیں جمع ہوگئیں۔
خطوط اور پارسل منگوانے کے بعد ایک اور سہولت کا اضافہ بھی ہوگیا۔ اب قیدیوں کواجازت دی گئی کہ وہ اپنے انڈیا میں رہنے والے سگے رشتہ داروں سے مل بھی سکتےہیں۔ اس طرح ہماری سنجھلی اماں کی اپنے رشتہ داروں سے پہلی ملاقات تار کے ایک طرف تین سے چھ فٹ کے فاصلے پہ کھڑے ہوکر ہوئی ۔ اتنے فاصلے سے صرف دیکھا یاآوازاونچی کر کے ہی بات ہوسکتی تھی۔ جس پر سب نے یہ شکایت کی کہ اتنے دور سےآۓ ہوۓ رشتہ داروں سے اس طرح ملنے کے بجاۓ قریب سے ملاقات کیوں نہیں ہوسکتی ۔لہٰذا دوسری ملاقات میں اس بات کی اجازت مل گئی کہ یہ رشتہ دار فوجیوں کے آفس میں مل سکتے ہیں۔ ملاقات کا دورانیہ آدھ گھنٹے کا تھا۔
اس ساری صورتحال کا خوشگوار اثر ابّی کی ذہنی صحت پہ بہت مثبت ہُوا ۔ اب وہ بہت بہتر ہوگئے تھے ۔ خوف اور ہیجان قابو میں تھا۔ لیکن میں ابھی بھی ان کے بالغ بیٹے کی طرح ان کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ اور ان کے حصّے کے کام کی ذمہ داری سےدستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا۔آج بھی مجھے خوشی ہے کہ میں ان کے کسی کام آسکا۔لیکن بھلا اولاد والدین کی محبت کا حق ادا بھی کیا کرسکتی ہے۔؟
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں