اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کو اسلام آباد میں درج کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے سے متعلق تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کو اسلام آباد میں درج کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے سے متعلق چار صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے، حکمنانہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے جاری کیا ہے۔
تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے وکیل مطابق ان کو ہائیکورٹ احاطہ سے گرفتار کیا گیا، وکیل درخواست گزار کے مطابق عمران خان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بائیو میٹرک کروا رہے تھے۔ عمران خان کی مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت پر ان کو اسلام آباد ہائیکورٹ پیش کیا گیا۔
تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو فول پروف سیکورٹی مہیا کی جائے۔ عمران خان کی سکیورٹی کی ذمہاری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کو سابق وزیراعظم کے سٹیٹس کے مطابق سیکورٹی فراہم کی جائے اور عمران خان کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔

تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے 9 مئی کے بعد اسلام آباد میں درج کسی بھی مقدمے میں عمران خان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ایڈوکیٹ جرنل اسلام آباد آئندہ سماعت تک عمران خان پر درج مقدمات کی تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ عدالتوں میں پیشی تک عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا گیا، جس کے بعد کیس کی سماعت 17 مئی تک ملتوی کی گئی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں