مکالمہ کیوں ضروری ہے؟

( mukaalma.comکے نام سے ویب سائٹ کے آغاز کے موقع پر لکھا گیا۔)

کسی بھی معاشرے کی تعمیر وتشکیل میں کردار ادا کرنے والے عناصر میں ایک بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین عملی ہم آہنگی اور رواداری کی فضا موجود ہو۔ مختلف معاشرتی عناصر کے مابین فکر وعمل کی ترجیحات میں اختلاف پایا جا سکتا ہے اور کئی حوالوں سے مفادات کا تصادم بھی موجود ہو سکتا ہے، تاہم معاشرے کے مجموعی مفاد کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ مشترک اور بنیادی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے ان اختلافات کو باہمی تعلقات کا عنوان نہ بننے دیا جائے اور مجموعی معاشرتی نظم تنوع اور اختلاف کے تمام تر مظاہر کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کا عمل جاری رکھے۔ معاشرے کی تعمیر کے لیے مختلف سطحوں پر متنوع صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور افراد اور طبقات کی اجتماعی صلاحیتوں کو کسی مخصوص رخ پر یکسو کیے بغیر یہ تشکیل ممکن نہیں ہوتی۔ اگر لوگوں کی صلاحیتیں مجتمع نہ ہو یا ان کا استعمال مثبت اور تعمیری انداز میں نہ کیا جائے تو اس سے اجتماعی قوت تقسیم اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ دستیاب صلاحیتوں کے کند یا ضائع ہو جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔

تاریخ وتہذیب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ جو قومیں اپنے اجتماعی مزاج میں تنوع کی قبولیت کا مادہ جتنا زیادہ پیدا کر لیتی ہیں، وہ اتنی ہی وسعت کے ساتھ انسانی صلاحیتوں سے استفادہ کر پاتی ہیں اور سماج کے ارتقا پر زیادہ دیر پا اور گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ کے جس دور پر آج ہم علوم وفنون کی ترقی اور ایک علم دوست تہذیب کا دور ہونے کے حوالے سے ناز کرتے ہیں، اس میں بہت بنیادی کردار ان مسیحی علماء کا تھا جو یونانی زبان سے واقف تھے اور مسلمان حکومتوں کی سرپرستی میسر آنے پر انھوں نے یونانیوں کے علوم وفنون کو عربی زبان میں منتقل کیا جس پر بعد میں مسلمان علماء، اطباء اور سائنس دانوں نے اپنی گراں قدر تحقیقات کی بنیاد رکھی اور مسلم تہذیب کو اپنے دور کی متمدن ترین اور ترقی یافتہ تہذیب بنا دیا۔ ہمارے ہاں برصغیر میں جلال الدین اکبر کے دور حکومت میں تاریخ کا سفر اسی پہلو سے ایک نیا موڑ مڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ اکبر نے مسلمان حکمرانوں اور مقامی ہندو آبادی کے مابین ذہنی اور نفسیاتی فاصلے دور کیے اور حاکم ومحکوم کا تصور ختم کر کے اکثریتی آبادی کو حکومت واقتدار میں شریک کیا۔ اسی کے نتیجے میں ہندوستان کے ایک وسیع خطے میں امن وامان کا قیام ممکن ہوا اور عظیم مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی جا سکی۔ دور جدید میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جن مغربی اقوام کو اس وقت دنیا میں سیاسی ومعاشی بالادستی حاصل ہے، ان کی قوت کے منابع میں سے ایک بہت اہم منبع یہ ہے کہ انھوں نے مذہب ونسل کی تفریق کوختم کر کے ساری دنیا سے باصلاحیت انسانوں کو اپنے معاشروں میں جذب کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے اور ایسا ماحول فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے ہر نوع کا ٹیلنٹ مغربی معاشروں کی طرف کھنچتا چلا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں اگر ہم پاکستانی معاشرے پر غور کریں تو ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی واضح ہو جائے گا کہ یہ معاشرہ ہر ہر سطح پر انتشار،خلفشار اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہے اور پون صدی کے سفر کے بعد بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک بے پتوار کی کشتی کسی متعین سمت میں آگے بڑھنے کے بجائے ہوا کے ہچکولوں کے سہارے بے نام منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ اقتدار کے اعلیٰ ترین مراکز سے لے کر سماج کی نچلی ترین سطح تک تقسیم اور انتشار کی ایک گہری کیفیت قوم پر چھائی ہوئی ہے۔ ملک کی سیاست ومعیشت کی ترجیحات کے سوال پر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور منتخب اہل سیاست کے مابین شدید اور دیرینہ کشمکش پائی جاتی ہے۔ متحارب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کا وجود گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام اور اہل اقتدار کے مابین، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، حقیقی اعتماد کا رشتہ واضح طور پر مفقود ہے۔ معاشی وسائل تک رسائی کے اعتبار سے معاشرے میں ایک بے حد گہری طبقاتی تقسیم پائی جاتی ہے۔ فکری اعتبار سے کنزرویٹو اور لبرل طبقات اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق معاشرے کا رخ متعین کرنے کے لیے بر سر پیکا رہیں۔ مذہب کی بنیاد پر پائی جانے والی تقسیم کی صورت حال سب سے زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔ یہاں مسلم اکثریت اور غیر مسلم اقلیت کے مابین بد اعتمادی ایک بحرانی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ مسلم اکثریت مذہبی رجحانات کے لحاظ سے روایتی اور غیر روایتی میں منقسم ہے، جبکہ روایتی طبقہ بذات خود فرقہ وارانہ بنیاد پر چار پانچ بڑی تقسیمات کا عنوان ہے۔ عام معاشرتی سطح پر خاندانوں اور برادریوں کے باہمی تنازعات، جبکہ ملک کے بعض حصوں میں شدید نسلی اور لسانی منافرتیں اجتماعیت کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔ آبادی کا نصف حصہ یعنی خواتین بطور ایک طبقے کے اپنے معاشرتی کردار اور حقوق وفرائض کے نظام سے غیر مطمئن ہیں اور ان کی یہ حساسیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس ساری صورت حال میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے شعبے، جن سے کسی مثبت اور تعمیری کردار کی توقع کی جا سکتی تھی، الٹا خود اس تقسیم وانتشار کا حصہ ہیں اور ماحول میں پھیلے ہوئے تعصبات اور افتراقات ہی کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ معاشرے کے تمام با رسوخ طبقات اور ان کی قیادتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک وقوم کی اس کشتی کو، جس کے وہ خود بھی سوار ہیں، ڈوبنے سے بچانے کے لیے تدبر وفراست اور قربانی وایثار کی آخری حد تک جانے کا عزم ظاہر کریں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی طبقے کو سرے سے اپنی ذمہ داری کا احساس تک نہیں۔ ہر طبقہ صورت حال کے بگاڑ کا ذمہ دار سر تا سر اپنے حریف طبقات کو تصور کرتا ہے اور ہر طبقے میں اپنے بری الذمہ ہونے کا زعم اس قدر شدید ہے کہ وہ اپنے کردار کے کسی غلط سے غلط پہلو پر بھی تنقید سننے کا روادار نہیں۔ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز بلا استثنا تمام طبقات کے ذہنی رویے کا نمایاں ترین وصف اور تبادلہ الزامات سبھی طبقوں کا محبوب ترین شغف ہے۔ قوم کی گاڑی اگر چل رہی ہے تو کسی اجتماعی قومی جذبے کے تحت نہیں، بلکہ محض محدود اور وقتی مفادات کے اشتراک یا حالات کے دباو تحت چل رہی ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پورا سماج ہر ہر سطح پر عدم ہم آہنگی، عدم رواداری اور عدم برداشت کے مرض میں مبتلا ہے اور مرض کی شدت بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔

یہ وہ تناظر ہے جس میں بعض سنجیدہ اور فکر مند حضرات اس بٹی ہوئی قوم کے مختلف طبقات کو ’’مکالمہ‘‘ کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان اہل فکر کی دلچسپی اور توجہ کے دائرے مختلف اور متنوع ہیں اور فکری ترجیحات میں بھی اختلاف ہے۔ تاہم یہ فطری امر ہے اور اہل دانش کو اسے گوارا کرتے ہوئے باہمی مکالمہ کا ماحول پیدا کرنے کی ہر کوشش کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور حسب استطاعت اس میں حصہ بھی ڈالنا چاہیے۔ برادرم انعام رانا نے بھی اسی کار خیر کے لیے ’’مکالمہ‘‘ کے نام سے ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے جو اپنے عنوان سے ہی اپنے مقاصد کا پتہ دیتی ہے۔ امید ہے کہ یہ فورم بھی اپنے حصے کا دیا جلانے اور قوم کے فکر وشعور کو بیدار کرنے میں قابل قدر کردار ادا کر سکے گا۔ ان شاء اللہ

عمار خان ناصر
عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *