جرنیلی سڑک ۔۔ابنِ فاضل/قسط8

یوں تو راولپنڈی اوراس کے گردونواح کے علاقہ میں آبادی کے آثار پانچ ہزار سال سے بھی پرانے ہیں مگر راولپنڈی شہر اس جگہ پر پانچ سو سال قبل مسیح سے ہے۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ اس کا پرانا نام گجنی پور تھا ۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تاریخ دان بننا چنداں دشوار نہیں ہے، تھوڑا سا مطالعہ اور ڈھیر سارا گمان ملا کر جو جی میں آئے کہتے جاؤ، تاریخ دانی شروع ۔اسی لیے ہمیں ذاتی طور پر تاریخ دانوں سے زیادہ گرمی دانے حقیقت کے قریب لگتے ہیں ہمیشہ درست وقت پر نکلتے ہیں۔ بہرحال جب سب مان رہے ہیں تو ہمیں کیا پڑی ہے ۔لیکن اتنا ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس گجنی پور کا عامر خان سے کوئی تعلق نہیں ۔

تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ راولپنڈی شہر اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے بارہا  تباہ کیا گیا، کہ شمال سے آنے والے ہر حملہ آور کے راستہ میں پہلا قابلِ ذکر شہر یہی پڑتا تھا ۔ شاید وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ تازہ دم حملہ آور اپنے ناتجربہ کار فوجیوں کی تربیت کے طور انہیں اس شہر کو تباہ کرنے کا ہدف دیتے ۔ گویا راولپنڈی کی تاریخ ‘الزبتھ ٹیلر’ یا ملکہ ترنم کی ازدواجی زندگی سے مماثلت رکھتی ہے ۔ کئی بار اجڑی اور کئی بار بسائی گئی ۔ اُدھر ذرا غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شمال سے اس طرف کبھی کوئی خیر کی خبر نہیں آئی جب بھی آئے، کبھی آندھی، کبھی سیلاب اور کبھی حملہ آور ہی آئے۔ آجکل بھی منشیات اور ناجائز اسلحہ ہی آتا ہے ۔ رہی بات راولپنڈی شہر کے اجڑنے اور بسنے کی تو آجکل یہ کام نالہ لئی کے ذمہ ہے۔ اور مہربانوں نے بھی اس کی مدد اور سہولت کی خاطر عین اس کے وسط میں بستیاں بسا رکھی ہیں۔

اس شہر کو یہ نام راولپنڈی پندھرویں صدی کے اواخر میں دیا گیا۔ وجہ تسمیہ یہ رہی کہ راول جھیل کو کہتے ہیں اور پنڈی چھوٹی بستی کو ۔ یعنی جھیل کنارے چھوٹی بستی ۔ اب جبکہ یہ بستی بڑی ہوکرپاکستان کا چوتھا بڑا شہربن گیا ہے مگر پھر اس کے باسی اسے ‘راولپنڈا’ نہیں کہتے ۔ بس اسی بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ لوگ طبعاً کس قدر شریف ہیں۔ اور اسی دیرینہ شرافت کی وجہ سے شہر تباہ کروانا گوارا کر لیتے مگر بیرونی حملہ آوروں سے نہیں لڑتے تھے کہ لڑائی بھڑائی شرفا کا شیوہ نہیں ۔ ہاں آپس میں تھوڑا بہت لڑائی جھگڑا چلتا رہتا ہے ۔اسی لیے یار لوگوں نے بات بنا رکھی ہے کہ ہر پنڈی وال کی زندگی میں تین موڑ ضرور آتے ہیں، ایک ‘پیرودھائی موڑ’، دوسرا ‘پشاور موڑ’ اور تیسرا کاروبار میں جھگڑے کی صورت میں ‘ماڑے پیسے موڑ’ ۔

راولپنڈی کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر انگریز سرکار نے یہاں بہت بڑی فوجی چھاونی بنائی ۔ کہتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم  کے لیے خصوصی فوجی بھرتی میں راولپنڈی کی چھاؤنی اس وقت دنیا بھر میں موجود انگریز سرکار کی چھاؤنیوں میں پہلے نمبر پر آئی جس کے بعد اس کو مزید توجہ اور فنڈز دیے گئے اور برصغیر کی تقسیم کے وقت یہ متحدہ ہندوستان کی سب سےبڑی چھاونی تھی۔ جسے بعد میں پاکستان آرمی کا ہیڈ کوارٹر بنا دیا گیا باوجود اس کے کہ اس وقت دارالخلافہ کراچی تھا ۔ جب بعد میں دارالخلافہ اسلام آباد منتقل کیا گیا تو جی ایچ کیو کا راولپنڈی میں ہونا اور بھی منطقی ہو گیا ۔ کہ ایک دوسرے کا دھیان رکھنا اور بھی سہل ہو گیا ۔

یوں تو راولپنڈی میں آئل ریفائنری اور گیس صاف کرنے کا کارخانه بھی ہے، اور کچھ لوہے، کپڑے، دوائیں ،چمڑے اور لکڑی کے کارخانہ جات بھی ہیں، لیکن پھر بھی آپ اسے کسی بھی اعتبار سے لاہور یا گوجرانوالہ کی طرح صنعتی شہر نہیں کہہ سکتے ۔ کیونکہ آبادی کے تناسب سے صنعتوں کی تعداد خاصی کم ہے ۔ زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش کاروبار یا ملازمت ہے۔ اس شہر کو ایک طرح سے پاکستان کے خوبصورت اور بےمثل شمالی علاقہ جات کے دروازہ کی حیثیت حاصل ہے۔ پورے ملک کے سیاحوں کو طلسماتی مری وگلیات سے لے کر  ہوش کش ناران کاغان، سیف الملوک تک، آزاد کشمیر جنت نظیرمیں باغ سے شاردا روات اور کیل تک ، آٹھواں عجوبہ قراقرم ہائی وے چین کے بارڈر تک بشمول گلگت ،سحر انگیز سکردو، دیو مالائی دیوسائی، خوبصورت ترین ہنزہ، شندور وغیرہ تک، اسی طرح وادی قابلِ دید سوات ،بحرین، کالام سے زمرد مہوڈنڈ جھیل تک اور فرحت بخش دیر، لواری ٹاپ سے پرامن چترال، بمبوریت اور گرم چشمہ تک ،راولپنڈی سے گذر کر ہی جانا ہوتا ہے،

لہذا یہاں ہوٹلنگ کی صنعت یقینی طور پر پورے ملک سے زیادہ فعال منظم اور منافع بخش ہے ۔ بلکہ اب تو کچھ امن و امان کی مخدوش صورتحال اور دہشتگردی کی وجہ سے اس میں بہت حد تک کمی آچکی ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے نوے کی دہائی میں تو بطور خاص گرمیوں کے دنوں میں کسی مناسب ہوٹل میں کمرہ حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کرنا پڑتی تھی ۔ اسی طرح غیر ملکی سیاحوں کی آمد تو اب تقریباً مفقود ہو چکی ورنہ اُس وقت تو ساری دنیا کے سیاحوں کی آمد اسقدر زیادہ تھی کہ پہاڑی علاقوں کے ہر شہر میں ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہوتے تھے ۔ جو یہاں سے واپسی پر کوہ پیمائی اور کوہ نوردی کا جدید سامان جیسے خیمے، سلیپنگ بیگ، ربرشیٹس، روک سیک اور دیگر اشیاء سستے داموں فروخت کر دیا کرتے تھے ۔ ان اشیاء کی متعدد دوکانیں صدر میں پرانے جی ٹی ایس کے اڈے کے ارد گرد ہوا کرتی تھیں جہاں سے ہم اپنی ضرورت کا سامان سستے داموں خرید کر اپنی کوہ پیمائی ونوردی کی پیاس بجھایا کرتے تھے ۔ اب پتہ نہیں یہ دوکانیں وہاں موجود ہیں یا
؂ جو بیچتے تھے دواءِ درد دل وہ دکان اپنی بڑھا چکے

کوہ نوردی بہت ہی دلچسپ اور صحت مند مشغلہ ہے ۔ ہم نوجوانوں کو دعوت دیں گے کہ وہ اسے ضرور اپنائیں اس سے بیک وقت صحت، منصوبہ بندی ،اعتماد ،بےخوفی اور ایک ساتھ کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ۔اور ساتھ ہی دعا ہے کہ اللہ کریم ہمارے ملک کو پھر سے امن کا گہوارہ بنا دے تاکہ یہاں بیرونی سیاحوں کی پھر وہی ریل پیل ہو جو ہم نے عہد شباب میں دیکھ رکھی ہے ۔

جاری ہے!

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *