• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حنفی فقہاء کے ہاں اخبار آحاد کی قبولیت کا دائرہ۔عمار خان ناصر

حنفی فقہاء کے ہاں اخبار آحاد کی قبولیت کا دائرہ۔عمار خان ناصر

(’’فقہائے احناف اور فہم حدیث۔ اصولی مباحث’’ کی ایک فصل)

فقہائے احناف کے نزدیک اخبار آحاد، احکام دین کو جاننے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، چنانچہ وہ مخصوص شرائط پر پورا اترنے والی اخبار آحاد کو حجت مان کر ا ن پر عمل کو واجب قرار دیتے ہیں۔ خبر واحد کی حجیت کے حق میں احناف بنیادی مقدمے کے طور پر اس حقیقت واقعہ کو پیش کرتے ہیں کہ اخبار آحاد میں بہت سے ایسے امور دین بیان ہوئے ہیں جن کو جاننے کی حاجت نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے مخاطبین کو تھی، بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسان ان کو جاننے کے محتاج ہیں۔ چونکہ اخبار آحاد کے سوا ان امور دینیہ کی معرفت کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہیں، اس لیے انھیں لازماً قبول کرنا پڑے گا۔

اس بنیادی موقف کے ساتھ ساتھ احناف، اخبار آحاد میں ضعف کے بعض پہلوؤں کو بھی پوری طرح نظر میں رکھتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اخبار آحاد بہرحال ظن اور شبہ سے پاک نہیں ہوتیں اور ان سے حاصل ہونے والا علم ہرحال میں ظنی ہوتا ہے۔ راویوں کے حالات اور دوسرے قرائن کی روشنی میں کسی خبر کے صدق پر اطمینان قلب تو حاصل ہو سکتا ہے، لیکن علم یقین نہیں۔ اسی طرح ان سے واقفیت کا دائرہ چند لوگوں تک محدود ہوتا ہے اور انھیں عمومی شہرت حاصل نہیں ہوتی۔

اس پہلو کے پیش نظر احناف اس بات کو بطور اصول ملحوظ رکھتے ہیں کہ اخبار آحاد کی قبولیت اور حجیت احکام دین کے ایک خاص دائرہ میں محصور ہے اور ان سے دین کا کوئی بنیادی اور اصولی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ احکام وہی ہوں گے جن کا تعلق دین کے فروع اور جزئیات سے ہو اور جن کا جاننا یا ان پر عمل کرنا ساری امت پر لازم نہ ہو۔ اس اصول کے حق میں احناف کا عقلی استدلال یہ ہے کہ اگر دین کا کوئی حکم ایسا تھا جس کا جاننا اور جس کی پابندی کرنا لوگوں پر عمومی طور پر واجب تھا تو پھر یہ ضروری تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم کا ابلاغ بھی اسی درجے میں، پورے اہتمام کے ساتھ کرتے اور آپ کے بعد آپ کی امت اسے اسی طرح شہرت واستفاضہ کے ساتھ نقل کرتی۔

امام ابوبکر الجصاص اس ضمن میں فقہائے احناف کے نقطہ نظر کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ہمارے علما نے کہا ہے کہ شریعت کے جن احکام کو جاننے کی سب لوگوں کو ضرورت ہو، ان کے ثبوت کا معیار یہ ہے کہ وہ شہرت کے ساتھ اور ایسے ذریعے سے منقول ہوں جو موجب یقین ہو۔ اس طرح کے احکام کو اخبار آحاد سے ثابت کرنا درست نہیں۔ علما نے کہا ہے کہ جب اس طرح کے امور سے تمام لوگوں کو سابقہ پیش آتا ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق کوئی حکم دیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عمومی تبلیغ نہ کریں اور سب لوگوں کو اس حکم سے روشناس کرانے کا اہتمام نہ کریں۔ اور اگر سب لوگ اس حکم سے واقف ہو گئے ہوں تو پھر یہ ممکن نہیں کہ وہ اسے نقل نہ کریں اور اسے نقل کرنے کا کام چند ایک افراد کے سپرد کردیں، کیونکہ لوگ اسے نقل کرنے کے پابند ہیں اور جو بات ان تک پہنچی ہے، وہی (اسے اگلے لوگوں تک پہنچا کر ان پر) حجت بننے کا ذریعہ ہیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس حجت کو (نظر انداز کر کے) ضائع کر دیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ (جب ایسا کوئی حکم تواتر سے نقل نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جیسے امور سے متعلق سرے سے کوئی شرعی حکم بیان ہی نہیں فرمایا۔’’ (۱)

سرخسیؒ نے اسی نکتے کو یوں بیان کیا ہے:

”ایسی صورت کا حکم بیان کرنے کے لیے جو عام الوقوع ہے اور جس کو جاننے کی ہر خاص وعام کو ضرورت ہے، اگر خبر واحد وارد ہو تو وہ ناقابل اعتبار ہوگی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری تھی کہ جن باتوں کے جاننے کی لوگوں کو احتیاج ہے، وہ ان کے سامنے بیان کریں اور آپ نے لوگوں کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ آپ کے ارشادات کو بعد میں آنے والوں تک پہنچائیں۔ چنانچہ اگر کوئی صورت عام الوقوع ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعلیم بھی سب لوگوں کو دی ہوگی اور لوگوں نے بھی اس کو شہرت واستفاضہ کے ساتھ نقل کیا ہوگا۔  اب اگر ایسے کسی مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت بطریق شہرت مروی نہیں تو ہم سمجھ لیں گے کہ یا تو وہ راوی کی بھول ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔ دیکھتے نہیں کہ اسی روایت کو جب بعد کے لوگ نقل کرتے ہیں تو وہ ان میں مشہور ہو جاتی ہے۔ سو اگر پہلے لوگوں میں بھی وہ ثابت ہوتی تو ان میں بھی اسی طرح مشہور ہوتی اور ایسا نہ ہوتا کہ اس کو اکا دکا راوی نقل کر تے حالانکہ سب لوگ اس کو جاننے کے محتاج تھے۔’’ (۲)

ابن رشدؒ فقہائے احناف کے اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”امام ابو حنیفہؒ کے ہاں اصول یہ ہے کہ عام الوقوع امور سے متعلق اخبار آحاد اگر شہرت کے ساتھ مروی نہ ہوں اور نہ ان پر عمل ہی جاری ہو، تو ان کو رد کر دینا چاہیے، کیونکہ اگر بات تو ایسی ہو کہ اس کو نقل کرنے والے بہت سے ہونے چاہئیں لیکن خبر مشہور اور معروف نہ ہو تو یہ ایک ایسا قرینہ ہے جو خبر میں ضعف پیدا کرتا اور اس کے بارے میں سچائی کا گمان پیدا کرنے کے بجائے اسے مشکوک کرتا اور اس کے جھوٹا یا منسوخ ہونے کا گمان پیدا کرتا ہے۔’’ (۳)

عموم بلویٰ کے دائرے میں اخبار آحاد کی بنیاد پر کوئی شرعی حکم متعین نہ کرنے کے اس اصول سے محدثین اور فقہا نے بھی اصولاً اتفاق کیا ہے۔ مثال کے طور پر امام شافعیؒ میت کو قبر میں داخل کرنے کے طریقے پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”مردوں کے معاملات اور انھیں قبر میں داخل کرنے کا طریقہ، ہمارے ہاں معروف ومشہور امور میں سے ہے، کیونکہ اموات کثرت سے ہوتی ہیں اور اس موقع پر ائمہ اور ثقہ لوگ موجود ہوتے ہیں۔ یہ ان عام الوقوع امور میں سے ہے جن میں حدیث (یعنی خبر واحد) کی کوئی ضرورت ہی نہیں پڑتی، بلکہ اس طرح کے معاملات میں حدیث وارد ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ لوگ عمومی طور پر اس سے واقف ہونے کے پابند ہوں (جو ممکن نہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین اور انصار یہیں ہمارے درمیان رہے (اور مردوں کی تدفین کرتے رہے)۔ لوگ بغیر کسی اختلاف کے نسلاً بعد نسل یہ نقل کرتے آ رہے ہیں کہ مردے کو (پائنتی کی طرف سے) کھینچ کر قبر میں داخل کیا جاتا ہے۔ پھر (تعجب ہے کہ) اس کے بعد کسی دوسرے شہر سے کوئی آنے والا آیا اور ہمیں بتانے لگا کہ ہمیں مردے کو کیسے قبر میں داخل کرنا چاہیے۔’’ (۴)

امام ابن القیم اس اصول کی توضیح میں لکھتے ہیں:

”یہ بات بداہةً معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول اگر ہر صبح قنوت پڑھنے اور اس میں یہ دعا کرنے اور صحابہ کا اس پر آمین کہنے کا ہوتا تو اس بات کو بھی ساری امت اسی طرح نقل کرتی جیسے اس نے آپ کا نماز میں جہراً قراءت کرنا اور نمازوں کی تعداد اور ان کے اوقات نقل کیے ہیں۔ اگر یہ مانا جائے کہ لوگوں نے قنوت کے معاملے کو نقل کرنے میں بے احتیاطی کی تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ انھوںنے مذکورہ باتوں کو نقل کرنے میں بے احتیاطی کی ہو۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اسی دلیل سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ ممکن نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمیشہ اور تسلسل سے ہر روز پانچوں نمازوں میں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنے کا ہو اور پھر امت کی اکثریت اس بات کو ضائع کر دے اور یہ بات اس سے پوشیدہ رہے۔ یہ تو ایک محال ترین بات ہے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ بھی اسی طرح نقل ہوا ہوتا جیسے نمازوں کی تعداد، رکعات کی تعداد، جہری اور سری نمازوں، سجدوں کی تعداد اور نماز کے ارکان کی ترتیب نقل ہوئی ہے۔’’ (۵)

شاہ ولی اللہؒ لکھتے ہیں:

”یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مسائل میں اپنے بندوں کے لیے اس سے زائد کوئی طریقہ مقرر کیا ہو جس سے لوگ اپنے عام تمدنی حالات میں لازماً واقف ہوتے ہیں اور معاملہ ایسا ہو کہ کثرت سے پیش آتا ہے اور عام طور پر لوگوں کو اس سے واسطہ پڑتا ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو صاف اور واضح الفاظ میں بیان نہ کریں اور نہ وہ بات صحابہ اور بعد کی نسلوں میں عام اور مشہور ہو سکے۔’’ (۶)

اس اصول پر فقہائے احناف نے جن روایات کو قبول نہیں کیا، ان میں سے کچھ نمایاں مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔

۱۔ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من مس ذکرہ فلیتوضا(۷)

”جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔“

صدرِ اول میں جب یہ مسئلہ فقہا کے مابین زیر بحث آیا تو بنیادی ماخذ کی حیثیت سے بسرہ بنت صفوان کی روایت ہی ان کے پیش نظر تھی۔ فقہائے احناف نے اس روایت کو قبول نہیں کیا، کیونکہ یہ ایک ایسے مسئلے سے متعلق ہے جس کا تعلق عموم بلویٰ سے ہے، جبکہ مذکورہ حدیث شہرت اور استفاضہ کے بجائے خبر واحد کے طریقے پر نقل ہوئی ہے اور وہ بھی ایک خاتون صحابیہ سے جو احادیث کی نقل وروایت کے حوالے سے زیادہ معروف نہیں۔ مزید برآں اسی مسئلے سے متعلق ایک دوسری صحیح حدیث کے علاوہ فقہائے صحابہ کے عمل سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ شرم گاہ کا چھونا وضو کے لیے ناقض نہیں۔ امام محمد لکھتے ہیں:

”جس امر میں ہمارے نزدیک کوئی اختلاف نہیں، وہ یہ ہے کہ علی بن ابی طالب، عبد اللہ بن مسعود، عمار بن یاسر، حذیفہ بن یمان اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم شرم گاہ کو چھونے کی وجہ سے وضو کے ٹوٹنے کے قائل نہیں تھے۔ سو ان کے مقابلے میں بسرہ بنت صفوان کی کیا حیثیت ہے؟’’ (۸)

مزید لکھتے ہیں:

”تم ان سب کی بات کو اور اس پر ان کے اتفاق کو بسرہ بنت صفوان کی حدیث کی وجہ سے کیسے چھوڑ سکتے ہو جو ایک خاتون ہے اور اس کے ساتھ کوئی مرد (اس روایت کو نقل کرنے میں) شریک نہیں! عورتیں تو ویسے بھی روایت میں ضعیف ہوتی ہیں۔ چنانچہ ہم بسرہ بنت صفوان کی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب کے مقابلے میں قبول نہیں کر سکتے جو اس کے خلاف بات کہتے ہیں۔’’ (۹)

بسرہ بنت صفوان کی روایت پر اسی نوعیت کا تبصرہ امام مالک کے استاذ ربیعة الرائے نے بھی کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

”تمھارا ناس ہو! کیا اس طرح کی بات کو بھی کوئی قبول کر سکتا ہے اور کیا ہم بسرہ کی حدیث پر عمل کریں؟ بخدا، اگر بسرہ اس جوتے کے متعلق گواہی دے تو میں اس کی گواہی قبول نہیں کروں گا۔ دین کا تو مدار نماز پر ہے اور نماز کا مدار وضو پر۔ تو کیا بسرہ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں کوئی شخص نہیں تھا جو اس دین کو درست رکھ سکے؟’’ (۱۰)

۲۔ عبد اللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا کان الماءقلتین فانہ لا ینجس(۱۱)

”اگر پانی کی مقدار دو مٹکے ہو تو وہ نجاست پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔ “

احناف کا موقف یہ ہے کہ دو گھڑوں کی مقدار کو کم یا زیادہ پانی کے مابین حد فاصل قرار دینے والی یہ روایت خبر واحد ہے جسے ایک ایسے مسئلے میں جو لوگوں کو عام زندگی میں کثرت سے پیش آتا ہے، کسی شرعی حکم کا ماخذ نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ کسی ایسی صورت حال سے متعلق حکم کو بیان کرنے کے لیے جس سے لوگوں کو روز مرہ سابقہ پیش آتا ہے، شارع کی طرف سے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا کہ اس کی عمومی تبلیغ وتشہیر کے بجائے بس کسی خاص موقع پر اسے بیان کرنے پر اکتفا کر لی جائے اور لوگ عمومی طور پر اس سے واقف ہی نہ ہوں۔ جبکہ ذخیرئہ حدیث کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ایک سوال کے جواب میں کہی جانے والی اس بات کے عام ابلاغ کی کوئی کوشش نہیں کی اور صحابہ میں سے بھی بنیادی طور پر عبد اللہ بن عمرؓ نے ہی اس روایت کو نقل کیا ہے۔

علامہ ابن القیم نے اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے احناف کے نقطہ نظر کے مختلف پہلووں کو بہت خوبی سے واضح کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

”جہاں تک اس حدیث کے شاذ ہونے کا تعلق ہے تو دیکھیے، یہ حدیث حلال وحرام اور پاک وناپاک کے درمیان فرق کا ضابطہ بیان کرتی ہے۔ پانی سے متعلق اس کی حیثیت وہی ہے جو زکوٰة سے متعلق نصابِ زکوٰة بیان کرنے والی حدیث کی ہے۔ سو یہ صحابہ کے مابین اس طرح مشہور اور شائع کیوں نہ ہوئی کہ اسے نسلاً بعد نسل نقل کیا جاتا، جبکہ امت کو اس حدیث کا علم ہونا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے جتنا زکوٰة کے نصابات کو جاننا ضروری ہے، کیونکہ زکوٰة تو اکثر لوگوں پر فرض نہیں ہوتی، جبکہ پاک پانی کے ساتھ وضو کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ چنانچہ لازم تھا کہ یہ حدیث اسی طرح نقل کی جاتی ہے جیسے پیشاب کے ناپاک ہونے اور اسے دھونے کا حکم اور رکعات کی تعداد اور اس جیسے دوسرے احکام منقول ہیں۔ ادھر یہ بات معلوم ہے کہ

اس حدیث کو صرف ابن عمر نے روایت کیا ہے اور ان سے نقل کرنے والے صرف عبید اللہ اور عبد اللہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نافع، سالم، ایوب، سعید بن جبیر اور اہل مدینہ اور ان کے علماءاس حدیث کو کیوں نقل نہیں کرتے جبکہ وہ انھی کے ہاں سے نکلی ہے اور پانی کے کم یاب ہونے کی وجہ سے انھیں اس حدیث کی سب سے زیادہ ضرورت تھی؟ یہ بات بہت بعید ہے کہ یہ حدیث ابن عمر کے پاس ہو، لیکن ان کے شاگردوں میں سے اہل علم اور ان کے شہر کے لوگوں سے مخفی رہے اور ان میں سے کوئی بھی شخص نہ اس کا قائل ہو اور نہ وہ اسے روایت کرتے اور ایک دوسرے کو اس کی اطلاع دیتے ہوں۔ جو شخص انصاف سے کام لے گا، اس پر مخفی نہیں رہے گا کہ ایسا ہونا، ناممکن ہے۔ اگر اس قدر غیر معمولی اہمیت کی حامل حدیث ابن عمر کے پاس ہوتی تو ان کے شاگرد اور اہل مدینہ سب سے بڑھ کر اس کے قائل ہوتے اور اسے روایت کرتے۔ سو اس سے بڑھ کر شذوذ آخر کیا ہو سکتا ہے؟ پس جب ابن عمر کے اصحاب میں سے کوئی بھی اس تحدید کا قائل نہیں تو معلوم ہو گیا کہ ان کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی کوئی حدیث تھی ہی نہیں۔ یہ ہے اس حدیث کے شاذ ہونے کی تفصیل۔’’ (۱۲)

۳۔ کتب حدیث میں ایک سے زیادہ صحابہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ:

لا وضوءلمن لم یذکر اسم اللہ علیہ(۱۳)

”جو شخص وضو سے پہلے اللہ کا نام نہ لے، اس کا وضو نہیں ہوتا۔“

امام ابوبکر الجصاص اس روایت پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”کسی نے بھی بسم اللہ کے وضو میں فر ض ہونے کا ذکر نہیں کیا اور نہ یہ کہا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ اگر بسم اللہ پڑھنا فرض ہوتا تو لوگ اس کاذکر کرتے اور وہ بھی اسی طرح تواتر کے ساتھ نقل ہوتا جیسے وضو کے سارے اعضا کی طہارت کا حکم نقل ہوا ہے، کیونکہ یہ بات جاننا تو سب کے لیے ضروری ہے۔ اگر اس پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا جائے تو ہم کہیں گے کہ قرآن کے حکم میں اضافہ ایسی دلیل کے بغیر جائز نہیں جس سے قرآن کے حکم کو منسوخ کیا جا سکے۔ مزید برآں جو معاملات عموم بلویٰ سے متعلق ہوں، ان میں اخبار آحاد قبول نہیں کی جاتیں۔’’ (۱۴)

۴۔ متعدد روایات میں ذکر ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھا کرتے تھے۔(۱۵)

احناف نے اس روایت کو قبول نہیں کیا۔ جصاص لکھتے ہیں:

”دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنا ثابت ہوتا تو یہ بات اسی طرح تواتر اور شہرت کے ساتھ نقل ہوتی جیسے جہری قراءت سے متعلق باقی چیزیں ہوئی ہیں۔ جب یہ بات ازروئے تواتر نقل نہیں ہوئی تو ہم نے جان لیا کہ یہ سرے سے ثابت ہی نہیں، کیونکہ جس طرح ساری سورئہ فاتحہ کو جہراً پڑھنے کا علم (سب کے لیے) ضروری ہے، اسی طرح بسم اللہ کو جہراً پڑھنے کا علم بھی سب کو ہونا چاہیے۔’’ (۱۶)

۵۔ بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اپنے پاوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔(۱۷)

جصاص لکھتے ہیں:

”اس معاملے میں اخبار آحاد کو قبول کرنا دو وجوہ سے درست نہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ قرآن کے حکم کے خلاف ہیں جس میں پاوں کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور دوسری یہ کہ اس طرح کے امور میں اخبار آحاد کو قبول کرنا جائز نہیں، کیونکہ ان کا جاننا سب کے لیے ضروری ہے۔’’ (۱۸)

سرخسیؒ نے درجِ ذیل روایات کو بھی اسی ضمن میں بطور مثال پیش کیا ہے:

– وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

– وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جنازہ کی چارپائی اٹھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

– وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کیا کرتے تھے۔(۱۹)

احناف نے ان تمام روایات کو قبول نہیں کیا، کیونکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ عموم بلویٰ کے معاملات ہیں، جبکہ ان سے متعلق مذکورہ احکام کا بیان اخبا ر آحاد میں ہوا ہے جو اس طرح کے امور میں حکم شرعی کا ماخذ نہیں بن سکتیں۔(۲۰)

 

(۱) ”احکام القرآن’’، ۱/۲۰۲، ۲۰۳

(۲) ”اصول السرخسی’’، ۱/۳۷۸

(۳) ”بدایۃ المجتہد’’، ۱/۱۷۴

(۴) ”الام’’، ۱/۳۰۰، ۳۰۱۔

(۵) ”زاد المعاد فی ہدی خیر العباد’’، ص ۹۵، ۹۶

(۶) ”حجۃ اللہ البالغہ’’، ۱/۵۲۴

(۷) ترمذی، کتاب الطہارة، باب الوضوءمن مس الذکر، رقم ۸۲۔ ابو داود، کتاب الطہارة، باب الوضو ءمن مس الذکر، رقم ۱۸۱

(۸) ”الحجۃ علیٰ اہل المدینۃ’’ ۱/۶۰

(۹) نفس المصدر ۱/۶۴، ۶۵

(۱۰) ”شرح معانی الآثار’’ ۱/۹۲

(۱۱) ابوداود، کتاب الطہارة، باب ما ینجس الماء، رقم ۶۵

(۱۲) ”تہذیب السنن’’، ص ۱۶۶، ۱۶۷

(۱۳) ابو داود، کتاب الطہارة، باب فی التسمیۃ علی الوضوء، رقم ۱۰۱

(۱۴) ”احکام القرآن’’ ۲/۳۵۸

(۱۵) صحیح ابن خزیمہ، کتاب الصلوٰة، باب ذکر الدلیل علی ان الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم والمخافتۃ بہ جمیعا مباح، رقم ۴۹۹۔ سنن الدارقطنی، کتاب الصلاة، باب وجوب قراءة بسم اللہ الرحمن الرحیم فی الصلوٰة والجہر بہا، رقم ۱۱۴۲-۱۱۷۵

(۱۶) ”احکام القرآن’’ ۱/۱۷

(۱۷) ابو داود، کتاب الطہارة، باب المسح علی الجوربین، رقم ۱۵۹

(۱۸) ”احکام القرآن’’ ۲/۳۴۶

(۱۹) جصاص، ’’الفصول فی الاصول’’ ۳/۱۱۵۔ ’’اصول السرخسی’’ ۱/۳۷۸

(۲۰) جلیل القدر محدث خطیب بغدادیؒ نے اس اصول کی وضاحت یوں کی ہے:

”چوتھا اصول یہ ہے کہ صرف ایک آدمی ایسی بات نقل کرے جس کا جاننا تمام لوگوں پر واجب ہو۔ یہ چیز اس خبر کے بے اصل ہونے کی دلیل ہوگی، کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی کوئی اصل ہو اور سارے لوگوں میں سے صرف ایک شخص تنہا اس کا علم رکھتا ہو۔’’ (الفقیہ والمتفقہ، ۱/ ۱۳۳)

 

عمار خان ناصر
عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *