بھگوان کے بھروسے ۔۔۔

مانجھی فلم دیکھی ہے آپ نے؟ یہ بھارت کے ایک پسماندہ پہاڑی گاوں ‘گہلور’کے باسی کی کہانی ہے۔ محبوبہ بیوی حادثہ کا شکار ہوئی تو مانجھی ہسپتال نہ لے جاسکا کہ ہسپتال شہر میں تھا اور بیچ میں پہاڑ حائل تھا۔۔بیوی مر گئی۔ مانجھی نے لیکن طے کیا کہ پہاڑ توڑ کر راستہ نکالے گا۔ بایئس سال ، جی ہاں پورے بائیس سال، وہ دن رات لگا رہا اور پہاڑ کو زیر کرکے ہی دم لیا۔ آپ نے فلم نہیں دیکھی تو اب دیکھ لیں۔ پوری کہانی ہی دلچسپ ہے لیکن فلم کی جان ایک ڈائیلاگ ہےجس میں مانجھی کہتا ہے بھگوان کے بھروسے نا رہیے گا، کیا پتہ بھگوان ہمارے بھروسے بیٹھا ہو۔
ہم میں سے کون ہے جو اپنے گردو پیش میں غربت، اور پسماندگی دیکھ کر نہیں کڑھتا۔ کون ہے جو سڑک کنارے کچرے کے ڈھیر کو برا نہیں سمجھتا۔ کون ہے جو دھویں اور آ لودگی سے پریشان نہیں۔بیماری، کرپشن، گندا پانی، ابلتے گٹر۔ مسئلوں کی بہتات ہے۔ لیکن حل کیا ہے؟ایک مجرب اور آزمودہ علاج تو یہ ہے کہ صبح و شام پابندی کے ساتھ حکمرانوں اور سسٹم پر لعنت بھیجی جائے۔ سو وہ جاری ہے۔ نجی محفلوں سے لے کر ٹاک شوز تک۔ دل اور ضمیر دونوں کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حکمرانوں کے باب میں ہم بد قسمت واقع ہوئےہیں کہ یہ ملک ان کے لئے چراہ گاہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
لیکن آقا کریمﷺ کا توارشاد ہے کہ تم میں ہر ایک راعی ہے اور اپنی رعیت کے لئے جواب دہ ۔ اگر میرے گھر میں صفائی ستھرائی کرنے والی ملازمہ کی بیٹی بھی وہی کچھ کرنے پر مجبور ہو تو یہ کس کی نا کامی ہے۔اپنی دکان کے آگے فٹ پاتھ پر قبضہ کرلیا جائے تو حکمرانوں کو کیا دوش۔ ہر سال لاکھوں روپے قربانی پر خرچ دیے جائیں اور آلائش اٹھانے کے لئے پانچ سو بھی نا نکال سکیں تو ؟؟
قطرہ قطرہ قلزم بنتا ہے۔ ہم بس اپنا حصہ ڈالتے چلیں ۔ جہالت سے خائف ہیں تو کسی نادار کی تعلیم کا خرچ اٹھائیں ۔ کسی بے روزگار کو مچھلی پکڑنا سکھائیں۔ گھر کے باہر ایک درخت ہی اگائیں۔ کتنے ہی مانجھی ہیں جو تنہا اپنے اپنے پہاڑ کاٹ رہے ہیں ، ان کے دست و بازو بنیں۔ دامے ،درمے ،سخنے ۔
تقدیر کے فیصلے رب العزت کے ہاتھ میں ہیں لیکن اپنے حصہ کا کام ہمیں ہی کرنا ہوگا ۔ ہم بدلیں گے تبھی حالات بدلیں گے۔
بھگوان کے بھروسے بیٹھے رہے تو کچھ نہیں ہونے والا۔۔

عبید شیخ
تعلیم انجنئیرنگ، پیشہ درزی ۔ باقی پھر سہی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *