پیر تسمہ پا اور شہر نا پُرسان کی پرجا۔عامر کاکازئی

داستانِ امیر حمزہ کو اردو ادبِ میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ اس داستان کو کئی داستان سازوں نے اپنے اپنے انداز میں تحریر کیا۔ یہ داستان فارسی ادب سے اردو ادب میں منتقل ہوئی لیکن اسے اردو میں کہیں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ نواب مرزا امان اللہ خان غالب لکھنوی کی تحریر کردہ داستانِ امیر حمزہ پہلی بار 1855ء میں شائع ہوئی۔ بعد میں محمد حسین جاہ اور احمد حسین قمر نے اسے 1887 سے 1897 تک مکمل کیا۔ داستان امیر حمزہ ایک بہادر شخص حمزہ بن ازرک اور اس کے دوست عمرو عیار کی فرضی داستان ہے۔

اس داستان میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک بار ایک مہم کے دوران امیر حمزہ کے لشکر نے اسبابٍ خوردونوش ختم ہونے پر ایک ویران جزیرے پر قیام کیا تھا۔ عمرو عیار جو کہ اس داستان کا ایک اہم کردار ہے، اس کی ملاقات پیرتسمہ پا سے ہوتی ہے۔ پیرٍ تسمہ پا اصل میں ایک مکار بوڑھا جن تھا، جو کہ اس جزیرے میں ایک جگہ پر معذور بن کر پڑا رہتا تھا۔ وہ عمرو عیار کو کہتا ہے کہ اگر وہ اس کی مدد کرے گا اور اسے جنگل سے باہر لے کر جاۓ گا تو وہ اس کو سونے کا پتہ بتادے گا اور ان کو تمام مشکلات سے نجات دلوا دے گا۔ عمرو عیار اسے اپنے کاندھوں پر بیٹھا لیتا ہے، جونہی  پیر تسمہ پا اس کے کندھے پر سوار ہوتا ہے وہ نہایت پھرتی سے اس کی گردن کے گرد اپنی ٹانگیں تسمے کی طرح لپیٹ لیتا ہے۔ اور پھر اسے سارے جزیرے میں دوڑاتا ہے اور اپنے کام کرواتا ہے۔ جب عمروعیار دوسرے لشکریوں سے ملتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ہر لشکری کے کندھوں پر ایک پیر تسمہ پا سوار ہے، حتئ کہ ان کے ملک کے امیر حمزہ کے کندھوں پر بھی ایک پیر تسمہ پا سوار تھا۔ عمرو عیار اور تمام لشکریوں نے کیسے اس مصبیت سے نجات حاصل کی، یہ ایک الگ داستان ہے۔ مگر ہم اب ذکر کریں گے اس پیر تسمہ پا کا جو ستر سال سے ایک بھومی “شہر ناپرسان” کی پرجا کے کندھوں پر سوار ہے۔

پرتھوی کے طلسم ہوشربا میں ایک بھومی کا نام شهر نا پرسان تھا۔ اس کے بنتے ہی ایک پیر تسمہ پا نے اس نئے بھومی کی پرجا کے کندھوں پر سوار ہو گیا۔ اس نے بھی سنہرے خواب دکھاۓ، ایک نامعلوم دشمن کا ہوا کھڑا کیا اور ڈرانا شروع کر دیا کہ اگر مجھے کندھوں پر سے اتارا تو یہ دشمن تمھیں کھا جاۓ گا۔ ہوائی  دشمن سے تو یہ نہ لڑ سکا مگر اپنی ہی سواریوں کو مارنا شروع کر دیا۔ جو بھی شہر نا پرسان کے باسیوں کو اس پیر تسمہ پا سے نجات دلوانے کی کوشش کرتا اسے کبھی غدار کہہ کر، کبھی کافر کہہ کر اور کبھی دشمن کا ایجنٹ کہہ  کر مروا دیتا۔

پورے بھومی پر قبضہ کرنے کے لیے پیر تسمہ پا نے ایک تعلقہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ اس تعلقہ کے مکینوں کو یقین دلوایا کہ اس بھومی کے سچے ہمدرد اور وفادار صرف ان کے تعلقہ کے مکین ہیں۔ ان کی زبان، ثقافت، لباس اور رہن سہن تک کو بدل ڈالا۔ یہ معلوم ہوتے ہوئے  بھی کہ وہ ان کا بھی وفادار نہیں ہے، تب بھی وہ اپنا سب کچھ بھول کر پیر تسمہ پا کے پیچھے pied piper کے چوہوں کی طرح چلنے لگے۔ اپنے رب کو بھول کر پیر تسمہ پا کو اپنا معبود مان لیا۔ اور اس کی پوجا شروع کر دی۔ اپنے ہی چھوٹے بھائیوں سے نفرت کرنے لگے۔ جو بھی بھائی ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا، وہ ان کو غدار لگتا۔ اب باری تھی پورے بھوم پر قبضہ مستحکم کرنے کی۔ اس کے لیے انہوں نے ایک چال چلی اور اس بھوم کے ناخواندہ پجاریوں کو پیسوں اور اقتدار کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ پیر تسمہ پا اور اس کے پجاری بظاہر توحید پرست تھے مگر اندر سے وہ آزر پرست تھے۔ اپنے معبود لقا کی پوجا کرتے تھے۔ اختیار ملتے ہی ان پجاریوں نے پورے بھوم میں تشدد اور دہشتگردی کا بازار گرم کر دیا۔ اسی کشمکش کے دوران ایک بھائی مارا ماری کے بعد الگ ہو گیا۔

طلسم ہوش ربا کے دو شاہ تھے۔ ایک کا نام تھا شاہ طلسم افراسیاب اور دوسرے کا شاہ طلسم نور افشاں۔ شاہ افراسیاب نے شاہ نور افشاں سے بدلہ لینے کے لیے شہر نا پرسان کے پیر تسمہ پا سے مدد مانگی۔ پیر تسمہ پا نے اپنے پجاریوں کو اکٹھا کیا اور شاہ طلسم افراسیاب کے حوالے کر دیا۔ پہلے تو جی بھر کر ان پجاریوں نے دوسرے خِطّوں میں قتل و غارت کیا، شاہ طلسم افراسیاب کی مدد سے شاہ طلسم نور افشاں کو شکست دی گئی ۔ مگر جب شکست ہو گئی  تو پجاریوں نے سوچا کہ یہ تو ہم نے اپنے معبود لقا کی مدد سے شکست دی ہے۔ اب ہم شاہ طلسم افراسیاب سے بھی لڑیں گے اور اپنے معبود لقا کی مدد سے پیر تسمہ پا کو طلسم ہوش ربا کا شاہ بنادیں گے۔ لیکن اصل میں تو تمام جادوگری کا مالک تو شاہ افراسیاب تھا۔ اس نے پہلی  دہشتگردی ہوتے ہی ان پجاریوں کو مارنا شروع کر دیا۔ تب انہوں نے پلٹ کر شہر ناپرسان میں اپنی قتل و غارت کی ٹھرک اپنے ہی بھومی کے باسیوں پر آزمانا شروع کر دی۔ ان پجاریوں نے کسی کو بھی نہ چھوڑا، کبھی جوانوں کو مارا، کبھی عورتوں کو، کبھی بوڑھوں کو، حتئ کہ اس شهر نا پرسان کے پجاریوں نے اپنے بچوں کو بھی دھرم کے نام پر ذبح کر دیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ ان پجاریوں میں آپس میں بھی دوستی نہ تھی۔ وہ قتل و غارت میں ایسے اندھے ہوگۓ کہ آپس میں بھی لڑنا شروع کر دیا۔

اس عذاب سے تنگ آ کر امیر حمزہ اور عمرو عیار نے طلسم ہوش ربا کے شاہ افراسیاب سے مدد مانگی، چونکہ اب شاہ افراسیاب بھی پیر تسمہ پا اور اس کے پجاریوں سے تنگ آ  چکا تھا، اس لیے اس نے سختی سے پیر تسمہ پا کو روکا، ایک اچھا کام اس دوران اور ہوا کہ طلسم ہوش ربا کے ایک اور چھوٹے سے علاقے کی ملک نور افشاں کو شہر ناپرسان سے کام پر گیا، اپنے کام کی خاطر اس ملکہ نے امیر حمزہ کی مدد کو ٹھانی۔ جب پیر تسمہ پا نے یہ دیکھا کہ اس طرح تو اس کا شہر ناپرسان پر سے قبضہ کمزور پڑ  جائے  گا، تو اس نے اپنی پرانی چال چلی اور اپنے علاقے کے ایک پجاری کو کھڑا کر دیا۔ اس پجاری نے شور مچا دیا کہ امیر حمزہ نے ان کے معبود لقا کی توہین کر دی ہے، اس لیے اسے پھانسی پر لٹکایا جاۓ۔ اس علاقے کے لوگ پجاری کے بہکاوے میں ا ٓگۓ اور شہر ناپرسان کے حالات ایک بار پھر سے خراب ہونے لگے۔

آخری اطلاعات آنے تک شہر ناپرسان کے حالت بہت خراب ہو چکے ہیں، اس بار ایک نئے قسم کے دہشتگرد  جو کہ لقا کے پجاریوں کے روپ میں ہیں، توہین لقا کے نام پر سر اُٹھا رہے ہیں۔

ہر کہانی کے اختتام پر وہاں کے لوگ ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں، مگر اس کہانی کا کوئی  بھی اختتام نہیں ہے۔ ہماری یہ کہانی ایک loop میں پھنسی ہوئی  ہے۔ جب بھی اس شہر ناپرسان کے لوگ یہ سمجھ کر ہنسی خوشی رہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کہانی کا اختتام ہو گیا ہے، تب تب ان کا پیرتسمہ پا جو ان کے کندھوں پر ایک بوجھ کی طرح مسلسل سوار ہے، ان پر اپنا پالا ہوا ایک پجاری چھوڑ دیتا ہے، ایک نئی مصبت کے ساتھ۔، ایک نئی کہانی کے ساتھ۔ اور ایک نئی آزمائش کے ساتھ۔

براہ کرم اس شهر نا پرسان کی کہانی کو ایک فرضی داستان کا ایک پنہ سمجھ کر پڑھیے گا، کسی بھی قسم کی مماثلت صرف اتفاقیہ  ہو گی۔ جس کا یہ مؤلف  ذمہ دار نہیں ہے۔ اس کے تمام کردار فرضی ہیں اور یہ چھوٹا سا پنہ داستان امیر حمزہ سے متاثر ہو کر  ذہنی گنجلک میں لکھا گیا ہے۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق اور ائ ٹی کے شعبہ سے تعلق ہے۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور ہمیں تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *