ہم درست سمت میں جارہے ہیں ۔محسن علی

اُس کی مثال اس طرح سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔جیسے ایک کباڑ خانہ ہے عرصے سے لوگ ادھر گُھستے ہیں حرکت پیدا کرتے ہیں کچھ سامان اپنی سمجھ سے اُٹھاتے ہیں اور لے جاتے ہیں ۔ جبکہ کباڑخانے میں بہت سا کباڑ بے حد مفید بھی ہے ۔

تو معروضی حالات کے پیش نظر’ لوگ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں یا تنقیدی پہلو اتنے ہیں  معاشرے کے لگتا ہے کہ پاکستان میں ہزار سال تک بہتری نہیں آئے گی ۔مگر میں تاریخ کا طالبعلم ہوں ،لہذا میرا یہ ماننا ہے کہ  ہمیشہ مضبوط  طاقتیں   کمزور طاقتوں کو استعمال کرتی ہیں پھر کمزور طاقتوں کے اندر چند لوگ آواز بنتے ہیں بہت سے اُس آواز میں گمنام مارے جاتے ہیں ۔ مگر پھر یہی آوازیں آخر بہت سے تضادات کے بعد ایک سمت کی جانب بڑھنے لگتی ہیں ، رفتہ رفتہ معاشرہ اور وقت لوگوں کو ہمیشہ آگے کی طرف یا پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے ۔لہذا پاکستان کا کنفیوژ  لبرل اور اسلامی طبقہ پاکستان کو پیچھے کا سفر کروانے کے درپے ہے مگر وہ لوگ اپنے بیانات سے یا کہنے یا میڈیاکی باتوں  کی وجہ سے اُن کی کنفیوژن  یا ابہام یا یوں کہیں اُ ن کی اصلیت  کُھل رہی ہے ۔ لوگ مذہبی بیانیے کو بہت دھیمے ہی صحیح رد کرہے ہیں یا خاموشی سے جان چُھڑانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ وہ جان رہے ہیں جب مذہب سیاست میں کودتا ہے تو پُرتشدد ہوجاتا ہے ایسے ہی لسانیت زدہ عوام بھی لسانیت سے کافی حد تک دور جارہی ہے مگر اپنی شناخت کو منوانے کے  لیے  کوشاں ہورہے ہیں ۔

پاکستان کی عوام پہلےدن سے تعلیمی ادارے کھڑے کرنے سے قاصر رہی اس لئے پاکستان کوئی خاص نمایاں ادارے یا شخصیات پیدا کرنے سے قاصر رہا اور پاکستان میں درست یا غلط پالیسی یا بہتر پالیسی کا ریاست تعین نہیں کرسکی لہذا میری ناقص رائے یہ کہتی ہے پاکستان میں چار بار آرمی کا آنا چار پانچ نسلوں کو اچھی طرح آرمی کے آنے کے نقصانات سمجھاگیا اور مذہبی جماعتوں کا مسلسل رد ہونا بھی ایک خوش آئند بات ہے ، جو لوگ موجودہ توہین کے قانون پر سیاست کررہے ہیں تو وقت کا جبر ہے کہ جب طاقتور قوت امریکہ و یورپ چاہ رہے ہیں تو ایسے میں پاکستان کی ریاست نے بطور ریاست اس قانون کو دیر یا جلد ختم کرنا ہوگا بہتری کی طرف جانا ہوگا ایک عرصے تک کوئی قوم مسلسل کھائی میں نہیں گرسکتی پاکستان چار بڑی قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا ہے اور اُن کے درمیان اپنا تشخص منوانے کے لئے گزشتہ بارہ سال سے کوشاں ہے اگر ریاست مزید غلط فیصلے کرنے سے نہ رُکی تو ریاست نہ رہ سکے گی مگر موجودہ حالات میں لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آزادی رائے پر قدغن لگانے والے قانون کے خلاف عوام جتنی جلدی اٹھے گی اتُنی جلدی عوامی بہتری ہوگی ،

لہذا پاکستان میں ادارے بھی آزادی کی قدغن کی وجہ سے پنپ نہیں پارہے ، مگر مجھے قوی اُمید ہے پاکستان بہتری کی جانب جائے  گا ، اسٹیبلشمنٹ کیونکہ مزید صوبوں کا شوشہ چھوڑ کر اُس کو لگ رہا ہے سی پیک کے ہوتے ہوئے کام کیا تو مُشکلات اور لسانی قتل بڑھنے کا خدشہ ہے ، شاید  غلط یا درست اسٹیبلشمنٹ نے مائنس کا فارمولا تمام تر پارٹیز پر لاگو کردیا ہے ، جس سے کسی ایک پارٹی کو کئی سال تک واضع اکثریت نہ رہے اس لئے پنجاب کو جب بھی چھوٹے صوبے تقسیم کرنے کی بات کریں گے  تو اس کے بدلے چھوٹے صوبوں میں بھی مزید صوبے بنانے کی بات اٹھے گی مزید صوبے بن کر پارٹیوں کی چپقلش کم اور پھر کارکردگی پر ہی کوئی پارٹی مُلک گیرالیکشن جیتے گی ۔ مگر جس طرز سے پارٹی لیڈرز کو مائنس کیا گیا وہ بھونڈا  طریقہ تھا مگر مصطفی کمال کا میڈیا پر باقاعدہ نام لے کر بتانا اور پھر خادم صاحب کے معاملے پر فوج کا کردار بہت سے لوگوں کی الیکشن سے پہلے موجودہ آرمی قیادت کے بارے میں رائے بدلنے میں ایک کردار  لازمی ادا کرے گی۔ کم یا زیادہ،

لہذا اگر میرا یقین ہے پاکستان اپنی بہتری کے آخری پچیس تیس سال سے گزر رہا ہے بس کوئی ایک بڑی تاریخی غلطی بہتری سے پاکستان کی ریاست کو ختم کرسکتی ہے اس لئے عوام ہر معاملے پر تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اپنی رائے قائم کرے کوئی بھی   واضع مگر چُھپی غلطی ریاست یا سیاستدانوں کو  غلط فیصلے کی مشکلات سے دو چار کرسکتی ہے ۔اس کے لئے عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے ساتھ ریاست کے ہر معاملے پر نظر رکھنا ضروری ہے اسی میں پاکستان اور ہم سب کی بقاء ہے ۔ ان سب ہنگاموں، قتل و غارت اور نا انصافیوں کے ہوتے ہوئے بھی ۔ میرا ماننا ہے پاکستان تاریخی طور پر دُرست سمت میں  سفر کررہاہے ، تھوڑا اطمینان رکھیں!

محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *