قدرِمشترک اور دردِمشترک۔ہارون الرشید

یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ  کسی زمانے میں پمفلٹس اور ہینڈ بلز کے ذریعے ایسا ہوتا تھا، پھر موبائل فونز پر پیغامات کے ذریعے ہونے لگا اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے ہوتا ہے کہ ہر سال محرم الحرام اور ربیع الاول کے مہینوں کے آغاز کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ پوسٹس کی یلغار شروع ہو جاتی ہے۔ واردات تو ایک ہی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اُس کے طریقے بدلتے گئے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ربیع الاول کے آغاز کے ساتھ ہی سب مرکزِ  وحدت و محبت یعنی حضور نبیِ کریم ﷺ کے گرد جمع ہو کر اتحاد اور اخوت کے اُس درس کا عملی نمونہ پیش کریں جو آقائے دوجہاں ﷺ نے ہمیں دیا تھا لیکن ہوتا  اِس کے بالکل برعکس ہے اور نبیِ رحمت ﷺ کی مبارک ولادت کے مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی ‘تُو بدعتی’ اور ‘تُو گستاخ’ کی گردانوں کا شور سنائی دینے لگتا ہے۔  مجھے حیرت ہوتی ہے کہ علمائے دین کہ جن کا فریضہ نبیِ اکرم ﷺ سے امت کے ٹوٹے ہوئے رشتے کو جوڑنے کا ہے، اُن کی اکثریت لایعنی بحثوں بلکہ کج بحثی کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا، میں الجھی نظر آتی ہے جو سادہ ذہن مسلمانوں کو مزید الجھانے کا باعث بنتی ہے۔

مجھے آج اگر کوئی اس بات کا جواب دے سکے کہ  کیا موت کے بعد یہ سوال ہم سے پوچھا جائے گا کہ نبی ﷺ نور تھے یا بشر تھے؟ یا یہ کہ نبی ﷺ زندہ ہیں یا وصال فرما گئے ہیں؟ یا یہ کہ اپنی زندگی میں میلاد منانے کے  قائل تھے یا منکر تھے؟ یا یہ کہ 12 ربیع الاول نبیﷺ کا یومِ پیدائش تھا یا یومِ وصال؟ اگر تو یہ سوال پوچھے جانے ہیں تو پھر تو یہ بحث مباحثے اور مناظرے سمجھ میں آ سکتے ہیں اور اگر یہ سوال نہیں پوچھے جانے اور ظاہر ہے کہ نہیں پوچھے جانے تو پھر اِن ساری کج بحثیوں کا کیا جواز ہے؟ موت کے بعد جو سوال و جواب ہوں گے اُن کی فہرست خود آقا کریم ﷺ نے اپنی ظاہری زندگی میں امت تک پہنچا دی ہےتو علمائے عظام عام مسلمانوں کی توانائیاں اِن سوالات کی تیاری میں کھپوانے کی بجائے  اُن معاملات میں کیوں ضائع کروا رہے ہیں جو امت میں انتشار کا باعث بنتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہوئے بھی کہ کائنات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد اگر کوئی مقدس ترین ہستی ہے تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی ذاتِ بابرکات ہے،

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

تو اس مشترکہ عقیدے کے باوجود ہم پورا سال بالعموم اور ربیع الاول میں بالخصوص باہم دست وگریباں ہو کر نبی ﷺ کی پاک ذات کو کہ جو مرکزِ وحدت ہے اُسے تقسیم کرنے میں مصروف کیوں رہتے ہیں؟.اِس دنیا میں کوئی لگ بھگ ساڑھے چھے ارب لوگ بستے ہیں۔  اِن ساڑھے چھے ارب لوگوں سے اگر ایک سروے کے ذریعے خوشی منانے کا طریقہ پوچھا جائے تو میرا اندازہ ہے کہ خوشی منانے کے لگ بھگ ساڑھے چھے ارب مختلف طریقے دریافت ہو سکتے ہیں۔ میلاد منانے والے بھی اپنے طریقے کے مطابق آقا کریم ﷺ کی اِس دنیا میں آمد کی خوشی ہی تو منا رہے ہوتے ہیں اور اگر اِس خوشی منانے میں براہ راست کوئی چیز شریعت کے بنیادی اصولوں سے نہیں ٹکراتی تو لٹھ لے کے پیچھے پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟  آپ کو اگر اعتراض ہے   تو اپنا اعتراض شائستگی اور دلیل کے ساتھ سامنے لے آئیں، آپ کا بس اتنا ہی کام ہے کہ آپ توجہ دلا دیں۔ کسی کو بدعتی، گستاخ  قرار دینا اور دائرہ اسلام سے خارج کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ خواہ مخواہ اللہ کے دائرہ اختیار میں گھس کے جو فیصلے اللہ کے کرنے کے ہیں، اُن کی ذمہ داری ہمیں اپنے سر لینے کی کیا ضرورت پڑی رہتی ہے؟

دوسری جانب میلاد منانے والے طبقے کو بھی محض مخالفین کو تپانے اور نیچا دکھانے کے لیے حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی کام ہم افراط اور تفریط میں جائے بغیر بھی کرنے کا ہنر کیوں نہیں سیکھتے؟ جبکہ دین تو نام ہی اعتدال کا ہے۔  مفتی منیب الرحمان صاحب نے انتہائی درست نشاندہی کی ہے کہ میلاد کی محفلوں اور جلسے جلوسوں کو محرمات، بدعات اور منکرات سے پاک ہونا چاہیے اور اِن سب چیزوں کو ضروریاتِ دین ثابت کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ زیادہ سے زیادہ مستحب قرار دی جا سکتی ہیں۔ مفتی صاحب نے اس بات کو بھی المیہ قرار دیا کہ ہم دینی امور کو قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے اپنی وضع کردہ عقیدتوں اور خواہشوں کی عینک سے دیکھتے ہیں اور عقیدے اور عقیدت کا تعین بھی وہ طبقہ کرتا ہے جو دین کے فہم سے نابلد ہے۔ مفتی صاحب نے بڑھتی ہوئی خرافات کے خلاف مصلحتوں سے بالاتر ہو کر خود بھی آواز بلند کی ہے اور علماء سے بھی آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ امت کی اصلاح کے لیے علمائے کرام کو مفتی منیب الرحمان کی آواز  میں آواز ملانی چاہیے۔

دینِ اسلام نے تو آسمانی مذاہب کے پیروکار وں اور ماننے والے اہلِ کتاب کو بھی مشترکات پر اکٹھا ہونے کی دعوت دی ہے اور ہم سب تو ایک اللہ، ایک نبی ﷺ اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں۔ مرحوم قاضی حسین احمد تقریباً  اپنی پوری زندگی ہی امت کو جوڑنے اور قدرِمشترک اور دردِمشترک پر اکٹھا ہونے کی دعوت دیتے رہے۔ اقبال نے بھی کہا تھا کہ

منفعت ایک ہے اِس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی، اللہ بھی،  قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

ہمارے پاس تو اتنی ساری مشترکات ہیں تو ہم ایک کیوں نہیں ہو سکتے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا سارا زور اصل کو چھوڑ کر فروعات پر ہے اور اگر یہی ساری توانائیاں فروعات کی بجائے اصول، جن پر سب کا اتفاق ہے، پر خرچ کی جائیں تو اللہ، رسولؐ اور قرآن کے مطلوب افراد کی کھیپ کی کھیپ تیار کی جا سکتی ہے  اور قرآن کے اصل پیغام علم کے حصول، جستجو کی تمنا اور تحقیق جس پر قرآن نے بارہا زور دیا ہے اس پر توانائیاں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مسلمان دنیا سے اپنا چھینا ہوا وقار اور طاقت واپس حاصل کر سکیں ورنہ محض امت کی عددی برتری کسی کام نہیں آئے گی جیسا کہ اب بھی نہیں آ رہی۔ پروفیسر عنایت علی خان یاد آئے کہ جنہوں نے کہا

میں تیرےؐ مزار کی  جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا

تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

اور

تیرے حسنِ خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی

میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

مفتی منیب صاحب نے تو علماء کو آوازِ حق بلند کرنے کی دعوت دے دی۔ قاضی حسین احمد بھی ہمیں قدرِمشترک اور دردِمشترک پر جمع ہونے کی دعوت دیتے دیتے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ لیکن کیا یہ باتیں صرف علماء ہی کے سوچنے اور کرنے کی ہیں؟ کیا ہمارا کوئی دردِ سر نہیں ہےَ؟ ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ مرنے کے بعد جب نبیِ اکرم ﷺ کو سامنے لا کر پوچھا جائے گا کہ اِنؐ کو پہچانتے ہو یا نہیں اور خدانخواستہ اُس وقت ہم آقا ﷺ کو نہ پہچان پائے  تو کیسی بدنصیبی اور بدبختی ہو گی اور پھر اِن “محبت   اور عشق” سے لبریز بحثوں اور مناظروں کا حاصل وصول بھی کچھ نہیں ہو گا اور ہم روزِ محشر اگر شافعِ محشرﷺ کی شفاعت حاصل نہ کر پائے تو دائمی ناکامی ہمارا مقدر  ٹھہرے گی۔ یقیناً ہم  میں سے کوئی بھی ناکام نہیں ہونا چاہے گا۔ سوچیے!

ہارون الرشید
ہارون الرشید
سوشل انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *