ترقی کی دوڑ اور ہمارے بچے۔راحیلہ خان

 وہ مسائل جنہیں  ہم اپنی زندگی میں حل کرنے سے گریز کر تے ہیں ، وہی مسائل بعض اوقات  بڑھ کر آنے والے وقت میں ہمارے بچوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کردیتے ہیں،جنہیں حل بھی ہمارے بچوں کو ہی کرنا پڑتا ہے۔
ذرا سوچیے! آپ کے پاس کتنا وقت ہے؟ اور یہ بھی سوچیے  کہ آپ کی اولاد کس طرح آنے والے مسائل کا مقابلہ کرے گی۔ کیا آپ انہیں وہ سب دے رہے  ہیں جس سے آپ مطمئن ہوکر موت کا انتظار کر سکتے ہیں؟ ہمارے والدین اور ہماری اولاد میں کتنا زیادہ جنریشن گیپ ہے۔ پرانے لوگوں میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے صرف زندگی گزار دی ، کسی طرح سے بھی سہی !
لیکن اب یہ مقابلہ سخت ہو چکا ہے۔ ہمیں جینا بھی ہے اور مرنا بھی اطمینان سے چاہتے ہیں ۔ اب جبکہ آپ کے اختیار میں تقریباً سب کچھ ہے۔ آپ کے پاس سوشل میڈیا جیسا پلیٹ فارم ہے، آپ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے، چاہیں تو دو منٹ میں دنیا کے  کسی بھی کونے میں بیٹھے شخص سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ دنیا کی کسی بھی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ تمام مسائل تھے پہلے۔۔۔ رابطہ کرنا،معلومات حاصل کرنا،  دنیا کو دیکھنا ۔۔۔ اس کے لئے پیسے کی ضرورت تھی ، علم  اور وقت کی ضروت تھی لیکن اب جبکہ یہ سب میسر ہے   تو آپ کے اوپر دوگنی ذمہ  داری عائد ہو چکی ہے ۔
آپ کو اپنی اولاد کو صحیح اور غلط میں تمیز سکھانے اور بہترتربیت کرنے کے لئے مثال قائم کرنی پڑے گی۔ جیسے آپ کے والدین درست سمجھتے تھے آپ  کو مجبوراً یا احتراماً وہ سب قبول کرنا ہوتا تھا، لیکن موجودہ دور میں بچوں کی پہنچ میں ساری دنیا ہے ۔ وہ دنیاکے حساب سے صحیح اور غلط کو دیکھیں گے۔ ہمارے پاس وقت کم ہے اور اولادکو پیش آنے  والے مسائل کی تعداد زیادہ ہے۔ ہم نے پیسے سے گھر خرید لئے، گاڑی خرید لی، دنیا کی ہر ضرورت   پوری کرنے کے لئے ہماری مدد پیسے نے کی،لیکن ضروری نہیں کہ ہمارے بچوں کو بھی مدد کے لئے پیسے کی ضرورت ہو ۔ جو چیزیں ہم حاصل کرنے کے لئے آدھی زندگی گنوا چکے ہیں ہمارے بچوں کو وہ سب پیدا ہوتے ہی ہم فراہم کر چکے ہیں ۔
لہذا ان چیزوں کی یا ضروریاتِ  زندگی  کے سامان کی  آپ کی نظر میں خاص اہمیت نہیں رہے گی ۔ یہ قدرے عجیب ہے لیکن جب ہم اس پر سوچتے ہیں تو ہم جان پاتے ہیں جیسا کہ ہم گاؤں  دیہات کی زندگی چھوڑ کر شہر کی زندگی کو اپناتے ہیں   اور چونکہ ہمیں ان مسائل کا بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ دیہات میں زندگی کس قدرکٹھن ہوتی ہے لوگوں کے لئے، جیسے آپ اسکول جانے کے لئے پیدل راستہ چلتے ہیں اور گرمی سردی بارش میں آپ کو یہ سب جھیلنا ہوتا ہے، آپ کے پاس وہاں اچھی یا معیاری سڑکیں نہیں تھیں اور آپ کو یہ سب جھیلنا مشکل لگتا تھا۔ اسی طرح جب وہ تمام اشیاء جو ہماری  روزمرہ زندگی میں ہمارا وقت بچا رہی  ہیں ۔جیسا کہ کپڑے دھونے والی مشین ۔ کمرہ ٹھنڈا رکھنے والی مشین ۔ پانی اور کھانا تازہ رکھنے والی  مشین۔ آپ کے کمرے کے ساتھ اٹیچیڈ باتھ روم میں استعمال کی تمام اشیاء  اور تازہ دم ہونے کے لئے شاور میں ٹھنڈے گرم پانی کی سہولت ، سفر کرنے کے لئے آپ کے پاس گاڑی اور بہتر سڑکیں، اسی طرح بجلی، سوئی گیس   اور ٹیلی فون کی دستیابی۔
یہ تمام سہولیات آپ نے حاصل کیں اور آپ موازنہ کر سکتے ہیں کہ آپ کو شہری زندگی زیادہ آسان لگی یا دیہی۔  یہ سب اشیاء  آپ کو  زندگی  گزارنے کے لئے چاہییں  تھیں یا دوسری صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے یہ سب حاصل کرنے کے لئے  زندگی یعنی وقت، روپیہ پیسہ اور محنت کا  استعمال کیا اور بدلے  میں ہم ان تمام چیزوں سے مستفید ہوئے۔ اب آپ اپنے بچوں کے حوالے سے سوچیے ؟ آپ کے   بچوں کو یہ تمام  لوازمات یا ضروریات زندگی تو تحفے میں ملیں  اور ان کے پاس گزارنے کے لئے بہت سا وقت ہے۔ اب یہ ضروری نہیں کہ آپ کو کپڑے دھونے کے لئے مشین چاہیے تھی اور ایسا ہی آپ کے بچے بھی چاہیں۔ یا پھر آپ کو سفر کرنے  کے لئے گاڑی آرام دہ محسوس ہوتی ہے لیکن آپ کے بچے پیدل چلنے اور سائیکل استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہوں۔
ممکن ہے آپ ان الیکٹرانک مشینوں کےاستعمال کے عادی ہیں اور کیونکہ آپ کسی زمانے میں یہ تمام کام کرنے کے لئے محنت مشقت کر چکے تھے اس لئے آپ کو آساںی محسوس ہوتی ہے لیکن آپ کے بچے چاہتے ہیں کہ وہ تمام کام اسی انداز سے کریں جیسا آپ پسند نہیں کرتے۔ ہم نے تعلیمی نظام دیکھے ہم رائٹنگ  پیڈ اور پین  پینسل سے کی بورڈ تک کے مراحل سے گزر چکے ہیں ۔ ہم دونوں طریقہ کار سے واقف ہیں ۔ ہم خط و کتابت سے لے کر ٹیلی فون اور پھر جدیددورکے موبائل استعمال کر چکے ہیں لیکن ہمارے بچے صرف جدید دور کے موبائل فون کے بارے میں جانتے ہیں۔ ہم لوگ جوائنٹ فیملی سسٹم سے  نکل کر الگ ہوئے ،دادا، دادی ،چاچا،چاچی والے دور کے گھروں میں جیسے ماحول سے تنگ آکر سنگل فیملی یا الگ رہنے کا دور گزار چکے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہمارے بچے اب تنہا اور خاندان سے دور رہ کر  زندگی کا لطف حاصل کریں۔
لہذا ہمیں اب ہمیں مضبوط طرز زندگی اپنانے کے لئے اپنی آنے والی نسل کو تیار کرنا ہوگا، معلومات حاصل کرنے کے جدید دور میں پرسکون زندگی گزارنے کے نئے اصول اپنانا ہوں گے۔ اپنی ضروریات کو مختصر کرنا ہوگا، آسائش بھری زندگی اولاد کو فراہم کرنے کا مطلب ان کو کمزور کرنا ہے ۔ مل کر معاشرے کو بہتری اور ترقی کی طرف گامزن کرنے کے لئے ان بچوں کو سپورٹ کرنا ہوگا جو اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن پیسے کی اس دوڑ میں وہ پیچھے رہ چکے ہیں ۔ ہمیں اب اپنی اولاد کو انہی  بچوں کے ساتھ مل  کر  آگے  بڑھانے میں مدد کرنی ہے۔

راحیله خان
بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *