کتوں کی لڑائی

SHOPPING

پوسٹر چھاپے جارہے تھے اعلانات ہورہے تھے ہر محفل ہر دو بندوں کے درمیان بس ایک ہی موضوع تھا صدر خان کے کالو اور خان لالا کے ملنگی کے درمیان اعلان شدہ لڑائی۔۔۔
صدر خان اور خان لالا دونوں کے خاندان اپنے باپ دادا کے زمانے سے سیاسی حریف چلے آرہے تھے اسلئے دونوں کی خواہش تھی کہ یہ لڑائی انکا کتا جیتے اور الیکشن کے آنے سے پہلے پہلے دوسرے کو نیچا دکھا سکیں۔
مقررہ تاریخ پر میدان سج گیا تھا ۔دونوں پارٹیوں کے منچلے ڈول کی تھاپ پہ رقص کررہے تھے اور انکے کندھوں پہ لٹکے بندوق ہوائی فائرنگ کیلئے بیتاب تھے ۔دونوں کتوں کالو اور ملنگی کو میدان میں اتارا گیا ۔کالو کے گلے میں صدر خان نے قیمتی نگینوں سے مزین پٹہ ڈالا ہوا تھا ۔۔ریشم سے نرم مگر مضبوط رسی صدر خان کے ہاتھ میں تھی جبکہ کتے کی کمر صدر خان کے سیاسی پارٹی کے پرچم سے ڈھکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
خان لالا نے بھی اپنے کتے ملنگی کو خوب آراستہ و پیراستہ کیا ہوا تھا ۔فرق صرف اتنا تھا کہ اسکی سیاسی پارٹی کا پرچم کتے کی کمر پر نہیں بلکہ اسکے ہاتھ میں تھاریفری درمیان میں مودب کھڑا تھا۔ تماشائیوں کی نعرہ بازی سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ کالو اور ملنگی ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے غرا رہے تھے اور ایک دوسرے پر جھپٹنے کیلئے زور لگا رہے تھے کہ اتنے میں خان لالا کے ہاتھ سے ملنگی کی رسی چھوٹ گئی اور کالو پر حملہ کردیا ۔۔صدر خان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے لیکن مجبوراً، اس نے بھی کالو کی رسی کو چھوڑ دیا تھا۔اب دونوں کتے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے تھے۔ اسی اثناء میں کالو ،نے ملنگی کے گلے میں اپنے دانت پیوست کردئے جس پر ریفری نے اپنے باقی ساتھیوں کی مدد سے رولز کے مطابق کالو اور ملنگی کو بڑی مشکل سے الگ کیا جو صدر خان کو برا لگا اور ریفری کو ڈانٹنے لگا لیکن جواب ریفری کے بجائے خان لالا نے دیا ۔
یہاں سے بات تو تو میں میں تک چلی گئی ۔ادھر دونوں پارٹیوں کے وفاداروں کے کندھوں پر جھولتی بندوقیں ہاتھوں میں آگئیں ۔ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگے۔ جیسے ہی صدر خان اور خان لالا کے درمیان ہاتھاپائی شروع ہوئی ادھر بندوقوں کے دہانوں نے آگ اگلنا شروع کیا ۔تماشائیوں کو اپنی جانیں بچانے کیلئے بھاگنا پڑا۔۔۔ کالو اور ملنگی بھی ،اب تماشائیوں کے ساتھ ہی بھاگ رہے تھے ،لیکن کتوں کی لڑائی دیکھنے کیلئے کوئی موجود نہیں تھا۔۔۔

SHOPPING

برہم مروت
برہم مروت
ایک بٹھکا ہوا راہی راہنمائی کی تلاش میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *