مکالمہ کی خواہش ۔ عامر سلیمان

صبح سویرے گلی میں عجیب سا شور اٹھا، پکڑو، مارو، جانے نہ پائے۔ افراتفری میں گھر سے نکلا کہ کچھ پتا کیا جائے ہوا کیا ہے , پہلے ہی کونے پر رشید سنار مل گیا، منہ سے جھاگ اڑاتا۔  بہت مشکل سے قابو کیا اور صورت احوال پتا کی تو معلوم ہوا کہ مخالف گروہ کے لوگ محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے آگئے تھے اور یہ سب شور شرابی بس انہیں بھگانے کا تھا۔ خیر اس وقت تو کچھ کہنا بے سود تھا سو چپ چاپ گھر کی راہ لی لیکن ذہن متضاد سوچوں کا مرکز بنا ہوا تھا. کیا ہورہا ہے، اور یہ سب کچھ کیوں؟ ایک دوسرے کے درپے آزار بنے ہوئے لوگ، کہیں قومیت , کہیں زبان , کہیں رنگ، کہیں مذہب اور اب تو فرقہ و مسالک کا جھگڑا۔

رات کو جب اہل محلہ کی محفل جمی تو ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہونے اور اسی وجہ سے معزز رکنِ محلہ ہونے کی حیثیت سے مجھ سے بھی رائے مانگی گئی۔ میں کہ صبح سے ہی سوچ کر بیٹھا تھا ایک دم سے کہہ اٹھا ! مار دو مخالفین کے ایک ایک شخص کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مار دو , ان کی نسلیں تک ختم کردو اور انہیں اس وقت تک مارتے رہو کہ کوئی نام لیوا نہ رہے دنیا میں اس مسلک کا۔ لوگ سمجھے میں پاگل ہوگیا ہوں  یا میرا دماغ کسی صدمے کا شکار ہے۔ عبدل بھائی نے کہا کیا ہوگیا بابو، یہ کیسے ممکن ہے؟ نہ ہم اتنی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی مخالف اتنے کمزور ہیں۔ یہ جواب سن کر تو مانو میرے اندازوں کی تصدیق کردی عبدل نے اور اب میں بالکل تیار تھا اپنا اگلا پتہ پھینکنے کے لئے۔ بس ! بس یہی تو کہلوانا چاہ رہا تھا میں تم سے کہ بھائی میرے ایک دوسرے سے لڑ کر جھگڑ کر خون بہا کر نہ تم ان پر حاوی آسکتے ہو نہ وہ تم پر حاوی آسکتے ہیں۔ چلو فرض کئے لیتے ہیں کہ ہر دو میں سے ایک فریق کبھی کسی اندرونی یا بیرونی طاقت کے میسر آجانے پر دوسرے فریق کو نقصان پہنچا بھی دیتا ہے، تو کیا ممکن ہے کہ نظریئے کو بھی مار سکو؟ نظریے کی کونپلیں تو پھر کسی اور جگہ جنم لے لیں گی، وہ تمہیں کسی اور رخ سے کسی اور زاوئے سے چیلنج دیں گی, پھر کیا کروگے؟ کیا اپنی آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایسا ہی نفرت انگیز , خون آلود معاشرہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہو؟  کیا یہ چاہتے ہو کہ تمہاری اولادیں بھی اسی طرح فرقہ پرستی , لسانیت کی بھینٹ چڑھتی رہیں بتاؤ مجھے ؟ مجمعے سے آوازیں آئیں، نہیں ہم ایسا ہرگز نہیں چاہتے، ہمیں اپنی نسلوں کے لئے بہتر مستقبل چاہئے۔ اب آپ ہی مشورہ دو کہ ہم ایسا کیا کریں کہ ماحول میں چھایا تناؤ کم ہو اور نہ صرف کم ہو بلکہ نفرت و تعصب کے یہ بادل بالکل چھٹ جائیں۔ لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر اطمینان کی ایک لہر سی میرے اندر تک اترتی چلی گئی اور مطمئن سی مسکراہٹ کے ساتھ میں نے پہلے سے سوچا سمجھا جواب دیا۔ بھائیو، “مکالمہ” کرو۔ مکالمہ کی طاقت سے مخالف کو زیر کرو, مکالمہ کے زور پر متحد ہوجاؤ اس پر کہ جو تم میں مشترک ہو۔ اپنے اختلافات کو مکالمہ کی چھلنی سے کچھ اس طرح گذارو کہ اختلافات کو چھاننے کے بعد جو کچھ تمہارے پاس بچ جائے وہ تمہاری نسلوں کے روشن مستقبل کا امین بن جائے۔ اک خاموشی تھی، گہری خاموشی؛ مگر اس خاموشی میں مکالمہ کی خواہش تھی۔

اہل محلہ کو گہری سوچ میں ڈوبا چھوڑ کر، ایک اطمینان بھری مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائے میں خراماں خراماں اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ اس امید کے ساتھ کہ آنے والی صبح یقیناً اتنی روشن ہوگی کہ جس میں میری آنے والی نسلیں “مکالمہ” کرنا سیکھ جائیں گی اور ایک پر امن دور کا آغاز ہوگا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *