آؤ مدینے چلیں ۔مستنصر حسین تارڑ

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ان دنوں بینکوں کے باہر ’’یہاں حج کی درخواستیں وصول کی جاتی ہیں ‘‘         کہ جو بینر آویزاں ہیں انہیں دیکھ کر میں ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہوں کہ وہ کیسے نصیب والے ہیں جو یہاں درخواستیں دیں گے اور حج پر جانے کے حقدار ٹھہریں گے۔ میں نے یہ بھی تذکرہ کیا تھا کہ کیفیت تب سے ہے جب سے میں نے حج کیا ہے ورنہ اس سے پیشتر یہ بینر مجھ پر کچھ اثر نہ کرتے تھے یعنی ایک بار اگر حج کی سعادت حاصل ہوجائے تو دوبارہ پھر سے جانے کی خواہش ہر برس اضطراب میں مبتلا کردیتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟

بے شک خانہ کعبہ کے گرد طواف، منیٰ کے دن اور منیٰ کی راتیں، مزدلفہ کے کھلے آسمان تلے ایک رات اور عرفات کی جانب لبیک لبیک پکارتا لاکھوں کا ہجوم اثر انگیز تجربے ہیں لیکن میرے نزدیک حج پر دوبارہ جانے میں سب سے بڑی اور آبدیدہ کردینے والی کشش اس سبز گنبد کی ہے جس کے سامنے دنیا بھر کی عمارتیں حکومتیں اور خزانے ہیچ ہیں۔ حج سے واپسی پر مجھ سے کسی دوست نے پوچھا کہ کیا حج کرنے سے تم میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے یا جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آگئے ؟

تو میں نے کہا تھا کہ آخری وقت میں کیا خاک مسلمان ہوں گے لیکن شاید اب میں کسی حد تک اپنے غصے کو قابو کرلیتا ہوں۔ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی پراپنے آپ کو مجرم محسوس کرتا ہوں اور مجھے تو وہاں سے یہ انعام ملا ہے کہ میں اپنے رسول ؐ سے پہلے کی نسبت کہیں قربت میں محسوس کرتا ہوں، ان کے لیے چاہت میں عجیب شدت پیدا ہوگئی ہے اور جب کبھی سبزگبند کا خیال آتا ہے تو دل ان کی محبت سے لبریز ہوجاتا ہے اور میں خود کو  ایک خوش نصیب انسان محسوس کرنے لگتا ہوں بس اتنا فرق پڑا ہے حج پر جانے سے کہ رسول اللہ ؐ کا خیال مسلسل بدن میں گردش کرتا ہے اور یوں میں بہت سارے توہمات سے آزاد ہوگیا ہوں ۔

ایک روز ایک دوست کہنے لگے کہ آؤ فلاں بزرگ کے مزار پر چلتے ہیں وہاں سے بہت کچھ ملتا ہے تو میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سبز گنبد والے سے ہی فارغ نہیں ہوتا، ادھر سے فرصت ملے تو کہیں اور جاؤں اور جاؤں ہی کیوں؟۔۔۔ کہ مجھے تو سب کچھ ادھر سے مل جاتا ہے جھولی بھر چکی ہے اور پھر ملتا چلا جاتا ہے۔

میرا ایمان ہے کہ آپ حیات رسول ؐ کا مطالعہ کریں تو پھر آپ کو کسی بکھیڑے میں نہیں پڑنا پڑتا۔ رسول اللہ ؐ کے شب وروز آپ کی مکمل رہنمائی کرتے ہیں آپ کو حاجت ہی نہیں ہے کسی اور شخص سے رجوع کرنے کی چاہے وہ کتنا بڑا عالم ہو آپ کے سارے سوالوں کے سادہ اور قابل فہم جواب حضور ؐ کی حیات مبارکہ سے مل جاتے ہیں کوئی الجھن باقی نہیں رہتی۔

جب آپ جدہ سے نکلتے ہیں تو کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک دوراہا آتا ہے ،ایک شاہراہ  مکہ معظمہ کی جانب جاتی ہے اور دوسری کی منزل مدینہ منورہ ہے۔اس دوراہے پر پہنچ کر جی ادھر کو کھینچتا چلا جاتا ہے جدھر مدینہ منورہ ہے۔ اپنے آپ کو روکنا پڑتا ہے، سمجھانا پڑتا ہے کہ نہیں پہلے خدا کے گھر میں حاضری دو اور ادھر جاؤ اور خانہ کعبہ میں بھی حاضری اس لئے پہلے دینی ہے کہ جدھر سے تمہیں سبز گنبد والے کی مہک آتی ہے اس کے مکین نے ہی یہ ہدایت کی تھی اگر یہ ہدایت نہ ہوتی تو پھر ہر کوئی ادھر کا رخ ہی کرلیتا۔

میرا بڑا بیٹا سلجوق تقریباً ڈھائی برس تک جدہ کے سفارتخانے میں وائس کونسل تعینات رہا اور آج بھی جب کہ وہ یو این او نیویارک میں ہے وہ ان دنوں کو بہت یاد کرتا ہے کہ جب اس کے مزے تھے ذرا وقت ملا تو خانہ کعبہ میں نماز جاپڑھی عمرہ کرلیا اور ذرا زیادہ وقت ملا تو روضہ رسول ؐ پر حاضر ہوگئے ۔اس کا ایک اردنی سفارتکار دوست تھا اور وہ دونوں ہر ویک اینڈ پر نکل جاتے ،وہ اردنی ہمیشہ کہتا کہ یار مدینے چلتے ہیں،

ایک بار سلجوق نے اس سے پوچھا کہ تم ہمیشہ مدینہ منورہ جانے کے لئے بے چین رہتے ہو، خانہ کعبہ بھی تو پاس ہی ہے ۔تو وہ کہنے لگا کہ دیکھو وہ خدا کا گھر تو ہے لیکن وہ صرف وہاں نہیں ہے ہر جگہ ہے جب کہ وہ جو سبز گنبد والا ہے وہ صرف مدینے میں ہے۔ اسے تو جب چاہا محسوس کرلیا کہ وہ تمہارے پاس ہے لیکن اس کے رسول ؐ کو تو      ملنے جانا پڑتا ہے تب ملاقات ہوتی ہے تو آؤ مدینے چلیں ،

ایک بار سلجوق سفارتخانے کی جانب سے مدینہ منورہ  گیا تاکہ وہاں آباد پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹوں اور ویزہ عمرہ کے مسائل حل کرسکے اس کے پاس ایک بوڑھا شخص آیا جو کئی برس سے مدینہ میں قیام پذیر تھا لیکن اب اس کے پاسپورٹ پر کچھ گنجائش نہ تھی کہ وہ وہاں مزید قیام کرسکے۔ سلجوق نے پوچھا کہ بابا جی آپ مدینہ میں کرتے کیا ہیں تو وہ بوڑھا کہنے لگا۔ بیٹا کرنا کیا ہے روضہ رسول ؐ پر پڑا رہتاہوں اس کی دیوار سے لگ کر بیٹھا رہتا ہوں اس پر سلجوق نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے اس کے پاسپورٹ کی مزید توسیع کردی اور وہ بوڑھا دعائیں دیتا چلا گیا۔

میں نے بہت سے خطرے مول لے کر ایک مضبوط الحواس شخص کی مانند بہت کوشش کرکے اگر غار حرا میں پوری ایک رات بسر کی تو وہ بھی صرف اس لئے کہ میں وہاں اپنے رسول ؐ کی قربت محسوس کرسکوں ان پتھروں کو چھو سکوں جنہیں کبھی میرے رسول ؐ کی ہتھیلیوں کے بوسے لینے کی سعادت حاصل ہوئی تھی میں آج بھی اس رات کو یاد کرتا ہوں تو میرے بدن کے ہر عضو سے ایک عجیب خوشبو پھوٹنے لگتی ہے اور میں یقین نہیں کرسکتا کہ میں کبھی وہاں تھا، میں نے ان ہواؤں کو اپنے رخساروں پر محسوس کیا تھا جو چودہ سو برس بیشتر اسی مقام پر رسول اللہ ؐ کے رخساروں کو چھوتی تھیں اور ان نظاروں کو دیکھتا تھا جنہوں نے رسول اللہ ؐ کو اس غار میں عبادت کرتے دیکھا تھا۔

عجیب بات ہے کہ شب بھر مجھے حضرت جبرائیل کا خیال نہ آیا کہ وہ بھی تو یہیں اترے تھے، بس رسول اللہ ؐ کے خیال نے ہر شے سے غافل کردیا!

یہ کالم 2009 میں   ملت نیوز میں شائع ہوا تھا ۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *