• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایم ایم اے کی کامیابیاں اور جماعت اسلامی کی ناکامی۔۔۔ راجہ کاشف علی

ایم ایم اے کی کامیابیاں اور جماعت اسلامی کی ناکامی۔۔۔ راجہ کاشف علی

متحدہ مجلس عمل کا اتحاد 2002ء میں بطور حزب اختلاف ہوا جس کا مقصد پرویز مشرف کی امریکا نواز پالیسی کی مخالفت کرنا تھا، یہ اتحاد دینی جماعتوں کا تھا جس میں جمعیت علمائے اسلام، تحریک جعفریہ پاکستان، جمعیت علمائے اسلام (ف)،جمعیت اہل حدیث اور جماعت اسلامی پاکستان شامل تھے۔
2002ء میں پرویز مشرف کے خلاف بھرپور انداز میں الیکشن لڑا۔ خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں کے علاوہ صوبے کی تمام قومی اسمبلی کی نشستیں جیت لیں اور اسی صوبے میں ان کی صوبائی حکومت بھی بنی۔ اس کے علاوہ سندھ 5، پنجاب میں 3 اور بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 6 نشستیں حاصل کیں۔
قومی اسمبلی کی کل 342 میں سے 63 نشستیں اور سینیٹ میں 100 میں سے 6 نشستیں حاصل کیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس سے قبل کبھی بھی دینی جماعتوں کو انتخابات میں اتنی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ پاکستان کے وہ عوام جو پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے حامی ہیں ان کے نزدیک بڑی ہی پُر اُمید بات تھی اب اسلام پسند قوتیں انتخابی سیاست میں کامیابی کے بعد اس کامیابی کے تسلسل کو برقرار بھی رکھیں گی اور مستقبل میں روایتی سیاسی جماعتوں سے اس ملک کی جان بھی چھوٹ جائے گی۔لیکن متحدہ مجلسِ عمل سے جو امیدیں وابستہ کی گئیں تھی وہ پوری نہ ہو سکیں۔
مشرف دور میں کئی اہم معاملات میں متحدہ مجلسِ عمل اہم فیصلوں کے بارے ميں تذبذب کا شکار رہی۔ سب سے اہم مرحلہ اُس وقت پیش آیا جب 2003 میں مسلم لیگ ق اور ایم ایم اے کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کی رُو سے جنرل پرویز مشرف کومدت صدارت مکمل کرنے دی جائے گئی اور بدلے میں پرویز مشرف چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ چھوڑ دیں گے اور 31 دسمبر 2003 کو فوج سے سبکدوش ہو جائیں گےلیکن پرویز مشرف  اور ایم ایم اے سے کئے گئے وعدے سے صاف مکر گئے۔اس کے بعد جماعت اسلامی نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور پوری قوم سے معافی مانگی ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان اور ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد کے الفاظ ملاحظہ کریں۔۔۔۔
“ہم نے جو قدم اٹھایا پوری ایمان داری سے اٹھایا ،پرویز مشرف نے پوری قوم کے سامنے ٹیلی وژن پر یہ وعدہ کیا کہ وہ دو عہدوں میں سے ایک سے دستبردار ہو جائیں گے ، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ وہ وعدہ خلافی کریں گے لیکن اس نے ہمارے خیال کو غلط ثابت کیا اس لیے ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم نے اس پر اعتماد کیا اس سلسلے میں ہم پوری پاکستانی قوم سے معافی مانگتے ہیں”
شاید 2003 کے اجتماع ارکان جامع لاہور میں قاضی صاحب سے سوال کیا تھا کہ ایم ایم اے کب تک چلے گی؟
تو قاضی صاحب نے فرمایا تھا
“جب تک آپ قربانیاں دیتے رہیں گے”
قاضی حسین احمد مرحوم کی خواہش و کاوشوں سے ایم ایم اے کا اتحاد وجود میں آیا ۔ نیک دلی اور اتحاد بین المسلمین کے جذبہ کے تحت اس اتحاد نے انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔
لیکن کئی اہم واقعات نے ایم ایم اے کے مقاصد کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔

پرویز مشرف کو باوردی صدر قبول کرنا،قاضی صاحب کے مشورے کے باوجود خیبر پختونخوا،اسمبلی کو نہ توڑنا اور ایک بار پھر مشرف کا صدر منتخب ہونا نے ایم ایم اے کی تشکیل پر بھی کئی سوالات اُٹھے۔
جنرل پرویز مشرف پورے دور اقتدار میں اس کی پالیسوں پر جہاں تنقید کی جاتی وہیں متحدہ مجلس عمل پر بھی طنز و تنقید کے نشر برسائے جاتے ہیں۔ مشرف کے بہت سے سیاہ کارنامے ہیں جن میں ایم ایم اے کو بھی حصہ دار سمجھ جاتاہے۔
آئین میں من چاہی تبدیلیاں ، امریکی جنگ کا ہراول دستہ بن جانا، حدود آرڈینیس میں ترمیم، جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر فوجی آپریشن،قومی مفاہمتی آرڈینینس المعروف این آر او،بلوچستان آپریشن، اکبر بگٹی کا قتل،ڈاکڑ عبد القدیر خان کی بے توقیری اور طویل نظر بندی،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا اغوا اور امریکہ کو حوالگی،اسرائیل سے درپردہ روابط، اعتماد سازی کے نام پر بھارت سے دوستی اور ثقافتی روابط۔
جماعت اسلامی نے اپنی ذاتی حیثیت میں آمرانہ طرزِ حکومت کی مخالفت بھی کی لیکن ایم ایم اے مشرف کی امریکہ نواز پالیسی اور داخلی معاملات میں مکمل ناکام رہی۔ اگر ایم ایم اے اپنے منشور کے مطابق رتی برابر بھی کامیاب ہوتی تو آئندہ عام انتخابات کا نتیجہ بائیکاٹ کی صورت میں نہ نکلتا۔ ایم ایم اے کے اس اتحاد نے جماعت اسلامی کی ساکھ  کوشدید نقصان پہچایا۔ 2013 کی عام انتخابات میں جماعت اسلامی اپنی ساکھ بحال کرنے میں ضرور کامیاب ہوئی لیکن تحریک انصاف کے ساتھ صوبے میں اتحاد اور کئی حلقوں میں مسلم لیگ ن کے اتحاد نے پھر نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
یہ آسان ہے کہ ماضی کی ناکام ایم ایم اے کا الزام کسی کی اکثریت پر تھوپ دیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں جماعت اسلامی کے حصے میں کیا آیا؟
جماعت اسلامی سے بغض و عناد رکھنے والے بھی مانتے ہیں کہ اِس جیسی خود احتسابی اور اندرونی جمہوریت رکھنے والی سیاسی جماعت پاکستان میں نہیں تو !
اکابرین جماعت!
جماعت اسلامی کے کریڈیٹ پر ہے کہ ایک عام کارکن امیر جماعت اسلامی بن سکتا!
جماعت اسلامی کے پاس خالصتاً اللہ کی رضائے کے لئے اللہ کی زمین پر اقامت دین کے لئے مخلص کارکن موجود ہیں !
دین کیا؟
ریاست کیا؟
سیاست کیا ؟
معیشت کیا؟
قانون کیا؟
تعلیم کیا؟
ماہرین کی ایک بہترین ٹیم موجود ہے!
تو پھر ان اتحادوں کی ضرورت کیوں؟
آپ جماعت اسلامی میں کسی بھی سطح پر سفارش ، رشوت یا کرپشن کلچر برداشت کر سکتے ہیں؟یا کبھی یہ کسی نے کہا ہو یا سنا ہو کہ کسی صوبے کی امارت کے لئے ووٹ خریدے گئے ہوں؟
دستور جماعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی مرکزی قائد نے اپنے حق میں لابنگ کی ہو؟ایک طرف “کرپشن فری پاکستان” کی مہم چلائی جاتی ہو تو دوسری طرف کسی کرپٹ سیاسی جماعت کے ساتھ کسی بھی سطح پر اتحاد کیوں کیا جائے؟یہ مت کہا جائے کہ فلاں نے فلاں سے اتحاد کیا تھا اور اب یہ اس سے ملاکر یہ کررہا ہے!دو ٹوک اعلان کردیا جائے !ہم چور ہیں نہ چوروں کے ساتھی !ہم کسی کرپٹ اور چور کے ساتھ کسی بھی سطح پر کسی بھی قسم کا اتحاد نہیں کریں گے۔
صاف ، شفاف اور واضح پالیسی !
پھر نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے!
اگر 77 سالوں کی جدوجہد کے نتیجے میں جماعت اسلامی پاکستان میں اپنی حکومت قائم کرنے میں ناکام رہی ہے تو خامی اس پروگرام اور ایجنڈے میں نہیں !خامی اس وجہ سے ہے کہ جو توانائی دوسروں کی راہ دیکھنے میں صَرف ہوئی اُسی میں اپنے دست و باز پر بھروسہ کیا جاتا تو شاید نتائج مختلف ہوتے۔ایم ایم اے کی کسی تخیلاتی کامیابیوں کی آس میں ، موجودہ پالیسوں پر تنقید کرنے والوں پر سیخ پا ہونے کے بجائے جماعت اسلامی کے ہمدردوں کی رائے پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس غور کے نتیجے میں ملک کے آئندہ وزیراعظم جناب سراج الحق کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی کھڑی نہیں ہوگی۔

راجہ کاشف علی
سیاسی اور سماجی تجزیہ نگار، شعبہ تعلیم سے وابستہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *