آئن سٹائن کے شیعہ ہونے کا معمہ۔۔ابنِ حسن

SHOPPING

بعض احباب کو اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کرنے میں اتنی جلدی ہوتی ہے کہ وہ جن دستیاب معلومات کو مسلمانوں کے مواخذے کے لیے بطور سند پیش کررہے ہوتے ہیں انہیں ان معلومات کی صحت کا جائزہ لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی۔ کسی محقق اور دانشور کے مدنظر اگر معاشرے کی کسی فکری گنجلک کو سلجھانا ہو تو غیر جانبدارانہ اور ہمہ جہتی تحقیق ضروری ہوتی  ہے اور اگر مفکر و دانشور کے مدنظر صرف کسی مخصوص طبقے کو تنقیدِ محض یا یوں کہوں تو بہتر ہوگا کہ  تضحیک کا نشانہ بنانا ہو تو تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی بس الفاظ اور اصطلاحات کے ساتھ کھیلنے کا فن کافی رہتا ہے۔

چند رو ز پہلے ایک  صاحب نے مکالمہ ویب   پر “آیت اللہ کے لیے آئن سٹائن شیعہ اور ڈارون کافر ہے۔۔۔۔۔۔۔” کے عنوان کے تحت ایک مضمون  شائع ہوا۔ لفظ آیت اللہ شیعہ مذہب کے مجتہدین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شیعہ مذہب میں مجتہدین کو مذہبی اتھارٹی کا مقام حاصل ہے۔ اس حوالے سے کیونکہ مضمون نگار کی معلومات انتہائی ناقص تھیں لہذا ضروری سمجھا کچھ وضاحت پیش کی جائے۔

مضمون نگار کے بقول شیعہ مجتہد آیت اللہ حسین بروجردی کے پوتے آیت اللہ علوی بروجردی نے ایک شوشہ چھوڑا اور آئن سٹائن کو شیعہ مسلمان قرار دیا ہے۔ اور اس پر مضمون نگار نے “جناب شیخ اور جھوٹ؟” کی سرخی کے ساتھ تڑکا بھی لگایا۔ مضمون نگار کے بقول یہ مسلمانوں کے اس احساس کمتری کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے جس کا وہ انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بطور مسلمان کردار ادا کرنے سے ناکام رہنے پر شکار ہیں۔ مضمون نگار کے بقول آیت اللہ صاحبان اپنے علمی دائرہ کار سے باہر سائنس اور دیگر علوم کے دائرہ کار میں مداخلت کرتے اور اس علم میں صاحب رائے نہ ہونے کی وجہ  سے نا صرف خود خطا کا شکار ہوتے بلکہ معاشرے کو گمراہ کرتے ہیں، مضمون نگار کے بقول: اور اس پر آیت اللہ صاحبان کو روکنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ مختلف علوم کے ماہرین اپنی جان کی امان کی خاطر ایسے موضوعات میں آیت اللہ صاحبان کو چیلنج نہیں کرتے۔

مضمون نگار نے اپنے مضمون میں آیت اللہ مہدوی کَنی کے ایک ویڈیو کلپ کا تذکرہ بھی کیا جس میں آیت اللہ مہدوی کَنی کو کسی کتاب کی جانب اشارہ کرتے سنا جاسکتا  ہے اور جس میں وہ اس کتاب کے حوالے سے آئن سٹائن کے مسلمان ہونے اور مکتب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے متاثر ہونے کی بات کرتے ہیں اور اسی کتاب کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آئن سٹائن مادہ کی جوہری حرکت کے حوالے سے اسی نظریے پر پہنچے ہیں جس پر معروف مسلمان فلاسفر ملا صدرا پہنچے تھے۔ مضمون نگار کے بقول آیت اللہ مہدوی کَنی نے یہاں اپنے علمی دائرے (علم دین) سے فروتر قدم رکھا اور اشتباہ کا شکار ہوئے ہیں اور پھر اس پر مضمون نگار نے آیت اللہ صاحبان کا اپنے مخصوص انداز میں مواخذہ فرمایا ہے۔

مزید برآں یہ کہ مضمون نگار نے اپنے مضمون میں اسی حوالے سے آیت اللہ صافی گلپائیگانی اور آیت اللہ علوی گرگانی کا بھی حوالہ دیا کہ انہوں نے بھی آئن سٹائن کے مسلمان اور شیعہ ہونے کی تصدیق کی اور مضمون نگار کو ان حضرات کے اتنے بڑے جھوٹ کے باوجود مقام مرجعیت پر فائز رہنے پر بھی تعجب ہے۔ مضمون نگار نے حوزہ علمیہ کے چند خوردہ موضوعات کی جانب بھی اشارہ کیا اور انہیں اپنے اس موقف کی دلیل بنایا کہ حوزہ علمیہ خرافات اور اس طرح کی مضحکہ خیز باتوں سے بھرا ہے جن کی کوئی علمی حیثیت نہیں ہے۔ اور آخر میں مضمون نگار پاکستانی شیعوں کو نصیحت کرتا بھی نظر آتا ہے۔

مضمون نگار کی باتوں کو اگر خلاصہ کرنا چاہیں تو مضمون نگار کے بقول:

شیعہ مراجع کرام کے نزدیک آئن سٹائن آیت اللہ حسین بروجردی کے ساتھ خط و کتابت کے ذریعے رابطے میں تھا اور مکتب امام جعفر صادق علیہ السلام سے متاثر ہوکر شیعہ ہوگیا تھا۔

مضمون نگار کے بقول شیعہ مراجع کا بالخصوص اور عام مسلمانوں کا بالعموم غیر مسلم سائنسدانوں یا دانشوروں کو مسلمان ثابت کرنے کی  کوشش ان کے احساس کمتری کی علامت ہے۔

مضمون نگار کے بقول شیعہ مراجع کے نزدیک آئن اسٹائن ملا صدار کے جوہری حرکت کے نظریے کو دریافت اور اس سے متفق ہوچکے تھے اور آئن سٹائن نے نبی مکرم اسلام (ص) کے معراج کے واقعہ کو اپنے نظریہ نسبیت کے ذریعے ثابت کیا ہے اور علما اسے الہیات کے لیے ایک افتخار سمجھتے ہیں۔

مضمون نگار کے بقول علماء الہیات کو ثابت کرنے کے لیے سائنسی اور تجربی علوم کی ادلہ کا سہارا لیتے اور کیونکہ ان علوم پر تسلط نہیں رکھتے لہذا بقول مضمون نگار مضحکہ خیز آراء سامنے آتی ہیں۔

اب دیکھتے ہیں مضمون نگار کے یہ دعوے کس حد تک درست اور مضمون نگار کے شیعہ مکتب فکر کی دینی اتھارٹی “مرجعیت” پر الزام کی حقیقت کیا ہے۔ کیا حقیقت میں شیعہ مراجع کرام دین کی حقانیت کے اثبات کے لیے اس طرح کی غیر مصدقہ اور غیر ضروری باتوں کا سہارا لیتے ہیں؟۔ اور کیا حقیقت میں مسلمان کسی احساس کمتری کا شکار ہیں جس کے لیے وہ دنیا کے عظیم سائنسدانوں کو مسلمان ثابت کرنے میں کوشاں رہتے ہیں؟

شیعہ فقہاء اور علما معمولا علم و مباحثے کی غرض سے غیر شیعہ اور غیر مسلمان دانشوروں اور سائنسدانوں سے خط و کتابت یا دیگر ممکنہ ذرائع ارتباط سے رابطے میں رہتے اور ان کی علمی دریافتوں، فلسفی نظریات سے مستفید اور اس حوالے سے بحث و مباحثہ میں مشغول رہتے ہیں۔ شیعہ فقہاء کے درمیان یہ ایک عام روایت ہے۔ بطورِ مثال معروف شیعہ فقیہ اور فلاسفر آیت اللہ محمد تقی جعفری کے ڈاکٹر عبدالسلام اور برٹرینڈ رسل سمیت تقریباً ۱۴۰ مسلمان و غیر مسلمان سائنسدانوں اور دانشوروں کے ساتھ علمی مباحثے اور مکاتبات درست سند کے ساتھ کتابی شکل میں چھپ چکے ہیں۔ آیت اللہ حسین بروجردی بھی اپنے زمانے میں متعدد غیر مسلمان دانشوروں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے رہے اور ان کی ویب سائٹ پر ان مباحث یا مکاتبات کی مکمل تفصیل موجود ہے۔

چند سال پہلے ایک افواہ پھیلی کہ آیت اللہ حسین بروجردی آئن سٹائن کے ساتھ بھی رابطے میں تھے اور ان دونوں شخصیات کے درمیان تقریباً 40 مکاتبات کا ردوبدل ہوا اور بعد ازاں آئن سٹائن شیعہ ہوگیا تھا۔ اس حوالے سے چند جعلی تصویریں اور ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں۔ اسی اثناء میں جب آیت اللہ حسین بروجردی کے پوتے آیت اللہ علوی بروجردی سے اس بابت دریافت کیا گیا تو انہوں نے اپریل 2012 میں اس امر کی تردید کی اور کہا آیت اللہ حسین بروجردی آئن سٹائن کے ساتھ براہ راست کسی قسم کے رابطے میں تھے نہ ایسا کوئی خط یا ثبوت ہمارے پاس ہے۔ ان کے بقول آیت اللہ بروجردی اور آئن سٹائن کے درمیان رابطے کی جو واحد سند ہے وہ صرف ایک واسطے کے ذریعے سلام دعا کے تبادلے کی سند ہے۔

آیت اللہ علوی بروجردی کے بقول ایران کے معروف ریاضی دان پروفیسر حسابی مرحوم جو ایک یا دو دفعہ آئن سٹائن سے ملے تھے البتہ چونکہ بطور ایک ماہر ریاضیات آئن سٹائن کے نظریات سے آشنا تھے جب قم آئے تو اس دوران آیت حسین بروجردی نے انہیں بلایا اور ان سے آئن سٹائن کے نظریہ نسبیت کی تفصیل پوچھی۔ پروفیسر حسابی کے بتانے پر آیت اللہ حسین بروجردی نے پروفیسر حسابی کو کہا: دوبارہ جب آئن سٹائن سے ملنے جائیں ان کو میرا سلام کہنا اور اس بات پر مبارکباد دینا کہ انہوں نے طبیعیات سے مابعدالطبیعیات کا ایک دریچہ کھولا ہے۔

آیت اللہ علوی بروجردی کے بقول آئن سٹائن اور آیت اللہ حسین بروجردی کے درمیان اس سلام دعا کے تبادلے کے علاؤہ کسی قسم کا کوئی رابطہ یا مکاتبہ ثابت نہیں ہے اور جیسے آئن سٹائن انسانی معاشرے کا ایک عظیم سرمایہ اور نابغہ روزگار تھے اور اسی طرح آیت اللہ حسین بروجردی اپنے زمانے کی ایک استثنائی علمی شخصیت تھے ان دو بزرگوں کے بارے ایسی کوئی رائے قائم کرنے کے لیے ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہے جو اس گھڑی تک دستیاب نہیں ہیں۔

آیت اللہ علوی بروجردی کے اس حوالے سے انٹرویو پڑھنے کے لیے اس  لفظ پر کلک کیجیے  ،انٹر ویو

مضمون نگارنے جس بات کی نسبت آیت اللہ علوی بروجردی کی طرف دی وہ ان کے اس تفصیلی انٹرویو سے جھوٹ ثابت ہوجاتی  ہے اور ایک جھوٹے افسانے کی بنیاد پر کسی دینی اتھارٹی کا مواخذہ بہرصورت ایک ذمہ دار محقق کو زیب نہیں دیتا۔ مضمون نگار نے جتنا زور اہل دین کو احساس کمتری کا شکار ثابت کرنے پر لگایا اگر اس سے کم محنت حقائق کی جستجو میں لگا لیتے تو وہ اس حقیقت تک ضرور پہنچ جاتے کہ یہ ایک جھوٹی داستان ہے جس کی اس گھڑی تک تمام متعلقین تردید کرچکے ہیں۔ اس جھوٹی داستان میں اس صدی کے ایک عظیم سائنسدان، ایک عظیم شیعہ مرجع تقلید اور چند فرضی شیعہ کرداروں کوشامل کیا گیا تھا جس داستان کی علمی لحاظ سےکوئی اہمیت نہیں ہے۔

جہاں تک تعلق مضمون نگار کی جانب سے شئیر کیے  جانے والے اس ویڈیو کلپ کا  ہے ،جس میں آیت اللہ مہدوی کَنی کسی کتاب کے ریفرنس سے آئن سٹائن کے شیعہ ہونے یا اس کے نظریے نسبیت کی جانب اشارہ کررہے ہیں تو عرض ہے وہ چیز جو اس دستیاب مختصر کلپ سے ثابت ہے وہ نقلِ قول ہے۔ آیا آیت اللہ مہدوی کنی اس قول کی تصدیق بھی کرتے ہیں؟۔ یہ اس دستیاب کلپ سے ثابت نہیں ہے۔ چند سال قبل جب یہ داستان گھڑی گئی توایک فرضی شیعہ کردار ڈاکٹر ابراہیم مہدوی  نے آئن سٹائن کے ایسے ہی چند مکاتبات پر مشتمل ایک رسالے کی جانب اشارہ کیا جسے اس کے بقول آین سٹائن نے ۱۹۵۴ میں تدوین کیا تھااوراس فرضی مصنف نے آئن سٹائن سے منسوب اس رسالے میں سے ایک مکتوب ۲۰۰۳ میں شائع کیا تھا۔ مہدوی کنی کا اشارہ اسی مصنف کے اسی مکتوب کے متن کی جانب تھا۔

وہ چند جملےجو آیت اللہ مہدوی کنی مذکورہ کلپ میں بول رہے ہیں وہ عینا اس محقق کی جانب سے شائع مکتوب کا متن ہے۔ دستیاب مختصر کلپ سے یہ ہرگز مطلب نہیں نکلتا کہ آیت اللہ مہدوی کنی ان جملوں  کو فرضی مصنف کے موقف کی تائید میں بول رہے ہیں ۔ بلکہ قوی احتمال ہے آیت اللہ نے صرف نقل ِقول کے طور پر بولے یا کسی احتمال کی بنا پر بات کی ہو۔ اس کی وضاحت پورا کلپ ملاحظہ کرنے سے ہی ہو سکتی ہے جو مضمون نگار نے بہرحال پیش نہیں کیا اور عین ممکن ہے مضمون نگار نے پورا کلپ سننے کی زحمت کی بھی نہ ہو اور صرف اپنے مطلب کی دو سطریں معاند ویب بلاگز سے اٹھا کر ایک مضمون کی عمارت کھڑی کردی ہو۔

مضمون نگار نے شیعہ علما سے جو چند دیگر نسبتیں دی ہیں ان کی حقیقت بھی مضمون نگار کے اسی دعوے جیسی ہے جس میں وہ آیت اللہ علوی بروجردی کی جانب ایک جھوٹ کی نسبت دیتا ہے۔ بطور مثال جہاں مضمون نگار آیت اللہ ناصر مکارم کے اعجاز قرآن کی جانب اشارہ کرتے ہیں وہاں یہ جاننے کی زحمت نہیں کرتے کہ جو کتاب حوزہ علمیہ کہ ابتدائی کلاسز میں بطور نصاب پڑھائی جاتی ہے وہ ڈاکٹر رضائی اصفہانی کی ہے، آیت اللہ ناصر مکارم کی اعجاز قرآن پر مشتمل کوئی کتاب حوزہ علمیہ کے ابتدائی نصاب میں شامل نہیں ہے۔ البتہ ناصر مکارم کی تفسیر نمونہ کو علم قرآن سے شغف رکھنے والی اکثریت پہچانتی ہے۔ اسی طرح کسی عقل مند نے کبھی آیت اللہ تبریزیان کی طب نبوی کو جدید طب کا نعم البدل قرار نہیں دیا ہے۔ ہر دو علوم کی اپنی ڈومین اور اپنی اہمیت ہے۔

خلاصہ کلام:

آئن سٹائن کے شیعہ ہونے کی افواہ کئی سال پہلے پھیلائی گئی تھی البتہ اس پاکستانی مضمون نگار تک اس کی اطلاع چند سال کی تاخیر سے ابھی پہنچی ہے؛ اور انہی اوائل میں مختلف دلائل کی بنیاد پر متعلقہ افراد کی جانب سے اس افواہ کی تکذیب کردی گئی تھی جو شاید  اِن صاحب  تک نہیں پہنچی یا وہ اس داستان کی تردید کو جان بوجھ کر نظر انداز کررہے ہیں۔

آئن سٹائن کے شیعہ ہونے کی جھوٹی داستان دنیا کی نامور شخصیات کو شیعہ قرار دینے اور شیعہ علما و فقہا کو اس کا واسطہ قرار دینے کی سازش کی ایک کڑی تھی اور اس سازش کا اصلی کردار فرضی نام کا فارسی ویب بلاگر  سکندر جہانگیری ہے جو آئن سٹائن کے علاوہ نیلس بوہر اور الیگزینڈر فلیمنگ وغیرہ کو بھی شیعہ قرار دے چکا ہے۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے غیر ضروری طور پر دنیا کی نامور شخصیات کو شیعہ قرار دینے اور اسے شیعہ علما سے جوڑنے کا مقصد شیعہ علما اور مذہب کو بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مذہبِ اہل بیت علیہم السلام ماضی اور حال میں ایسے عظیم علمی مفاخر کا حامل رہا ہے کہ اسے اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لیے ایسی غیر مصدقہ اور جھوٹی داستانوں کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

شیعہ علما طول تاریخ میں علمی تخصص اورعلمی ارتقا کے قائل رہے اور کبھی کوئی حقیقی شیعہ عالم دین علم کے کسی خاص طبقے میں محدود ہونے کا قائل نہیں رہا ہے۔

علمائے دین اس سے قبل کہ الہیات کو سائنسی و تجربی دلیل یا نظریات سے ثابت کریں الہیات کو عقلی و نقلی ادلہ کی بنیاد پر ثابت کرتے ہیں۔ اور جہاں تک مضمون نگار کی اس بات کا تعلق کہ مسلمان کسی احساس کمتری کا شکار ہیں کیونکہ انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ان کا کوئی کردار نہیں رہا ہے تو یہ ایک سخنِ فضولی سے بڑھ کر کچھ نہیں؛ مسلمانوں کے انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کردار پر مغربی و مشرقی اہل علم نے متعدد کتابیں لکھی ہیں اگر مضمون نگار اپنی کسی فکری گنجلک کو سلجھانا چاہتے ہیں تو مطالعہ کریں اور اگر صرف تنقید محض سے دل بہلانا چاہتا ہیں  تو ان کی مرضی۔ انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی اور انسانی تہذیب و تمدن کی تشکیل میں اسلام اور مسلمانوں کے کردار کے عنوان سے صرف چند مغربی مفکرین کے اقوال پر اکتفا کروں گا،امید ہے مضمون نگار کی یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی کہ مسلمانوں کا انسانی معاشرے کی تعمیر  و ترقی میں کوئی کردار نہیں رہا ہے۔

برطانوی ریاضی دان اور فلاسفر Alfred North Whitehead اپنی کتاب adventures of ideas میں لکھتے ہیں کہ دنیا میں دو ہی تمدن تھے، اسلامی تمدن اور Byzantine تمدن۔ اسی کتاب میں وہ کہتے ہیں “مسلمانوں نے خود حرکت کی، انہوں  نے ریاضی میں تحول لایا، طبیعات، تجارت، کیمیا اور دیگر علوم میں تحول ایجاد کیا، بنیادی انسانی تمدن کی تشکیل مسلمانوں کی مرہون منت ہے”۔

آئرش سائنسدان J. D. Bernal اپنی کتاب سائنس اِن ہسٹری میں لکھتے ہیں۔ آغاز سے ہی اسلام کو علم و دانش کا دین شمار کیا جاتا تھا۔ وہ اپنی اسی کتاب میں مزید کہتے ہیں کہ اسلام یورپ اور ایشیا کے علم کا سنگم تھا۔ جس کیوجہ سے جدید ایجادات ممکن ہوئیں جن سے یونانی صنعت آشنا تھی نہ رومی۔ اس کے بقول اس حوالے سے ابریشمی کاغذ سازی کی صنعت، فولاد کی صنعت اور چینی کے برتنوں کی صنعت کا نام لیا جاسکتا ہے۔ اس کے بقول ان مصنوعات نے مزید ترقی کی بنیاد فراہم کی جس کے باعث مغرب میں بھی علمی حرکت شروع ہوئی جو سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی کے انقلاب پر منجر ہوئی۔

مضمون نگار کی اس مضحکہ خیز بات کہ “انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں رہا ہے لہذا وہ احساس کمتری کا شکار ہیں” اس پر بہت زیادہ بات ہوسکتی ہے لیکن مضمون پہلے ہی کافی طویل ہوگیا ہے؛ مضمون نگار کو Phillip Frank کی زبان سے جواب دے کر اپنا مضمون ختم کرتے ہیں۔ فیلیپ اپنی کتاب philosophy of science میں لکھتا ہے کہ قروں وسطی میں انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں سے زیادہ کسی قوم نے انسانیت کی خدمت نہیں کی ہے۔

اس حوالے سے اگر مضمون نگار کوئی منصفانہ رائے قائم کرنا چاہتے ہیں تو غیر جانبدار اور غیر متعصب مورخینِ علم کے آثار کی جانب رجوع کریں۔ اگر زیادہ نہیں تو اس حوالے سے اسکاٹش تاریخ دان W. Montgomery Watt کی اس موضوع پر کوئی ایک کتاب خصوصاً The Influence of Iaslam on Medieval Europe پڑھ لیں تو یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی کہ مسلمانوں کا انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں چونکہ کوئی کردار نہیں رہا لہذا وہ احساس کمتری کا شکار اور وہ دنیا کے عظیم غیر مسلمان دانشوروں کو زبردستی مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

SHOPPING

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آئن سٹائن کے شیعہ ہونے کا معمہ۔۔ابنِ حسن

  1. معلوم نہیں آپ نے جھوٹ کا سہارا لیوں لیا؟ بہر حال کچھ نکات کی وضاحت کئے دیتا ہوں:۔

    آپ نے فرمایا کہ ” آیت اللہ حسین بروجردی بھی اپنے زمانے میں متعدد غیر مسلمان دانشوروں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے رہے اور ان کی ویب سائٹ پر ان مباحث یا مکاتبات کی مکمل تفصیل موجود ہے“۔

    آپ کا اشارہ غالباً اسی ویب سائٹ کی طرف ہے جس کا لنک میرےسابقہ مضمون میں موجود مدرسۃ القائم کی شائع کردہ ویڈیو میں دیا گیا ہے۔ یہ ویب سائٹ آیت الله بروجردی کے پوتے آیت الله علوی بروجردی کے زیر سایہ چل رہی تھی۔ اس  آفیشل ویب سائٹ سے آئن سٹائن کے آیت الله بروجردی سے رابطے اور اس کے شیعہ ہونے کی افواہ  تقریباً دس سال پہلے نشر کی گئی تھی۔ البتہ اب وہ ویب سائٹ بند کر کے آیت الله علوی بروجردی کے اپنے نام سے نئی ویب سائٹ بنائی گئی ہے۔آپ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ :

    ” چند سال پہلے ایک افواہ پھیلی کہ آیت اللہ حسین بروجردی آئن سٹائن کے ساتھ بھی رابطے میں تھے اور ان دونوں شخصیات کے درمیان تقریباً 40 مکاتبات کا ردوبدل ہوا اور بعد ازاں آئن سٹائن شیعہ ہوگیا تھا۔ اس حوالے سے چند جعلی تصویریں اور ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں“۔

    یہاں آپ  نے   یہ تاثر دیا ہے کہ جیسے اس افواہ کا منبع معلوم نہیں۔ منبع آیت اللہ بروجردی کی آفیشل ویب سائٹ تھی اور اسی لیے اس معاملے پر حکومت نے کوئی تحقیقات نہیں کیں، حالانکہ اس  کی وجہ سے، آپ ہی کے الفاظ میں، ”مخصوص طبقے کو تنقیدِ محض یا یوں کہوں تو بہتر تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے“۔  لہٰذا اس کو یوں لکھنا چاہئیے تھا کہ : ”چند سال پہلے  آیت اللہ حسین بروجردی  کی آفیشل ویب سائٹ نے یہ افواہ پھیلائی کہ مرجع عالی قدر آئن سٹائن کے ساتھ بھی رابطے میں تھے اور ان دونوں شخصیات کے درمیان تقریباً 40 مکاتبات کا ردوبدل ہوا اور بعد ازاں آئن سٹائن شیعہ ہوگیا تھا“۔

    معاملہ یوں ہے کہ دینی حلقوں، خصوصا مراجع کے ہاں، راوی کی بہت اہمیت ہے۔ اگر اس کی صحت اچھی ہو تو وہ  جتنی بھی جاہلانہ بات کرے،  قبول کر لی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے جب یہ بات آیت اللہ  بروجردی کی آفیشیل ویب سائٹ سے نشر ہوئی تو مدارس میں پھیل گئی، یہاں تک کہ دو مراجع اور شورائے نگہبان کے سربراہ نے بھی اس روایت کو نقل فرمایا۔

    البتہ آیت الله کی آفیشل ویب سائٹ نے اتنا بڑا جھوٹ بول دیا تھا جو تقدس کے جامے میں چھپا نہ رہ سکا۔ اس کے باوجود تعلیم یافتہ طبقے کی طرف سے زیادہ اچھالا نہیں گیا جس کی وجوہات بیان ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ بات عوام کے ہضم کرنے کی بھی نہ تھی، کچھ زیادہ ہی ہو گیا تھا۔ چنانچہ کچھ اہلِ درد نے دو سال بعد آیت الله علوی بروجردی کا انٹرویو کر کے ڈیمج کنٹرول کی کوشش کی ،  جس کا مقصد اس بڑے جھوٹ کی جگہ ایک چھوٹا جھوٹ پیش کرنا تھا جو تقدس کے جامے میں پورا بھی آسکے۔  لیکن حوزہ علمیہ قم کی تقدس سے بھری فضا میں وہی پرانا جھوٹ چلتا رہا ، اور اسی کو مزید دو سال بعد، 2014ء میں آیت الله مہدوی کنی نےپورے یقین کے ساتھ  نقل کر دیا، جس کے بعد  ”دشمن“ کے  اخبارات نے ایران میں رہبر کے بعد دوسری اہم ترین مذہبی شخصیت کا  کافی مذاق اڑایا۔ معاملے کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں ۔

    پاکستان میں تو مدرسۃ القائم  وغیرہ جیسے شیعہ مدنی چینلز نے اس کو 2013ء میں ہی پھیلانا شروع کر دیا تھا۔کچھ عرصہ پہلے مکالمہ پر بھی ایک عزیز  نے ان باتوں کو ایک مضمون کی شکل میں پیش کیا تھا۔ بات اتنی نہ پھیلتی تو میں اس کی وضاحت ضروری نہ سمجھتا۔   اس سارے طوفانِ بدتمیزی  کے جواب میں علماء نے ہاں میں ہاں ملائی اور اگر کسی نے اختلاف کیا بھی تو   رابطے کی تصدیق کر کے بڑے جھوٹ کو چھوٹے جھوٹ سے بدل دیا۔ میرے مضمون پر اعتراض کرنے والوں کو بھی ان اصلی جھوٹوں سے کبھی  کوئی اختلاف رہا بھی تو اس کا اظہار نہیں کیا۔پاکستان میں ذاکرین کے درمیان اہل بیت کے بارے میں جس قسم کا غلو رائج ہے، وہی قم پلٹ علماء کے ہاں مراجع کے بارے میں رائج ہے، جو وہ قم و نجف سے ہی سیکھ کر آتے ہیں۔  لہذا یہ نہ سمجھیں کہ یہ باتیں جو مقامی علماء کر رہے ہیں ، آیت  اللہ صاحبان  کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس معاملے میں اتحاد بین المسالک دیکھنے کو ملتا ہے۔ یعنی اگر دیوبندیوں کے ہاں یہ مشہور ہے کہ مولانا احمد علی لاہوری لوگوں کا باطن دیکھ لیتے تھے تو شیعوں میں یہی بات آیت اللہ بہجت کیلئے مشہور ہے۔ اور بھی بہت سے مقدس جھوٹ دینی حلقوں میں مشہور ہیں۔آج بھی بے شمار لوگ مانتے ہیں کہ معروف دیوبندی خطیب  مولانا عطا الله بخاری جب قرآن پڑھتے تو سانپ اور پرندے بھی رک جاتے تھے۔ کچھ سال پہلے مولانا خادم رضوی نے ممتاز قادری کی قبر سے تلواروں کے ظاہر ہونے کا ذکر کیا  تھا۔   تعلیم یافتہ طبقے میں اس کو ایک معمول کے طور پر لیا جاتا ہے۔ علماء کے جھوٹے فضائل اتنے زیادہ ہیں اور تعلیم یافتہ حلقوں کیلئے اپنے کرنے کا کام اتنا زیادہ ہے کہ ہر ایک جھوٹ کو لے کر اس کا علمی تجزیہ عوام کے سامنے پیش کرنے کا وقت نہیں ہوتا، اور ان کو ایک لائٹ جوک کی طرح لیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب علمائے دین کی تضحیک کرنا نہیں ہے۔ اسلامی آداب و رسوم کا علم بہر حال انہی کے پاس ہے۔اگر کوئی تعلیم یافتہ شخص اپنی مذہبی ثقافت سیکھنا چاہے تو وہ علمائے دین کے پاس ہی جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی تعلیم یافتہ شخص  کو اچھی موسیقی سننا ہے تو پرویز ہودبھائی صاحب کے بجائے راحت فتح علی خان صاحب ہی اس کا انتخاب ہو نگے۔  لیکن باقی باتوں میں اہل عقل و دانش  ”مغرب زدگی“ کے طعنےسننے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔کاش ہمارے ہاں آٹھویں کلاس کے بعد اسلامیات کی جگہ منطق کا مضمون پڑھایا جائے تو ان اندھیروں سے نجات ملے۔

    جیسا کہ ہمیشہ ہوتا  آیا ہے کہ علماء جہالت کا تیر چلا کر کمان چھپا دیتے ہیں، مگر ذاکرین یا خطباء اس تیر  کو اٹھائے پھرتے ہیں اور جب اس کی جہالت عوام کے سامنے آجاتی ہے تو علماء کہتے ہیں کہ یہ تو ذاکرین نے چلایا تھا۔ لعن طعن کسی ضمیر اختر نقوی کے حصے میں آتی ہے۔ اب یہ جھوٹ بھی دو سال سے ذاکرین کے کندھوں پر ہے،  اس محرم کی مجالس میں اس کا ذکر ہوا ۔   کچھ عرصے بعد آیت الله علوی بروجردی پیچھے سے غائب ہو جائیں گے اور یہ پاکستان بھر کے منبروں پر گونج رہا ہو گا۔ پھر یہی ”مدافع ِمرجعیت “ علماء کہیں گے کہ یہ دیکھو یہ جاہل ذاکر تمھارے بچوں کی منطق کو خراب کر رہے ہیں، ہمیں چندہ دو تا کہ ہم  جدید مدارس قائم کر کے اس جہالت کو ختم کریں اور  عقلی   علوم پڑھائیں۔  جبکہ ذاکرین کی جہالت کا منبع تو ماضی کے علماء ہی   ہیں۔ نئے نعروں سے بننے والے  مدارس میں  بھی کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا معاملہ ہوتا ہے۔ اس طرح اس  دائرے کا سفر کبھی پورا نہیں ہو گا۔ اس سلسلے کو کہیں تو رکنا چاہئیے۔

    آگے چل کر آپ لکھتے ہیں:

    ” آیت اللہ علوی بروجردی کے بقول ایران کے معروف ریاضی دان پروفیسر حسابی مرحوم جو ایک یا دو دفعہ آئن سٹائن سے ملے تھے البتہ چونکہ بطور ایک ماہر ریاضیات آئن سٹائن کے نظریات سے آشنا تھے جب قم آئے تو اس دوران آیت حسین بروجردی نے انہیں بلایا اور ان سے آئن سٹائن کے نظریہ نسبیت کی تفصیل پوچھی۔ پروفیسر حسابی کے بتانے پر آیت اللہ حسین بروجردی نے پروفیسر حسابی کو کہا: دوبارہ جب آئن سٹائن سے ملنے جائیں ان کو میرا سلام کہنا اور اس بات پر مبارکباد دینا کہ انہوں نے طبیعیات سے مابعدالطبیعیات کا ایک دریچہ کھولا ہے۔ آیت اللہ علوی بروجردی کے بقول آئن سٹائن اور آیت اللہ حسین بروجردی کے درمیان اس سلام دعا کے تبادلے کے علاؤہ کسی قسم کا کوئی رابطہ یا مکاتبہ ثابت نہیں ہے اور جیسے آئن سٹائن انسانی معاشرے کا ایک عظیم سرمایہ اور نابغہ روزگار تھے اور اسی طرح آیت اللہ حسین بروجردی اپنے زمانے کی ایک استثنائی علمی شخصیت تھے ان دو بزرگوں کے بارے ایسی کوئی رائے قائم کرنے کے لیے ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہے جو اس گھڑی تک دستیاب نہیں ہیں“۔

    اگرچہ آپ نے آیت الله علوی بروجردی کے انٹرویو کا جو حصہ پیش کیا ہے وہی اس انٹرویو کے ”چھوٹا جھوٹ“  ہونے کو ظاہر کر رہا ہے جس کا مقصد بڑے جھوٹ کا ڈیمج کنٹرول کرنا ہے، لیکن ترجمہ کرتے وقت بھی آپ نے  فلٹر کا استعمال کیا ہے ، مثلا ًآیت الله کی جانب سے ڈاکٹر حسابی کو آئن سٹائن کا شاگرد قرار دینے کا ذکر پی گئے۔ آیت اللہ نے ڈاکٹر حسابی پر یہ بہتان بھی باندھا ہے کہ انہوں نے صرف ان کو بتایا کہ وہ آئن سٹائن اور آیت اللہ بروجردی سے قریبی تعلقات رکھتے تھے۔ آفیشیل ویب سائٹ پر نشر کئے گئے جھوٹ کے بعد آیت اللہ  اس رابطے کے سرے سے نہ ہونے  کا اقرار تو نہیں کر سکتے تھے، لہذا خود کو راوی بنا دیا۔انٹرویو لمبا ہے لیکن پہلے دو سوالوں کے جوابات میں ہی آیت الله کئی جھوٹ بولے ہیں۔  یہاں میں ان کو ہو بہو لکھ دیتا ہوں، قارئین کسی  اعتماد والے فارسی دان  سے ترجمہ کروا کر خود تسلی کر لیں۔ ویسے بھی کیا پتا کچھ سالوں بعد یہ انٹرویو ان کی نئی ویب سائٹ سے ہی غائب ہو جائے:

    [پرسش: لطفاً چگونگی ارتباط حضرت آیت‌الله العظمی بروجردی (قدس سره) با آقای انیشتین را بیان فرمایید.

    پاسخ: جناب آقای انیشتین و آیت‌الله العظمي بروجردی با یکدیگر به طور مستقیم ارتباط نداشته اند؛ نه آقای انیشتین به ایران آمده و نه آیت‌الله العظمي بروجردی به آمریکا رفته بودند؛ اما یک رابط قوی بین آن دو وجود داشت و آن، آقای پرفسور حسابی بود. ایشان از یک سو شاگرد انیشتین بود و با ایشان ارتباط داشت و از سوی دیگر، از ارادتمندان و علاقه‌مندان به آیت‌الله العظمي بروجردی بود و بسیار خدمت ایشان می آمد. اینجانب هم، چه در تهران و چه در قم، با دکتر حسابی در ارتباط بودم و خدمت ایشان می رسیدم.

    پرسش: حضرت آيت‌الله علوي، آیا قرائن و شواهدی دال بر این ارتباط وجود دارد؟

    پاسخ: در همان ایام ـ حدود 42 سال قبل ـ پیش از آنکه بحث ارتباط آیت‌الله العظمي بروجردی و انیشتین مطرح شود، آقای دکتر حسابی جریانی را در این رابطه برای بنده بیان کردند. ایشان گفتند: «پس از آنکه نظریه نسبیت انیشتین در محافل علمی مطرح شده بود، روزی خدمت آیت‌الله العظمي بروجردی رسیدم. ایشان از من درباره این نظریه توضیح خواستند و بنده هم این نظریه را به طور مبسوط شرح دادم. آیت‌الله العظمي بروجردی سؤالات دقیقی می پرسیدند و من هم جواب می دادم. وقتی مطلب تمام شد، به من فرمودند: سلام مرا به آقای انیشتین برسان و بگو شما موفق شدید از فیزیک روزنه ای به متافیزیک باز کنید». آقای پرفسور حسابی دقیقاً همین تعبیر را از آیت‌الله العظمي بروجردی مطرح کردند. این داستان دلالت می کند که بین انیشتین و آیت‌الله العظمی بروجردی، از طریق دکتر حسابی، ارتباطی   هرچند در حد پیغام  بوده است؛ اما درباره مسلمان و شیعه شدن آقای انیشتین ـ که بعدها مطرح شد  اطلاع دقیق و قابل اثباتی نداریم.

    انیشتن اگر بیشتر عمر می‌کرد، شاید بسیاری از مسائل را باز می کرد. امیدواریم دوباره مغز متفکری همچون او شکل بگیرد و کارهای او را دنبال کند و به قول آیت‌الله العظمي بروجردی، از عالم فیزیک به ماورای ماده راه یابد. اگر ماده ورایی داشته باشد، علمِ به ماده نیز باید به ماورای ماده منتهی شود. اساساً شناخت کامل، به آن سوی ماده پر می کشد. توجه به ماورای ماده، مسئله‌ای است که نمی‌توان با یک احتمال کوچک، آن را از انیشتین نفی کرد. چنین رایحه ای در بسیاری از دانشمندان بزرگ استشمام می شود؛ اما اینکه انیشتین در این زمینه به چه مرتبه‌ای رسیده است، باید بررسی و اثبات شود.]

    کیا ان دعوؤں  کی کوئی بنیاد ہے؟ یا یہ عقلی طور پر قابل قبول ہیں؟ ڈاکٹر محمود  حسابی 1903ء میں ایران میں پیدا ہوئے۔ البرٹ آئن سٹائن نے اپنا نظریۂ نسبیت 1905ء میں پیش کیا ۔ یہ نظریہ گذشتہ کئی عشروں سے جاری اس بحث کا خاتمہ تھا، جو میکسوئل اور نیوٹن کی تھیوریز کے باہمی تعامل کے بارے میں جاری تھی۔ آیت اللہ بروجردی کی عمر اس وقت 30 سال تھی اور وہ فقہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ایران اس وقت علمی و ثقافتی اعتبار سے برصغیر سے بھی پیچھے تھا۔ آیت الله علوی فرما رہے ہیں کہ جب وہ نظریہ علمی حلقوں میں پیش ہوا تو ان کے دادا نے دو سالہ  ڈاکٹر حسابی، جو نہ صرف  آئن سٹائن کے شاگرد تھے بلکہ ان کے آئن سٹائن کے ساتھ مضبوط تعلقات تھے،  سے لمبی چوڑی بحث کی اور پھر آئن سٹائن کے نام پیغام بھیجا۔

    جو چاہے آپ کا حسن ِکرشمہ ساز کرے!

    ڈاکٹر حسابی کے بچپن میں تو کیا، جوانی اور بڑھاپے میں بھی اس بات کا کوئی امکان نہیں۔  ڈاکٹر محمود حسابی کی عمر چار سال تھی کہ ان کا خاندان بیروت چلا گیا اور  انہوں نے 1922ء میں امریکن یونیورسٹی آف بیروت سے  روڈ انجینرنگ (جو آج کل سول انجینرنگ  کہلاتی ہے)  کی ڈگری حاصل کی۔ بعد میں وہ فرانس چلے گئے جہاں 1927ء میں انہوں نے الیکٹریکل انجینرنگ میں پی ایچ ڈی کی۔ انہوں نے پروفیسر کاٹن کے ساتھ کام کیا جو روشنی اور مادے کے تعلق پر کام کر رہے تھے۔اس سے  آیت الله علوی بروجردی کا ڈاکٹر حسابی سے قریبی تعلقات رکھنا مشکوک  ہو جاتا ہے کیوں کہ آیت الله علوی بروجردی تو ڈاکٹر حسابی کو آئن سٹائن کا شاگرد قرار دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر حسابی کا میدان سائنس کے قوانین  کا علم نہیں، ان کے  اطلاق کا فن  ہے۔انجنیئر ،میڈیکل والے  ڈاکٹر (معالج)  ، اکاؤنٹنٹس، وکلاء وغیرہ ٹیکنیکل شعبوں کے لوگ علوم کی نظری بنیادوں سے آگاہ نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ ان کے اطلاق میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔  ڈاکٹر حسابی بھی ایسے ہی  تھے۔وہ  کوئی بہت بڑے سائنسدان نہیں تھے لیکن انہوں نے ایران آ کر انتظامی نوعیت کے اچھے اچھے کام کئے۔ اس وقت ایران میں ایسے شخص کا ہونا بھی غنیمت تھا جسے سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت کا احساس ہو اور جو رضا شاہ پہلوی کے قائم کردہ سائنسی ادارے  چلا  سکے۔ لہٰذا وہ  انتظامی نوعیت کے کاموں کی وجہ سے ایرانیوں کے ہیرو ہیں، جیسے ہمارے ڈاکٹر عبد القدیر خان قومی  ہیرو ہیں۔ البتہ  سائنس میں علمی لحاظ سے  ڈاکٹر حسابی  کا حصہ نہ ہونے کے برابر  ہے۔کسی کو شبہ ہو تو ان کے مقالے دیکھے یا کسی یونیورسٹی  جا کر متعلقہ شعبے کے کسی استاد سے پوچھ لے۔

    آیت الله بروجردی 1945ء میں مرجع بنے لیکن اس وقت نجف کے مراجع کے پیروکار زیادہ تھے اور وہی دنیا میں جانے جاتے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن کا انتقال 1955ء میں ہوا اور وہ بڑھاپے میں   صرف کشش ثقل کے مسائل  پر تحقیق کر تارہا تھا۔ آیت الله علوی بروجردی کا دعوی تو  ڈاکٹر حسابی کے بچپن کے دنوں کا ہے لیکن اگر اسکو اس عرصے سے جوڑا جائے تو بھی  یہ صریح جھوٹ ہے، کیونکہ:

    (ا)   ڈاکٹر حسابی کے پاس وہ بنیادی علم ہی نہیں تھا جس کی مدد سے وہ آئن سٹائن کے نظریات کو سمجھ سکتے۔ اسی طرح ان کے پاس آیت الله بروجردی کے فن کو سمجھنے کیلئے بھی کوئی صلاحیت نہیں تھی۔ انہوں نے جس میدان میں تعلیم حاصل کی تھی وہ آیت الله اور آئن سٹائن، دونوں  کے تخصص سے الگ تھا۔آج بھی کسی سول یا الیکٹریکل انجیینئر کو نظریہ نسبیت نہیں پڑھایا جاتا، نہ انہیں اس کو جاننے کی ضرورت ہے۔  جنہیں خود سمجھ نہیں آ سکتا تھا  وہ آیت الله بروجردی کو کیا سمجھاتے اور آیت اللہ سمجھے بغیر کیسے اجتہاد فرماتے؟

    (ب) ڈاکٹر حسابی  نے ایران میں اسلامی انقلاب کے تیرہ سال بعد  1992ء  میں سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں انتقال فرمایا۔ آئن سٹائن سے کسی رابطے کا انہوں نے کبھی ذکر نہیں کیا۔ گہری علمی بحثوں کا تو کوئی سر پیر ہی نہیں۔ ڈاکٹر حسابی کسی علمی گفتگو کی روداد نہ لکھ سکے، کیسے ممکن ہے؟ ایران میں اسلامی انقلاب آنے کے بعد تو لکھ سکتے تھے؟

    (ج) آئن سٹائن کی دستاویزات میں آیت اللہ بروجردی تو کیا ڈاکٹر حسابی سے بھی کسی قسم کے رابطے کا ذکر نہیں۔

    (ڈ) ڈاکٹر حسابی کے امریکہ جانے  اور آئن سٹائن سے ملنے کا کوئی ریکارڈ نہیں، اگر  آیت اللہ نے گہری علمی مباحث والے  خطوط  لکھے یا زبانی ڈاکٹر صاحب کو یاد کروا کر بھیجے ہیں تو ڈاکٹر صاحب کا کئی بار امریکا جانا بنتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت ایران میں مختلف سرکاری اداروں کے انتظامی  معاملات میں ہی  مصروف رہے۔اس عرصے میں انہوں نے امریکا کا سفر نہیں کیا۔

    (ل) جس وقت ڈاکٹر حسابی جوان ہوۓ، سائنسی دنیا میں نظریۂ نسبیت پر بحث ختم ہو چکی تھی اور کوانٹم میکینکس پر بحث ہو رہی تھی- لہذا اس کا ”مطرح“ ہونا اور آیت الله کا اس میں حصہ ڈالنا ممکن نہیں ہے۔

    (م) ڈاکٹر حسابی کے گھر والوں نے بھی کبھی اس بات کی تائید نہیں کی کہ انکے آئن سٹائن سے کسی قسم کے تعلقات تھے یا علمی تبادلہ خیال ہوا تھا۔مذہبی حلقوں میں آئن سٹائن کے ساتھ مختلف اشخاص کی تصویروں کو ڈاکٹر حسابی کی تصویریں بنا کر پیش کیا گیا تو انکے بیٹے نے تردید کر دی۔

    (ہ) نظریہ نسبیت کا ماورائے مادہ سے بالکل  کوئی تعلق نہیں۔

    (ی) آج کے مراجع کرام بھی نظریہ نسبیت پر علمی گفتگو نہیں کر سکتے۔ ایران میں شریف یونیورسٹی اور تہران یونیورسٹی میں بڑے اچھے سائنسدان بیٹھے ہیں، ان سے تو کبھی کسی آیت اللہ نے علمی گفتگو نہیں کی نہ انہوں نے اپنے کسی مقالے میں ان کو مصنفین میں شامل کیا ہے ۔اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں۔ نجاست طہارت، نکاح طلاق، شکیاتِ نماز وغیرہ کے مسائل بتانے کیلئےان  کو  کائنات کے اسرار و رموز جاننا ضروری بھی نہیں۔

    ” قوی احتمال ہے“ لکھ کر اسکے بعد جھوٹ لکھ دینے سے جھوٹ سچ میں نہیں بدل جاتا۔ ”نہ انکار کیا جا سکتا ہے نہ اقرار“ والی بات بھی محض پانی گدلا کر کے مچھلیاں پکڑنا ہے۔ اب میں کہوں کہ چونکہ مفتی رفیع عثمانی ایک عظیم مقدس شخصیت ہیں لہذا ممکن ہے کہ وہ پاکستانی سائنسدانوں کی رہنمائی فرماتے ہوں تو یہ بات ایک مغالطہ ہو گی۔  آپ بھی کہیں گے کہ میاں یہ کیا چونکہ چنانچہ میں گھما رہے ہو، اگر رہنمائی فرماتے ہیں تو اسے سامنے لایا جائے اور اگر نہیں فرماتے تو اس کو ماننے میں شرمانا کیسا؟کیا ہر جگہ انکی رہنمائی کی ضرورت ہے؟

    3. آیت الله مہدوی کنی نے وہی آفیشل ویب سائٹ والی بات نقل کی تو آپ اس کا یوں دفاع فرماتے ہیں:

    ”جہاں تک تعلق مضمون نگار کی جانب سے شئیر کی جانے والے اس ویڈیو کلپ کا جس میں آیت اللہ مہدوی کَنی کسی کتاب کے ریفرنس سے آئن سٹائن کے شیعہ ہونے یا اس کے نظریے نسبیت کی جانب اشارہ کررہے ہیں تو عرض ہے وہ چیز جو اس دستیاب مختصر کلپ سے ثابت ہے وہ نقلِ قول ہے۔ آیا آیت اللہ مہدوی کنی اس قول کی تصدیق بھی کرتے ہیں؟۔ یہ اس دستیاب کلپ سے ثابت نہیں ہے“۔  آگے چل کر کہتے ہیں: ” قوی احتمال ہے آیت اللہ نے صرف نقل ِقول کے طور پر بولے یا کسی احتمال کی بنا پر بات کی ہو۔ اس کی وضاحت پورا کلپ ملاحظہ کرنے سے ہی ہو سکتی ہے جو مضمون نگار نے بہرحال پیش نہیں کیا اور عین ممکن ہے مضمون نگار نے پورا کلپ سننے کی زحمت کی بھی نہ ہو اور صرف اپنے مطلب کی دو سطریں معاند وب بلاگز سے اٹھا کر ایک مضمون کی عمارت کھڑی کردی ہو“۔

    احتیاط کا تقاضا یہ تھا کہ آپ آیت الله مہدوی کنی کی  تردید ثابت کرتے، اگر اس کلپ میں کچھ کمی ہے تو پورے کلپ کا لنک پیش کرتے۔ جس چیز کا احتمال نہ ہونے کے برابر ہے اسے آپ” قوی احتمال“ کہہ رہے ہیں۔  دستیاب کلپ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آیت الله اس مقدس جھوٹ کی تائید فرما رہے ہیں ورنہ  حرکت کی نسبیت کو جوہری حرکت والی بات سے کیوں جوڑ رہے تھے، اور ایک مثال سے مریدین کو سمجھا کیوں رہے تھے کہ اس خاص حرکت میں مکانی فاصلہ طے نہیں ہوتا؟۔ ”حرکت کی نسبیت“ کو ”خاص قسم کی حرکت، یا نورانی حرکت“ قرار دینا اور پھر اس کو ملا صدرا کی ”جوہری حرکت“ سے جوڑنا آیت الله کی اپنی اختراع ہے، یہ بات مرحوم آفیشل ویب سائٹ پر چھپنے والے جھوٹ کے طومار میں موجود نہیں تھی، جس کو مدرسۃ القائم والی ویڈیو میں ہو بہو پڑھا گیا ہے۔ ملا صدرا سترہویں صدی عیسوی کے  ایک شیعہ صوفی تھے جنہوں نے صوفیا کے منتشر افکار کو فلسفیانہ نظم دے کر   صوفیوں کے قدیم مسلمان فلسفیوں  سے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی، کہ جس کی بدولت امام غزالی نے ابن سینا کو کافر کہا تھا اور  ان کی تقلید میں صوفیا نے حکمرانوں سے مل کر قرون وسطیٰ کے مسلمان معاشرے کی سائنس کو ختم کیا تھا۔ ملا صدرا جسمانی نہیں، روحانی معراج کے ہی قائل ہیں البتہ اس کو جسم مثالی کی معراج کا نام دیتے ہیں۔  بغیر تصدیق کے، آفیشیل ویب سائٹ پر اعتماد کر کے  تائید والا کام صرف انہوں نے نہیں کیا بلکہ متعدد آیت اللہ صاحبان نے کیا۔بیرونِ ملک چھپنے والی کتاب کونسی ہے؟ کہاں سے اور کس سال چھپی ہے؟ان سوالوں سے آیت الله کو کوئی غرض نہیں۔ آئن سٹائن کے نظریۂ نسبیت کو بہت پہلے سے واقعہ معراج سے جوڑا جا رہا ہے، اور یہ قصہ آیت الله کیلئے اسی سلسلے کی کڑی تھا۔

    مضمون کافی طویل ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی حیثیت بھی انہی دعوؤں جیسی ہے جن کا اوپر جائزہ لیا گیا ہے۔ آیت الله مکارم ایک قابلِ احترام مرجع تقلید ہیں لیکن ان کی تفسیرِ نمونہ میں جہاں سائنس کی آمیزش ہوتی ہے وہاں کسی سائنس دان کو جان کی امان دے کر اسکی علمی حیثیت پوچھی جا سکتی ہے۔ قرآن و جدید سائنس کے عنوان سے لکھی گئی سب کتابوں کا یہی حال ہے اور وہ صرف نیم خواندہ طبقے میں ہی دھوم مچاتی ہیں۔ طبِ اسلامی کے نام پر آیت الله تبریزیان کو رہبر کی تائید حاصل ہے۔ طب، اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتی  ۔طبِ اسلامی کے نام پر جو شگوفہ پیش کیا جا رہا ہے وہ اصل میں عرب  یا یونانی معاشرے کی قدیم مہارتیں ہیں جو اسلام سے پہلے موجود تھیں۔ اب علمِ طب آگے جا چکا ہے اور ان چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں ۔ جوطب اپنے  زمانے میں طاعون، چیچک ، خسرہ یا دیگر بےشمار جان لیوا بیماریوں سے نہ بچا سکی وہ اب کیا کر لے گی؟ حضرت عمر کے زمانے میں طاعون کی وبا آئی تھی، اس کے بعد بھی آتی رہی۔ اس طب نے اس وبا کے خلاف کونسا تیر مارا تھا؟  اس کو اسلام سے نتھی کرنے سے اسلام کا نقصان ہو گا یا فائدہ؟ ۔ آیت الله تبریزیاں  کی طب کے بارے میں کسی تعلیم یافتہ شخص سے پوچھ کر اپنا شک دور کر لیں۔ مسلمان سائنس دانوں نے سائنس میں جو کام کیا وہ سارا فقہی آئمہ کے زمانے کے  کم از کم دو سو سال بعد ہوا اور اس کی بنیاد یونان اور ہندوستان کے علوم پر رکھی گئی ۔انہوں نے کبھی اپنے سائنسی علم کو اسلام سے نتھی نہیں کیا۔ طبِ اسلامی اور طبِ نبوی جیسی اصطلاحیں اب گھڑی گئی ہیں۔ ان سائنسدانوں کی عظمت بھی اسی لئے ہے کہ اس جہالت کے دور میں یہ کچھ جانتے تھے، ورنہ انکی کتب اب کسی کام کی نہیں ہیں۔ اس دور میں بھی علمائے کرام نے ان کے ساتھ جو کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

    مدارس میں پھیلے ہوئے جھوٹ کئی طرح کے ہیں اور ، جیسا کہ اس تبصرے سے معلوم ہو گیا ہو گا، ہر ایک جھوٹ کی اصلیت سامنے لانے کیلئے بہت وقت اور ذہنی توانائی چاہئیے- جھوٹ بولنا آسان ہوتا ہے لیکن اس کا تجزیہ کرنا  اور عام قاری کو  حقیقت سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔ اگر وہ مقدس ہو تو یہ کام اور مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر وقت ملا تو کچھ مزید مقدس افواہوں کے بارے میں بھی لکھوں گا۔ زمانہ گھڑی کے چلنے سے نہیں، علم میں ترقی  کرنےسے بدلتا ہے۔ ہمیں حقیقت پسندی اور  سائنسی سوچ کو اپنانا ہو گا، ورنہ باقی دنیا تو ہمارا انتظار کئے بنا آگے جا رہی ہے۔ کب تک ہم علماۓ کرام کی جہالت کا دفاع کرتے رہیں گے؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *