مسلک پرستی ” کے مرض سے اپنی اولادوں کو بچائیے۔صاحبزادہ عثمان ہاشمی

 جس طرح ” مروجہ سیاست ” کا سینہ ” دل ” سے خالی ہے اسی طرح ” مروجہ مسلکیت ” کا سر ” دماغ ” سے یکسر محروم ہے ۔

اور بڑے ہی افسوس اور دکھ کے ساتھ اس حقیقت کا اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہمارے “دینی مدارس ” (سواۓ چند ایک کے جو اس سوچ سے مبراہیں ) مذہب کے بجاۓ ” مسلک ” کی تعلیم دے رہے ہیں ۔ ۔ اور نتیجتاً جو کھیب بطور ” فضلاء ” مدارس سے نکل کر عام معاشرے میں آرہی ہے  ۔ ۔ وہ مذہب کی داعی ہونے  کی بجاۓ اپنے اپنے مسلک کی ” پرچارک ” ہے۔

“مسلک پرستی ” شروع میں تو صرف ایک سوچ ہوتی ہے جو ایک مخصوص ماحول اور تربیت کی وجہ سے مزاج کا حصہ بنتی ہے مگر رفتہ رفتہ یہ ایک نفسیاتی مرض کی شکل اختیار کرجاتی ہے   اور یہ مرض ” جنون ” کی کسی بھی بدترین کیفیت سے ” بڑھ ” کر خطرناک ہوتا ہے ۔ اس کا اندازہ آپ اس سے ہی لگا لیجۓ کہ کسی “پاگل ” یا ” دیوانے ” کے ہاتھوں قتل ہونے یا زخمی ہونے کے واقعات کی ” ریشو ” کیا ہے اور ” مسلکیت ” کے مرض میں مبتلا ” جنونیوں ” کے ہاتھوں مارے جانے والے بے گناہوں کی تعداد کیا ہے ۔

ایک عام پاگل گلی محلے میں اکیلا ہی شور مچاتا اور گالیاں بکتا ہے   جبکہ “مسلکیت ” کے شکار مریض کو تو عموما ً بڑے بڑے “سٹیجز” اور “عوامی اجتماعات ” میں اپنی ” کیفیات ” کے اظہار کا موقع مل جاتاہے   اور پھر سب سے بڑا اور اہم فرق کہ اول الذکر کو ردعمل میں پتھر سہنے پڑتے ہیں جبکہ موخرالذکر پر پھولوں کی برسات ہوتی ہے  ۔ پہلے مریض کا مرض صرف اس تک محدود رہتا ہے جبکہ دوسرے کا مرض تو ” وبائی” ہے وہ جہاں زبان کھولتا ہے اپنے مرض کے جراثیم معاشرے میں پھیلا تا چلا جاتا ہے ۔

تو خدا را !اپنی اولاد کو ” دینی مدارس ” میں بھیجنے سے قبل اس بابت ضرور یقین کرلیجۓ کہ جس ادارے کو آپ اپنا ذہین و فتین لخت جگر سونپنے جارہے ہیں وہ کس سوچ کا حامل ہے   اور کچھ سال بعد جب آپ کا بچہ وہاں سے ” ڈگری ” لے کر نکلے گا تو وہ کیا ہوگا ؟

کیا معاشرے کو ایک مدبر داعی اسلام میسر ہوگا یا جلتی پر تیل ڈالنے والا ایک اور ” مسلک کا سپاہی ” نمودار ہوگا جو کہ کچھ ہی  عرصے میں ” مروجہ مسلکیت ” میں کمال حاصل کرنے کے بعد ” سپائیڈر مین کارٹون” کے ” ڈرٹو ” کی طرح اپنے جراثیم پھیلانے میں جت جاۓ گا ۔

عثمان ہاشمی
عثمان ہاشمی
عثمان ھاشمی "علوم اسلامیہ" کے طالب علم رھے ھیں لیکن "مولوی" نھیں ھیں ،"قانون" پڑھے ھیں مگر "وکیل" نھیں ھیں صحافت کرتے ھیں مگر "صحافی" نھیں ھیں جسمانی لحاظ سے تو "جرمنی" میں پاۓ جاتے ھیں جبکہ روحانی طور پر "پاکستان" کی ھی گلیوں میں ھوتے ھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *