• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امت مسلمہ کے بلیک اینڈ وائٹ امتی و خدائی خدمت گار۔بلال شوکت آزاد

امت مسلمہ کے بلیک اینڈ وائٹ امتی و خدائی خدمت گار۔بلال شوکت آزاد

یہ جو فیسبک پرامت مسلمہ کے پاکستانی فیسبکی خدائی خدمت گار امت کا چورن منجن بیچ کر فیسبکی دنیا کو میدان جنگ بناکر جہاد افضل کررہے ہیں اگر ان سے کوئی میرے جیسا منہ پھٹ اور گستاخ انسان یہ پوچھنےکی جرات کرلے کہ جناب من محترم امیرالامت جی آپ میری رہنمائی فرمائیں اور ذرا امت مسلمہ کی موجودہ ہیت ہی بیان کردیں ۔

مطلب کتنے اسلامی ممالک ہیں؟ان کا حدود اربع کیا ہے؟کس کس اسلامی ملک میں کتنے مسلمان آباد ہیں؟ان کی زندگی اسلام کے مطابق ہی ہے؟کن کن ممالک میں فرقہ واریت کا عنصر سر چڑھ کر بولتا ہے؟کون کون سے اسلامی ممالک کی آپس میں خدائی جنگ ہے؟کون کون سے اسلامی ممالک کی بے لوث اور غیر مشروط دوستیاں ہیں؟کن کن سمتوں میں مسلمان ممالک آباد ہیں؟کن کن اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرکے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہوا ہے؟کتنے سلامی ممالک کے پاکستان سے دوستانہ تعلقات ہیں؟کتنے اسلامی ممالک ایک دوسرے کو برادر اسلامی ملک کہہ کر ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں ٹانگ اڑاتے ہیں؟اور تو اور متحدہ اسلامی افواج میں کتنے اسلامی ممالک شامل اور کون کون سے ہیں؟کتنی زبانیں بولی جاتی ہیں امت مسلمہ میں؟امت مسلمہ کی کرنسیوں کا ہی بتادو؟

غرض ایسے بنیادی سوالات کا جتنا ذخیرہ  پوچھنا چاہیں  وہ پوچھ سکتے ہیں لیکن افسوس فیسبکی امیر الامت اور خدائی خدمت گاروں کو ان سب سوالوں کے جوابات چھوڑیں اندازہ بھی معلوم نہیں ہوگا۔(سچ پوچھیں تو مجھے خود کو نہیں معلوم کیونکہ میں ایک عام پاکستانی اور عام مسلمان ہوں جو اردگرد تک محدود ہےنا کہ امتی خدائی خدمت گار اس لیے پاکستان کی ہی فکر میں گھلتا رہتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ باقی امت کو چوک میں پٹتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے لیکن میں بغیر جانے امت کے ہر کونے کی خبر گیری اور ہمدردی کا قائل ہوں نا کہ دو تین ممالک تک ہی میری امت محدود ہے۔)اور تو اور امت مسلمہ کی کل آبادی اور کل ممالک کا معلوم نہیں ہوگا۔

تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ یہ کون سی امت کے غمخوار ہیں اور وہ کون سی امت ہے جس کی جنگ یہ یہاں لڑتے رہتے ہیں اور عوام کو اس دیسی امتی چورن منجن پر لگا کر واہ وا ہ بٹورتے ہیں؟تو صاحبان اصل میں پاکستان میں امت کو لے کر دو طرح کی رائے یا نظریہ پایا جاتا ہے۔کالے کپڑے پسند کرنے والوں کی امت ایران, عراق, شام, بحرین اور یمن تک محدود جبکہ سفید کپڑے پسند کرنے والوں کی امت سعودیہ عرب, دبئی, قطر, کویت اور دوحہ جیسے چھوٹے بڑے عرب ممالک تک ہی محدود ہے۔اس کے علاوہ   یہ رنگیلے امیرالامت اور خدائی خدمت گار کبھی کبھی افغانی, برمی و کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کو بھی یاد کرلیتے ہیں فیسبک پر لیکن تب جب اوپر بیان کردہ ممالک کی کوئی سنسنی خیز یا قابل فروخت خبر نہیں ہوتی اور تب بھی جب پاکستانی سیاست اور صحافت میں راوی دھند بھری ٹھنڈ ہی ٹھنڈ لکھ کر کمبل اوڑھ کر فیسبک پر ایکٹو ہوجاتا ہے تب ان مظلوم امتیوں کا درد زہ اٹھتا ہے پاکستانی فیسبکی بلیک اینڈ وائٹ امتی و خدائی خدمت گاروں اور امیرالامت صاحبان کو۔

آپ اندازہ کرلیں کہ پچاس سے زائد چھوٹے بڑے اسلامی ممالک میں سے ان پاکستانی فیسبکی امتی و خدائی خدمت گاروں اور امیرالامت صاحبان کی من پسند امت صرف دس کے قریب ممالک تک محدود ہے جو خود بھی امت کے درد میں زیادہ مبتلا نہیں ان کے پاکستانی خدمت گاروں کی طرح۔اور نہ ہی انہیں ان کے الباکستانی خدائی خدمت گاروں کی طرح نقشے پر کوئی اور مظلوم اور مقہور نظر آتا ہے اور نہ ہی دلچسپی ہے۔ہاں تب بات اور ہو جاتی ہے جب اس بلیک اینڈ وائٹ امتی ممالک کے سیاسی و اقتصادی اور بعض اوقات ذاتی مفادات کسی اور اسلامی ملک سے منسلک ہوں۔ورنہ محرم سے ذی الحج تک ساری امت مسلمہ کو سوائے چاند دیکھنے اور اس کی رویت کے اعلان سے زیادہ کوئی لفٹ نہیں ملتی ان پاکستانی فیسبکی امتی و خدائی خدمت گاروں اور امیر الامت صاحبان سے۔

بہت شوق ہے اگر خدائی خدمت گار اور امیرالامت بننے کا تو اس بلیک اینڈ وائٹ امت کے دھندے سے باہر نکل کر اسلامی دنیا کے مزید رنگوں کو بھی کھوجو اور ان کی بھی خبر گیری کرو۔ان کے بھی دکھ درد, کمیاں کوتاہیاں, خوبیاں خامیاں, غربت امارت, سیاست سفارت اور صحافت کا ویسے ہی مشاہدہ اور تجزیہ کرو جیسے ان دس بلیک اینڈ وائٹ اسلامی ممالک کا کرتے۔کبھی کبھی شدید حیرت اور ہنسی کا دورہ پڑتا ہے کہ اتنا تو ان بلیک اینڈ وائٹ امتی ممالک کی عوام کو اپنے ممالک کی خبر اور ملک سے دلچسپی نہیں ہوگی جتنا ان کے پاکستانی امتی و خدائی خدمت گاروں اور امیرالامت صاحبان کو ہے۔اور ان خدمت گاروں کے دونوں دھڑوں کاحرمین شریفین کی حفاظت اور القدس کو جواز بناکر باقی امت سے لاپرواہی اور بے اعتنائی کا رویہ سمجھ سے بالاتر اور ناقابل برداشت ہے۔

کیا فلسطین, کشمیر, اراکان, صومالیہ اور شام میں امن ہوگیا؟کیا اب دنیا میں سب مسلمان امن و امان اور بھائی چارے سے رہ رہے ہیں؟کیا ہر مسلمان نفس آزاد فضاؤں میں سانس لینا شروع ہوگیا؟کیا فرقہ واریت کا سانپ کچلا گیا؟کیا سب طاغوتی طاقتوں نے مسلمانوں کی حیثیت تسلیم کرکے مسلمانوں کا قتل عام اور زیادتی روک کر ان کو عزت کا مقام دے دیا؟اگر ان سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو لگے رہو میرے بلیک اینڈ وائٹ امتی و خدائی خدمت گاروں اور امیرالامت شیرو ں اپنے بلیک اینڈ وائٹ فیسبکی جہاد اور دھندے پر۔

لیکن اگر جواب نہ  میں ہے جو کہ دراصل ہے تو کس خوش فہمی اور غلط فہمی کا شکار ہوکر تم یہ بلیک اینڈ وائٹ امتی دھندا چلارہے ہو اس حساس میدان میں۔تمہیں اگراللہ  نے ذہانت اور علم سے نواز ہی دیا ہے تو اس کو اصل امت مسلمہ کے دکھ درد کے مداوے کا ذریعہ بناؤ اور نکل آؤ ان دس بلیک اینڈ وائٹ امتی ممالک کی گندی ذاتی سیاست سے باہر۔افسوس کا مقام ہے کہ سارا دن ہم بشمول میرے امت امت کا ورد کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ہمیں امت کی الف کی معلومات بھی نہیں۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *