پاک ایران تعلقات کی نئی جہت۔۔۔طاہر یاسین طاہر

بارہا یہ جملہ لکھا،تکرار کروں گا۔ ملکوں کے تعلقات باہمی مفادات کی بنا پر بنتے بگڑتے ہیں۔ہم جو اسلامی دنیا اور مسلم ممالک کی گردان کرتے نہیں تھکتے، تو اس کی وجہ خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں۔اس خود فریبی میں ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ فی الواقع مسلمانوں کے مختلف ملک تو موجود ہیں مگر کوئی مسلم فیڈریشن موجود نہیں۔ نہ ہی اس کی کوئی امید ہے۔ حتی ٰ کہ کوئی ایسی طاقتور اور موثر تنظیم تک موجود نہیں جو مسلمانوں کے سلگتے مسائل کا حل پیش کر سکے۔او ۔آئی ۔سی، نام کی ایک تنظیم عملاً اپنا وجود کھو چکی ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد اور اس سے پہلے بھی، جب بالخصوص مسلمانوں کی علیحدہ ریاستیں وجود میں آئیں تو ان ریاستوں کے تخلیق کاروں نے اپنے مفادات کو خاص مقام دیا۔ہم کہتے رہیں کہ فلاں ملک اسلام کا نمائندہ ملک ہے اور فلاں ملک عالم اسلام کا محافظ ملک ہے، مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ مسلمانوں کے سارے ملک اس وقت اندرونی و بیرونی چپقلشوں میں ہیں۔

شخصی حکمرانیوں اور مولوی ازم کے محافظ فتویٰ کاریاں تراشتنے والوں کے گرد ہیں۔بہتر یہی ہے کہ جو ملک جہاں ہے وہ اپنے اپنے علاقائی و قومی مفادات کا محافظ بنا رہے۔حقائق ہمیشہ تلخ ہوتے ہیں۔ کاش پاکستان سارے عالم اسلام کی حفاظت کر سکتا۔کاش سعودی عرب کو عالم اسلام کے لیے مرکزیت حاصل ہوتی۔کاش ایران و سعودی عرب پہ الزام نہ ہوتا کہ دونوں ملک مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے مسلکی بنیادوں کا سہارا لیتے ہیں۔
عراق پہ امریکہ نے حملہ کیا تو کون آگے بڑھ کر عراق کی حمایت میں کھڑا ہوا؟ افغانستان پر حملہ ہوا تو کس مسلم ملک نے افغانوں کی مدد کی؟  اگرچہ افغانوں کے مسئلے  اور خانہ جنگی و  ان کے ملا عمر والےطالبانی اسلام کو میں عراق سے ایک  علیحدہ مسئلہ کے طور دیکھتا ہوں۔عراق و افغانستان پر تو امریکہ و اس کے یورپی اتحادیوں نے حملہ کیا تھا، ذرا بتائیے کہ شام و یمن پہ کون حملہ آور ہوا؟ایسا کوئی کلیہ، کوئی عمل کسی نصاب میں نہیں کہ سارے مسلم ممالک یکجان ہو جائیں گے۔ پاک ایران تعلقات ہمیشہ مثالی رہے سوائے گذشتہ چند دھائیوں کے۔، یہ ایران ہی تھا جس نے پاکستان کے قیام کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔مگر افغانستان نے تو شروع دن سے پاکستان کی مخالفت کو اپنا بنیادی اصول طے کیا۔ 1965 میں ایران نے اپنے ایئر بیس تک پاکستان کے حوالے کیے۔ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ،امریکہ کو خطرہ محسوس ہوا کہ خطے میں اسلامی سوچ امریکی و سامراجی مفادات کو نقصان پہنچائے گی۔امریکہ و اسرائیل نے خطے کے لیے اپنی پالیسیاں ترتیب دیں ، روس امریکہ جنگ کا میدان افغانستان تھا اور پاکستان امریکی مفادات کا فرنٹ لائن سپاہی تھا۔افغانوں کو روسی قبضے سے بچانے میں امریکی اسلحے، ڈالروں اور پاکستانی دفاعی اداروں کی پالیسیوں کا کردار ہے، جبکہ آج افغانستان سے پاکستان پر گولہ باری ہوتی ہے۔اس موضوع پہ کسی اور وقت سطر کاری کروں گا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ آرمی چیف ایران کیوں گئے؟بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ پاک ایران تعلقات نئی جہت اختیار کر رہے ہیں اور آرمی چیف نے پاک ایران تعلقات کی اس نئی جہت کو اپنے دورے سے نئی قوت اور پرواز بخشی ہے۔  یہ سچ ہےدونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے گذشتہ چند دھائیوں سے تحفظات ہیں۔ان تحفظات کی نوعیت بارڈر سیکیورٹی، سمگلنگ، منشیات اور فرقہ وارانہ  دہشت گردی ہے۔ایران سمجھتا ہے کہ جند اللہ نامی دہشت گرد تنظیم  پاکستان سے ایران کے اندر کارروائیاں کرتی ہے، جبکہ پاکستان کو یہ شکایت رہی کہ کلبھوشن یادیو ایرانی ویزے پر پاکستانی بارڈر کراس کرتا رہا۔اس میں شک نہیں کہ مسلم ممالک کو سامراجی طاقتوں سے خطرات ہیں،اور ان خطرات سے نمٹنے کا، یا ان سے مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم ممالک اپنے مسلکی و فروعی اختلافات بھلا کر یکجان ہو جائیں۔

شام و عراق میں عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کی شکست ، اور پھر امریکہ کی مدد سے داعش کا افغانستان میں ٹھکانہ کرنا خطے میں نئے مسائل کا آغاز ہے۔ ان مسائل کی نقش گری جس قدر خون ریز ہے اس کا مقابلہ صرف باہم اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ داعش صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران کے لیے بھی خطرہ ہے۔افغانستان میں داعش اپنی خونریزی کا آغاز کر چکی ہے۔ سی پیک، امریکہ و بھارت کو کھٹکتا ہے۔ٹرمپ جارح مزاج ہے اور بالخصوص پاکستان کے حوالے سے اس کی زبان غیر سفارتی ہے۔امریکہ بھارت کو افغانستان میں کردار دینا چاہتا ہے اور افغان حکومت بھی اس میں دلچسپی رکھتی ہے۔بھارت جوں جوں افغانستان میں دخیل ہوتا جائے گا، پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیاں بڑھتی جائیں گی اور افغانستان میں داعش مضبوط ہوتی رہے گی۔
پاکستان اور ایران کے تعلقات سفارتی سطح پہ اگرچہ اونچ نیچ کا شکار ضرور رہے مگر کبھی بھی سرحدی کشیدگی کی انتہائی صورت پیدا نہیں ہوئی۔بھارت آشکار دشمن ہے، افغانستان میں پاکستان کے مطلوب دہشت گردوں سمیت عالمی دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں، اور عالمی طاقتوں کی داعش جیسی تنظیموں کو مدد حاصل ہے۔ ایسے میں روس، چین ،پاکستان اور ایران کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا علاقائی اتحاد تشکیل دیا جائے جو خطے میں امن و خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کرے۔آرمی چیف کے دورہ ایران کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن قوتیں پہلا نشانہ کوئٹہ کو بنانے کی کوشش کریں گی، اور بالخصوص اربعین سے واپس آنے والے زائرین کے قافلوں کو۔

دونوں ملکوں کی سیاسی و عسکری قیادت اور دانش وروںکو دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے عوام میں شعور بھی بیدار کرنا ہو گا اور سماجی ہم آہنگی کے لیے کردار بھی ادا کرنا ہو گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پاک ایران تعلقات کی نئی جہات اور خطے کی بدلتی صورتحال پہ اسلام آباد و تہران میں سیمینارز کرائے جائیں۔ہم حالت جنگ میں ہیں ، بھارت اور افغانستان دونوں پاکستان کے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔چین و ایران کے ساتھ مل کر ہمیں خطے میں نئے اتحاد اور نئی معاشی منڈیاں تلاش کرنا ہوں گی۔پاک ایران بارڈر کو اب صحیح معنوں میں دوستی بارڈر بنانے کا وقت آگیا ہے۔کیا ہی اچھا ہو پاکستان ایران سے گیس و بجلی بھی بر آمد کرے ۔اے کاش،اقبال یاد آتے ہیں۔
تہران ہو گر عالم ِمشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

 

 

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *