محبت کی سرگوشیاں۔سائرہ ممتاز

زندگی یوں تو چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ کے مرغولوں میں بھی سما سکتی ہے لیکن سیمابی ء  فطرت کا تقاضا ہے کہ بھاپ کو دور تک جانے دیا جائے اور پھر بخارات کی کمی سے جنم لینے والی ٹھنڈک کو چائے پر ہلکی سی پرت جماتے دیکھا جائے. کیونکہ ہر خوشی صرف سکون سے حاصل نہیں ہو سکتی. کچھ خوشیاں اداسی، غم اور بے کیفی سے بھی مشروط ہو جاتی ہیں جیسے ٹھنڈی ہوتی چائے کا ایک خمار ہے. شاید چائے جو ٹھنڈک اپنے اندر اتارتی ہے، وہ کسی دل پر جمی برف کا کچھ حصہ ہوتا ہے جو پگھل رہا ہوتا ہے اور یوں چائے کسی لمس کی گرمی سے آشنائی کا پہلا لمحہ یاد کروانے میں کامیاب رہتی ہے.

مجھے چائے کے کپ پر بات کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آج شام کو چائے پیتے ہوئے جب میں سنگترے کے پیڑ پر لگے ہرے ہرے کچے سنگتروں کو دیکھ رہی تھی جن پر لگے سنگتروں سے بارش کا پانی ٹپک کر یخ بستہ ہوتی شام کی ٹھنڈک میرے پور پور میں اتار رہا تھا تو میرے چائے کے کپ میں چائے پر بالائی کی ہلکی تہہ جم چکی تھی اور پھر مجھے کیمپس کی نہر کے کنارے پڑے چائے کے دو کپ یاد آئے. وہ جو تم آرگینک کی لیب اٹینڈ کرنے کے بعد مجھے تلاش کرتے ہوئے لے کر آئے تھے. اس لمحے میں نے کپ تھام کر دیکھا تو اس پر گہری ہوتی شام کی آشنائی کا لمحہ بیتا۔۔ جبھی چائے چھلک کر سبز گھاس پر گر پڑی.

کچھ لمحے جو شناسا ہو جائیں تو وہ خوفزدہ کر دیتے ہیں ۔۔۔جنوری کی اس شام میں وہ چائے کے دو کپ تھے جن میں سے ایک پر تمھارے لبوں کا لمس رہ گیا تھا اور وہ ٹٹیری جو نہر کنارے ہمارے آس پاس پھرتی رہی اس کے پاس میرے آنچل کی ہوا ابھی تک ہے. میری کلائی پر تین چوڑیاں ٹوٹ گئی  تھیں اور تمھاری انگلی کی پور سے لہو ٹپک پڑا تھا. پھر ہمیں بیٹھے بہت دیر گزر چکی تو پونم کا  چاند نکل آیا. تم بار بار کہتے تھے اب واپس چلنا چاہیے.۔۔جبکہ تمہیں معلوم تھا تمھارے ساتھ مجھے خدشے نہیں ستاتے ڈر بھی نہیں لگتا.

کیا ہوگا اور کیا کریں گے اس کا خیال  بھی نہیں آتا تھا۔ تم بیٹھے بیٹھے جان بوجھ کر تھک جاتے تھے۔۔ اسی تھکن کا قرار میری انگلیوں کے نشان تمھارے پریشان بالوں میں اب بھی پھرتے ہوں  گے.. بارش ہو رہی تھی اور وہ اب بھی ہو  رہی ہے۔ اب بارش صرف باہر نہیں برستی میرے اندر بھی برستی ہے، جو قطرہ قطرہ کر کے مجھے نگل جاتی ہے.

ہم نے یادیں بانٹ لی تھیں. وہ جو میری زبان نے نہیں کہے وہ ادھورے شبد تمھاری آنکھیں بولتی ہیں. گفتگو کوئی بھی نہیں کرتا لیکن جانے کون اندر بیٹھا دیر تک باتیں کرتا ہے. کبھی کبھی ہنسی پھوٹ پڑتی ہے اندر ہی اندر یوں جیسے بہت سی لڑکیاں ککلی ڈال رہی ہوں جلترنگ بجتا ہے آنکھیں بھیگتی جاتی ہیں. تب آنسو اندر اتار لیتی ہوں اب یہ اپنے  قطرے بے مول ہیں تم جو انھیں اپنی ہتھیلی پر اتار لیتے تھے، تمھاری تصویر بھی ان آنکھوں نے بلیک اینڈ وائٹ کردی ہے سارے رنگ بجھا دیئے ہیں پھر بھی یہ جو یاد کی لو ہے اس پر قوس قزح رقص کرنے لگتی ہے۔

میرے پاس یادیں ہیں وہی جو آدھی تمھارے پاس ہیں. تمھاری آواز میں سنے ہوئے گیت کسی پہر گنگنا اٹھتے ہیں. تمھیں سیاہ رنگ پسند تھا. مجھے یقین ہے آج  بھی تم سیاہ رنگ ہی پہنتے ہو گے۔۔ میں اکثر تمہیں کہتی تھی یہ رانجھے جوگی کا رنگ ہے اسے مت پہنا کرو. آخر جوگ لینا پڑتا ہے محبت کو کالے گلاب، کالے بادل، کالی آنکھیں راس نہیں آتیں. اور تم اپنا چہرہ دوسری جانب کر لیا کرتے تھے. تمہاری آواز گمشدہ قرنوں کی تال لیے میرے گرد رقص کرتی ہے. بہت سی مورنیاں پنکھ پھیلا دیتی ہیں اور کچھ دیر کے لیے، کرب اور درد مورنیوں کے پروں میں لہرانے لگتے ہیں ان کی وحشت گم ہو جاتی ہے.

لیکن اب مجھے زندہ رہنا آ گیا ہے. درد کے ساتھ جینا ہی دراصل زندہ رہنا ہے. درد کش لمحات اب مجھے بے کیف لگتے ہیں کیونکہ ان میں تمھاری یاد نہیں ہوتی. تم نہیں ہوتے. لوگ مجھے کہتے  ہیں  کہ  تم ایک دوہرے معیار کی زندگی گزار رہی ہو. بیتا ہوا سمے واپس نہیں آتا اس لیے حال میں جینا چاہیے ماضی میں زندہ رہنے والے لوگ بزدل اور کم عقل ہوتے ہیں. وہ عملی زندگی سے دور تصورات میں کھو کر نفسیاتی ہو جاتے ہیں اور معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں.

میری وہ سہیلیاں اور دوست جو مجھے نفسیات کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے جانتے تھے اب ایسی باتیں کرنے لگے ہیں. وہ عورتیں جو اونچی سوسائٹی کی رنگ برنگ تقریبات میں نک سک سے تیار ہو کر جانے کو ہی زندگی کی حقیقت سمجھتی ہیں وہ مجھے نفسیاتی اور پاگل گردانتی ہیں کیونکہ میرے لیے خوشی لمحوں کے ادراک سے مشروط ہو چکی ہے جیسے بارش کے قطرے کی ٹپ ٹپ سے حاصل ہونے والا نروان، آک کے پودوں پر دو رنگے کھلے پھولوں پر بیٹھی بنفشی تتلی کے پر جو کبھی گلاب پر جا بیٹھتی ہے اور بنفشی رنگت کی لکیر چھوڑتی چلی جاتی ہے اور کبھی اڑ کر لوسن کے جامنی مائل نیلے پھولوں میں مدغم ہوجاتی ہے. انھیں دیکھ کر کوئی دکھ بھلا دکھ کب تک رہ سکتا ہے.

ان لمحات میں تمھارے لفظ میری سماعتوں سے ٹکراتے ہیں اور وہ وہ سکون آور تھپکی کا کام کرتے ہیں. کیا میں تحلیل نفسی کی ماہر نہیں بن چکی؟ کیا خوشی فقط وصل سے مشروط ہو چکی ہے یا ہجر خوشی نہیں دیتا.

میں سوچتی ہوں تمھارا ایک بیٹا ہوگا جو بالکل تمھارے جیسا ہوگا اور پھر ایک دن وہ بھی کسی نہر کنارے بیٹھ کر گیت گایا کرے گا اور میں خواب دیکھتی ہوں کہ تمھارے بیٹے کو اپنے خوابوں کی تعبیر مل جائے گی. وہ لمحہ اتنا کیف آور اور نشاط انگیز ہوتا ہے کہ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے. میں تمہاری خوشی تمہارے بیٹے میں دیکھ لیتی ہوں اور مجھے زندگی گزارنا آنے لگا ہے.

میرے لیے زندگی با مقصد ہوچکی ہے. میں نے دیوانگی خود پر طاری نہیں ہونے دی کیونکہ میں مرد ہوں. تمھیں معلوم ہے نا اس معاشرے میں مرد کی کتنی ذمہ داریاں ہیں اس کی اپنی زندگی شاید کہیں نہیں ہے. اس کی زندگی وہی ہے جو وہ بچپن میں جیتا ہے اس کے بعد وہ ماں کی، بہن کی   بھائی کی، باپ کی پھر بیوی اور پھر بچوں کی زندگی جیتا ہے. میرے لیے دو خالی لمحے جن میں، میں وہ گیت گنگنا سکوں جو تمہیں پسند تھے حاصل کر لینا زندگی کی ایک خواہش بن چکی ہے جو کسک میں ڈھلتی جا رہی ہے. ایسی کسک جو چبھتی ضرور ہے لیکن درد محسوس نہیں کرنے دیتی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے درد کی چادر اوڑھے بغیر بہت عرصہ گزر چکا ہے اتنا کہ میں درد کا کیف بھول گیا ہوں. جب میری بیوی مجھ سے وصل کے معنی پوچھتی ہے تو میں خالی نظروں سے اسے نہیں دیکھ سکتا پھر مجھے اسے حصار دینا پڑتا ہے کیونکہ اگر میں ایسا نہیں کروں گا تو میری مردانگی پر نسوانیت کے آنسو گرنے لگیں گے. لیکن ایسا کرتے کرتے میں برف اوڑھ چکا ہوں. پھر بھی میرے لیے زندگی کسی اپنی خواہش تج دینے کا نام بن چکی ہے. اور ایسا کر کے مجھے جو خوشی حاصل ہوتی ہے شاید وہی خوشی ہے.

ضروری تو نہیں کہ خواہشات کے پورا ہونے میں زندگی کا سرور چھپا ہو. میں گرم چائے کی بھاپ سے لمس کی تازگی حاصل کرتا ہوں. چائے کے کپ دیکھ کر بہت کچھ بھول جانے کی خواہش نے مجھے پتھر بنا دیا ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ ایک بیٹی میری زندگی میں آکر اس پتھر میں شگاف کر دے لیکن میں یہ دعا نہیں مانگ سکتا کیونکہ مجھے نہر کنارے بیٹھی لڑکی کے خواب ٹوٹنے سے خوف آنے لگا ہے.

میں پہروں اکیلا بیٹھ کر رو سکتا ہوں لیکن رونا نہیں چاہتا. اگر میں ایسا کروں گا تو میرا بیٹا مجھ سے پوچھے گا کہ “پاپا! مما تو کہتی ہیں مرد نہیں روتے تو آپ کیوں رو رہے ہیں اور اس کیوں کا جواب اسے مجھ سے دور کر سکتا ہے. اور میں اس سے دور نہیں ہونا چاہتا اس لیے نہیں کہ ہمارے مروجہ معاشرتی اصولوں کے مطابق مجھے اس سے امیدیں لاحق ہو چلی ہیں اور کل کلاں وہ میرا دست و بازو بنے گا بلکہ اس لیے کہ اس کی آنکھیں کالی ہیں اور وہ ہو بہو تمھاری آنکھوں جیسی ہیں.

تم کہتی تھی نا کہ محبت کو کالی آنکھیں راس نہیں آتیں تو اب میں اس زندگی سے دور نہیں جانا چاہتا جس میں کالی آنکھیں ہوں. کیونکہ مجھے زندگی کا مقصد حاصل ہو چکا ہے اور میں زندگی گزارنا سیکھ چکا ہوں!

سائرہ ممتاز
اشک افشانی اگر لکھنا ٹھہرے تو ہاں! میں لکھتی ہوں، درد کشید کرنا اگر فن ہے تو سیکھنا چاہتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *