• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جس کو جس آنکھ سے دیکھنا ہو دیکھے،مگر تجارت تو کیجئے۔اسد مفتی

جس کو جس آنکھ سے دیکھنا ہو دیکھے،مگر تجارت تو کیجئے۔اسد مفتی

پاکستان میں برطانوی ہائر کمشنر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سے تعلقات میں بہتری اور تجارت کے بعد پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھے گی، اسلام آباد ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں پیشرفت اور تجارت میں بہتری سے غیر ملکی سرمایہ کاری ،صنعتوں میں استحکام اور قومی معیشت کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

میں اپنی بات کا آغاز برطانوی راج سے کررہا ہوں ،س سترویں او راٹھارویں صدی میں ہندوستان ساری دنیا کی منڈیوں پر چھایا ہوا تھا ، دنیا کی تجارت میں اس کا تیسرا نمبر تھا ۔، اس وقت ہم متحدہ ہندوستانیوں کی مصنوعات کی بیرونی ممالک میں زبردست مانگ تھی۔ بالخصوص ہندوستانی پارچی جات اور اس سے بنی ہوئی مصنوعات کی پوری دنیا بہت طلب تھی۔

چنانچہ ہندوستان کے کپڑے کے استعمال کو روکنے کے لیے ایڈن برگ میں محب وطن شہریوں کی ایک ایسوسی ایشن بنائی گئی، اس ایسوسی ایشن نے ہندوستانی اشیا کے خلاف زبردست مہم چلائی وار اعلان کیا کہ آئندہ سے ہندستانی مصنوعات کے بیچنے ،خریدنے اور استعمال کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔اگر کوئی شخص کسی سے چوری چھپے ایک گز ہندوستانی کپڑا بھی خریدتا تو اس کا چالان کیا جاتا تھا ۔
بعد ازاں تقسیم ملک کے بعد دونوں ممالک اپنا اپنا مال بیچنے کے لیے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہوگئے۔ اس دوڑ میں ایک کہاں نکل گیا اور دوسرا کہاں رہ گیا۔

اس وقت پاکستان اور بھارت کی اقتصادی صورتحال میں بڑا نمایاں فرق ہے۔ بھارت میں مصنوعات بنانے میں لاگت کم آتی ہے۔، اور سا کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں پاکستان کی نسبت مہنگائی کم ہے، اس لیے وہاں ضروری اشیا سستی مل جاتی ہیں ۔ میری اطلاعات کے مطابق بھرت کے صنعتی سرمائے پر شرح سود نصف ہے۔

علاوہ ازیں مارک اپ کے حوالے سے بھی بھارت کو ہم پر برتری حاصل ہے، اس وقت جنوبی ایشیا میں اس کی تجارتکا گراف اوپر جارہا ہے۔ اور ہمارا نیچے کی جانب ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دہیش سے بھارت کی تجارت 45 فیصد ہے۔ نیپال سے 70 فیصد، سری لنکا سے 50، اور بھوٹان سے 80 فیصد ۔

یہ گراف ا سبات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی موجودہ تجارتی پالیسی میں کوئی بڑی خامی موجود نہیں ۔ اب جہاں د ںتک د و
“دشمن ملکوں “یعنی پاکستان اور بھارت کی تجارت کا معاملہ ہے وہ کچھ یوں ہے۔۔۔

بھارت اور پاکستان کی تجارت کا آغاز تقسیم ملک کے ساتھ ہی ہوگیا تھا، 1947 سے شروع ہونے والی یہ دو طرفہ تجارت 1949 تک پہنچتے پہنچتے 58 فیصد ہوگئی تھی، پاکستان اپنا خام مال بھارت بھیجتا اور اس کے بدلے میں دوسری اشیا درامد کرتا ۔،

یہ سلسلہ بخؤبی جاری تھا ،کہ 1949 میں بھارت نے اپنی کرنسی بھی روپے کی قیمت میں کمی کردی اور یہ چاہا کہ پاکستان بھی ایسا ہی کرے، مگر پاکستان نے انکار کردیا ، ان حالات میں تجارتی تعلقا ت مخدوش ہونے شروع ہوئے اور آخر کار دونوں نے تجارت بند کردی۔ یہ ڈیڈ لاک تقریباً دو سال تک برقرار رہا،

دونوں ملکوں میں تجارتی تعلقات کیسے سردمہری کا شکار ہوئے اور یہ ڈیڈ لاک کیسے وجود میں آیا ؟اسکی کبھی سمجھ مجھے تو کیا ماہرین معاشیات کو بھی نہیں آسکی۔

اس کے بعد پھر تجارتی ڈول ڈالا گیا۔ تو اب کے اسے “بارڈر ٹریڈ ایگزسٹ “کا نام دیا گیا۔ اور یہ تجارت جو 58 فیصد تک جاپہنچی تھی اب صرف (1965 تک) 2 فیصد تک رہ گئی اور پھر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ 1965 سے 1974 تک آتے آتے یہ بالکل ختم ہوکر رہ گئی۔

1974 کر بعد دوبارہ ایک معاہدے کے تحت ملک عزیز نے بھارت سے رکشے درآمد کیے، بعد ازاں 1982 کے آتے آتے ایک معاہدے کی رو سے 142 اشیا کی تجارت کا آغاز کیا گیا، اس معاہدے کا نام ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان تھا۔ جو بعد میں ایک “بزنس کمیشن”کی شکل میں تبدیل ہوگیا۔

1988 تک تجارتی اشیا کی تعداد 42 سے بڑھ کر 575 تک ہو گئی ،ایسی صورتحال میں حکومت کے مثبت رویے کی وجہ سے اسے “موسٹ فیورٹ فیشن”قرار دے دیا گیا۔ پھر یہ ہوا کہ مسئلہ کشمیر بیچ میں آگیا، اور یہی موسٹ فیورٹ فیشن کی شکل بدل کررہ گئی، اور ان دنوں پھر سے دونوں ملکوں کی تجارت تعطل کا شکار ہوکر رہ گئی۔ یعنی مسئلہ کشمیر نے اسے یرغمال بنا لیا ہے۔ بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ اس مسئلے نے دونوں ملکوں کے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

ادھر عالمی بنک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ترقی پذیر ممالک اپنی آپس کی تجارت پر عائد محصولات میں کمی کردیں تو اس سے خام مال کی قیمت میں مفید کمی واقع ہوگی۔ اور یہ ممالک عالمی تجارت کی مسابقتی دوڑ میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں گے۔

میں چاہتا ہوں یہ دونوں ممالک زیادہ بہتر کارکردگی نہ سہی کم از کم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ ضرور کر دکھائیں ،وگرنہ۔۔
“ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں “

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *