میری کتوں سے نہیں بن پائی۔شاہد یوسف خان

اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے کتوں سے تعلقات ذرا کشیدہ ہی رہے ۔اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ بچپن میں دو بار چوری سے کاٹ لیا ہے۔ پھر تو انہیں آج تک جہاں بھی دیکھتا ہوں لتاں سپیڈ پکڑ لیتی ہیں۔ آج واک کرنے کرکٹ گراؤنڈ کیا پہلے آرام سے بھاگ رہا تھا پتہ نہیں کہاں سے ایک خوفناک قسم کی آواز آئی پھر میری واک کی سپیڈ بڑھتی گئی ساتھ اُس کُتے نے بھی مجھے نہتا اور خوفزدہ پا کر مزید بھگانے کی کوشش کی۔ میری سپیڈ مارکیٹ میں جا کر ختم ہوئی۔

آپ اس کو جو بھی سمجھیں لیکن خدا گواہ کہ ہ آج تک کبھی کسی کتے پر ہاتھ نہیں  اُٹھایا پھر بھی ان کی دشمنی مجھ سے کیوں ہے آپ سمجھ سکیں تو سمجھیں لیکن میں نہیں سمجھ سکا۔ ایک مرتبہ اس کی وفاداری کے قصوں سے متاثر ہو کر میں نے بھی ایک نسلی چھوٹی عمر کا کتا رکھ لیا۔ اس نامراد کی بُری عادت تھی وہ میرے رشتہ داروں اور ہمسایوں پر بھی بھونکتا تھا۔ دوسری بُری عادت یہ تھی کہ جیسے ہی قریب پہنچتا تو وہ جوتے اور کپڑے چاٹ کر رکھ دیتا تھا۔ صبح اکثر اس سے بچ بچا کے خاموشی سے نکلنے کی کوشش کرتا تاکہ اس کی محبت میں کپڑے غرق نہ ہوجائیں۔ رات ساری بھونکتا رہتا پھر اچانک ایک دن غائب دیکھا تو اس کی لاش سڑک کنارے پڑی تھی وہ بھی نامعلوم افراد کے ہتھے چڑھا تھا۔

کتے کے بھونکتے ہی ہماری طبعی شرافت ہم پر اس درجہ غلبہ پا جاتی ہے کہ آپ ہمیں اگر اس وقت دیکھیں تو یقیناً یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں مجھ سے بزدل کوئی نہیں ہے۔جیسی کیسی دانش جھاڑ رہا ہوتا ہوں اس مخلوق کے آگے میری خاموشی میرا دُکھ بیان کر رہی ہوتی ہے۔2008-9ء لاہور آیا تو ایک بندے سے دوستی لگی تو اس کے گھر جاتا تو یہی حال ہوتا کہ اس نے دو تین کُتے پالے ہوئے تھے، وہ ایک کو روکتا دوسرے مجھے دو چار سنا کے چُپ کرادیتے۔ اس کو روکا یار ایک کُتا پالنا تو ٹھیک ہے لیکن یہ دو تین تو نہ رکھو آتے ہوئے فیملی والے بھی ذلیل ہوتے ہیں مہمان بھی۔ اُس نے جواب دیاـ آئی لو ڈاگز۔۔۔ اس جُملے نے پہلا لہوری دوست کھو دیا۔

جب تک اس دنیا میں کتے موجود ہیں یہ تو بھونکنے پر مصر رہیں گے اور یہ صرف عمر کا تقاضا بھی نہیں کرتے سارے چھوٹے بڑے بوڑھے یہی کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی بھاری بھرکم   کتا کبھی کبھی اپنے رعب اور دبدبے کو قائم رکھنے کے ليے بھونک لے تو ہم بھی چاروناچاراس کا بھونکنا سہہ لیں گے میں تو اس وقت پریشان ہوتا ہوں جب کمبخت دو دو تین تین تولے کے پِلے بھی بھونکنے سے باز نہیں آتے۔ باریک آواز، ذراسا پھیپھڑا اس پر بھی اتنا زور لگا کر بھونکتے ہیں کہ آواز کی لرزش دُم تک پہنچتی ہے اور پھر بھونکتے ہیں پھڑے پتہ نہیں کیسے کھینچ لیتا ہے ورنہ آپ ٹرائی کر کے اونچی آواز نکالیں تو پھیپڑے ہل جائیں گے۔

کبھی کبھی موٹر سائیکل پر بھی پورا مقابلہ کرتے ہیں موٹر سائیکل سے گرنے کا خدشہ ہوتا ہے ورنہ سوچتا ہوں اگر اس وقت ٹرک ہوتا تو ان پر ضرور چڑھا دیتا۔ ایک رات گلی سے گزر رہا تھا ایک منحوس پھٹے کے نیچے سویا ہوا تھا اور اچانک شلوار کو جھپٹا اور شلوار کا ٹوٹا لے اُڑا اس وقت تو ایسا لگا کہ ٹانگ کو ٹُکڑا لے گیا لیکن بعد میں دیکھا کہ شکر ہے بڑے گھیروں والی بلوچی شلوار تھی تب اُس شلوار کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور سوچا کہ اگر انگریزی پتلون ہوتی تو کیا ہوتا۔

ہمارے علاقے میں ایک جاموآنی بلوچ قوم ہے ان کے پاس ایک کُتیا ہوتی تھی جو جب بھی کہیں ڈھول نگاڑے کی آواز سنتی بھونکنا شروع کردیتی، وہ بھی بڑے کمال تھے ایک دن تنگ آ کر خود ڈھول منگوا لیا اور رات ساری بجایا صبح اس کے پھیپھڑے جواب دے گئے تھے اور ساؤنڈ بالکل ختم ہوچکا تھا پھر اُس نے وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت سمجھی۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جی بڑا وفادار ہے میں نے سوچا یہ عجیب وفادار ہے جو بس رات ساری دروازے پر بھونکنے کا کام سرانجام دیتا ہے۔ اگر بھونکنا وفاداری ہے تو ان کتے پالنے والوں کو کہیں یہ وفاداری ہے تو کر کے دکھاؤ ذرا ورنہ میں تو اس قسم کی وفاداری کے خلاف ہوں۔۔

ضروری نوٹ: یہ تحریر مکمل طور پر غیر سیاسی ہے، اگر کوئی یہ عادتیں کُلی و جزوی طور پر اپنے اندر محسوس کرے تو وہ اپنا خود ذمہ دار ہے۔ شکریہ

Shahidyousufkhan
Shahidyousufkhan
شاہد یوسف خان ایم اے سیاسیات اور صحافت کے طالبعلم ہیں ۔ علم کی تلاش میں سرگرداں ہیں، سیاسی و سماجی موضوعات پر ان کی رائے دراصل سوالات پر مشتمل ہوتی ہے۔ مزاح کا ذوق ان کی عادتاً مجبوری ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *