ونڑ کاٹھا کاٹھ۔۔۔۔محمد خان چوہدری

پیش لفظ !

ہمارا نام ننھیال نے محمد علی خان اور ددھیال نے محمد امیر خان رکھنا چاہا لیکن ایک روحانی بزرگ نے جن کے یہ دونوں گھرانے معتقد تھے، محمد خان، رکھ دیا، اب اس کی مصلحت نظر آتی ہے کہ درجنوں محمدخان ہیں جو میجر، کرنل اور بریگیڈیر ہوئے، لیکن علم و ادب کے کرنل محمدخان اکیلے تھے، انکا نام مزید روشن کرنے کا فرض ہمارے ذمہ ٹھہرا ۔۔۔ یہ کہانی سماج اور معاشرے کی ایسی تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہے جس کا شکار صنف نازک کی اکثریت بچپن سے بڑھاپے تک رہتی ہے، بتو کا کردار حقیقی ہے اسے سوہنی، ہیر ، اور سسی کی داستانوں کے تناظر میں دیکھنا ہے، بتو کا عمل یا ردعمل کیا واقعی غلط ہے یا اس نے حالات کے جبر کا انتقام لینے کی جرات کی جو اس کا حق تھا، محبت کا قرض تھا، پیار کا فرض تھا اس نے ادا کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہر کے مشرق میں بارشی پانی کا نالہ تھا جسے مقامی زبان میں کسی کہتے ہیں، اس سے ملحق کٹی پھٹی چکنی مٹی کی زمین کے ٹیلے جسے بھنڈر اور چاہنڑیاں کہا جاتا ایک وسیع رقبہ تھا، محکمہ مال کے کاغذات میں اسکی کیفیت غیر ممکن، بنجر قدیم شاملات تھی جس کے موجود قابض وارث صرف دو تھے۔ راجہ اشرف خان اور صوبہ نائی۔ زمانے سے کسی سے بیل گاڑیوں پہ  ریت اور بھنڈر سے گارے کے لئے مٹی کھود کے شہر میں تعمیرات کے لئے لائی  جاتی، اشرف نے نالے میں کلورٹ بنا کے پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ وہاں اینٹوں کا بھٹہ لگایا، صوبہ نے اپنی کافی زمین ہموار کر کے کنواں کھدوایا، یوں آباد کاری شروع ہوئی، مسجد بھی بنائی گئی، دونوں نے وہاں سے مختلف درخت کاٹ چھانٹ کے انکی چھتیں ڈال کے اشرف نے حویلی تعمیر کی اور صوبے نے ڈیرہ بنایا، تو یہ محلہ ونڑ کاٹھے کاٹھ کی چھتوں کی نسبت مشہور ہوا۔ جہاں اشرف کا پوتا خلیل پیدا ہوا، جس نے شہر کے سکول سے میٹرک کرنے کے بعد کالج میں داخلہ لیا لیکن ساتھ وہ زمینداری میں بھی ہاتھ بٹاتا ۔ صوبہ نائی  کی بیٹی بیوہ ہوئی تو اکلوتی بیٹی ، بخت بانو کے ساتھ باپ کے گھر واپس آ گئی تھی۔
بخت بانو کے ماتھے پہ باپ کی وفات کا ٹیکہ شروع سے چپک گیا، کہ یہ منحوس پیدا ہوتے باپ کو کھا گئی، اسی وجہ سے اسکا نام بگڑ کے “بختو ” ہُوا جو ہوتے ہوتے “بتو “رہ گیا، گھر میں بچپن سے لعن طعن اور تشنیع کے رد عملنے اسے مردانہ وار رویئے کا حامل بنا دیا، جوان ہوتے اس کا بدن تو الہڑ مٹیار کے روُپ میں تھا لیکن وہ زنانہ محسوسات اور نزاکت سے محروم تھی، سارے مردوں والے کام کرتی، چارہ کاٹنے سے بھینسوں کا دودھ نکالنے، انہیں سنبھالنے
نہلانے، میں اسے کوئی دقّت نہیں ہوتی تھی، اس کا نانا صوبہ بس ہل چلاتا، باقی سارے ڈھور ڈنگر ڈیرہ بتو کے سر تھا۔
وہ بلی کی طرح درخت پہ  چڑھ جاتی، کھیت کھلیان میں اکیلی ہوتی تو بھی کسی مرد کی جرآت نہ تھی کہ اس سے چھیڑ چھاڑ کرے، محلے کے نوخیز مرد اس سے کئی بار پٹ چکے تھے، ڈیرے پہ  جس کی چاردیواری بھی نہیں تھی وہ بغیر دوپٹہ اوڑھے کھلا مردانہ کرتا شلوار پہنے کام کر رہی ہوتی تو گلی سے گزر کے مسجد یا کھُوہ پہ  جانے والے کنی کترا کے گزرتے۔۔۔۔۔۔
لیکن خلیل کی بات اور تھی !

بتو جیسی

گھریلو قریبی تعلقات، پڑوس میں گھر اور کھیت بھی ساتھ ساتھ، بچپن سے دونوں سمجھیں کہ ایک ہی گھر میں پلے ۔
خلیل اپنی بھینس چرانے جاتا تو بتو چارہ کاٹ رہی ہوتی، دونوں باتیں کرتے رہتے، بتو گٹھا باندھ لیتی تو خلیل سے  مل کے سر پے اٹھاتی، دونوں متوازی ہوتے تو سانسیں بھی منتشر ہوتیں، بتو گھر جاتی تو خلیل اس کی درانتی سےاور چارہ کاٹ دیتا، مسجد والے کھُوہ سے بتو پانی بھرنے جاتی تو خلیل بھی نہانے جاتا، گھڑے بھرے جاتے ، مل کے گھڑا بتو سر پے رکھتی تو خلیل اس گھڑے پہ دوسرا گھڑا رکھتا اور چھوٹی گھڑی اس کی کمر پہ  اٹکاتا، اس قربت سے بھی دونوں کے بدن متصل ہوتے۔۔۔
بتو عام طور پر اپنی ماں کو بھی بلائے جانے پر کرختگی سے” کے آ “کہتی لیکن شروع سے خلیل کی آواز پہ  ہمیشہ
“جی ” کرتی، چارہ کاٹنے کی مشین خلیل چلاتا، تو اگر کبھی ” دتھہ “بھاری ہو جاتا تو بتو چکر کے لیور کو خلیل کے مقابل آ کے اس کے دستے پہ رکھے خلیل کے ہاتھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھ کے مل کے چلاتی، دستے کے گھومنے میں آمنے سامنے ہوتے کئی بار انکی چھاتی پہ باہم رگڑ بھی لگتی، دونوں اس آگ کی تپش سے واقف تو ہو چکے تھے
پر روایتی شرم حائل رہتی، لیکن کب تک، دونوں کی جوانی جب ابال پہ تھی، تنہائی میسر ہوتی تھی تو ایک دن۔۔
کھیت میں چارہ کاٹتے بتو کے بدن کا تناؤ اور خلیل کے جذبات بے قابو ہو گۓ، بوس و کنار نے آتش اعضا کواتنی تپش دی کہ وصل کی منزلیں طے ہونے پہ  آ گئیں ، کہ یکا یک بتو کپکپا کے علیحدہ ہو گئی، پھولی ہوئی سانس پہقابو پاتے ہوئے اس نے خلیل کے پاؤں پکڑ لئے، تھوڑی دیر میں خلیل نے بھی حواس پہ  قابو پا لیا ۔۔
بتو نے رندھی ہوئی آواز میں کہا، تم چاہو تو میں یہ بدن بھسم کر دیتی ہوں، مگر میری بچپن سے خواہش ہے
جب سے جوانی لگی ہے بس یہی سوچتی ہوں کہ میں تمہارے بچے کی ماں بنو ں گی اور وہ ہو گا بھی بیٹا، جس کے ہونے
سے میری ساری محرومیاں ختم ہونگی، خلیل کا بدن تھرتھرایا ، اس نے ہونٹوں پر زبان پھیر کے دقّت سے کہا
ہماری شادی ہو سکے گی !
بتو اپنے آپ کو سنبھال چکی تھی، اعتماد سے بولی، شادی نہیں ہو سکتی نا ! میں تمہارے خاندان سے جو نہیں!
لیکن ایک کام ہو سکتا ہے، نانا میرے نام میرے مرحوم باپ کی زمین لگنے سے پر امید ہے کہ زمین کے لالچ میں
میرے دھدیال میں میرا رشتہ ہو جائے گا، اور شاید رخصتی بھی وہ جلدی کرائیں، مہندی والی رات ہم نانا کے کھُوہ والے ونڑ کاٹھے کوٹھے میں ملیں گے، میری سہاگ رات تمہارے ساتھ ہو گی ۔۔
چھ سات سال بعد جب خلیل پڑھائی مکمل کر کے ٹیچر بھرتی ہونے کے بعد، صوبہ نائی کے ڈیرے سے متصل پرائمری سکول کا ہیڈ ماسٹر بن چکا تھا۔۔تو ایک روز بتو ایک لڑکے کو سکول داخل کرانے لائی، خلیل کے دفتر میں اسے بچہ دکھا کے بولی دیکھ لو !
تم جب سکول داخل ہوئے تھے تو بالکل ایسے ہی تھے نا ! خلیل گم سم بیٹھا دیکھتا رہا۔۔۔
اگلے روز اس نے صوبہ نائی سے اجازت لے کر وہ ونڑ کاٹھا کوٹھہ گرا کے سکول میں شامل کرا دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *