مس دینا واڈیا اور قائدِاعظم کا سیکولرازم۔ہارون الرشید

قائدِاعظم کی اکلوتی صاحبزادی مس دینا واڈیا 2 نومبر کو تقریبا ایک صدی تک زندگی کی بہاریں دیکھنے کے بعد ابدی زندگی کی طرف لوٹ گئیں۔

موت کو سمجھا ہے غافل اختتامِ زندگی

ہے یہ شامِ زندگی،  صبحِ دوامِ زندگی

مس واڈیا تو ابدی نیند سو گئیں لیکن قائدِاعظم کے بارے میں  سیکولر اور لبرل   حلقوں کے پراپیگنڈے کو بھی بے نقاب کر گئیں کہ جناح ایک سیکولر شخصیت تھے۔   اختر بلوچ صاحب نے اپنی تحریر  “قائدِاعظم کے اپنی بیٹی دینا کے ساتھ تعلقات کیسے تھے؟” اور  عقیل عباس جعفری صاحب نے اپنی تحریر “دینا جناح کون تھیں؟” میں مس واڈیا کے اُن انٹرویوز کو نقل کیا ہے جن میں انہوں نے اپنی شادی کے حوالے سے قائدِاعظم کے تحفظات اور اُس کے بعد اپنی اکلوتی بیٹی کے ساتھ تعلقات میں شدید سردمہری کا تذکرہ کیا ہے۔  بمبئے ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور قائدِاعظم کے دوست ایم سی چھاگلہ نے اپنی خودنوشت میں تحریر کیا کہ  “جناح صاحب نے حسب معمول اپنے نادر شاہی انداز میں دینا سے کہا ہندوستان میں لاکھوں مسلمان لڑکے موجود ہیں اور وہ جسے پسند کرے اسی کے ساتھ اس کی شادی کردی جائے گی“ اس پر دینا نے  برجستہ کہا ” ہندوستان میں لاکھوں مسلمان لڑکیاں موجود تھیں، آپ نے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تھی؟ جس پر جناح صاحب نے جواب دیا کہ وہ مسلماں ہو گئی تھیں۔”

مس واڈیا نے پاکستان ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بھی ان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “میرے والد نے اسلامی اصولوں کی پاسداری میں اپنے عزیز ترین تعلقات  کو ترک کر دیا۔ انہوں نے مذہب کےلیے اپنے خونی رشتوں سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ والد مجھ سے بہت محبت کرتے تھے لیکن ایک غیرمسلم کے ساتھ میری شادی کے فیصلے نے انہیں میرے ساتھ تعلق ختم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ  نہیں ہونے دی۔ ” جب قائدِاعظم اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے تو تاریخ میں درج ہے کہ مس دینا نے اُن سے ملنے کے لیے آنا چاہا تو قائدِاعظم کی ذاتی ہدایات پر انہیں ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا۔

دینا واڈیا نے اَس حوالے سے انٹرویو میں کہا کہ “مجھے اس بات کا مزید ثبوت اُس وقت ملا جب اُن کے آخری لمحات میں اُن کے ذاتی  احکامات کے تحت مجھے ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا گیا، یہ میرے لیے اُس عمل کی سزا تھی جب میں نے اپنی شادی کے موقع پر اُن کی امیدوں کو خاک میں ملایا تھا۔” یہ بات تو بہرحال درست نہیں ہے کہ قائدِاعظم نے بیٹی سے مکمل قطع تعلق کر لیا تھا البتہ تاریخی حقائق اِس بات کی گواہی بہرحال دیتے ہیں کہ مس دینا کی شادی کے بعد باپ بیٹی کے تعلقات میں انتہائی سردمہری آ گئی تھی اور اُن کے اپس کے تعلقات پھر ویسے کبھی نہ ہو سکے جیسے ایک باپ اور بیٹی میں ہونے چاہییں اور اِس بات کو مزید تقویت یہاں سے ملتی ہے کہ شادی کے بعد قائدِاعظم نے ہمیشہ انہیں مسز واڈیا کہہ کر لکھا اور پکارا۔

اِس سارے پس منظر میں یہ بات ابھرتی ہے کہ  جو شخص شادی جیسے خالصتاً نجی معاملے میں سیکولر نہیں ہو سکتا ، اُس کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں سیکولر ہو گا کچھ مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے (واضح رہنا چاہیے کہ یہاں سیکولرازم اپنے اصطلاحی معنوں میں نہیں بلکہ معاشرے میں اس وقت رائج معنوں کے حوالے سے مستعمل ہے)۔ وہ تو بھلا ہو مس واڈیا کا کہ جو اپنی زندگی میں ہی متعدد انٹرویوز میں اپنی شادی کے حوالے سے اپنے والد کے ساتھ اختلافات کا ذکر کر چکی تھیں اور جسے حال ہی میں اُن کی وفات کے بعد بعض ترقی پسند دانشوروں اور لکھاریوں (ترقی پسند کی اصطلاح اب تقریباً متروک ہو چکی، اُس کی بجائے اب لبرل کی اصطلاح زیادہ موزوں ہے) نے بھی اپنے کالموں میں نقل کیا ہے، ورنہ ہمارے آج کے سیوڈو لبرلز  اس کو بھی ضیاالحق کی ایجاد اور اختراع قرار دے کر جھٹلاتے رہتے۔

ہمارے لبرل اور سیکولر حلقے قائدِاعظم کے سیکولرازم کی دلیل میں اُن کی 11 اگست کی تقریر پیش کرتے ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا تھا   کہ ” تم (اقلیتیں) آزاد ہو، تم اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہو،  تم اپنی مساجد میں جانے کےلیے آزاد ہو،  تم اس ریاست میں کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہو،  تم کسی بھی ذات، مذہب یا نسل سے تعلق رکھتے ہو اس کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے”۔ اِس تقریر کے علاوہ وہ قائدِاعظم کے وہ تمام خطبے نظرانداز کر دیتے ہیں جن میں اسلامی اصولوں کے مطابق نئی مملکت کی تعمیر کے حوالے موجود ہیں حالانکہ میری نظر میں قائدِاعظم کی 11 اگست کی تقریر بھی عین اسلامی اصولوں کے مطابق ہے۔

حضور نبیِ کریم ﷺ کا یہودیوں کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ جو میثاقِ مدینہ کہلاتا ہے اور جسے اسلامی محققین اور ماہرینِ قانون دنیا کا پہلا تحریری دستور بھی قرار دیتے ہیں، اُس میں ریاستِ مدینہ میں رہنے والے تمام یہودی قبائل کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی۔ چنانچہ معاہدے میں لکھا گیا کہ ” و ان یهود بني عوف امة مع المومنين، لليهود دينهم وللمسلمين دينهم مواليهم و انفسهم الامن ظلم” یعنی   “اور بنی عوف کے یہودی، مومنین کے ساتھ ایک سیاسی وحدت تسلیم کئے جاتے ہیں یہودیوں کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین، موالی ہوں یا اصل، سوائے اُس کے جو ظلم یا عہدشکنی کا ارتکاب کرے”۔ اسی طرح تمام قبائل کا معاہدے میں نام لے کر ذکر کیا گیا اور ضمانت دی گئی کہ انہیں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کی آزادی ہو گی۔

اب قائدِاعظم کی  11 اگست کی تقریر کے درج بالا حصے کو میثاقِ مدینہ کے درج بالا حصے کے ساتھ ملا کر دیکھیے، آپ کو دونوں میں تصادم نہیں بلکہ مکمل ہم آہنگی نظر آئے گی تو یہ بات تو عین اسلامی ہو گئی۔ سیکولرازم کہاں سے آ گیا؟ اسلام تو اقلیتوں کی مذہبی آزادی سمیت ہر قسم کے حقوق کا ضامن ہے اور قائدِاعظم نے 11 اگست کو یہی اصول تو دہرایا تھا۔  یہ البتہ ضرور ہے کہ قائدِاعظم نے مذہبی تھیوکریسی کو ضرور مسترد کیا تھا اور مذہبی تھیوکریسی اور اسلامی ریاست میں بہت فرق ہے۔

میری رائے میں 70 سال گزر جانے کے بعد جتنی پولرائزیشن کا ہم شکا ر ہیں، اُس میں اِس طرح کی لاحاصل بحثیں نہ صرف کج بحثی کے زمرے میں آتی ہیں بلکہ پولرائزڈ معاشرے مٰیں تقسیم کو مزید گہرا کرتی ہیں جبکہ پاکستان کا آئین اقلیتوں سمیت سب کو برابر کے حقوق کی نہ صرف ضمانت دیتا ہے  بلکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کرنے کی بھی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا  قوم کا وقت ایسی بحثوں میں ضائع کرنے کی بجائے اور انہیں خواہ مخواہ کی بے تُکی انٹلیکچوئل بحثوں کے ذریعے الجھن میں مبتلا کرنے کی بجائے موجود قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے نہ صرف جدوجہد کرنی چاہیے  بلکہ قوم کی تعمیروترقی میں سب کو  مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب بھی دینی چاہیے اور بد نیتی پر مبنی بحثوں میں الجھنے اور الجھانے کی بجائے جدید دور کے جدید تقاضوں کے مطابق ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان کو بھی قائد کے وژن کے مطابق اسلامی ، فلاحی اور جمہوری  ریاست بنانے کے لیے اپنا اپنا  حصہ ڈالنا چاہیے۔

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *