ہندوستان کی براہمنیت۔محمد شمشاد

آج ہر ذی شعور آدمی کے ذہن میں ایک سوال بار بار گردش کرتا ہے کہ آخر براہمنیت ہے کس جانور کا نام جس نے  پورے بھارت کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے اور اس ملک میں اب تک وہی ہوتا آرہا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ یہ عام طور سے کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی شخص مذہب تبدیل کرکے عیسائی، مسلم، بودھسٹ اور جینی بن سکتا ہے اوراس کی  اولاد کا رشتہ بھی اسی مذہب سے جڑ جاتا ہے اور وہ اب بدھسٹ، جینی، مسلم و عیسائی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لیکن براہمن اور یہودی کے ساتھ ایسا معاملہ   نہیں ہے،

کسی بھی شخص کو مذہب تبدیل کر دینے کے بعد برہمن اور یہودی نہیں بنایا جا سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیدائشی طور پر براہمن یا یہودی ہواس طرح پوری دنیا میں براہمنوں اور یہودیوں کی ایک الگ اور خاص پہچان سامنے آئی ہے اور دنیا کا کوئی بھی مذہب ان مخصوص صفات کا حامل نہیں ہے۔ براہمنیت کیا ہے اس کے بارے میں وی ٹی راج شیکھر نے اپنی کتاب ’’براہمنیت‘‘ میں لکھا ہے کہ براہمنیت استحصال کا ہی دوسرا نام ہے ہم اس کی مخالفت کریں گے چاہے اس کی شکل کچھ بھی ہو اور کوئی بھی کررہا ہو جب ہم براہمنیت سے جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں تو دراصل ہم استحصال سے جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں صرف براہمنوں سے نہیں یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے‘‘

اسی لیے بہت سارے مبصروں کی رائے ہے کہ بھارت میں اٹھنے والی ہر وہ آواز جو سماجی انصاف کے لیے لگائی گئی ہو چاہے وہ تحریک کی شکل میں لگائی گئی ہو، جین مت اور بدھ مت یا کانشی رام ومایاوتی کی بہوجن سماج یا جے پی آندولن اور جنتادل سے لے کر آج تک سبھی تحریکیں برا ہمن مخالفت کی شکل اختیار کرتی رہی ہے جیسا کہ جگجیون رام نے کہا ہے کہ’’ سماجی مساوات کی کوئی بھی تحریک اپنی فطرت میں برا ہمن مخالف ہونی چاہیے ۔”

ڈاکٹر محمد حمیداللہؒ اپنی کتاب محمد رسول اللہ ﷺمیں بدھ مت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ براہمنیت یعنی ہندو مت کی بت پرستی کے خلاف احتجاج ہی بدھ مت کے آغاز کا سبب بنا ،بدھ مت مکمل طور پر کوئی نیا مذہب نہیں تھا بلکہ یہ بت شکنی کے حق میں اصلاحی و فلاحی تحریک تھی چنانچہ اس میں کئی دوسرے مذاہب کی نمایاں خصوصیات یکجا ہو گئی تھیں (صفحہ نمبر 49) ۔

ڈاکٹر محمد حمیداللہؒ اپنی کتاب محمد رسول اللہ ﷺمیں لکھتے ہیں کہ اگرچہ براہمنیت کے پیروکار ایک خدا پر یقین ضروررکھتے ہیں تاہم وہ خدا کے مظاہر کی بھی پرستش کرتے ہیں چاہے وہ خدا کی تخلیق ہو یا خدا کی کسی خاصیت کی علامت، نمائندگی یا اظہار ہو ۔ یوں توبراہمنوں کے مطابق ان کے دیوتاؤں  کی تعداد چالیس کروڑ ہے یعنی دیوتاؤں کی تعداد پجاریوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور گائے ان دیوتاؤں کی سردار ہے ۔ہندو مت کے پیروکار اگر جانور وں مثلا ناگ، ہنومان اور بندروں کی پرستش کرتے ہیں تو وہ درختوں ، پتھروں ، دریاؤں کے سنگم، منبع، سورج، چاند، اور انگنت دوسری چیزوں کی پوجا بھی کرتے ہیں۔

مزید یہ کہ وہ علم، موت، دولت وغرہ کو بتوں کی شکل دیتے ہیں اور انہیں دیوتا مان کر ان کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہندو براہمنوں کی بہت ساری کتابیں ہیں اور وہ ان سب کو الہامی مانتے ہیں ان میں ’ پران‘ بھی شامل ہے جس کا لغوی معنی پرانی اور قدیم کتاب ہوتا ہے [ان قدیم کتاب میں علم الاصنام سے متعلق اٹھارہ کتابیں شامل ہیں یعنی

1۔وش

2۔ناروپا

3بھاگوت

4۔گرو

5۔پد

6۔واریا

7۔منیسا

8۔کرما

9۔لنکا

10شو

11۔سکند

12۔اگئی

13۔برہم

14۔برہمند

15۔برہم دیورت

16۔مارکنڈیہ

17۔بھوشیہ

18۔وامن

اگر ان کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں جس واحد نظریہ کوپیش کیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ بغیر کسی پجاری کے ذریعے بھگوان کی عبادت براہ راست نہیں کی  جاسکتی  اور وہ پجاری صرف ایک براہمن ہی ہونا چاہیے جسے خدا کے نمائندے کے طور پر منتخب کیا گیا ہو، اس کے علاوہ کوئی اور نہیں اس طرح انہوں نے خود کو ہی خد اتسلیم کرلیا ہے اس لیے خدائی کا درجہ براہمن نے خود اپنے آپ کو دے رکھا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ براہمنیت ایک خاندان تک محدود ہے یعنی براہمن کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ہندو نہیں بن سکتا ہندو کہلانے کا حق محض اسی شخص کو ہے جو ہندو خاندان میں پیدا ہوا ہے اس مذہب کا ایک خاص پہلو عقیدہ تناسخ (ایک ہی روح کے مختلف اجسام میں کئی جنم )ہے ایسے شخص کے لیے جو کسی عالمگیر مذہب کا متلاشی ہو جو پوری انسانیت کو اپنی برکت و رحمت کی آغوش میں پناہ دے سکے اس شخص کے لیے یہ قطعی نا ممکن ہے کہ وہ براہمنیت کی جانب کسی بھی صورت میں رجوع کرے۔

براہمنیت کی دشمنی ہندوستان کی خاص نازی ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ آر ایس ایس کھل کر اعلی ذاتوں کی مطلق العنانی کی تبلیغ کرتی ہے دنیا کے  عظیم ترین ڈکٹیٹروں یعنی ہٹلر اور موسولینی نے اسی براہمنیت سے رہنمائی حاصل کی ہے جس کی بنیاد کرم یعنی عمل کے فلسفے پر ہے اور غریبوں اور دبے کچلے لوگوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ غربت کو خوشی خوشی برداشت کریں کیونکہ یہی ان کی قسمت ہے اور براہمنیت اپنے پیروؤں سے خاموش وفاداری کا مطالبہ کرتی ہے اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ اس براہمنیت نے نہ صرف ہندوستان کے دلتوں پسماندہ اور اقلیتوں کو اپنا غلام بنا لیا ہے بلکہ وہ پوری دنیا کو اپنے نرغے میں سمیٹ رکھا ہے۔

اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ براہمینیت صرف اسلام کی دشمن نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان سمیت پوری دنیا کا دشمن ہے یہی وجہ ہے کہ جو لوگ براہمنیت کی تحریک سے جڑے ہوئے ہیں ان کے یہاں فسطائیت اور نازیت بھی اپنی جڑیں مضبو ط کر چکی ہیں۔

نسل پرستی!

قدیم زمانے میں جب نسل پرستی نے سفید فام عوام کو اپنی گرفت میں لیا اس  سے قبل اس نسل پرستی کی وبا یعنی براہمنیت ہندوستان میں اپنی جڑیں جمع چکی تھی اور اسی وجہ کو گہرے رنگ والے و کالے دراوڑاور عادی دراوڑ(بھارت کے کالے اچھوت )اس کے سب سے بڑے شکار بنے ہیں اسی بنا پر ہندوستان نسل پرستی کی مادر وطن کہلاتی ہے اس نسل پرستی کے معمار آریائی براہمنی لوگوں نے ہندوستان سے نسل پرستی کو برآمد کیا ، بالآخر 2001 میں بھارت کے اچھوتوں نے نسل پرستی کے خلاف ڈربن میں اقوام متحدہ کے تحت منعقد ہ عالمی کانفرنس میں اس نسل پرستی پر بحث کی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ دنیا پہلی بار یہ جان کر حیرت زدہ ہوگئی کہ نسل پرستی کی ابتداء بھارت سے ہوئی ہے اور یہ کہ براہمنیت اس کی بانی ہے (دلت وائس اکتوبر 2001 ) جبکہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒکے مطابق گائے کی پوجا اور چھوت چھات دونوں خاصیتیں براہمنیت کی علامت ہیں اگر گائے کی پوجا ان کی نمایاں خصوصیت ہے تو چھوت چھات کا غیر انسانی نظریہ بھی انہی کی خصوصیت ہے۔ اس لیے کہا یہ جا سکتا ہے کہ براہمنیت دراصل ایک مذہب نہیں بلکہ استحصال کا ایک مہلک نظریہ ہے اور اسی وجہ سے یہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔

آج دنیا واضح طور پر دو کیمپو ں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔پہلا گروپ سامراجیت، نسل پرستی، صیہونیت اور برہمنیت کا ہے تو دوسرے گروپ میں وہ لوگ آتے ہیں جو ان کے مخالف ہیں یعنی پوری دنیا کے مسلمان، سیاہ فام لوگ ہندوستان کے اچھوت، دلت و پسماندہ لوگ اور چین کے زرد نسل کے لوگ بھی، واضح رہے کہ دنیا کے متعدد حصوں اور گروپوں میں جو مسلمان آباد ہیں وہ لوگ بھی سیاہ فام کے زمرے میں آتے ہیں۔

آج کی تاریخ میں امریکہ عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے، جو پوری سفید فام دنیا کی قیادت کر رہا ہے وہی سویت یونین کے انتشار کی وجہ بنا ۔ اس وقت  امریکہ عالمی پولیس اور آرمی کا کام کررہا ہے وہ امریکہ کا حکمران طبقہ ہی ہے جس نے خلیج  میں جنگ کو برپا کیا ہے اس نے مسلمان اور اسلام کے خلاف جنگ کا بگل بجا دیا ہے اور افغانستان پر 2001 میں بموں کی بے تحاشا  بارش  کی عراق کے خلاف جنگ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ اتنا ہی نہیں اسی نے عراق اور ایران کے درمیان جنگ کا منصوبہ تیار کر کے انہیں ایک دوسرے کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ،یہ وہی ہے جس نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کو راہ سے ہٹانے کے بعد فلسطین کے خاتمے کے لیے صیہونی و اسرائیلی وزیر اعظم شیرون کی پست پناہی کی۔

امریکہ کے 11ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملے کے بعد صیہونی طاقتوں کی  شہ پر امریکی صدرجارج بش نے اسامہ بن لادن کو اس دہشت گردانہ حملے  کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے پکڑنے کا بہانہ بنایا اور اس کے لیے اس نے افغانستان کے خلاف ایک مہلک جنگ چھیڑ دی اوراس امریکہ نے افغانستان پر دوسری جنگ عظیم سے بھی کہیں زیادہ بموں کی بارش کی تاکہ افغانستان پوری طرح نیست و نابود ہوجائے لیکن صدر جارج بش جس نے اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کا عہد کیا تھا وہ ان کے جائے وقوع کو پتہ کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوا کیونکہ وہ پکڑا نہیں گیا لیکن ہندوستان سمیت امریکہ کے حواری افغانستان میں فتح کا دعوی کرنے میں پیچھے نہیں رہے جبکہ امریکہ کو وہاں سے بہت بے آبرو ہوکر افغانیوں کی شرائط کو مان کر اور گھٹنے ٹیک کر واپس ہونا پڑا۔

افغانستان میں شکست کے بعد صیہونیوں کے دباؤ میں آکر اٹومک انرجی کا بہانا بنا کر ایران، عراق اورشمالی کوریا کے خلاف جنگ کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا اس فیصلے کا اعلان جارج ڈبلو بش نے اپنی اسٹیٹ آف دی یونین کے خطاب کے دوران کیا تھا جارج بش کی اس تقریر نے واضح کردیا تھا کہ امریکہ صیہونیت کے مکمل قبضہ میں آچکا ہے اور وہ اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے در پے ہے۔ مغربی ایشیاء کے عرب  لیگ  فلسطین پر اسرائیلی حکومت اور اس کی فوجیوں کی جانب سے جس طرح کے  ظلم ستم ڈھائے جارہے ہیں اور وہاں اسرائیل کے ذریعہ جو دھماکہ خیز صورتحال قائم کر دی گئی  ہے اس معاملے میں امریکہ نے جو رخ اختیار کیا ہے اس سے بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہتا ہے اور پھر سے وہ تیسری عالمی جنگ کا بہانہ تلاش کر رہا ہے۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *