اسٹیپنی والا

یہ جو گلفشانی بخاری صاحب نے فرمائی ھے یہ کوئی نئی بات یا نیا واقعہ قطعاً نہیں ہے در اصل ہم اکثر یھی رویہ اختیار کرتے ہیں جو اسٹیپنی سرکار نے اختیار کیا ھے یعنی جواب ندارد کی صورت یا پریشر کی آمد پر اختیار کیا جانے والا رویہ ھے- اس ملک کے کسی ادارے میں چلے جائیے تو روکھڑا نہ دے سکنے کی صورت میں وہ آپکا کام کرنے کی بجائے اپکو عنایت فرمائیں گے کہ ہم تو یہ کام کر ہی نہیں سکتے یہ تو فلاں کے ہاتھ میں ھے گویا ہم تو اسٹیپنی ہیں – یہاں جمہوری قوتوں سے سوال کریں کہ آخر بھوک اور افلاس سے سڑکوں پر رینگتی خود کو گھسٹتی عوام کے بارے کیا کیا؟ تو آپ جواب پاتے ہیں ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا ہم تو کرنا چاہتے تھے مگر بوجوہ نہ کر پائے یعنی اصل طاقت کہیں اور تھی ہم تو بس اسٹیپنی تھے – آپ اسی ملک کی عسکری قیادت سے سوال پوچھ لیں کتنی بار ہمیں نوید ہائے مسرت کمر توڑ پروگرام کی سنائی جائیں گی تانکہ اگلا وار ہوتا ھے اور پھر پتہ چلتا ھے کہ اسکے پیچھے فلاں فلاں ہیں یعنی پھر واپس آپ کہتے ہیں کہ جو کرا ریا امریکہ کرا ریا ہم تو بس اسٹیپنی ہیں – ہماری عدالتوں کا حال کسی سے پوشیدہ ھے کیا؟ مگر سالہا سال سے عدالتی احاطوں میں غربت زدہ چہرے لیے پھرنے والی عوام رلتی ھے بلکتی ھے کہ انصاف ہی مل جائے مگر اکثر نہیں ملتا اور رخ موڑ دیا جاتا ھے کہ پولیس نے اپنا کام ٹھیک سے نہیں کیا تو ہم کیا کر سکتے ہیں یعنی ہم تو فقط اسٹیپنی ہیں – ہمارے بہت سے دوست جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں کبھی سنیے تو درد دل انکا کبھی پوچھیے تو وہاں ناچتی غربت کے پیروں میں گھنگروں کس نے باندھے ہیں – مگر اسی پنجاب کے چکوال سے آگے آئیے اور پھر لاہور تک چلے جائیے یہ دوسرا پنجاب ھے یہاں کوئی اور حکومت ھے جنوبی پنجاب میں کوئی اور حکومت ھے-سوال پوچھنے پر بتایا جاتا ھے جنوبی پنجاب میں بجٹ کی کمی ھے تو ہم کیا کر سکتے گویا ہم تو اسٹیپنی ہیں ہمارے پاس کیا حل ھے – سندھ ایسی محبتوں کی سرزمین پر کبھی اندرون سندھ جانے کی غلطی کا ارتکاب کیجیے اور چلے جائیے چلیں تھر کا ہی ذکر کریں تو پوچھیے اتنے عشروں سے حکمرانی رہی ھے سندھ دھرتی کے سپوتوں کی ایک تھر نہ سنبھالا گیا- کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ اس زمانے میں ہمارے ہی اس ملک میں ایسی جگہ بھی ھے جہاں واقعتاً بھوک سے بچے مر جاتے ہیں یعنی یہ جملے ہماری سماعتوں پر کوئی اثر نہیں ڈالتے؟ اب آپ وہاں کے حکمرانوں سے پوچھیے جواب یہی ہو گا کہ ہم تو اسٹیپنی ہیں اصل تو کوئی اور ھے – بلوچوں جیسے روادار بھی کہیں پائے جاتے ہیں بھلا؟ پھر وہ بلوچستان جہاں سے سبکو سب کچھ میسر ھے مگر نہیں ھے تو خود بلوچوں کو نہیں ھے بھلے وہ گیس ھو، معدنیات ہوں، افسر شاہی ہو غرض کچھ بھی ہو – اب پوچھ لیجیے کہ ایسی رکاوٹ کہاں ھے اور کس نے کھڑی کی ھے مقتدرہ قوتوں سے تو جواب ملے گا یہاں خارجی قوتوں کی وجہ سے یہ سب نہیں ہو پایا ہم تو کر رھے مگر ہوتا نہیں کیونکہ ہم تو اسٹیپنی ہیں – جو آگ کے پی کے میں پچھلے عشرے میں بھڑکی ھے اسکا ایندھن علاقہ غیر میں کتنے عرصے سے اور کس نے جمع کیا تھا اور چراغ تلے اندھیرا رہا اتنے سال وہ بھی اس قدر اب پوچھ بیٹھیے تو جواب ہم اسٹیپنی ہیں کے سوا بھلا کیا ملے گا وہاں سے – یہ اسٹیپنی ہونا ہمارے ہاں بنیادی انفرادی ذمہ داریوں سے لے کر ریا ستی سطح تک کی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے استعمال کیا جانے والا ٹول ھے یعنی اپنی ہڈ حرامی، ناکارہ پن، مفاد پرستی، بے ایمانی، جھوٹ، بددیانتی، کام چوری کو ایک لفظ کے پیچھے چھپا لیتے ہیں اور وہ لفظ ھے اسٹیپنی گویا ہمارے ہاتھ میں ہماری بساط میں تو کچھ تھا ہی نہیں کسی بھی حوالے سے ہم کر ہی کیا سکتے تھے ہم تو فقط اسٹیپنی تھے – بخاری صاحب آپ ہی نہیں آپکے علاوہ ہم سب واقعی اسٹیپنی ہیں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *