سلمان حیدر، بے نام بلوچ ۔۔۔ مہوش بلوچ

ایڈیٹرز نوٹ : ہمارے بلوچ دوستوں کو گلہ ہے کہ انکی آواز کو دبایا جاتا ہے اور وہ کہیں اپنی بات نہیں کہہ سکتے۔ یہ مضمون ہم اس نیت سے چھاپ رہے ہیں کہ ہمارے بلوچ دوست آگے بڑھیں اور اپنی کہانی کہیں تاکہ مختلف قومیتوں کے درمیان مکالمہ ہو اور غلط فہمیاں دور ہوں تاہم "مکالمہ" کا مضمون نگاری کی رائے اور دئیے گئے اعداد و شمار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رکیے!!!! مجھے اپنی بات مکمل کرنے دیجیے، کیا صرف بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی گمشدگی کی فہرست میں شامل ہیں یا وہ لوگ جو بلوچ جیسے بننے کی پاداش میں آج خاک و خون ہورہے ہیں یا سیاہ زندانوں میں آہنی سلاخوں کے پیچھے اپنی موت کے منتظر ہیں، موت ہی ایک رستہ ہے اس تاریکی سے باہر آنے کا وگرنہ یہ مہیب آہنی سلاخیں جیتے جاگتے انسانوں کی دوست بن ہی نہیں سکتیں۔

کیا صرف ایسے لوگ گمشدہ ہیں جو بلوچ نسل سے ہی تعلق رکھتے ہوں یا پھر کئی اور نسلوں و قومیتوں پر بھی یہ آسیب آن پڑا ہے۔ یقینا یہ سیاہ رات اس مملکت خداداد میں موجود تقریبا سبھی برادریوں، تمام قبائل اور سب قوموں کے لوگوں پر کسی نہ کسی طرح سے گزر گئی ہو گی۔

چلو گنتی کرلیتے ہیں، فرزانہ مجید کہتی ہیں کہ میرے بھائی سمیت کم و بیش سولہ ہزار لوگ غائب ہیں، لوگ مطلب بلوچ، غائب سے مراد آنکھوں سے اوجھل ہیں ورنہ ان سمیت ہم سبھی کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ان یخ بستہ راتوں کی تاریکیوں میں قہقہوں سے ٹکرانے والی دل خراش آہ و زاریاں کن عقوبت خانوں سے نکلتی ہیں، بس فرق یہ ہے کہ ہم دہن دریدہ نہیں، بس روح دریدہ ہیں اور اندر ہی اندر گھلتے جاتے ہیں، ورنہ ہم سب سلمان حیدر نہ ہوتے کیا۔ ویسے فرزانہ مجید کے ہاں دنیا کو دکھانے کے لیے پیروں کے چھالوں کے علاوہ ہے ہی کیا، سو اس کو چھوڑ دیں۔ پیروں کے چھالوں پر یقین کرنے کا زمانہ رخصت ہوگیا کب سے، چلو وزارتِ انسانی حقوق کی بات سنیں، اس نے کہا تھا کہ قریبا ایک ہزار لاشیں بلوچستان کے طول و عرض سے اب تک مل چکی ہیں، اگر فرزانہ مجید کی سنیں تو پھر چار سو فی صد اور بڑھا لیں، گنتی ہوجائے گی مکمل، لیکن اس کو چھوڑ دیں بس اتنا بتائیں کیا کسی اور نسل، ذات، برادری یا پھر کسی قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کی اتنی بڑی تعداد میں گمشدگیاں ہوئی ہیں، یا اتنی لاشیں کہیں اور سے مل چکی ہیں؟

رقبے کی تو بات ہی کیا، وہ بھلے ہی چھیالیس فی صدی ہو، بلوچوں کی زمین کو اس کی وسعتوں سمیت چھوڑ دیں کیوں کہ ملاّ کے حساب سے زمین بھی زن کی طرح ہے فساد کی جڑ ہے سو ہم فی الحال ملاّ کو نفی کرنے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتے۔

لیکن بلوچ نے اقلیتی آبادی کے تناسب کو پچھاڑتے ہوئے یہاں بھی اپنی برتری برقرار رکھی، لاشوں کے حساب سے بھی اور گمشدگیوں کے حوالے سے بھی، سلیم شہزاد، جو غالباً اب تک ایک بند فائل کی نظر ہوگئے ہیں، ایک نالی میں اس کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی، مگر وہ ایک تھا یا چلو پچاس ہونگے لیکن کوئٹہ کی سرزمین اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی زرخیز واقع ہوئی ہے۔ مکران اس سے بھی آگے ہے، بولان اور کوہلو و کاہان کی بات ہی کیا وہاں کی سسکار کی دھن میں کئی سو عورتوں کی آوازوں کی جھنکار بھی شامل ہے۔ عورت جو اس خلق کی تخلیق کا بنیادی ماخذ ہے، عورت زمین ہے، زمین ماں ہے اور ہم سب کی مائیں عورت ہیں، ہم زمین کے حساب سے اکثریت میں ہیں، اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہم گمشدہ انسانوں کی فہرست سے لیکر تشدد زدہ لاشوں کے اعتبار سے بھی میدان مار چکے ہیں۔ اب تو ماؤں نے بھی غائب ہونا شروع کردیا۔ پہلے ایک مقتدرہ بیانیہ ہوتا تھا جسے من و عن میڈیا پر نشر یا شائع کیا جاتا تھا کہ یہ لوگ خود کو عمداً غائب کردیتے ہیں، یعنی افغانستان جیسی جنت میں داخل ہو جانے کو، اور سوچتی ہوں کہ اب مائیں اپنے بیٹوں سے ٹھیک ٹھیک حساب لے رہی ہیں، چلو اب رو لو سر پیٹ لو، پہلے آپ خود کو غائب کر دیتے تھے، اب ہم کررہے ہیں، لو بھگت لو بیٹے۔

لیکن ابھی سلمان حیدر نے خود کو اپنی جادوئی چھڑی سے غائب کرکے مسٹر انڈیا بنتے ہوئے وہ یاد تازہ کردی جو بلوچ نہ جانے کتنے سالوں سے کرتے آرہے ہیں، ابھی تو سلمان حیدر کی ماں نے بھی غائب ہونا ہے، تب ہم سب ایک ہونگے بلوچ نہیں، بلکہ مظلوم۔

اب کوئی کیوں غائب ہوتا ہے اس پر اپنا زور ہی نہیں چلتا جیسا کہ کسی مسخ شدہ لاش کی اور کسی گمشدہ بیٹے یا ماں کی پر اسراریت پر اپنا بس نہیں چلتا بالکل اسی طرح ہر مسخ لاش کی ایک کہانی ہے، اور ہر گمشدہ کا ایک باب ہے، ہمیں اس باب کو کھلے دل سے قبولتے ہوئے اپنی مظلومیت کا ایک مشترکہ راستہ نکالنا چاہیے۔
اکثریت پر سے کسی کا زور نہیں چلتا جیسا کہ سلمان حیدر کی گمشدگی پر بلوچ یاد آجاتا ہے، اور سلیم شہزاد کی لاش کو دیکھ کر کوئی مسخ شدہ بلوچ یاد آجاتا ہے، سب کو آزادی چاہیے، کسی کو ریاست سے تو کسی کو ریاستی سے، اس لحاظ سے تو ہم سب ایک ہی ہیں، بس بات ہے نقطہ نظر کو سمجھنے کی، اپنا دکھ سانجھا ضرور ہے پر اس دکھ اور جان کنی کے پیمانے الگ ہیں۔ ہمارا پیمانہ عرصہ ہوا چھلک پڑا ہے اور آپکے پیمانے میں ابھی تک بس کچھ بوندیں ہی گری ہیں، عرصہ لگے گا ایک ماں کے آنسوؤں کو اپنے بیٹے کے آنسوؤں کے ساتھ ایک پیمانے میں آمیزش کے لیے۔ بلوچ آمیزش کا پیمانہ اس وقت سے بھر چکا ہے جب ہزارہا بلوچ بیٹوں کو خاک و خون میں لت پت دیکھنے کے بعد پہلی بلوچ عورت کی چیخیں کسی زندان خانے کی دیواریں پھلانگ گئیں۔

ایک جیسا تشدد برداشت کرنےاور ایک جیسا خون بہانے کے باوجود بھی اگر اکٹھ نہ بناسکے تو پھر اپنی گمشدہ ماں تو ضرور ہوگی پر وہ بلوچ نہیں ہوگی، جیسا کہ آج کا گمشدہ بھائی اور بیٹا بلوچ نہیں بن رہا، بالکل اسی طرح لیکن سلمان حیدر کو میں بلوچ ہی لکھوں گی کیونکہ اس راہِ کار زار میں بلوچ سپوتوں کے قدموں کے نشان ہر چوک چوراہے اور دشت و بیاباں میں ملیں گے، سو ایک اور بلوچ اس لمبی فہرست میں..
قوی امکان ہے کہ ہڈیاں تڑوائے گا ہمت نہیں

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *