مجھے مکالمہ نے کیا سبق دیا۔

فُون کی گھنٹی بجی ارے سُوری کدھر ہو؟انعام رانا صاحب آپ میری تحریر مُکالمہ پر کیوں نہیں چھاپتے؟
میں دودھ پیتا بچہ ہوں۔سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔آپ مجھے بڑا آدمی بننے کیوں نہیں دیتے؟
پتا ہے مُکالمہ لاہور سے کراچی آرہی ہے۔ ارے سچ ! ہاں بھائی
خالی پیٹ،جلدی سے موٹر سائیکل پر نشست سنبھال کر کراچی آرٹ کونسل کی سرزمین پر پہنچا۔
گلِ رنگ میری آنکھوں کے سامنے موجود تھا۔
ارے زیدی صاحب بھی آئے ہوئے ہیں، رُکیں میں اُن سے مُصافحہ کرکے آتا ہوں۔ جی جی وہی مُبشر علی زیدی صاحب پورے سُو لفظوں کی کہانی کے مُصنّف۔
سید انور محمُود، حافظ صفوان ،شاد مُردانوی،انعام رانا،لالا عارف خٹک،منصور مانی، اور دیگر صاحبانِ قدر موجود تھے۔
تعریف بتائی گئی مُکالمہ کیا ہے جانئیے سید انور محمود سے؟

صاحب فرمانے لگے"مباحثہ"درہ آدم خیل کی کلاشنکوف کی گولی ہے۔اس سے نفرتیں جنم لیتی ہے۔ میرے نزدیک "مُکالمہ" عاجزی کے ساتھ دوسرے کے سامنے نرمی اور تہذیب سے اپنا موقف رکھنا ہے اور اُس کا موقف سمجھنا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھیں ضد نہ کریں بلکہ مُکالمہ کریں۔دوسری جانب حافظ صفوان صاحب نے اسٹیج کی کمان سنبھالی اور تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا بھر پور آغاز ہوا۔ حافظ صاحب بطور ایڈیٹر "مُکالمہ"پیش ہوئے۔ سنجیدہ لفظوں کا مجموعہ تقریر کی شکل بنی۔
بعد ازاں ڈائیس کی کمان مُبشر علی زیدی کو سُونپی گئی۔زیدی صاحب چالیس سال کے ایک مُنفرد نوجوان ہیں۔
یہ بلیٹن کی ماں ہے۔یہ اعزاز جیو ٹی وی کے خوبصورت اینکر "رابعہ انعم"کی جانب سے ملا۔ یہ آؤٹ پُٹ کنٹرولر ہے۔ انہوں نے سو لفظوں کی کہانی کا آئیڈیا فقط ایک منٹ چالیس سیکنڈ سے نکالا۔ انہوں نے حاضرین مجلس سے وعدہ کیا کہ آپ لوگوں کو بولنے نہیں دوں گا۔ انہوں نے لفظوں کو جوڑ ،جوڑ کر جملے بنائے اور جملوں کو جوڑ،جوڑ کر کہانیاں ایجاد کیں۔
یہ جادوگر ہے۔ یہ سُوچتے ہیں کہانیاں بن جاتی ہیں۔
صاحب استاد نے فرمایا۔
ایسی کانفرنسز کیوں ہونا ضروری ہے؟ اس ہال میں موجود لوگوں سے زیادہ تعداد میں دن بھر مجھے گالیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اور دوسری طرف پیار اور محبت کرنے والے بھی یہاں مل رہے ہیں۔ میں چاہتاہوں مخالف بھی آئیں، سنیں سمجھیں اور کسی کے خلاف غلط رقم کی گئی سوچ کو اپنے دماغ کی جڑ سے ختم کرسکتے ہیں۔ دنیا کو ایک اینگل سے کبھی نہ دیکھا جاسکتا۔
انعام رانا صاحب کہاں ہیں؟ کون ہے وہ وکیل۔ ارے جو لندن سے آئے ہوئے ہیں۔چیف ایڈیٹر مُکالمہ کچھ ہی دیر میں صدر محفل سے مُخاطب تھے۔ صاحب شروع ہوگئے اور زُبان کی کمان سنبھالی فرمانے لگے سُولہ برس بعد کراچی آمد ہوئی۔ روشنیوں کے شہر میں اجنبی تھا۔ محمد علی جناح سے واقف تھا۔ دوستو،یہ محفل ستاروں کا جُھرمٹ ہے۔ اس محفل کا بے حد ممنون ومشکور ہوں۔ منصور مانی اس کانفرنس کے ہیرو ہیں۔میں مُکالمے کا "کاکا"ہوں۔ خود کو لکھاری نہیں سمجھتا۔ اسٹیج سجاتا ہوں اُساتذہ کو جمع کرتا ہوں ان کی سوچوں سے دیئے جلاتاہوں۔ میں ایک حادثاتی قلمکار ہوں۔ اپنی ٹینشن کو قرطاس پر نکالتاہوں۔وجاہت مسعود صاحب دوست اور اچھے استاد ہیں۔
لوگ کہتے ہیں ہر کامیاب لکھاری کے پیچھے ایک عُورت کا ہاتھ ہوتا ہے چاہے وہ آپ کی سابقہ بیوی کیوں نہ ہو۔ آپ گُفتگو کریں چائے کا کپ یا ایک میٹھا پان پی لیں۔ آج کے دور میں لوگ بندہ ضائع کردیتے ہیں مگر اسٹیٹس قضاء نہیں کرتے۔ میں آج مُکالمہ کو اپنی گود میں اُٹھائے ہوئے حاضر ہوں۔ آئیے رہبری کیجئے شائستگی کے ساتھ سماج کو ایک دوسرے کے ساتھ جُوڑیں اور ایک پرامن معاشرہ جنم دیں۔ڈیورنڈ لائن کے قیدی فیض اللہ خان صاحب نے اپنی کتاب کا موقف بیان کیا۔ افغان اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر بحث کی۔ سوال وجواب کا سیشن ہوا۔ "سیکس اینڈ بیوٹی" کے بانی لالا عارف خٹک نے پروگرام کو چار چاند لگائے۔شاہ سُوری چُھپ چھاپ سب کچھ دیکھتا رہا سُنتا رہا اُور مُسکُراتا رہا۔آخر سُوری نے کیا اُبزرف کیا؟
مزید قلم نچوڑ کر لکھتا ہوں پڑھتے رہیئے۔
یہ خُواب ہر گز نہیں تھا میں واقعی مُحبت کے سمندر میں تھا۔ میں اس سمندر میں ڈُوب نا چاہتا تھا۔
اس سمندر میں محبت تھی۔ ادب تھا۔ عزت تھی۔شفقت تھی،رشک تھا۔ یہ مُحبت مجھے اپنے قریب کرتی رہی۔ میں قریب ہوتا رہا اور مُکالمہ کے سمندر میں ڈوبتا گیا۔ میں اس مجلس کے ہر آدمی سے محبت کرتا ہوں۔
میرے دائیں جانب عُلماء کرام تھے۔ بائیں جانب لبرلز،سیکولرز،آگے دانشور،ادیب لکھاری،پیچھے سوشلسٹ یہ تمام لوگ مختلف نظریات مختلف شُعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ بحث کہیں نظر نہیں آرہی تھی ،ہر کوئی محبت کے سمندر میں ڈوبنے کی کوشش کرہا تھا۔پُرکشش ماحول تھا۔ چائے تھی،سموسے تھے بسکٹ تھے۔ مُکالمہ کی کتاب اپنے بغل میں لیے گھوم رہا تھا۔ قمیص شلوار والے بھی تھے۔ پتلون شرٹ والے بھی موجود تھے۔ یہ واقعی دو ہزار سولہ کی ایک منفرد تقریب تھی میں نے بہت کچھ سیکھا۔ مُحبت ملی،ادب ملا، عزت پیار شفقت کا نام "مُکالمہ "ہے۔

Avatar
جنید شاہ سُوری
جنید شاہ سوری صحافت کا طالب علم ہے۔ قلم نچوڑ کر لکھنا چاہتا ہے۔انوسٹیگیٹو رپورٹنگ اور انٹرویوز لینے کا شوق رکھتاہے۔ان کا سوشل میڈیا سے گہرا تعلق ہے ۔آج کل اے آر وائی نیوز سے منسلک ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *