لاک ڈاؤن سے پہلے کریک ڈاؤن

۲ نومبر کے اسلام آباد لاک ڈاؤن کی تیاریاں عروج پر تھیں۔بینرز،فیکسز اور جوشیلے کارکن اسکی چکا چو ند کو بڑھا رہے تھے۔ہر طرف کرپشں فری سٹیٹ کی آوازیں بلند ہورہی تھیں لیکن اس تمام صورت حال کے دوران ایک بات سب کے ذہن میں تھی کہ آیا یہ عمران خان کی تحریک کامیاب ہوگی؟ کیا یہ تحریک اپنے اہداف پورے کرے گی؟ یہ سوچ بچار جاری تھی، تحریک کی کامیابی پر شکوک کے بادل چھائے ہوۓ ہوۓ تھے کہ اتنے میں دفعہ ایک سوچوالیس کانفاذ عمل میں آتا ہے اور ساتھ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ ایک ایسا مفاد عامہ کا فیصلہ جاری کرتی ہے کہ جس سے حکومت کو کافی فائدہ ہونا تھا۔لیکن اس حکومت کے سیانوں نے اپنی ایک غلطی سے اپنے آپکو پھر بند گلی میں دھکیل لیا۔فوج سے آپکی بنتی نہیں اور آپ اقدامات حسنی مبارک جیسے کر رہے ہو۔

اختلاف راۓ جمہوریت کا حسن اور احتجاج کسی بھی قوم کے جمہوری ہونے کی علامت ہوتا ہے۔یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ عمران کے باربار احتجاج نے اسکی وقعت داؤ پر لگا دی ہے لیکن آج جو اسلام آبادمیں دفعہ ایک سو چوالیس یا نقص امن کے چکر میں هوا، ن لیگ نے جو ریاستی درندگی کی ہے۔ن لیگ کی یہ سیاسی غلطی آنے والے دنوں میں اسکو بہت مہنگی پڑنے والی ہے۔ایک ایسی تحریک جو شکوک میں گھری ہوئی تھی۔اس کے یوتھ کنونشن پر پولیس سے دھاوا بول دینا دراصل اسکو عوامی سطح پر پزیرائی بڑھانا ہے۔سیاستدان کبھی ایسی غلطی نہیں کرتا لیکن ن لیگ نے جو سیاسی پلیٹ فارم تحریک انصاف کو سجا کر دے دیا ہے اسکے نتائج بھیانک ہوں گے ۔

تحریک انصاف کا نوجوان پڑھا لکھا اور پرامن ہے لیکن ن لیگ کا آمرانہ رویہ اسکو تشدد پر اکساۓ گا۔ دانیال عزیز کا کہنا کہ یہ سب ایک سوچوالیس کی خلاف ورزی پر کیا گیا. میرا ان سے ایک سوال ہے! جناب ایک سو چوالیس کی تعریف آتی ہے؟ نقص امن چاردیواری سے باہر ہوتا ہے ،چار دیواری کے اندر نہیں اور یہ یوتھ کنونشن ایک بند کمرے میں ہورہا تھا۔پولیس نے جس قدر درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ خواتین کو زدوکوب کیا کسی بھی جمہوری معاشرے میں اسکی مثال نہیں ملتی۔

پرامن اجتجاج ہر بندے کا حق ہے۔لیکن اسکے ساتھ اس طرح کا رویہ کون سی جمہوریت ہے؟ نعیم الحق کے بقول تمام ہوٹلز کی بکنگ وغیرہ منسوخ کروائی جارہی ہیں۔مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن جاری ہیں۔ ہم اس ریاست کو کس جانب لے کر جارہے ہیں؟ حکومت برداشت کا نام ہے، لیکن حکومت وقت میں اس چیز کی خاصی کمی ہے۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *