دعوت حق

کبھی آپ نے کسی مزار کے عرس پہ ڈالی لے جاتے کسی کودیکھا ہے؟ ڈھولک کی تھاپ پہ کچھ من چلے بھنگڑا ڈالتے ہوئے ایک چادر کو پھیلا کر بہت سارے ہاتھوں سے تھامے ایک کاروان چل رہا ہوتاہے جو مِیلوں کا سفر پیدل طے کر کے مزار پہ پہنچتا ہے اور چادر اس مزار کی قبر پہ چڑھا دی جاتی ہے۔ اس کارواں کو راستے میں بہت سی جگہوں پہ ویلکم بھی کیا جاتا ہے، پھول پتیاں بھی نچھاور کی جاتی ہیں اور پانی وغیرہ بھی پلایا جاتا ہے۔

اسی طرح کبھی آپ نے تبلیغی جماعت کو دیکھا ہوگا، دس بارہ یا زیادہ لوگوں کا ایک گروپ ہوتاہے،لمبی داڑھیاں، بستر لٹکائے، لوٹے اٹھائے، پائنچے چڑھائے، مِیلوں کے سفر پہ گامزن، پہاڑ، صحرا، جنگل کی پروا کئے بنا، ہر جگہ جہاں کچھ انسان بستے ہوں، وہاں انہوں نے پہنچنا ہوتا ہے، بنا کسی دنیاوی اور مادی مفاد کے، اپنی جیبوں سے مال خرچ کر کے، اپنے گھر بار چھوڑ کر۔

اسی طرح کبھی محرم کے جلوس بھی دیکھے ہونگے، خوبصورت جوانوں کے گروپ، ننگے بدنوں کے ساتھ ماتم کر رہے ہوتے ہیں، ساتھ ہی سینہ کوبی اور زنجیر زنی ہورہی ہوتی ہے، اپنے جسم کو تکلیف دینے کی انتہا ہوتی ہے،وہ لوگ درد سہتے ہیں اور خوب سہتے ہیں۔
اسی طرح آپ نے رات رات بھر جاگ کرنعتیہ محافل کوسنتے لوگ بھی دیکھے ہونگے،جو اپنی نیندیں چھوڑ کر، پیسے خرچ کرکے صرف اور صرف نعت سننے کے لئے بیٹھے ہوتے ہیں، اور مساجد میں شب بیداری میں قران و نوافل کی اور ذکر کی محافل تو عام دیکھنے کو ملتی ہیں۔

یہ سارے لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جب اس بات پہ غور کیا جائے تو یہی جواب ملتاہے کہ یہ دین سے محبت میں ایسا کر رہے ہیں۔ صحیح اور غلط کو ایک لمحہ کے لیے ایک طرف رکھیے اور غور کیجئے کہ ان میں سے کس کے دل میں دین کی محبت نہیں ہے؟؟ کون اپنے اس مذہبی فریضہ کو خلوص دل سے ادانہیں کر رہا؟ تو اس کا جواب ہمیں نہیں ملتا، کیوں کہ سب ہی اپنے پورے خلوص سے اپنے اس فریضہ کو ادا کرتے نظر آتے ہیں اور اسکی وجہ صرف اورصرف ان کی نظر میں وہ کام مکمل عبادت ہوتی ہے۔ ان کے علم کے مطابق وہی درست اور نجات والا عمل ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی جا کر ان سے کہے، او بھائی یہ آپ لوگ غلط کام کیوں کر رہے ہو؟ یہ جو تم کر رہے ہو، یہ توگناہ ہے، تم مشرک یا گستاخ یا کافریا ہو، تو ذرا سوچیے وہ اس بات پہ یقیں کریں گے؟ ہر گز نہیں، بلکہ وہ کہیں گے بھائی یہی عبادات ہم بچپن سے کرتے چلے آرہے ہیں،اور ہم نے یہی سیکھی ہیں، یہ کیسے غلط ہوسکتی ہیں؟ اور بہت ممکن ہے کہ وہ آپ سے لڑ پڑیں، اور آپ کو کسی غیرمذہب، کسی طاغوت کا نمائندہ تصور کریں، کیوں کہ ان کے اعتماد کے ذرائع سے ان تک یہی بات پہنچی ہے کہ یہی دین حق ہے۔ تو ایسے میں انکو ڈانٹنا اور نکتہ چینی صرف اور صرف ان کو شدت پسند ہی بنائے گی۔

اگر ان کی اصلاح کرنی ہے تو یہاں بہت حکمت سے کام لینا ہوگا۔ ان کا دوست بننا ہوگا، ان کا اعتماد جیتنا ہوگا، پھر ان کے ذہنوں پہ اپنے اچھے نقوش ثبت کرنے ہونگے، پھر موقع اور حالات دیکھ کر ان کو دین حق کو سمجھنے کے بنیادی ذرائع قران و سنۃ.. جن پہ ان کا بھی مکمل یقین اور اعتماد ہوگا، ان سے براہ راست رابطہ قائم کروانا ہوگا اور جب وہ خود حق کو اور درست دین کو جان لیں گے تو پھر آپ کو کچھ نہیں کرنا پڑےگا، ہر کوئی خود بخود درست سمت اختیار کرتا جائے گا، نہ صرف خود اپنی اصلاح کر لے گا بلکہ آپ کے ساتھ آپ کا دست و بازو بن کے دوسروں کی اصلاح بھی کرے گا۔ اسی لیے تو قران نے بھی فرمایا، بلاؤ اپنے رب کی طرف نرمی اور حکمت کے ساتھ…(القران).. اور اگر ہٹ دھرمی کی راہ اپنا لی گئی تو پھر مناظرے ہونگے، لڑائیاں اور قتل بھی ہونگے، بد امنی اور فسادات بھی ہونگے کیوں کہ ہر کوئی اپنے دین کا مخلص اور دین کے لیے کٹ مرنے پہ تیار ہوتا ہے۔ بات سمجھنے کی ہے ، اللہ رب العزت ہم سب کو دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے اور ہم سب کو دین پہ پوری طرح سے عمل پیرا ہونے اور پھر اس پہ ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
مبارک حسین انجم

Avatar
مبارک حسین انجم
لاہور میں سکونت ہے، ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہوں، باقی میری تحریریں ہی میرا حقیقی تعارف ہیں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *