• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حقوقِ انسانی ۔سیرتِ نبوی کی روشنی میں(حصّہ اوّل)۔۔۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

حقوقِ انسانی ۔سیرتِ نبوی کی روشنی میں(حصّہ اوّل)۔۔۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

’انسانی حقوق‘ (Human Rights)کا موضوع زبان زد عام و خاص ہے ۔اس کا تذکرہ ہرمجلس میں ہوتاہے۔ہر ادارہ ،ہر انجمن ،ہر ملک اس کا چرچا کرتاہے اور اس کی دہائی دیتاہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ انسانی حقوق پر عمل نہیں کرتے ، دوسرے لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرتے ہیں،اور انہیں غصب کرنے میں آگے آگے رہتے ہیں،وہ بھی ان حقوق کی دہائی دینے سے نہیں تھکتے ۔ آئندہ سطور میں واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ خاتم النبیین حضرت محمدﷺ نے انسانی حقوق کا کیاتصور دیاہے؟ آپؐ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں وہ انسانی حقوق کے موجودہ رویوں اور بیانات سے کس قدر مختلف ہیں؟ آپؐ نے ان پر کس طرح خود عمل کرکے دکھایا ہے؟ اور آپؐ کے پیروکار و ں نے بھی کس طرح ان پر عمل کیاہے؟

پس منظر:

’Human Rights‘ کی اصطلاح اصلاً مغرب سے آئی ہے۔یہ تقریباً پانچ سو سال سے رائج ہے، لیکن اس میں تیزی پچھلے سو سال میں آئی ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ قرون ِ وسطیٰ میں شہری تمام طرح کے انسانی حقوق سے محروم تھے، جس کے ہاتھ میں طاقت ہوتی تھی وہ ہر طرح کی من مانی کرتاتھا،جو حقوق چاہے اپنے عوام کو دے اور جو چاہے نہ دے،کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں ہوتاتھا۔سترہویں صدی سے یہ تصور پیداہوا کہ ریاست کو من مانی کرنے کا حق نہیں ہے ،پارلیمنٹ وجود میں آنی چاہیے،عوام کی حکومت ہونی چاہیے، حکومت میں عوام کی شرکت ہونی چاہیے

اس طرح گزشتہ تین سو سال میں عوام کو ایک ایک کرکے حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں جتنے حقوق کا تذکرہ کیاگیاہے وہ تمام حقوق انسانوں کو یکبارگی دے دیے گئے ہیں۔تاریخی اعتبار سے دیکھاجائے تو۱۶۷۹ء میں برطانیہ نے سب سے پہلے ’حبسِ بے جا‘ کا قانون منظور کیا،یعنی کسی شخص کو بغیر کسی ثبوت کے یا بغیر اس کا کوئی جرم بیان کیے ہوئے گرفتار کرنے کا حق نہیں ہے۔ ۱۶۸۹ء میں برطانیہ ہی میں’ بل آف رائٹس‘ منظور کیاگیا،یعنی شاہ کو مطلق العنان حقوق حاصل نہیں ہیں ،بلکہ اس کے حقوق محدود ہیں۔شاہ سے کچھ حقوق لے کر پارلیمنٹ کو دیے گئے کہ جب تک ان کو پارلیمنٹ سے منظور نہیں کیاجائے گا ،ان کے سلسلے میں شاہ کو اپنا اختیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

۱۷۷۶ء میں امریکہ کی ریاست ورجینیا نے کچھ حقوق کی ضمانت دی۔پریس کی آزادی ، مذہب کی آزادی،عدالتی چارہ جوئی کا حق ،یہ حقوق عوام کو دیے گئے ۔اسی سال امریکہ کا اعلانِ آزادی منظور کیاگیا،جس میں شہریوں کو مساوات، زندگی کے تحفظ اور آزادی کے حقوق دیے گئے۔اسی طرح انیسویں صدی میں ۱۸۶۸ء میں امریکی دستور میں جب چودہویں مرتبہ ترمیم کی گئی تو اس میں بہت سے شہری حقوق شامل کیے گئے۔بیسویں صدی میں آکے ۱۹۴۶ء میں فرانس اورجاپان میں اور ۱۹۴۷ء میں اٹلی میں’بنیادی حقوق‘ (Fundamental Rights) کے نام سے کچھ حقوق کو دستور میں شامل کیاگیا۔ ۱۹۴۸ میں اقوام متحدہ کے تحت’ انسانی حقو ق کا منشور‘ (Charter of Human Rights) منظور کیاگیا،

جس میں بنیادی طور پر تیس(۳۰) دفعات ہیں،جن میں عوام کو آزادی کا حق، شہریوںکو حبسِ بے جا میں نہ رکھنے کا حق،نجی زندگی میں دخل نہ دینے کا حق،اسی طرح دیگر سماجی حقوق منظور کیے گئے۔خلاصہ یہ کہ مغرب میں ’ہیومن رائٹس‘ کا جو تصور ہے اس میں دو باتیں بہت نمایاں ہیں:

اوّل یہ کہ جو حقوق منظور کیے گئے وہ خوشی سے نہیں دیے گئے۔ ریاست نے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے یہ حقوق نہیں منظور کیے، بلکہ عوام جوں جوں طاقت ور ہوتے گئے، انہوں نے احتجاج کیے،مظاہرے کیے، اپنی طاقت کا اظہار کیا، اس طرح انہیں ایک ایک حق ملتاگیا۔آج ہم جتنے حقوق دیکھ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ نے ان کی ضمانت دی ہے،وہ حقوق ایسے نہیں ہیں جو اقوام متحدہ نے یا مختلف حکومتوں نے خوشی سے لوگوں کو دیے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ یہ حقوق دنیا کے تمام انسانوں کو نہیں دیے گئے ہیں ،بلکہ یہ سراسر نیشنلزم کے تصورپر مبنی ہیں۔مغرب کا صریح اعلان ہے کہ یہ حقوق صرف ہمارے لیے ہیں، دوسروں کے لیے نہیں ہیں۔جو ہماری قومیت کے دائرے میں آتاہے وہ ان حقوق سے بہرہ ور ہوگا اور جو اس دائرے میں نہیں آتاوہ ان سے بہرہ ور نہیں ہوگا۔فرانس کے دستور میں جب بنیادی حقوق شامل کیے گئے تو ان کا استحقاق صرف فرانس کے شہریوں کو دیاگیا۔اس کی جوکالونیا ں تھیں ان کو ان حقوق کی ضمانت نہیں دی گئی۔

ٹھیک اسی طرح برطانیہ کے دستور میں جن حقوق کی صراحت کی گئی ان سے اس زمانے میں برطانیہ کی کالونیوں میں رہنے والوں کو محروم رکھا گیا۔ امریکہ میں کچھ آبادی سیاہ فام لوگوں کی ہے اور کچھ سرخ فام لوگوں کی ۔ وہاں سفید فام لوگوں کے لیے جن حقوق کی ضمانت دی گئی وہ کافی دنوں تک سیاہ فام لوگوں یا ریڈانڈینز کو حاصل نہیں تھے۔خلاصہ یہ کہ مغرب میں بنیادی انسانی حقوق کاجو زبردست چرچاہے اس میں دو باتیں پائی جاتی ہیں:ایک یہ کہ عوام نے طاقت کے بل پر وہ حقوق حاصل کیے ہیں اور دوسرے یہ کہ وہ حقوق نیشنلزم کے تصور پر مبنی ہیں۔

اسلام کا تصور:

اس پس منظر میں آئندہ سطور میں اسلام کے عطاکردہ انسانی حقوق کا مطالعہ کیاجائے گا، خاص طور سے ان حقوق کا تذکرہ کیاجائے گا جن کا تذکرہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنی احادیث میں کیا ہے اور ان کی ضمانت دی ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے حجۃ الوداع میں اعلان کیا:

انّ اللّٰہ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ قَد أعطیٰ لِکُلِّ ذِی حَقٍّ حَقَّہ(ترمذی:۲۱۲۰)

’’اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب ِ حق کو اس کا حق دیاہے۔‘‘

اس موقع پر آپؐ نے بہت سے حقوق بیان کیے ،حتّیٰ کہ اب ایسی کتابیں بھی آگئی ہیں کہ اقوام متحدہ کے چارٹرمیں جتنے حقوق کا تذکرہ ہے، ایک ایک حق کے بارے میں محققین علماء نے صراحت کی ہے کہ ان کی اصل اللہ کے رسول ﷺ کے اس خطبے میں موجود ہے۔اس خطبے میں آپؐ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ذی حق کو اس کا حق دے دیاہے۔ اس سے پتا چلتاہے کہ اسلام نے جن بنیادی حقوق کی صراحت کی ہے وہ کسی نے جدّ وجہد کرکے نہیں حاصل کیے ہیں،کسی نے اپنی طاقت کے بل پر ان حقوق کی ضمانت حاصل نہیں کی ہے، بلکہ یہ حقوق بحیثیت انسان اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو دیے ہیں۔اگر کوئی شخص ان کی ادائیگی میں کوتاہی کرتاہے، یا ان کو پامال کرتاہے تو گویا وہ کسی دوسرے انسان کا حق نہیں مارتا ،بلکہ اللہ تعالیٰ کا حق مارتاہے اور اس نے جن حقوق کی ضمانت دی ہے ان کی ادائیگی میں کوتاہی کرتاہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے حقوق کا ایک بہت جامع تصور پیش کیاہے۔ہم بنیادی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ حقوق کی اسلام میں دو قسمیں کی گئی ہیں:ایک اللہ کا حق ، دوسرے بندوں کا ۔جہاں تک تاکیدکا تعلق ہے ، قرآن کریم اور احادیث نبوی میں دونوں حقوق کاتذکرہ ایک ساتھ آیاہے اور دونوں کی ادائیگی کی تاکید برابر کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

وَاعْبُدُواْ اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْئاً وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً وَبِذِیْ الْقُرْبیٰ وَالْیَتٰمیٰ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ(النساء:۳۶)

’’ اوراللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔حسن سلوک کرو والدین کے ساتھ، رشتہ داروں کے ساتھ،یتیموں کے ساتھ، مسکینوں کے ساتھ،اس پڑوسی کے ساتھ جو تمہارا رشتہ دار ہے،اس پڑوسی کے ساتھ جو تمہارا رشتہ دار نہیں ہے اور اس پڑوسی کے ساتھ جس کا تھوڑی دیر کے لیے تمہارا ساتھ ہوگیاہواور مسافر کے ساتھ اور اس کے ساتھ جو تمہارا زیر دست ہو۔‘‘

حقوق کی تفصیل ایک حدیث میں بہت دل کش انداز میں بیان کی گئی ہے۔حضرت سلمان فارسیؓ حضرت ابودرداءؓ کے ہاں مہمان ہوئے۔کھانے کا وقت آیا تو ابودرداءؓ نے کہا کہ آپ کھائیے، میں تو روزے سے ہوں۔ حضرت سلمانؓ نے کہا : میں نہیں کھاؤں گا جب تک آپ ساتھ میں نہیں کھائیں گے۔چنانچہ دونوں نے ساتھ میں کھانا کھایا۔حضرت سلمانؓ کی اہلیہ نے حضرت ابودرداءؓ سے کہا کہ آپ کے بھائی تو بہت متقی اور پرہیزگار ہیں۔وہ دن میں روزہ رکھتے ہیں اورراتوںمیں عبادت کرتے ہیں۔بظاہر تو انہوں نے اپنے شوہرکی تعریف کی تھی ،لیکن حضرت سلمان ؓسمجھ گئے تھے کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہیں؟انہوں نے ابودرداءؓ کو مخاطب کرکے فرمایا:

إنّ لِرَبِّکَ عَلَیکَ حَقّاً،وَلِنَفسِکَ عَلَیکَ حَقّاً،وَلِاَھلِکَ عَلَیکَ حَقّاً، وَلِضَیفِکَ عَلَیکَ حَقّاً ۔ (بخاری:۱۹۶۸،۶۱۳۹،ترمذی:۲۴۱۳)

’’تم پر تمہارے رب کا حق ہے، تم پر تمہارے نفس کا حق ہے،تم پر تمہارے گھر والوں کا حق ہے اور تم پر تمہارے مہمان کا حق ہے۔‘‘

اس حدیث میں بھی حقوق کی ایک جامع تعریف بیان کی گئی ہے اور یہ ساری باتیں اگر چہ ایک صحابی کی بیان کردہ ہیں،لیکن روایت میں ہے کہ جب اللہ کے رسولﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپؐ نے فرمایا:صَدَقَ سَلمَان۔’’سلمان نے بالکل صحیح بات کہی۔‘‘ گویا حضرت سلمانؓ نے جو باتیں کہی تھیں، انھیں اللہ کے رسول ﷺ کی تائید حاصل ہوئی ۔

اللہ اوربندوں کے حقوق:

حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں اہم ہیں ،بلکہ بعض مرتبہ حقوق العباد کا درجہ حقوق اللہ سے بڑھ جاتاہے۔اس کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ام المومنین حضرت عائشہؓ اور نبی کریم ﷺ کے خادمِ خاص حضرت انس بن مالکؓدونوں سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: الدَّوَاوِیْنُ عِنْدَ اللّٰہِ ثَلاثَۃٌ۔’’بارگاہِ الٰہی میں تین طرح کے رجسٹر ہوں گے۔ ‘‘جو قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔حدیث میں آگے تشریح آئی ہے:نامۂ اعمال کا پہلا رجسٹروہ ہوگاجس میں یہ درج ہوگا کہ آدمی نے شرک کیاہے کہ نہیں ؟اگر کسی نے شرک کیاہوگا تو اس نے چاہے کتنے ہی اچھے اعمال کیے ہوں، اللہ تعالیٰ اسے کسی صورت میں معاف نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:إِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاءُ (النساء:۴۸،۱۱۶)’’جو شرک کرتاہے اللہ تعالی اسے کسی بھی صورت میں معاف نہیں کرے گا۔لیکن اگر کسی نے شرک نہیں کیا ہے تو اس نے چاہے کتنے ہی گناہ کیے ہوں، اللہ تعالیٰ جسے بخش چاہے گا۔‘‘ دوسرا رجسٹروہ ہوگا جس میں بندے نے اللہ تعالیٰ کے حقوق میں جو کوتاہی کی ہوگی اس کا اندراج ہوگا۔اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اپنی شانِ کریمی سے معاف کردے گا۔وہ بڑا رحیم و کریم ہے، بڑا معاف کرنے والا ہے۔ تیسرا رجسٹرہوگا جو انسانوں کے آپسی حقوق کا ہوگا۔کسی نے کسی شخص کا مال غصب کیاہوگا،کسی نے کسی پر ظلم ڈھایاہوگا،کسی نے کسی کو گالی دی ہوگی۔ حدیث میں صراحت ہے کہ جب تک متعلقہ فرد نہ معاف کردے، اللہ تعالی اس کو معاف نہیں کرے گا ۔ (مسند احمد:۲۶۰۳۱)

اللہ کے رسول ﷺ نے یہ تصور دیا کہ اس دنیا میں اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی حق تلفی کرے گا،یہی نہیں بلکہ دوسروں کے جو حقوق اس پر واجب ہوتے ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گا تو قیامت میں لازماً اس کا مواخذہ ہوگا۔ایک حدیث میں ہے:

لَتُؤَدُّنَّ الحُقُوقَ الٰی أھلِھَا یَومَ القِیامَۃِ ،حَتّٰی یُقادَ لِلشَّاۃِ الجَلحائِ مِنَ الشَّاۃِ القَرنَاءِ (مسلم:۲۵۸۲)

’’قیامت میں ضرور حقوق کا بدلہ لے کر رہاجائے گا،یہاں تک کہ اگر سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری کو ماراہوگاتو قیامت میں اس سے بھی بدلہ لیاجائے گا۔‘‘

اس حدیث میں بڑی لطیف تعبیر استعمال کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں میں مارپیٹ ہوتی ہے۔ جانور بے شعور ہیں۔ انسانوں میں جو حق تلفیاں ہوتی ہیں ان کا موازنہ جانوروں سے نہیں کیا جاسکتا۔ محض زور دینے کے لیے اللہ کے رسولﷺ نے یہ بات فرمائی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ انسانوں کے حقوق کے معاملہ میں جو کوتاہی ہوتی ہے، قیامت میں اس کا کس طرح حساب و کتاب ہوگا؟

اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات میں حقوق کے سلسلے میںجو کچھ کہاگیاہے اس میں غور کرنے سے ہمارے سامنے کئی باتیں آتی ہیں:آپؐ نے ایک ایک کرکے ان افراد کی نشان دہی کی جن کے حقوق دوسرے پر واجب ہوتے ہیں۔آپؐ نے ان کا تذکرہ کیا اور ان کے حقوق بیان کیے ۔ساتھ ہی آپ نے عام انسانی حقوق کا بھی تذکرہ کیا ۔آپؐ نے یہ بھی بتایا کہ حقوق کی ادائیگی کا کیا معیار ہونا چاہیے؟

اہم بات یہ کہ آپؐ نے حقوق کا ایک عام تصور پیش کیا۔انسانوں کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں،ان کے جتنے طبقات ہوسکتے ہیں،ان سب کاآپ نے تذکرہ کیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کاحکم دیا۔

حقوق میں ترتیب:

سب سے پہلے رشتہ داروں کا حق آتاہے۔ رشتہ داروں سے بھی مقدم ماں باپ کا حق ہے ۔ان میں بھی ماں کے حق کو اللہ کے رسولﷺ نے برترقرار دیاہے۔ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا: میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟آپؐ نے فرمایا : تمہاری ماں۔یہ بات آپؐ نے تین بار ارشاد فرمائی۔چوتھی مرتبہ جب پوچھنے والے نے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: تمہار۱ باپ۔ (ابودائود : ۵۱۳۹،ترمذی: ۱۸۹۷) ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: یَدُ المُعطِی العُلیَا۔’’دینے والے کا ہاتھ بلندہوتاہے لینے والے کے مقابلے میں۔‘‘آدمی دے تو کس کو دے؟آپؐ نے فرمایا:أمَّکَ (تمہاری ماں) وَأبَاکَ(تمہارا باپ) وَأختَکَ (تمہاری بہن) وَأخاکَ (تمہارا بھائی)ثُمَّ أدنَاکَ أدنَاکَ۔ ’’پھرجو قریب رشتہ دار ہیں ان کو دو۔‘‘ (مسند احمد: ۷۱۰۵،۱۶۶۱۳)

رشتہ داروں کے تعلق سے عام طور سے آدمی کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ وہ میرا خیال ہی نہیں رکھتے ہیں،وہ مجھے پوچھتے ہی نہیں ہیں، جب میں کسی مصیبت میں پھنستاہوں تو ان کے اندر کوئی بے چینی پیدانہیں ہوتی ، تو میں ان کے ساتھ کیوں اچھا برتاؤ  کروں؟اللہ کے رسول ﷺ نے سوچنے کے اس انداز پر ضرب لگائی ۔آپؐ نے فرمایا:

لَیسَ الوَاصِلُ بِالمُکافِیٔ ، وَلٰکِنَّ الوَاصِلَ الَّذِی اِذا قُطِعَت رَحِمَہ وَصَلَھا (بخاری: ۵۹۹۱)

’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلہ میں صلہ رحمی کرے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا حقیقت میں وہ ہے کہ جب اس کے رشتہ دار اس کا خیال نہ رکھیں تو وہ ان کا خیال رکھے اور ان سے رشتہ نبھائے۔‘‘

رشتہ داروں ہی کی طرح کی حیثیت پڑوسیوں کی ہوتی ہے۔آدمی پر اچانک جب کوئی افتاد پڑتی ہے تو رشتہ دار بعد میں پہنچتے ہیں، اس کی چیخ و پکار پہلے پڑوسیوں تک پہنچتی ہے اور وہ اس کی مدد کے لیے دوڑپڑتے ہیں۔اسی لیے اللہ کے رسولﷺ نے پڑوسیوں کا حق رشتہ داروں سے بڑھ کر قرار دیاہے۔ایک حدیث میں ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

مَازَالَ جِبرِیلُ یُوصِینِی بِالجَارِ ، حَتّٰی ظَنَنتُ أنَّہ سَیُوَرِّثُہ (بخاری: ۶۰۱۴، مسلم:۲۶۲۴)

’’حضرت جبریل ؑ میرے سامنے برابرپڑوسی کے حقوق بیان کرتے رہے، یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگاکہ وہ وراثت میں بھی اسے حق دار بنادیں گے۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:وَاللّٰہِ لَایُؤمِنُ۔ ’’اللہ کی قسم، وہ شخص مومن نہیں ہے ۔‘‘یہ بات آپؐ نے تین مرتبہ فرمائی۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کون؟آپ نے فرمایا: الَّذِی لَایَأمَنُ جَارُہ بَوَائِقَہ۔(بخاری:۶۰۱۶) ’’وہ شخص جس کی تکالیف سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔‘‘

جاری ہے

بشکریہ زندگی نو دہلی دسمبر 2018

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *