” ہم , سیاست اور اسکے دوہرے معیار”

ہم جہاں مل کے بیٹھیں تو لوگوں میں ساری دنیا کی برائیاں اور عیب گنوا دیتے ہیں چاہے وہ سارے عیب ہمارے اندر موجود ہوں ۔ منہ ہزار ہیں، باتیں ہزار ہیں لیکن عمل نہیں ہے۔ کسی کی بیٹی سسرال سے آ جائے تو بغیر موقف لیے الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں کہ نکال دیا ہوگا۔ محلے میں کوئی نیا سوٹ پہن لے، بائک لے لے ، گاڑی خرید لے ، نیا مکان بنالے تو ہم بیٹھ کے آپس میں سو سو سوال کریں گے کہ بڑا حرام دا پیسہ اچانک کتھوں آگیا ؟

اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں بھی جو قوم ایسی باتوں میں اُلجھی رہے جس کا سارا سارا دن مشغلہ اپنے کام پر توجہ کی بجائے دوسروں پر نکتہ چینی یا باتیں بنانا ہو، ان پر لیڈر بھی ایسے ہی مسلط رہیں گے۔ یہ سیاست کا کھیل بھی منافقت، تضادات، جھوٹ اور دوغلے پن کے ستون پر کھڑا ہے۔ جو اس کھیل کو سمجھا وہ بھی ذلیل ہوا، جو نہ سمجھا زیادہ ذلیل ہوا ۔ یہ سیاست ہے، عام لوگوں کے اوپر سے گزرتی ہے۔ اندرونِ خانہ کہانی اور ہوتی ہے، جو دکھتا ویسا ہوتا نہیں جو ہوتا وہ دکھتا نہیں ہے۔

وہی ق لیگ جس کو پیپلز پارٹی نے بینظیر کی قاتل جماعت کہا، بعد میں اسی جماعت نے پرویز الہٰی کو اپنا ڈپٹی وزیراعظم بنا لیا تھا۔ وہی شہباز شریف جو پیپلز پارٹی کے خلاف مینارِ پاکستان میں کیمپ لگا کے بیٹھے تھے۔ اور زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کرتے تھے۔ اسی شہباز شریف کے بڑے بھائی زرداری صاحب کی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ان کو جاتی عمرہ کی سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے ستر ڈِشوں کے دستر خوان پر لا کر بٹھاتے ہیں۔ وہی خان صاحب جو 35 پنکچر پر پورا سال پِٹ سیاپا ڈالے رکھتے ہیں اور ان 35 پنکچروں کے آڈیو وڈیو ثبوت کا دعویٰ کرکے عوام کو اُلوّ بنائے رکھتے ہیں، بعد ازاں عدالت میں اپنے اسی بیان پر معافی مانگ کر عوام کی امیدوں کا خوب منہ چڑاتے ہیں۔

مندرجہ بالا مثالوں سے واضح یہ ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کا کردار، انکا دوغلا پن، ان کے دہرے معیار اور ذاتیات کا عمل دخل ان کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت جس مشکل کا سامنا ہے اس کا بنیادی سبب کیا ہے ؟ اس کی ذمہ داری کیا عوام پر عائد ہوتی ہے؟ کیا عوام کی وجہ سے مہنگائی اور بیروزگاری کا جِن اس معاشرے پر حملہ آور و قابض ہوا؟ کیا اس معاشرے میں خواتین کی عزت تار تار ہونے اور بے آبرو ہونے کے واقعات میں اضافہ کا سبب عوام ہیں ؟ کیا سابقہ ادوار میں ملک میں جمہوریت کے عدم استحکام اور اس کے تسلسل میں رکاوٹ کا سبب عوام ہیں؟ ملک میں بجلی گیس کی عدم دستیابی کا سبب عوام ہیں؟ طاقتور مافیا کے خلاف انصاف لینے ،ایف آئی آر کٹوانے کے لیے بیچ چوراہے مقتول کی لاش رکھنا لواحقین کی مجبوری بن جائے تو یہ عوام کا قصور ہے؟

نہیں صاحب ! آپکا تعلق چاہے کسی سیاسی جماعت سے بھی ہو، جب آپ کے کسی عمل سے دوسروں کی آنکھوں کے جگنو بجھ جائیں اور انکی آنکھوں میں خوشیوں کی بجائے ویرانیوں کا بسیرا ہو جائے تو جان لیجئے کہ اس کی ویران اور بے نور آنکھوں سے آپ کے زوال اور نشانِ عبرت کا رستہ زیادہ دور نہیں ہے۔ کسی دوسرے کو اخلاقیات کے لیکچر دینے والے یہ ذہن میں رکھیں کہ اس غریب بھوکی ننگی قوم کے کھربوں روپے لوٹنے سے بڑی بد اخلاقی کوئی نہیں ہے۔ ہماری ذہنی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ بعض لوگ ظلم کا بھی جواز ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ظلم ہر صورت ظلم ہے اور اسکا جواز پیش کرنے والے ظالم ۔ ظلم کا کوئی ملک، کوئی مذہب، کوئی باؤنڈری نہیں ہوتی۔ یہ جس جماعت کے ووٹر پر بھی ہو ظلم ہی کہلائے گا۔ نہ یہ کوئی ریس یا مقابلہ بازی ہے کہ موجودہ ظلم کو کسی سابقہ ظلم کا جواز بنا کر کلین چِٹ دی جائے۔ بات یہ ہے فیس بُکی حاجی صاحب کہ جو پہلے ہوا وہ بھی ظلم تھا اور جو اب ہوا وہ بھی ظلم ہے اور جو آگے ہوگا وہ بھی ظلم ہوگا جب تک ظالم اپنے مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح نہیں دے گا۔

بس ذرا اپنی عینک صاف کر لیجیے، اپنے عقل دان کو ذرا بڑا کریں، چھپڑ سے باہر آئیں اور اُلٹی سیدھی چھلانگیں لگا کر اگر مگر چُونکہ چنانچہ کر کے وقت کو دَھکا مت لگائیں، نہ ہمیں بے وقوف بنائیں۔ اگر آپ کو خدا نے عزت دی ہے۔ تو یہ عزت عالمی سطح پر ہر پاکستانی اور سبز پاسپورٹ کی بھی نظر آنی چاہیے۔ اگر تو آتی ہے تو آپ کامیاب ہیں، اگر نہیں آتی تو پھر دوغلے پن کی اگر مگر چُونکہ چنانچہ والی بِین بجاتے رہیں، ہم بھینس کی مانند سنتے رہیں گے ۔

رانا ازی
رانا ازی
رانا محمد افضل بھلوال سرگودہا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *