مکالمہ ۔ امام عطاءاللہ خان

انعام رانا صاحب ہمارے دوست ہیں ان سے ملاقات اب تک نہیں ہوسکی ہے لیکن فیس بک کے ذریعے ان سے تعلق روز بروز بڑھتا جا رہا ہے گذشتہ دنوں انھوں نے فیس بک پر مکالمہ کے عنوان سے ایک نئ راہ متعارف کراوئ ہے، دعا ہےان کا یہ اقدام فیس بک کی فضا کو معطر کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہو، مکالمہ میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے چند گذارشات پیش خدمت ہیں، گر قبول افتد زہے عز و شرف۔

مکالمہ عربی زبان کا لفظ ہے اور باب مفاعلہ سے دو یا دو سے زائد اشخاص کی باہم گفتگو کو مکالمہ کہا جاتا ہے, اگر یہ گفتگو خوبصورتی کے ساتھ کی جائے تو مکالمہ بھی خوبصورت اور جاندار ہو جاتا ہے, جاندار مکالمہ الفاظ، جملوں اور کلام کے حسن استعمال پر موقوف ہوتا ہے اور جیسے ہی الفاظ اور کلام اپنا حسن کھو بیٹھتے ہیں مکالمہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے اہل خرد ایسے مکالمہ پر انا للّٰہ پڑھنا بتلاتے ہیں،

مکالمہ کی روح الفاظ کے انتخاب سے پہلے دل کے دریچوں کو کھولنے سے پیدا ہوتی ہے تب کہیں جا کے کسی کے دل میں کلام کا سرور پہنچتا ہے، مکالمہ اور کلام کا ماخذِ اشتقاق کلم ہے جس کے معنی اہل لغت جرح اور تاثیر کے بیان کرتے ہیں۔ جملے اور کلام الفاظ سے جامہ پوش ہوتے ہیں، الفاظ کلام کے وہ سانچے ہیں جسے اہل عرب Through کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور نقوش کے بغیر الفاظ کے کاغذ پر اپنا وجود حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، کلیمِ دانا اپنے کلام میں ان تینوں باتوں کا خاص خیال رکھتا ہے کاغذ پر نقوش، زبان سے دلنشین الفاظ کا Through اور کلام کے دل خیز اور اور دل ریز اثرات کو مکالمہ کے کسی بھی مرحلے میں فوت ہونے نہیں دیتا ہے اور جس وقت وہ ان خوبیوں کو کھو بیٹھتا ہے اس کا کلام مخاطب کے دل کو ہاتھ کے زخم سے زیادہ کاری زخم پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔ ہاتھ کا زخم تو پھر بھی چند دنوں میں مندمل ہوجاتا ہے لیکن زبان کا یہ زخم ہمیشہ تازہ رہتا ہے، اسی کو عربی شاعر نے خوب کہا ہے۔

جراحات السنان لها التئام
و لا يلتام ما جرح اللسان
اردو نظمی ترجمہ:
زبان کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا
لگا جو زخم زباں کا رہا ہمیشہ ہرا

مثبت اور خوبصورت مکالمہ کو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان خوبصورت کلمات میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ گویا سمندر کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہو۔
المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده
ترجمہ : مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کے شر سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کے شر کو ہاتھ کے شر پر مقدم فرما کر امت کو پہلی تعلیم یہ عطاء فرمائ ہے کہ اگر مسلمان زبان کے غلط استعمال سے چھٹکارا حاصل کرلیں تو آپس میں دست و بازو کی لڑائ اور تلوار اور بندوق کی جنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکتا ہے، مزید غور کیا جائے تو یہ حقیقت کچھ اس طرح مکشوف ہوتی ہے کہ مکالمہ میں کلیدی کردار زبان کا ہوتا ہے (قلم بھی زبان کا وکیل بن کر کردار ادا کرتا ہے) جس کے بارے کہا جاتا ہے اللسان جِرمه صغير و جُرمه كبير، زبان کا جثہ تو بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس کی آفت اور تباہی قوموں اور ملکوں کو تباہ و برباد کر ڈالتی ہے، زبان کسی کو گالی دیکر خود تو بتیس دانتوں کے حصار میں اپنے آپ کو خارجی آفات سے محفوظ کر لیتی ہے لیکن اس کے چھوٹے سے جسم سے نکلنے والی آگ بسا اوقات مد مقابل کو مشتعل کردیتی ہے جس سے بے قابو ہوکر وہ گالی کا جواب پتھر سے، بیہودہ الفاظ کا جواب ہاتھ سے اور ناگفتہ بہ کلمات کا جواب ڈنڈے برساکر پہنچاتا ہے، زبان کی شر انگیزی قومی سطح پر عام ہو جانے تو قوموں میں تصادم اور خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے دلوں میں نفرتیں جنم لیتی ہیں، ایک ہی ملک کے باشندے تعصبات اور تفرقہ بازی کا شکار ہوجاتے ہیں، ایک ہی شہر محلے ادارے اسکول مدرسے اور آفسز کے لوگ ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے تک کو تیار نہیں ہوتے اور ایک ہی صف میں کھڑے محمود و ایاز بھی آپس میں دست و گریبان نظر آتے ہیں، ان تمام آفات اور فتنوں میں مجرم زبان خود تو محفوظ رہتی ہے اور سر سے پیر تک جسم کے بقیہ اعضاء کو کئ دنوں بلکہ سالہا سال تک درد و الم کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کے شر کو ہاتھ کے شر سے مقدم فرما کر امت کو زبان کے درست استعمال اور مثبت مکالمہ کی طرف جو روشن ہدایت فرمائ ہے اسی میں امت کی بھلائ مضمر ہے، مکالمہ کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ درست اور غلط کی پہچان کو ختم کر دیا جائے، جائز اور نا جائز کا فرق مٹا دیا جائے، رائٹ اینڈ رونگ کو ایک کہا جائے اور خوبصورتی اور بد صورتی کو مترادف سمجھا جائے بلکہ درست، جائز رائٹ اور خوبصورتی کو درست، جائز، رائٹ اور خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے، اور اگر اس پوسٹ کے آخری جملہ پر اتفاق کر لیا جائے تو ہم درست سمت اختیار کرنے میں بھٹکنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
غلطی کا احساس غلط طریقہ سے دلوانا بذات خؤد بہت بڑی غلطی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *