ہمارا زمانۂ طالب علمی اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا جب پنجاب کے شہروں میں آشوب چشم کی وبا پھیلی، ہر گھر کے افراد میں سے ایک دو اس وبا کا شکار ہورہے تھے ۔ہوتا کچھ یوں تھا کہ ایک← مزید پڑھیے
میری درجن بھر سہیلیاں اندرون شہر رہتی تھیں اور تانگوں پر کالج آیا کرتی تھیں میرا گھر کالج کے قریب تھا اتنا قریب کہ وہاں بجنے والی بیل کی آواز ہمارے گھر سنائی دیتی تھی میں عموماً پہلی بیل پر← مزید پڑھیے
بچپن میں جب گاؤں جانا ہوتا تھا تو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سر شام ہی رات ہوجاتی اس سے پہلے پہلے کھانا پکانے سے لے کر ہر ضروری کام نپٹا لیا جاتا شام سے لے کر صبح کی← مزید پڑھیے