سراجی تھلوی کی تحاریر

دسمبر کی آخری رات / سراجی تھلوی

آج بھی یاد ہے وہ لاشعوری کا زمانہ جہاں غم کا تصور نہ تھا ۔دُکھ کے الفاظ ایجاد نہیں ہوئے تھے۔بے خیالی تھی ،لاپرواہی تھی۔خواب ہوتے گلیوں میں زندگی کی سانسیں تھیں۔ڈھلتی شام گھروں کو لوٹنے کی جلدی تھی۔مائیں دروازوں←  مزید پڑھیے

ہجروفراق کے مارے ہوؤں کا وصال/سراجی تھلوی

ہجرو فراق کی ازیت ناک داستانیں خلقتِ انسانی کے ساتھ ازل سے جڑی ہوئی ہیں۔ابو البشر حضرتِ آدم و حوا کی جدائی سے شروع ہونے والا یہ سفر حضرت یوسف و یعقوب سے ہو کر ہنوز جاری ہے۔ میں جب←  مزید پڑھیے

لفظِ کنے بلتی یا اُردو ؟-سراجی تھلوی

لفظِ کنے بلتی یا اُردو ؟ آج یوٹیوب پر رضوان احمد صاحب کا لیکچر سُن رہا تھا۔جو کہ اک ماہر لسانیات ہیں۔اُردو ،فارسی ،عربی نہایت رواں اور شُستہ بولتے ہیں۔خصوصٙٙا عربی یمنی لہجے میں ایسے بولتے ہیں۔کہ کوئی پیدائشی یمنی ہو←  مزید پڑھیے

ارض پاک میں گُزرے ایام(7)-سراجی تھلوی

*شمس الدین شگری کے سنگ  یادِ ایّام لکھ رہا ہوں۔ زندگی ایک سفر ہے جہاں قدم قدم پر محبتوں کا مالا، نفرتوں کا جالا اور اذیّتوں کا ہالا ملتا ہے۔جہاں خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتے ہوئے تنگ و تاریک گلیوں،سربفلک پہاڑوں،گنجان←  مزید پڑھیے

ارضِ پاک میں گُزرے ایام(6)-سراجی تھلوی

زندگی اک سایہ ہے۔جہاں ہر مسافر کچھ دیر آرام کرنے ،جی بہلانے ،سستانے بیٹھ جاتے ہیں۔پھر منزلِ مقصود کی طرف اٹھ کے چلے جاتے ہیں۔زندگی اک خواب ہے جس کی تعبیر ڈھونڈتے ڈھونڈتے زندگیاں بیت جاتی ہیں۔زندگی کے اس سفر←  مزید پڑھیے

ارض پاک میں گُزرے ایام(5)-سراجی تھلوی

مادر علمی کے احاطے میں  چشمِ تصور کے سامنے موجود تصویروں کو لفظوں کے قالب میں ڈھالنا اک سیماب طبیعت شخص کےلیے نہایت مشکل ہے۔وہ منظر تازہ ہے۔اک سادہ دل، معصومیت سے بھرپور پہاڑی لڑکا،جس نے بلند بالا پہاڑوں، شور←  مزید پڑھیے

ارضِ پاک میں گزرے ایام(4)-سراجی تھلوی

قلم ہاتھوں میں لیے لکھنے بیٹھتا ہوں تو یادوں کے منظر نامے “دیدہ و دل فرش رہ کیے”بیٹھے ہیں۔تاکہ میں لکھتا چلا جاوں۔اور یادیں مرے آنکھوں کے سامنے رقصاں رہے۔روشنیوں کے شہر کراچی جہاں خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتے برسوں پہلے←  مزید پڑھیے

ارض پاک میں گزرے ایّام(3)سراجی تھلوی

لکھ رہا ہوں یادوں کا مجموعہ ،ازیتوں کا سامان،علمی سفر کے پُرکشش ایام ۔سال 2025تقریبا مجھے ارض پاکستان میں گزارنے کا موقع ملا ۔جہاں قدم قدم پر محبتوں سے بھرپور دوستوں نے زندگی کو زندگی کہنے کا موقع دیا۔اک شخص←  مزید پڑھیے

ارضِ پاک میں گزرے ایام(2)سراجی تھلوی

کراچی میں گزرے ایام کا ذکر چل رہا ہے۔یاد کے نہاں خانوں سے کئی اذیت ناک یادیں ابھر ابھر کر آنکھوں کے سامنے رقصاں ہیں۔اک اہم یاد جو وابستہ ہے اسکا نام ہے “محمد سردار فراز”صرف نام نہیں بلکہ اک←  مزید پڑھیے

ارض پاک میں گزرے ایّام(1)-سراجی تھلوی

وقت کی رفتار سے ڈر لگتا ہے۔کل ہی پرائے دیس سے واپس پاکستان جانے کے بارے گفتگو رہی۔ آج 9ماہ گزار کر واپس بھی آچکا ہوں۔ میرا سفر اک علمی و فکری سفر تھا۔ تاہم نجی کاموں میں بھی مصروف←  مزید پڑھیے

مطالعہ،غمِ روزگار،زندگی/ سراجی تھلوی

“کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے ۔۔ اور ہم کاروبار کی زلف ہائے دراز میں یوں الجھ گئے ہیں کہ چاہ کر بھی مطالعہ کی فرصت نہیں پاتے، نیند سے اٹھ کر کام ۔۔۔اور کام سے اٹھ کر←  مزید پڑھیے

فضلائے مدارس عملی زندگی میں ناکام کیوں؟/سراجی تھلوی

مجھے شدّت سے احساس ہے ،کیونکہ میں اک مدرسے کا فارغ التحصیل ہوں لیکن ہنوز میرا  تعلیمی سفر جاری ہے۔یہاں ناکام لکھنے سے مُطلقاً  ہر جہت سے ناکامی مراد نہی ، بلکہ کچھ مخصوص پہلوؤں سے ہے۔ فضلائے مدارس کی←  مزید پڑھیے

نویں صدی کا سب بڑا مجدّد و مصلح امام نوربخش رح(1)-سراجی تھلوی

کسی بھی شخصیت کو سمجھنے ،پرکھنے ، اس کے افکار و نظریات کو جانچنے کے لیے اس کے عہد سے باخبر ہونا ناگزیز ہے۔ اُس عہد میں کیا تہذیب غالب تھی؟ اس عہد کے لوگوں کا قلبی و روحانی میلان←  مزید پڑھیے

گاؤں سے پرائے دیس تک/سراجی تھلوی

11اکتوبر کی رات ،سیاہ چادر تانے 12اکتوبر کی صبح کی سپیدی میں داخل ہونے جارہی ہے۔لائبریری سے باہر کی فضا میں گہرا سکوت،گہری خاموشی ،مستزاد اس پر شب کی سیاہی چارسُو پھیلی ہوئی ہے۔لائبریری میں ہندوپاک کے مختلف شہروں ،علاقوں←  مزید پڑھیے

استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو / سراجی تھلوی

جب سے شعور نے آنکھ کھولی ہے تب سے اب تک مسلسل سیکھنے کا عمل جاری ہے۔ الف انار “سیو” ب بکری ربق سے عصری علوم کی شروعات ہوئی۔الف زبر آ، الف زیر ای، الف پیش اُو، آ ای او←  مزید پڑھیے

وادی السلام سے مسجد حنانہ تک/سراجی تھلوی

16اگست بروز جمعرات شام ڈھلنے سے پہلے ،سرزمین عراق کی شدید گرمی ،بدن پسینے سے شرابور ،چہرے پر گرمی کے آثار لیے ،عراق کی گرم و مرطوب فضا میں سانس لینے کی توفیق ہونے پر شارع الرسول نجف اشرف کے←  مزید پڑھیے

جہانِ دانش اور ماں کی محبت/سراجی تھلوی

ڈھلتی شام،  پھیلتی تاریکی ،شہر کا  شور و غل ،طبیعت میں ایک اُداسی کی کیفیت  ،دل بوجھل ،مزاجِ آوارہ بجھا بجھا سا تھا۔ رہ رہ کر ناصر کاظمی کا یہ شعر یاد آرہا تھا۔ بھری دنیا میں جی نہیں لگتا←  مزید پڑھیے

مسجدِ گوہر شاد کے احاطے میں/سراجی تھلوی

مسجد گوہر شاد ایران کے صوبہ خُراسان حرم مطہر رضوی میں موجود ایک قدیم اور اسلامی فنِ تعمیر کا شاہکار ،اسلامی عظمت و سطوت کی نشانی ہے۔ ایرانی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار ،تیموری طرز تعمیر کا یہ شاہکار←  مزید پڑھیے

المہدی میں گزرے ایام/سراجی تھلوی

سال 2024 ،اپریل کا مہینہ چل رہا ہے۔سوشل میڈیا کے توسط سے بلتستان کے حسِین مناظر دیکھ رہا ہوں۔اور جی بھر کے آہیں بھر رہا ہوں۔سوچ رہا ہوں ہم کہاں پیدا ہوئے تھے۔تقدیر نے کہاں لا کے چھوڑ دیا۔ ،خوبانی←  مزید پڑھیے

وادی تھلے بروق ‘یاد کے بے نشاں جزیروں سے /سراجی تھلوی

گاؤں کی کسی صبح کا یا شام کا جب بھی آنکھوں میں کوئی نقش سمایا تو میں رویا پردیس میں گھر یاد جب آیا تو میں رویا احساسِ جدائی نے ستایا تو میں رویا (ذیشان مہدی) آنکھوں کے سامنے یادوں←  مزید پڑھیے