دسمبر کی آخری رات / سراجی تھلوی
آج بھی یاد ہے وہ لاشعوری کا زمانہ جہاں غم کا تصور نہ تھا ۔دُکھ کے الفاظ ایجاد نہیں ہوئے تھے۔بے خیالی تھی ،لاپرواہی تھی۔خواب ہوتے گلیوں میں زندگی کی سانسیں تھیں۔ڈھلتی شام گھروں کو لوٹنے کی جلدی تھی۔مائیں دروازوں← مزید پڑھیے
